مرکز
1 2 3

ایک کامیاب ایپلی کیشن کیسے تیار کریں

امریکہ کے کالجوں میں داخلہ کے لئے مقابلہ بڑا سخت ہوتا جارہا ہے۔ یہاں بھیڑ سے بلند ہونے کے لئے داخلہ حکام کے ذریعہ کچھ نکتے بتائے جارہے ہیں۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران امریکی یونیورسٹیوں اور ان کے ممکنہ ہندوستانی طلبہ کے درمیان ایک دوسرے کے لئے دلچسپی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، لاس اینجلس جیسے اعلیٰ درجے کے تعلیمی اداروں میں ۲۰۰۹ سے اب تک انڈر گریجویٹ نصابوں میں داخلہ کے لئے درخواستیں دینے والے ہندوستانی طلبہ و طالبات کی تعداد دوگنی سے زیادہ ہوگئی ہے۔ ہندوستان کے کامیاب طالب علموں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ امریکہ کے انتہائی مقابلہ جاتی کالجوں اور یونیورسٹیوں کے داخلہ حکام کے پہلے سے زیادہ ہندوستانی دوروں سے یہ تعداد بڑھتی جائے گی۔ زیادہ ہندوستانیوں کی درخواستیں پہنچ رہی ہیں ، زیادہ سے زیادہ کو منظوری مل رہی ہے ۔ اس باہمی شفقت کا سبب کیا ہو سکتا ہے؟ اس کا جواب یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، لاس اینجلس میں انڈر گریجویٹ داخلوں کی ڈائرکٹر سوسن ول بر کے لفظوں میں ’’ عالمی تنوع‘‘ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے اسکولوں میں بہت دنوں تک کیلی فورنیا کے طلبہ کو ہی داخلہ دینے پر توجہ مرکوز رکھی جاتی تھی کیونکہ ہمارا پہلا مشن اپنی ریاست کے عوام کی خدمت ہے لیکن ہم اب ایسی عالمی برادری میں رہتے ہیں جوتیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ طالب علموں کو مختلف تناظرات کے لوگوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ ربط ضبط کا موقع فراہم کیا جائے۔‘

ہندوستان سے خاص کر ایسے انتہائی اہل امیدواروں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جن کے پاس انگریزی بولنے اور سمجھنے کی ٹھوس قابلیت ہے اور ان کو امریکی تعلیمی اداروں میں پڑھنے سے دلچسپی بھی ہے۔ ڈارٹ ماؤتھ میں داخلہ جات کی سینئر ایسوسی ایٹ ڈائرکٹر ربیکامنس ٹرر نے بتایا کہ ’’یہ بات کسی تکلف کے بغیر کہی جاسکتی ہے کہ ہندوستان ہمارے لئے پہلے سے زیادہ دلکشی کا باعث ہوگیا ہے۔ گزشتہ سال ہم لوگوں نے اپنے ہندوستان کے دوروں میں اضافہ کیا کیونکہ وہاں دونوں چیزیں نظر آئیں۔ ڈارٹ ماؤتھ کے لئے دلچسپی بھی اور بہت ساری ذہانت بھی۔‘

ہارورڈ میں تعلیم کے خواہش مند ہیں؟تو ممبئی کا رخ کیجئے

ایک صدی سے بھی زائد سے بوسٹن، مساچیوسٹس کا ہارورڈ بزنس اسکول ان طلبہ و طالبات کی تربیت کرتا رہا ہے جنہوں نے پوری دنیا میں تجارت کے طریقہ کار کی نئی صورت گری کی ہے۔ مارچ ۲۰۱۲ میں اس اسکول نے ممبئی کے تاج لینڈس اینڈ ہوٹل میں ایمفی تھیٹر کے طرز کا ایک کلاس روم قائم کیا ہے۔ اس کلاس روم میں۸۲طلبہ و طالبات کے بیٹھنے کی جگہ ہے جہاں جدید ترین ملٹی میڈیا سہولتیں دستیاب ہیں اور بوسٹن میں کسی ایم بی اے کلاس کے کمرہ جیسا لگتا ہے۔

اس کے ڈین نتن نوہریا کا کہنا ہے کہ ’’ہندوستان ہارورڈ بزنس اسکول کی عالمی حکمت عملی کا ایک کلیدی جز ہے۔ ہماری خواہش یہ ہے کہ ملک کے تجارتی، حکومتی اور علمی شعبوں کے لیڈروں کے ساتھ مل کر کام کریں اور اپنے دانش ورانہ نقوش پاکو وسعت دیں اور اس کے ساتھ ہمہ وقت ہندوستان کی طویل مدتی اقتصادی نمو کے بارے میں اہم بحث میں حصہ بھی لیتے رہیں۔‘‘

اس اسکول نے اپنا انڈیا ریسرچ سنٹر۲۰۰۵ میں ممبئی میں کھولا اور تقریباً۶ سال سے ہندوستان میں انتظامی تعلیمی پروگرام بھی چلا رہا ہے۔ ہارورڈ بزنس اسکول کی فیکلٹی آف بزنس ، حکومت اور درس و تدریس کے شعبوں کے لیڈروں کے لئے صنعتی اداروں کی سماجی ذمہ داری، عالمی انٹرپرائزز کی تشکیل جیسے مضامین میں اور کیس رائٹنگ اور نصاب وضع کرنے جیسے مضامین سمیت بہت سے دیگرمضامین میں پروگرام اور سمپوزیم کی پیشکش کرتی ہے۔ اس اسکول کے ویب سائٹ کے مطابق ’’ہندوستان کے بزنس اسکولوں کے کلاس روم میں ہارورڈ بزنس اسکول کے کیسوں کو بڑی شدت سے استعمال کرتے ہیں اور ادھر کے چار برسوں میں کم و بیش ۱۰۰ ہندوستانی فیکلٹی نے اساس تدریس کے لئے اس اسکول کے عالمی مذاکرہ میں شرکت کی ہے جہاں وہ ہارورڈ بزنس اسکول کے اساتذہ سے کیس کا طریقہ استعمال کرکے درس و تدریس کی واقفیت حاصل کرتے ہیں۔‘‘

جیسے جیسے درخواست دہندگان کی تعداد بڑھ رہی ہے ویسے ویسے ایسی درخواست داخل کرنا بھی زیادہ مشکل ہوتا جارہا ہے جوبھیڑ سے بلند نظر آئے۔ اعلیٰ درجہ کے چار کالجوں ، یونیورسٹیوں کے داخلہ افسروں نے ممکنہ امیدواروں کو مشورہ سے نوازنے کے لئے اسپین کے ساتھ اس سلسلے میں بات چیت کی کہ ہندوستانی درخواست دہندگان اس طرح کی درخواستیں کیسے تیار کریں کہ وہ دوسروں سے ممتاز نظر آئیں

اچھی مناسبت سے آغاز کریں
امریکی کالج اور یونیورسٹیاں ایسے بین الاقوامی طلبہ کی تلاش میں ہیں جو اپنے گھر سے کافی دور ہونے اور اجنبی حالات میں رہنے کے باوجود کامیاب ہوسکیں، اسی لئے ان طالب علموں کی داخلہ کی درخواست کامیاب ہو جاتی ہے جنہوں نے ڈھنگ سے تحقیق کی ہو اور یہ جانتے ہوں کہ جس کالج یا یونیورسٹی میں داخلہ کے لئے درخواست دے رہے ہیں وہ ان کے لئے موزوں ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ وہاں کا موسم سرما کتنا طویل ہے؟ یونیورسٹی یا کالج کے ارد گرد کس قسم کے لوگ رہتے ہیں؟ شہری علاقہ ہے، قصباتی ہے یا پھر انوکھاکالج ٹاؤن ہے؟ یونیورسٹی رہائشی ہے یا بیشتر طلبہ یونیورسٹی کے احاطے کے باہر رہائشی اپارٹمنٹ میں رہتے ہیں؟ کون سے تعلیمی شعبے مضبوط ہیں اورکیا وہ درخواست دہندہ کی دلچسپی کے موافق ہیں؟

اسٹین فورڈ میں ،جہاں بیشتر طلبہ چار وں سال ڈورمیٹری میں رہتے ہیں، داخلہ لینے والے افسروں کو ایسے امیدواروں کی تلاش رہتی ہے جو کمرے میں ساتھ رہنے والے اچھے ساتھی ثابت ہوسکیں۔ اسی طرح نیوہمپشائر کے وسط میں ایک دور افتادہ علاقہ میں واقع ڈارٹ ماؤتھ کالج کے، جو کہ آئی وی لیگ کی درسگاہ ہے، طالب علموں کا مختلف گروپوں کے طالب علموں کے ساتھ ڈورمیٹری میں رہنے کا اہل ہونا ضروری ہے۔ منس ٹرر نے کہا بعض ہائی اسکول طلبہ کے لئے یہ حقیقی چیلنج ہوسکتا ہے کیونکہ وہ ایسے لوگوں کے درمیان پرورش پاکر بڑے ہوئے ہوتے ہیں جوان کی طرح ہی بات کرتے کھاتے پیتے اور سوچتے ہیں۔

درخواست دینے سے قبل درخواست دہندگان ہندوستان میں داخلہ دلانے والے نمائندوں یا اس کالج یا یونیورسٹی کے سابق طالب علموں سے ملاقات کرکے اس تعلیمی ادارہ کے بارے میں زیادہ جانکاری حاصل کرسکتے ہیں ۔ ان سے ثقافت، موسم، بین الاقوامی طلبہ کی مدد کے لئے پہلے سے موجود نظام، علمی ماحول ، اساتذہ، طرز حیات اور نصاب سے باہرکے امکانات کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ ان چیزوں کے بارے میں یونیورسٹی کے ویب سائٹوں پر بھی تفصیلات دستیاب ہیں۔

علمیت میں اور اس سے آگے بھی اپنی طاقت کا مظاہرہ کریں۔
مقابلہ جاتی امریکی یونیورسٹیاں درخواست دہندگان سے نہ صرف ثابت شدہ علمی کامیابی ، سخت نصابی کام میں عمدہ گریڈ، بیرونی امتحانات میں اونچے نمبر، اے سی ٹی / ایس اے ٹی اور ٹی او ای ایف ایل میں اچھے نتائج کی توقع رکھتی ہیں بلکہ نصابی نتائج کے علاوہ بھی داخلہ کے امور کا جائزہ لینے والے حکام یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ان امیدواروں کے پاس کلاس سے باہرکا بھی کوئی ہنر ہے کیا؟ جس سے طالب علم کی ذاتی دلچسپی ، ذمہ داری کے احساس ،قائدانہ لیاقت، واقفیت اور سماج کی خدمت کا اندازہ لگ سکے۔ یونیورسٹی آف مشی گن میں بین الاقوامی طلبہ کے داخلہ اور تقرری کی کوآرڈی نیٹر سنڈی گولڈ نے کہا کہ ’’ ہمارے یہاں امیدوار کو داخلہ دینے کے فیصلہ کی بنیاد کسی ایک معیار پر نہیں بلکہ پورے ریکارڈ پر ہوتی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم لوگ ہر طالب علم کی درخواست کی قدر و قیمت کا تعین کرتے وقت ایک انفرادی جامع، کلی، کثیر جائزہ جاتی عمل بروئے کار لاتے ہیں کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے درخواست دہندگان کے ذاتی حالات ، گھریلو ماحول اور ہائی اسکولوں میں کافی فرق ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دستیاب نصاب اور گریڈنگ کا طریقہ کار بھی بہت جداگانہ ہو۔

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا ،لاس اینجلس میں ول برنے یہ مشورہ دیا کہ طلبہ کو اپنے تعلیمی نظام کے بارے میں کسی غیر معمولی چیز کی وضاحت کرنے کے لئے اپنی درخواستوں پر اضافی تبصرے شامل کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’امریکہ میں داخلہ کے امور کا جائزہ لینے والوں کو اس سے مدد مل سکتی ہے کیونکہ ہر امیدوار ایک الگ تعلیمی تاریخ لے کر ہمارے سامنے آتا ہے۔ ‘

بامعنی سفارشی خط حاصل کریں
امریکہ میں ہائی اسکولوں کے طالب علم اپنے اسکولوں کے توسط سے نصاب سے باہر کی سرگرمیوں جیسے کہ کھیل کود، آرٹس، کلب اور سماجی خدمت کے شعبوں میں حصہ لیتے ہیں اس لئے بیشتر صورتوں میں اساتذہ ایک سخت علمی دائرے کے باہر بھی طالب علموں کو دیکھنا اور جاننا چاہتے ہیں۔ جیسا کہ منس ٹرر نے بتایا کہ بین الاقوامی طلبہ کے لئے کسی ٹیچر کی پرزور سفارش حاصل کرنا دشوار ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ

اوہائیو ویسلیان یونیورسٹی کے طلبہ گاندھی کے دیس میں

اوہائیو ویسلیان یونیورسٹی، ڈلاویئر کے اساتذہ اور طلبہ کے ایک گروپ نے موہن داس کے گاندھی کی حیات کے بارے میں واقفیت حاصل کرنے کے لئے نئی دہلی میں لیڈی شری رام کالج فار ویمنس میں ایک ہفتہ علمی و ثقافتی تبادلہ پروگرام کے تحت گزارا۔ انہوں نے گاندھی کو امن اور تصادم کے خاتمہ سمیت کئی تناظر سے سمجھنے کی کوشش کی اور لیڈی شری رام کالج کی طالبات اور اساتذہ کے ساتھ صلاح مشورہ کیا۔ وہ گاندھی سمرتی بھی گئے (جسے اس سے قبل برلا ہاوس کے نام سے جانا جاتاتھا) جہاں گاندھی اپنے قیام دہلی کے دوران رہتے تھے۔ یہ لوگ مختلف عقائد کے لوگوں کے ان مذہبی مقامات پر بھی گئے جہاں گاندھی اکثر و بیشتر جایا کرتے تھے۔

اوہائیو ویسلیان یونیورسٹی، ڈلاویئر کے اساتذہ اور طلبہ کے ایک گروپ نے موہن داس کے گاندھی کی حیات کے بارے میں واقفیت حاصل کرنے کے لئے نئی دہلی میں لیڈی شری رام کالج فار ویمنس میں ایک ہفتہ علمی و ثقافتی تبادلہ پروگرام کے تحت گزارا۔ انہوں نے گاندھی کو امن اور تصادم کے خاتمہ سمیت کئی تناظر سے سمجھنے کی کوشش کی اور لیڈی شری رام کالج کی طالبات اور اساتذہ کے ساتھ صلاح مشورہ کیا۔ وہ گاندھی سمرتی بھی گئے (جسے اس سے قبل برلا ہاوس کے نام سے جانا جاتاتھا) جہاں گاندھی اپنے قیام دہلی کے دوران رہتے تھے۔ یہ لوگ مختلف عقائد کے لوگوں کے ان مذہبی مقامات پر بھی گئے جہاں گاندھی اکثر و بیشتر جایا کرتے تھے۔

مہمان طلبہ و طالبات اور لیڈی شری رام کالج کی طالبات نے اپنی صلاحیتوں اور وسائل کی شراکت کے امکان پر بھی غور کیا جن میں اساتذہ اور طلبہ کے تبادلے، مشترکہ فیکلٹی کا فروغ اور دونوں تعلیمی اداروں کے طلبا و طالبات کے لئے مختصر مدتی کورس شامل تھے۔

ہندوستان میں ایک نئے بین الاقوامی علمی پارٹنر شپ پروگرام میں حصہ لینے کے لئے انسٹی ٹیوٹ برائے بین اقوامی تعلیم نے اوہائیوکو امریکہ کے دس کالجوں اور یونیورسٹیوں میں شامل کرنے کے لئے دو سال قبل چنا تھا۔ یہ پروگرام ہندوستان اور امریکہ میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں کے درمیان پارٹنرشپ کے لئے تیار کیا گیا ہے۔

اس دورے کے بارے میں مزید پڑھیں http://blog.owu.edu/india

بیرون امریکہ طلبہ کے ساتھ اساتذہ اور رہنمائی کرنے والے صلاح کاروں کا تعلق امریکہ سے مختلف ہوسکتاہے ۔بین الاقوامی ٹیچر کی سفارش میں صرف اتنا لکھا ہوسکتا ہے کہ طالب علم چست ہے اور اسے کلاس میں اے درجہ ملتا ہے۔ اس لئے اپنے دانش ورانہ تجسس کا مظاہرہ خود کرنا ان طالب علموں کے لئے ضروری ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر اپنے مضمون میں آپ بتائیں کہ آپ نے حساب میں کیا کیا ؟آپ صرف یہ نہ بتائیں کہ گریڈ حاصل کرنے کے لئے آ پ نے کیا کیا ہے؟

ڈارٹ ماؤتھ ایسی چند یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے جہاں اپنے رتبہ کے کسی اور شخص کی سفارش بھی ضروری ہوتی ہے۔ منس ٹرر نے بتایاکہ یہ فوری سفارش عملی اعتبار سے غیر واضح ہے لیکن ہم لوگ ان کے تجربات کی تفصیلات تلاش کرتے ہیں تاکہ ہمیں ایک اور پرت کے اضافہ کے ساتھ معلوم ہو سکے کہ وہ لوگ کون ہیں اور ڈارٹ ماؤتھ میں کیا پیش کرسکتے ہیں۔

اپنے ذاتی خیالات پیش کریں
اگرچہ ایسا نہیں کہ تمام امریکی یونیورسٹیاں داخلہ کے لئے مضمون لازمی طور پر لکھواتی ہوں لیکن بیشتر اعلیٰ درجہ کی یونیورسٹیاں لکھواتی ہیں۔ یہ مضمون طالب علم کو اپنے ذاتی شوق ، بے مثل تجربات ، جد و جہد ،حس مزاح، امنگ وغیرہ کے اظہار کا موقع دیتاہے۔ یونیورسٹی کو توقع رہتی ہے کہ یہ مضمون اسے اس طالب علم کی ذاتی اہلیت کی دریافت میں مدد دے گا ۔ طالب علم کی درخواست میں یہ کم واضح عناصر شامل نہیں ہوتے جن سے اس کا اندازہ ہوسکے کہ اگر داخلہ مل جائے تو یہ طالب علم اس یونیورسٹی سے کیا حاصل کرے گا اور یونیورسٹی کو کیا دے گا۔

امریکہ کے نظام تعلیم میں اکثر طالب علموں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ اپنی شخصیت کو اپنی تحریروں میں ظاہر کریں۔ ایسے خاص تعلیمی ماحول میں ، جس میں صرف پڑھنے اور نمبر حاصل کرنے پر سارا زور دیا جاتا ہے، پرورش پانے والے طالب علم کے لئے ، یہ توقع ایک چیلنج بھی بن سکتی ہے۔ مشی گن میں گولڈ کی سفارش یہ ہے کہ طالب علم کو اپنے مضمون کا آغاز تعلیمی اور نصاب سے باہر کی سرگرمیوں دونوں میں اپنے کارناموں اور ناکامیوں کی جھلک دکھانے کے ساتھ کرنا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ طالب علم کو اپنی درخواست خود مکمل کرنی چاہئے۔ ’’ہم لوگ طالب علم کی آواز سننا پسند کرتے ہیں اور اس مضمون سے اسے اپنی آواز سنانے کا موقع ملتا ہے۔‘

اسٹین فورڈ کی داخلہ افسر تھریسا بروکیٹا نے وضاحت کی کہ بہت بھاری تعداد میں درخواستیں آنے کی وجہ سے یہ ہوسکتا ہے کہ بہت سے اہل درخواست دہندگان کو مسترد کردیا جائے۔ اس لئے مضمون کسی بھی مضبوط اور پرجوش طالب علم کو اس کا موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اس بھیڑ میں اچانک نمایاں ہوکر سامنے ابھر آئے۔ انہوں نے کہا کہ ممتاز اور نمایاں ہونے کے لئے ضروری ہے کہ درخواست دہندہ یہ بتائے کہ وہ مقابلے میں دوسروں سے زیادہ ممتاز کیوں ہے اور اس کا یہ بتانا قائل کن بھی ہو۔ یہ ایسی چیز نہیں جس کو آسانی سے بیان کردیا جائے کیونکہ اس کی وجہ سے درخواست دہندہ دوسروں سے منفرد ہوتا ہے۔ اسٹین فورڈ میں داخلہ لینے کا کوئی فارمولہ نہیں ہے۔ طالب علموں کو میرا بہتر مشورہ یہ ہے کہ وہی کریں جوانہیں پسند ہے لیکن ڈھنگ سے کریں۔ اس سے نہ صرف انہیں اپنے حقیقی شوق کو پہچاننے کا موقع ملے گا بلکہ ان کی حقیقی آواز بھی سنی جاسکے گی ۔ یہی وہ چیزہے جو ہمارے داخلہ لینے کے عمل میں نمایاں نظر آئے گی۔

 

جین وارنر ملہوترہ ،واشنگٹن ڈی سی میں مقیم فری لانس قلمکار ہیں۔

تبصرہ کرنے کے ضوابط