مرکز
1 2 3

ایک عالمی معیار کی تعلیم مفت اور آن لائن

خان اکیڈمی کسی کو کہیں بھی پڑھائی کرنے کے امکانات فراہم کرنے میں مصروف ۔

سلمان خان نے جب ۲۰۰۴ میں اپنے رشتہ کے بھائی بہنوں کے لئے تعلیمی ویڈیو بنانے شروع کئے تب انہیں اس کا ذرہ برابرابر اندازہ نہیں تھا کہ ایک دہائی کے بعد ان کے نام سے منسوب ایک غیر منافع بخش تنظیم ریاضی سے مالیات اور علم حیات سے علم کیمیا تک کے مضامین پڑھنے میں دنیا کے لاکھوں افراد کی مدد کرے گی۔ خان نے ،جو اس وقت مالیات کے شعبہ میں کام کر رہے تھے اور ویب پرمبنی تعلیمی مواد بطور شوق بنا رہے تھے ، کہا کہ جب میں نے ۲۰۰۸ میں غیر منافع بخش تنظیم کے طور پر خان اکیڈمی قائم کی تو مجھے آئی آر ایس کے لئے اپنے مشن سے متعلق ایک بیان لکھنا پڑا ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ میں نے سوچا، ٹھیک ہے ۔اگر مشن یہی بنا لیا جائے کہ کسی کو کہیں بھی مفت عالمی سطح کی تعلیم فراہم کی جائے گی تو کیسا رہے گا؟ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ یہ بیان بھی کسی طرح کی خوش فہمی ہوتی ، پھر بھی ہم لوگوں کی پرورش جس طرح کے ماحول میں ہوئی تھی یہ کام بھی حیران کن حد تک موزوں ثابت ہوا۔‘

.اس اکیڈمی کو عالمی سطح پر کامیابی ملی ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے ابھی تک ۱۵۰ ملین سے زیادہ اسباق انٹر نیٹ پرسپرد کئے ہیں ۔اس سائٹ کی برتری صرف اس میں نہیں ہے کہ اس پر قابل رسائی اور ذہانت سے پُر تربیتی ویڈیو دستیاب ہیں جن میں سے بیشتر دس منٹ سے بھی کم وقفہ کے ہیں بلکہ اس میں مختلف قسم کے خود سے سوال و جواب کے ذریعہ حصول علم کے آلات بھی ہیں۔

ایم آئی ٹی اور ہارورڈ اب آپ کے کمپیوٹر پر

مسا چیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی اور ہارورڈ یونیورسٹی کا آن لائن نصابی مواد، اپنی رفتار سے پڑھائی، آن لائن بحث ومباحثہ گروپ ، کسی کو رس میں طالب علم کی پیش قدمی کا اندازہ ،یہ تمام چیزیں حصول تعلیم کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کی بالکل نئے ڈھنگ کی کوششیں ہیں۔

ایڈ ایکس امریکہ کی دو اعلیٰ یونیورسٹیوں کے درمیان ایک غیر منافع بخش مشترکہ مہم ہے اور اپنی کلاسوں کی مفت آن لائن صورتیں پیش کرنے کے لئے اوپن سورس تکنیکی پلیٹ فارم کو فروغ د ے گا۔ چونکہ یہ اوپن سورس ہے اس لئے یہ پلیٹ فارم مسلسل فروغ پاتا رہے گا۔ آن لائن تعلیم کے معیاری ماڈل میں ویڈیو دیکھ کر واقفیت حاصل کرنے کا طریقہ رائج ہے مگر اس پلیٹ فارم کے ذریعہ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر طلبہ و طالبات کو تفاعلی تجربے کی پیشکش کی جا ئے گی جس میں ان کو حقیقی ردعمل ملتا رہے گا۔ یہ پلیٹ فارم ایسے کسی بھی شخص کو دستیاب ہوگاجس کے پاس انٹرنیٹ کنکشن ہو۔ برائے نام فیس لیکر کسی طالب علم کو کسی مضمون میں مہارت کے مظاہرہ پر سند دی جائے گی لیکن یہ سند مساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (ایم آئی ٹی) یا ہارورڈ کے نام سے جاری نہیں ہوگی۔

ایم آئی ٹی کے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’’ایم آئی ٹی اور ہارورڈ کو توقع ہے کہ گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ دیگر یونیورسٹیاں بھی ایڈ۔ ایکس پلیٹ فارم پر اپنے اپنے نصابوں کی پیشکش میں شریک ہوں گی۔ ایک نئی سائٹ پر بہت سی یونیورسٹیوں کاتعلیمی مواداکٹھا ہو جانے سے عالم گیر سطح پر پڑھنے والے کو کسی ایک ویب سائٹ پر ہی تمام شریک یونیورسٹیوں کے نصابی مواد تک رسائی حاصل ہو گی۔

ایڈایکس آن لائن تربیتی مواد کی فراہمی میں دونوں یونیورسٹیوں کے تجربے سے فیض اٹھائے گا۔ یہ پروگرام دونوں اداروں میں اس وقت جاری فاصلاتی نصاب ترغیبات سے الگ ہوگا۔ ایڈ۔ ایکس درس و تدریس پر تحقیق کرنے میں ہاروڈ اور ایم آئی ٹی فیکلٹی کی بھی مددکرے گا۔ ایم آئی ٹی اور ہارورڈ نے مئی۲۰۱۲ میں یہ مشترکہ پروگرام شروع کرنے کے لئے مل کر۶۰ ملین ڈالر کا سرمایہ لگانے کا عہد کیا ہے ۔ یہ رقم ادارہ جاتی تعاون، گرانٹ اور چندہ کی صورت میں اکٹھی کی جائے گی

ایم آئی ٹی کمپیوٹر سائنس اورآر ٹی فیشیل انٹیلی جینس لیباریٹری کے ڈائرکٹر اننت اگروال ایڈ ایکس کے پہلے صدر کے طور پر خدمت انجام دیں گے۔

http://www.edxonline.org

اس ویب سائٹ پر اس کی بھی گنجائش ہے کہ اساتذہ یعنی ٹیچر اور کوچ دونوں طالب علموں کو مشق کرنے کے لئے کچھ دیں اور سبق بہ سبق ان کی پیش قدمی کی نگرانی کرتے رہیں۔ سلمان خاں نے جب سے یہ کام شروع کیا ہے تب سے اب تک انہوں نے اکیڈمی کے ۳۳۰۰ ویڈیوز میں سے ۳۰۰۰ خود بنائے ہیں۔

ہر ویڈیو بنانے میں انہیں وقت لگا ہے۔ کچھ انہوں نے چند منٹ کے اندر بنا لئے اور کچھ ویڈیو بنانے میں گھنٹوں کا وقت لگایا۔

انہوں نے کہا ’’ میں چاہتا تھا کہ ویڈیو نامیاتی اور مکالماتی ہوں ۔ عام طور پر میرے ذہن میں ایک خاکہ رہتا ہے کہ مجھے کیا کرنا چاہئے لیکن چونکہ میں کسی منظر نامہ کے بغیر کام کرتا ہوں اس لئے میرے ویڈیو کا مواد سننے میں زیادہ فطری لگتا ہے۔وہی بشریت یہ احساس جگاتی ہے کہ اپنے کزن سے بات کر رہا ہوں یا دیکھنے والے ہر شخص سے انفرادی گفتگو میں مصروف ہوں۔ایسا نہیں لگتا کہ ۲۰ لوگوں نے مل کر ایک اسکرپٹ لکھی اور اسے پڑھنے کے لئے کسی اداکار کی خدمات حاصل کی گئیں۔

اس ویب سائٹ کے مستقبل کے لئے خان کے پاس بڑے منصوبے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم لوگوں نے ان ویڈیوز کو اردو ، ہندی ، بنگلہ اور تمل زبانوں میں ترجمہ کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔ ہم مختلف زبانوں میں بنیادی پلیٹ فارم میں مقامی رنگ لانے کا بھی منصوبہ بنا رہے ہیں تاکہ کسی بھی جگہ مکمل تجربہ ہوسکے۔‘

خان کا منصوبہ ویب سائٹ کے مواد میں توسیع کا بھی ہے اورمزید ویڈیو اور مشقیں شامل کرنے کا بھی۔انہوں نے بتایا کہ ’’ ہم لوگ زیادہ ضرورت کے مضامین جیسے کہ اکاؤنٹنگ یا حساب و کتاب، قانون اور میڈیسن یا علاج معالجہ سے متعلق مضامین کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اسے اور بھی زیادہ تفاعلی اورتعاملی بنانا چاہتے ہیں۔ ہماری ایسی صورتیں وضع کرنے کی بھی خواہش ہے کہ اس ویب سائٹ کے استعمال کرنے والے ایک دوسرے کی زیادہ بہتر مدد کر سکیں۔ہم سیکھنے والوں کی ایک ایسی برادری بنانا چاہتے ہیں جس میں ہم جماعت طلبا ایک دوسرے کو سکھا سکیں۔‘

خان کی والدہ ہندوستانی ہیں اور والد بنگلہ دیشی۔ ان کی پرورش نیواورلینس میں ہوئی۔ وہ اپنی اکیڈمی کی کامیابی کو ویب پر مبنی تعلیمی وسائل کے بڑھتے ہوئے بڑے رحجان کی ایک کڑی سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’’ مسا چیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (ایم آئی ٹی) جیسی یونیورسیٹیوں میں دہائیوں سے ویڈیو لکچر دستیاب ہیں۔ لیکن میرے خیال میں ہماری مشقیں، سوال جواب کے وسائل اور اطلاعات کے علاوہ تجزیہ اور تحلیل ہمیں منفرد بنا تے ہیں۔ ‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہارورڈ اور ایم آئی ٹی نے حال میں ایک اور مبنی بر ویب تعلیمی منصوبہ ایڈ ایکس شروع کیا ہے اور یہ مانا ہے کہ انہیں اس کی تحریک خان اکیڈمی سے ملی۔یہ چیز ہمارے لئے بہت ہی باعث مسرت ہے۔‘

ویب پر مبنی حصول علم کی طرف جھکاؤ بڑھنے کے مزید ثبوت کے طور پر خان اپنی اکیڈمی کے استعمال کنندگان کی زبردست تعداد اور ایسے ہی آن لائن وسائل میں تجارتی سرمایہ کاری کی مسلسل لہر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ ایک رحجان چل پڑا ہے اور یہ صاف نظر آتا ہے۔‘

کچھ لوگوں کواندیشہ ہے کہ خان اکیڈمی کا مقصد اساتذہ کی جگہ لینا ہے مگر خان نے بتایا کہ ایساکچھ نہیں ان کا مقصد اساتذہ اور طلبا و طالبات دونوں کے لئے کلاس روم کے تجربہ کو زیادہ فعال،اور کارگر بنانا ہے ۔

خان نے کہا کہ ’’ ابھی کی صورتحال یہ ہے کہ پڑھائی کا ڈھیر ساراکام لکچروں کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ یہ طلبہ و طالبات کے سیکھنے جاننے پڑھنے لکھنے کا بہت ہی غیر فعال طریقہ ہے۔ اگر لکچرخودکار ہو جائیں تو کلاس روم کا وقت لکچر سننے کی بجائے طالب علموں کے ایک دوسرے کو پڑھانے سکھانے ، اساتذہ کے طالب علموں کومشورہ دینے انکی رہنمائی کرنے اور اور زیادہ کھلی ہوئی کھوج اور تخلیقیت پر استعمال ہو سکتا ہے۔ خان کا کہنا ہے کہ اگر طالب علم کسی کمرے میں جمع ہیں تو انہیں آپس میں تفاعل کرنا چاہئے ۔’’ یہ کیا کہ خاموشی سے بیٹھے ہیں اور معلومات حاصل کر رہے ہیں۔‘

خان کو اس پر خوش گوار حیرت ہے کہ ان کی اکیڈمی کواس قدر جلد نہ صرف پوری دنیا میں افراد بلکہ تعلیمی اداروں نے بھی اپنا لیا۔

ا نہوں نے کہا کہ شروع میں میں نے یہی سوچا تھا کہ خان اکیڈمی کو معمول کے تعلیمی نظام کے بالکل باہر ہی رکھا جائے گا۔ یہ بڑی بات ہوئی کہ ہر جگہ کے تعلیمی ادارے اسے اپنا رہے ہیں۔اس کی وجہ سے لوگ یہ سوال پوچھنے لگے ہیں کہ کلاس روم کے اندر پڑھائی کیسی ہونی چاہئے ؟ صرف اتنا ہی نہیں کہ ہم لوگ پوری دنیا کے لوگوں کو پڑھنے میں مدد کر رہے ہیں بلکہ ہم لوگ اب تعلیم کے بارے میں عوامی مکالمے میں بھی شامل کر لئے گئے ہیں اور یہ بڑی بات ہے۔‘

 

مائیکل گیلنٹ،گیلنٹ میوزک کے بانی اور چیف ایگزیکٹوافسر ہیں۔ وہ نیویارک سٹی میں رہائش پذیر

تبصرہ کرنے کے ضوابط