مرکز

معلومات کی وضاحت

انٹرنیٹ آف تھِنگس کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ شماریاتی سائنس گریجویٹس کی مانگ بتدریج بڑھ رہی ہے۔

شماریاتی سائنس کی تعریف عام طور پر اعداد و شمار سے سیکھنے والی اور غیر یقینی کیفیات کا اندازہ لگانے والی ،اسے قابو میں کرسکنے والی اور اطلاع دینے والی سائنس کے طور پر کی جاتی ہے۔ شماریاتی سائنس، سائنسی اور سماجی ترقیات کو درکار راہنمائی فراہم کرنے والی اور اہم فیصلوں کی جانکاری دینے والی سائنس کے طور پر بھی جانی جاتی ہے۔اس ڈیجیٹل دور میں شماریاتی ماہرین کے پاس مطالعہ کے نئے اور اختراعی شعبوں کی دریافت کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ اعدادو شمار ہیں۔فوربس میگزین میں شائع ایک مضمون کے مطابق ہر روز ۲ اعشاریہ ۵ کوئن ٹیلین بائٹ اعداد و شمار پیدا ہوتے ہیں اور دنیا بھر میں انٹرنیٹ آف تھِنگس(روزمرہ کے استعمال کی اشیاء اور طبیعیاتی آلات تک انٹرنیٹ کی سہولت کی توسیع) کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ اس رفتار میں بھی تیزی آ رہی ہے۔

شماریاتی پروگراموں میں اعداد و شمار جمع کرنے ، انہیں ترتیب دینے ، ان کا تجزیہ کرنے اور تشریح کرنے کے اصولوں اور طریقوں پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ گریجویٹ افراد عام طور پر کاروبار ، تعلیم ، صنعت ، حکومت ، دوا ، اشاعت ، سائنسی تحقیق اور مزید مختلف متنوع شعبوں میں کریئر سازی کرتے ہیں۔ مزدوروں سے متعلق اعداد وشمار رکھنے والی امریکی بیورو کے مطابق مئی ۲۰۱۸ ء میں ایک ماہر شماریات کی اوسط سالانہ تنخواہ ۹۲ہزار ۶۰۰ ڈالر (تقریباََ ۶۵ لاکھ روپے )تھی۔ 

اب جب کہ تمام عالمی صنعتوں میں اعداد وشمار پر مبنی تجزیات اور شماریاتی تجزیات پہلے کے مقابلے زیادہ اہم ہوتے جار ہے ہیں توایسے میں یونیورسٹی آف منیسوٹا(یو ایم این) کے اسکول آف اسٹَیٹِسٹِکس  اور ٹیکساس میں واقع بیلر یونیورسٹی کے ڈپارٹمنٹ آف اسٹَیٹِسٹِکل سائنس جیسے کورس ایسے پروگراموں کی بہترین مثالیں ہیں جن کے بارے میں ہندوستانی طلبہ غور کر سکتے ہیں۔

 

قدیم اورقائم و دائم 

سنہ ۱۸۵۱ ء میں قائم یو ایم این کا شمار امریکہ کی سرکردہ سرکاری ریسرچ یونیورسٹیوں میں کیا جاتا ہے۔ریاست منیسوٹا کے شہرمنیاپولس میں واقع یو ایم این میں ۱۳۰ ملکوں کے تقریباََ ۷۱۹۷ طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ اس کے اساتذہ اور طلبہ نئی معلومات کی وسیع مقدار سے معنی پیدا کرنے کے لیے کیمپس اور دنیا بھر کے معاونین کے ساتھ کام کرتے ہیں ۔ اس تحقیق کے لیے نہ صرف یہ کہ حال ہی میں مشہور شماریاتی نمونوں اور طریقوں کی ضرورت ہے بلکہ ایسے نمونوں، طریقوں اور سافٹ وئیر کو بنانے اور فروغ دینے کی بھی ضرورت ہے جو نئے اور ابھرتے چیلنجوں کا سامنا کرسکیں۔ 

یو ایم این کے اسکول آف اسٹَیٹِسٹِکس میں منتظم میتھیو ڈَینگیل کہتے ہیں ’’ہمارے کورس کو عالمی شہرت یافتہ اساتذہ پڑھاتے ہیں جن میں امیریکن اسٹَیٹِسٹِکل ایسوسی ایشن ، انسٹی ٹیوٹ آف میتھمیٹیکل  اسٹَیٹِسٹِکساورانٹرنیشنل اسٹَیٹِسٹِکل انسٹی ٹیوٹ جیسی تنظیموں کے کئی منتخب فیلو بھی شامل ہیں ۔ان میں سے کئی اساتذہ اہم رسالوں کے مدیر یا معاون مدیر بھی رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ متعدد پروفیسروں کو تدریس میں ان کی امتیازی کار کردگی کے لیے اعزازات بھی مل چکے ہیں۔ ‘‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ اسکول اپنے  انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اِن اسٹَیٹِسٹِکس اینڈ اِٹس ایپلی کیشنز(آئی آر ایس اے)کے توسط سے

 بین مضامینی تعاون اور پیشہ وارانہ ترقی کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔ڈَینگیل کہتے ہیں ’’ طلبہ کی آئی آر ایس اے کے  اسٹَیٹِسٹِکل کنسلٹِنگ سینٹر کے لیے تحقیقی معاونین کی حیثیت سے کام کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جہاں وہ حقیقی دنیا کے گاہکوں کے لیے چیلنجوں کو حل کرنے کا براہ راست تجربہ حاصل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ طلبہ کی آئی آر ایس اے کی کانفرنسوں، ورک شاپس اور مختصر کورسوں تک رسائی حاصل ہوتی ہے جہاں شماریات اور ڈیٹا سائنس سے متعلق ان کی معلومات کا استعمال مختلف مضامین کے لیے کیا جاتا ہے تاکہ اکیسویں صدی کے اہم ترین چیلنجوں سے نمٹا جا سکے۔‘‘

ڈَینگیل بتاتے ہیں کہ شماریات کے گریجویٹ کاروبار، تعلیم، صنعت، حکومت، دوا، اشاعت اور سائنسی تحقیق جیسے شعبوں میں کامیاب عملی زندگی کی بنیاد رکھتے ہیں۔

 

نیا اور اختراعی

بیلر یونیورسیٹی ایک نجی یونیورسٹی ہے جس میں ۱۷ ہزار سے زیادہ طلبہ پڑھتے ہیں ۔ ان میں ۹۱ مختلف ملکوں کے طلبہ بھی شامل ہیں ۔ حالاں کہ یونیورسٹی نے سب سے پہلے ۱۹۹۱ ء میں شماریات میں پی ایچ ڈی اور ماسٹر آف آرٹس (اب ماسٹر آف سائنس )ڈگریوں کی شروعات کی تھی ، تاہم شماریات میں انڈر گریجویٹ بیچلر آف سائنس ڈگری کی شروعات ۲۰۰۵ ء میں کی گئی۔اس کے بعد سے اس پروگرام میں دلچسپی لینے والے طلبہ کی تعداد بڑھ گئی ہے۔گریجویٹ اسکول میں داخل ہونے یا پیشہ ورانہ مواقع کی تلاش کرنے والے طلبہ کو ایک پُر کشش متبادل فراہم کرنے کے لیے شماریات میں ایک مطالعہ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔  

محکمہ تمام سطحوں پر شماریات سے متعلق معیاری رہنمائی فراہم کرتا ہے جس سے شماریاتی علم کی دریافت اور اس کی ترسیل میں مدد ملتی ہے۔ اس سے سماج کی ضرورتوں کے تئیں حسّاس ، اخلاقیات سے لیس اسکالر، ہنر مند پیشہ وروں اور تعلیم یافتہ رہنماؤں کو تیار کیا جاتا ہے۔

 اسٹَیٹِسٹِکل سائنس  کے سینئر لیکچرر اور انڈرگریجویٹ پروگرام کے ڈائریکٹر  جین ایس ہِل کہتے ہیں ’’یہ ایک ایسا پروگرام ہے جو اصول اور طریقۂ کار دونوں پر توجہ مرکوز کر تا ہے۔ اس میں حساب کتاب کے جدید طریقوں پر مضبوطی کے ساتھ زور دیا جاتا ہے۔ بیلر یونیورسٹی کا مشن عالمی سطح پر قیادت کرنے اور خدمات فراہمی کے لیے مردوں اور عورتوں کوزیورِ تعلیم سے آراستہ کرنا ہے۔ ‘‘

 

جیسون چیانگ لاس اینجلس کے سِلور لیک میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط