مرکز

سنسکرت کی تدریس

متعدد امریکی یونیورسٹیوں میں سنسکرت کی تدریس کا نظم موجود ہے۔ یہ سہولت ایسے طلبہ کے لیے بھی ہے جو انگریزی کے علاوہ کوئی دوسری زبان پہلے سے نہیں جانتے۔

سنسکرت زبان کی ایک اچھی طرح دستاویز بند تاریخ ہے جو تقریباً۳۵۰۰ برسوں پر محیط ہے۔ ہندو ، بودھ اور جین مذاہب کے اساسی متون سنسکرت کے قدیم مذہبی کردار کا ثبوت فراہم کرتے ہیں اور جنوب مشرقی ، مشرقی اور وسطی ایشیا میں مشترکہ عہد کے پہلے ہزارے میں اعلیٰ تہذیب اور تعلیم یافتہ حکمراں طبقات کی زبان کے طور پر اس کے ظاہر ہونے کی ایک جھلک بھی پیش کرتے ہیں۔ 

سنسکرت کی ادبی روایت نہ صرف قدیم ہے بلکہ یہ عہد جدید میں بھی پنپ رہی ہے۔گو کہ اس زبان میں تیار شدہ سب سے زیادہ معروف متن بھگوت گیتا ہے جو زبانی بیانات کے سلسلوں پر مشتمل ہے لیکن سنسکرت کی ہم عصر ادبی روایت عالمی ثقافت میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ۱۹۴۷ ء میں انڈیا کے آزاد ہونے کے بعد سے سنسکرت میں ۳ ہزار سے زیادہ ادبی تصنیفات سامنے آئی ہیں۔ اسی لیے اس امر پر حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ سنسکرت نہ بولنے والوں کے درمیان بھی سنسکرت کی تدریس پھل پھول رہی ہے۔ 

امریکہ کی ممتاز یونیورسٹیوں میں سے ایک براؤن یونیورسٹی کے کلاسیکی شعبے میں سنسکرت زبان و ادب میں پی ایچ ڈی کرنے کی سہولت موجود ہے ۔ اس کے علاوہ وہ کلاسیکی ادب اور سنسکرت پی ایچ ڈی کا نصاب بھی موجود ہے جس میں روایتی زبانیں پڑھنے والوں کو اس بات کی بھی اجازت ملتی ہے کہ وہ کلاسیکی ادب میں پی ایچ ڈی میں سنسکرت کا بھی ایک جز شامل کر لیں۔یونیورسٹی ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے سے سنسکرت کی تدریس میں مصروف ہے اور اس وقت کلاسیکی ادب کے شعبے میں سنسکرت کے پروفیسر پورندر داس، جیمس ایل فز جیرالڈ کی قیاد ت میں یہ کام چل رہا ہے۔ سنسکرت کے سلسلے میں یونیورسٹی کا موجودہ طرزعمل یونانی اور رومن کلاسکی زبانوں میں اس کے پروگرام کی عکاسی کرتا ہے ۔یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر سنسکرت کے متعلق مندرجہ ذیل عبارت درج ہے:’’سنسکرت زبان کے مطالعہ کی کافی پر مشقت تیاری کی بنیاد پر اس کے زیادہ بڑے ثقافتی اور تاریخی پس منظر میں متون کی جانچ اور تفسیرکی جا تی ہے۔‘‘

ویب سائٹ پر زبان کے سلسلے میں جو اور باتیں لکھی ہیں وہ کچھ یوں ہیں : ’’ایسے بھر پور نصابوں کے علاوہ جن میں طلبہ کو سنسکرت پر مکمل عبور حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے، یونیورسٹی میں ابتدائی سنسکرت جیسا نصاب بھی دستیاب ہے جن میں ایسے طلبہ کو شرکت کی اجازت ملتی ہے جو انگریزی کے سوا کوئی دوسری زبان پہلے سے نہیں جانتے۔ طلبہ دیوناگری رسم الخط کو پڑھنا تیزی کے ساتھ سیکھتے ہیں اور سنسکرت زبان کی آواز کے نظام کی بنیادی باتوں کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ اس حد تک عبور حاصل ہوجانے کے بعد یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ سنسکرت زبان کے ادب کا مطالعہ شروع کیا جائے، مثال کے طور پر سنسکرت رزمیہ بیانیہ نصاب میں ،جس سے پہلے سال میں سنسکرت میں پڑھائی گئی زبان کی قواعد کا علم مستحکم ہوتا ہے اور اس کی توسیع ہوتی ہے ، طلبہ کو قدیم ہندوستانی ثقافت کے بنیادی موضوعات کا راست علم ہوتا ہے ۔ اسی کے ساتھ رزمیہ پڑھنے کے لیے ضروری قرات اور تشریح کا ہنر بھی آتا ہے اور اس طرح طلبہ بہت قریب سے مربوط سنسکرت بیانیہ کی تفہیم کرتے ہیں اور اسے زیادہ بہتری کے ساتھ سمجھنے لگتے ہیں ۔ ‘‘

یونیورسٹی آف شکاگو میں بھی سنسکرت زبان و ادب کا ایک پُر وقاراور مضبوط پروگرام چلتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ ایک ایسی جنوبی ایشیائی زبان ہے جو اس یونیورسٹی میں ۱۸۹۲ ء میں یونیورسٹی کے قیام کے بعد سے اب تک مسلسل پڑھائی جانے والی زبان کے سب سے طویل ریکارڈ سے سرفراز ہے۔ 

نہ صرف یونیورسٹی آف شکاگو سنسکرت کی پڑھائی کے لیے ایک انتہائی موزوں ادارہ ہے بلکہ یہ سنسکرت سے تعلق رکھنے والی سرگرمیوں کا مرکز بھی ہے جہاں کانفرنسیں منعقد ہوتی ہیں اور ہندوستان اور دوسری جگہوں سے دورہ پر آئے ہوئے اسکالروں کی میزبانی بھی کی جاتی ہے۔یہاں طلبہ کو اس کا موقع بھی ملتا ہے کہ وہ  یونیورسٹی آف وِسکونسِن۔ میڈیسن کے  ساؤتھ ایشیا سمر لینگویج انسٹی ٹیوٹ میں یا مہاراشٹر کے پونہ میں واقع امیریکن انسٹی ٹیوٹ فار انڈین اسٹڈیزکے پروگرام میں اس زبان میں اپنی دلچسپی جاری رکھنے کی سہولت حاصل کر سکیں ۔

یونیورسٹی آف شکاگو کے طلبہ سنسکرت کی تدریس کی شدید نوعیت اور اس کے فوائد کی تصدیق کرتے ہیں۔مثال کے طور پر پی ایچ ڈی کے ایک طالب علم نیل ہاولے نے بتایا ’’ میں اگر یونیوسٹی آف شکاگو آیا تو اس کے بنیادی اسباب میں یہ شامل ہے کہ یہاں سنسکرت کے لیے واضح تعمل اور تاریخی قول و قرار ملتا ہے اور سنسکرت زبان کی پڑھائی یہاں میرے اب تک کے وقت کا سب سے زیادہ سود مند پہلو ثابت ہوئی ہے۔ میں خاص طور پر اس بات کی تحسین کرتا ہوں کہ ہمارے اساتذہ زیرک ، پر جوش اور صابر ہیں۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر اصناف و اسالیب سے سابقہ پڑنا بھی عمدہ چیز ہے۔ ‘‘

ڈیوینٹی اسکول کے مذہبی فلسفہ میں پی ایچ ڈی کے طالب علم  ڈیوے ٹام لِنسَن نے ان ہی جذبات کی عکاسی کرتے ہوئے کہا ’’ اعلیٰ شعری نظریہ ہو یا پنینی کا نازک اور پیچیدہ قواعدی تجزیہ ، مہابھارت ہو یا مدھیا مکا ، سنسکرت ادب کا گوناگوں پھیلاؤ اور اسی کے ساتھ متعدد استادانہ فنون بھی بعض اوقات مدہوش کر دینے کی حد تک جوش و خروش کے ساتھ ہمارے سامنے لائے جاتے ہیں۔ ‘‘ 

اعلیٰ ترین سطحوں پر اس زبان کو پڑھنے والے ایسے پُر جوش طلبہ کی موجودگی کے پیش نظر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس قدیم زبان کا اثر پھیل کر مستقبل میں بھی دور تک پہنچے گا۔ 

 

ٹریور لارینس جوکِمس نیویارک یونیورسٹی میں تحریر ، ادب اور عصری ثقافت کی تدریس کرتے ہیں ۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط