مرکز

سائنس سماجی زندگی کی

عمرانیات کے شعبے کے طلبہ دنیا بھر میں واقع ہونے والی چیزوں کے ’کیوں‘  اور ’ کیسے‘ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور پیشہ ورانہ شعبہ جات کے ایک وسیع سلسلے میں قدم رکھنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

ہندوستانی طلبہ کے لیے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے پر غور کرنا اور عمرانیات کے شعبے میں ڈگری لیناروزگار کے مواقع میں حیرت انگیز طور پر امکانات پیدا کر سکتا ہے ۔ یہ ان طلبہ کے لیے بھی دلچسپی کا باعث ہو سکتا ہے جو وسیع طور پر یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ کوئی معاشرہ کس طرح کام کرتا ہے۔ 

ماہر عمرانیات خاندان، دوستی سے متعلق گروپ،گہرے تعلقات، تعلیم، ثقافت، سیاست، معاشیات، جرائم،عدم مساوات، صحت سے متعلق مسائل او ر ماحولیات جیسے بہت سارے موضوعات کا مطالعہ کرتے ہیں۔عمرانیات کے طلبہ چیلنج سے پُر مسائل سے تخلیقی طور پر نمٹنا سیکھنے کے علاوہ تحقیق کا عمل انجام دیتے ، غور و فکر کی تجزیاتی اور تنقیدی مہارت کو فروغ کے لیے کوشاں ہوتے اور مؤثر طور پر خیالات کی ترسیل کرتے ہیں۔

ریاست نارتھ کیرو لائنا کے وِنسٹن ۔ سلیم  میں واقع ایک نجی یونیورسٹی ویک فاریسٹ یونیورسٹی میں تقریباََ ۱۲۰ انڈر گریجویٹ طلبہ ہیں جنہوں نے میجر کرنے کے لیے عمرانیا ت کا انتخا ب کیا ۔زیادہ تر طلبہ شعبہ کے تین خاص مضامین میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتے ہیں : ان میں تجارت اور سماج ہے جس کے تحت معاشیات ، بازارکاری اور نجی زمرے کے دیگر روزگار شامل ہیں۔ دوسرا جرم اور اس سے متعلق انصاف ہے۔ یہ ان کے لیے بہتر ہے جو اس شعبے میں اپنا کریئر بنانے کے خواہش مند ہیں یا پھر قانون پڑھائے جانے والے اسکول میں داخلہ لینا چاہتے ہیں اور تیسرا ذیلی مضمون صحت اور بہبودی و خوشحالی کے معاشرتی عناصر ہیں جو طلبہ کو صحت عامّہ میں اپنا کریئر بنانے کے لیے یا پھرمیڈیکل اسکول میں داخلے کے لیے تیار کرتا ہے۔ 

اس پروگرا م کو مکمل کرنے والے طلبہ کی تقریباََ نصف آبادی گریجویٹ اسکول جاتی ہے۔ میجر کے طور پر عمرانیات کا انتخاب کرنے والے تقریباََ ۱۵ فی صد طلبہ بین الاقوامی ہوتے ہیں۔ڈپارٹمنٹ کے چیئر مین  جوزف سواریزکہتے ہیں ’’ عمرانیات کا انتخاب کرنے والوں کو  بزنس اینڈ سوسائٹی کنسنٹریشن  سے کافی فائدہ ہوتا ہے کیوں کہ اس میں عالمی بازار کو متحرک کرنے والی طاقتوں پر توجہ دی جاتی ہے اور اس بات پر غور و فکرکیا جاتا ہے کہ معاشرتی قوتوں کے ذریعے بازار کی تشکیل کیسے کی جاتی ہے۔ ہم لوگ طلبہ کو بازار سے متعلق بالکل تازہ معلومات فراہم کرتے ہیں اور پھر انہیں اس بات کا موقع دیتے ہیں کہ وہ یہ دیکھ سکیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ تجارت اور سماج کے شعبے کے ہمارے طلبہ روزگار کے حوالے سے بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ انہیں بہت زیادہ تنخواہ والی ملازمتیں ملتی ہیں۔ ‘‘

تمام وسائل سے آراستہ اس کیمپس میں اساتذہ اور طلبہ کے درمیان بہتر افہام و تفہیم کے لیے چھوٹی کلاسوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر عمرانیات سے متعلق جماعت میں طلبہ کی تعداد کو۳۵ تک محدود کردیا گیا ہے۔یہاں داخلہ لینے والے امریکی طلبہ کی زیادہ تعداد اور تقریباََ تمام بین الاقوامی طلبہ ہر برس ۵۰ ہزار امریکی ڈالر (تقریباََ ۳۴ لاکھ روپے ) ٹیوشن فیس کے طور پر دیتے ہیں ۔ طلبہ کو اس کے علاوہ مزید ۱۴ ہزار ڈالر (تقریباََ ۹ لاکھ روپے )کی ادائیگی رہنے سہنے کے مد میں کرنی پڑتی ہے۔ 

ویک فاریسٹ انڈر گریجویٹ ڈگری فراہم کرتا ہے تو یونیورسٹی آف وِسکونسن ۔میڈیسن گریجویٹ ڈگری دیتی ہے۔ ایک نمایاں تحقیقی ادارے کے طور پراس یونیورسٹی کی تاریخ طویل ہے۔ عمرانیات کے شعبے میں یہاں۲۵۰  انڈر گریجویٹ میجر ہیں جن میں سے ۱۰ فی صد بین الاقوامی طلبہ ہوتے ہیں ۔ شعبے میں ۱۲۰ گریجویٹ طلبہ بھی ہوتے ہیں جن میں سب کا اندراج پی ایچ ڈی پروگرام کے لیے ہوتا ہے ۔ ان میں سے ۲۵ بین الاقوامی طلبہ ہیں۔ 

بہت سارے بین الاقوامی طلبہ اپنی پڑھائی مکمل کرنے کے بعد اپنے وطن کی یونیورسٹیوں میں بطور استاد شامل ہونے کے لیے وطن لوٹ جاتے ہیں ۔ ڈپارٹمنٹ کے چیئر پرسن  ایم ریمو کہتے ہیں کہ اس شعبے میں سنجیدگی سے پڑھائی کرنے والے طلبہ کے لیے کسی ایسے ملک میں پڑھنا کافی کار آمد ہوتا ہے جہاں عمرانیات کی گہری روایت ہو ۔وہ خیال آرائی کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’ کسی شعبے میں سخت تحقیق کی طویل تاریخ والے کسی ادارے میں تعلیم حاصل کرنا اہم ہے۔ یہ طلبہ کو حقیقی طور پر اس مضمون کو سمجھنے اور عالمی میدان میں شرکت کی اجازت کے ساتھ ان کے ملک میں واپس جانے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔‘‘

 انڈر گریجویٹ طلبہ جو وِسکونسن کے باشندے نہیں ہیں (خواہ وہ امریکی ہوں یا بین الاقوامی )انہیں ٹیوشن کے لیے سالانہ ۳۷ ہزار ڈالر(تقریباََ ۲۵ لاکھ روپے) ادا کرنے ہوتے ہیں ۔ گریجویشن میں داخلے کافی مقابلہ جاتی ہوتے ہیں اور صرف ۱۵ فی صد درخواست گزاروں کو ہی اس کے لیے تسلیم کیا جاتا ہے۔یہاں داخلے کے لیے مخصوص تعلیمی شرائط کی ضرورت نہیں ہوتی ہے لیکن تحقیقی تجربہ (مثال کے طور پر اہلیانِ علم و دانش سے حاصل تجربہ) داخلہ کے امکانات میں اضافہ کر دیتا ہے۔ 

وِسکونسن میں عمرانیات یا دیگر سوشل سائنسیز کے کسی گریجویٹ پروگرام میں اگر آپ کو ایک بار داخلہ کی اجازت مل جاتی ہے تو پھر مالی لحاظ سے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔ریمو کہتے ہیں ’’ قانون ، تجارت یا طبی اسکول کے برعکس ہم لوگ اپنے طلبہ کو اچھی کارکردگی کے مظاہرے کی امید میں ۵ برس کی حمایت کی ضمانت دیتے ہیں ۔‘‘

اس میں تمام ٹیوشن فیس، صحت بیمہ جیسے معاشرتی فائدے اوررہنے سہنے کے لیے مالی امداد شامل ہیں۔ اس کے عوض گریجویٹ طلبہ عام طور سے ہفتے میں ۲۰  گھنٹے تک معاون اساتذہ یا معاون تحقیق کار کے طور پرخدمات انجام دیتے ہیں۔  

عمرانیات کے شعبے میں گریجویٹ طلبہ سیاسی عمرانیات، اقتصادی عمرانیات، بشری شماریات اور ماحولیات اور طبی عمرانیات جیسے تقریباَ َایک درجن خصوصی موضوعات میں سے کسی کا بھی انتخاب کر سکتے ہیں۔پی ایچ ڈی ڈگری کے لیے طلبہ کو ایک کتاب کی ضخامت کے بقدر تحقیقی مقالہ لکھنے کی ضرورت پڑتی ہے۔

ریمو بتاتے ہیں کہ عمرانیات میں پی ایچ ڈی کرنے والے بہت سارے طلبہ کو حکومت کے اداروں ، بین الاقوامی تنظیموں اور اہلیانِ علم و دانش میں تحقیق کار یا پالیسی تجزیہ کار کے طور پر ملازمت مل سکتی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ گریجویٹ طلبہ نجی شعبے میں گوگل اور فیس بک جیسی کمپنیوں میں بڑی مقدار میں یکجا ہو رہے ہیں۔ یہاں وہ اعداد وشمار اور اس کے مقصد کے تجزیے کے لیے اعلیٰ سائنسدانوں کے طور پر ملازمت حاصل کر سکتے ہیں ۔‘‘

 

 برٹن بولاگ واشنگٹن ڈی سی میں مقیم ایک آزاد پیشہ صحافی ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط