مرکز
1 2 3

امریکہ میں ہی تعلیم حاصل کیوں کریں

امریکہ میں دی جانے والی اعلیٰ تعلیم طلبہ کو منفرد اقدار سے نوازنے کے علاوہ انہیں ان کے طبقات، ملکوں اور تمام دنیا میں موجود چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرتی ہے۔ 

امریکہ ایک صدی سے بھی زیادہ مدت سے اعلیٰ اور معیاری تعلیم و تحقیق کے مواقع کی تلاش میں سرگرداں طلبہ اور تحقیق کاروں کے لیے سب سے مطلوب مقامات میں سے ایک رہا ہے۔ مختلف پس منظر، تجربات اور نظریات کے لوگوں کے سنگم نے یہاں تکثیریت پر مشتمل معاشرے کی تشکیل کی ہے۔یہ تخلیقیت اورآزاد خیالی سوال و جواب کی بنیاد پر سیکھنے کے عمل اور یکساں مواقع کو فروغ دیتی ہے۔ مذکورہ اصول امریکہ کے اعلیٰ تعلیمی نظام کی شناخت ہیں جن کی وجہ سے عالمی رہنما اور تبدیلی رونما کرنے والے اور شہری سفیر پیدا ہوئے ہیں۔ اس لیے اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ امریکی یونیورسٹیوں نے بہت سارے نوبل انعام یافتگان پیدا کیے ہیں ۔ گلوبل فورچون۱۰۰ کی فہرست میں شامل کمپنیوں کے زیادہ تر سی ای او بھی امریکی یونیورسٹیوں ہی سے وابستہ رہے ہیں ۔ امریکی ادارے اعلیٰ تعلیم کے ایسے سرفہرست اداروں میں بھی اپنا مقام رکھتے ہیں جہاں ایجادات و اختراعات وجود میں آتی ہیں ۔ 

اعداد و شمار کے مطابق امریکہ کو بین الاقوامی طلبہ کے درمیان اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں سب سے ترجیحی مقام والے ملک کا درجہ حاصل ہے۔ ۱۸۔۲۰۱۷ کے دوران ایک اعشاریہ صفر نو ملین بین الاقوامی طلبہ امریکہ میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔امریکہ میں بین الاقوامی طلبہ کی تعداد سے متعلق امریکی وزارت خارجہ کی مالی اعانت سے انجام پانے والے سالانہ جائزے، اوپن ڈورس رپورٹس کے مطابق ۰۱۔۲۰۰۰ سے اب تک امریکہ میں بین الاقوامی طلبہ کی تعداد تقریباََ دو گنی ہو چکی ہے جس میں چین اور ہندوستان کے طلبہ سب سے زیادہ ہیں۔یہی نہیں پچھلے ۶ تعلیمی برسوں کے دوران امریکہ میں پڑھنے والے ہندوستانی طلبہ کی تعداد دو گنی ہو چکی ہے۔   

واضح ہو کہ اعلیٰ تعلیم کے ۴۷۰۰ سے بھی زیادہ منظور شدہ اداروں کے ساتھ امریکہ کا اعلیٰ تعلیمی نظام طلبہ کے بڑے گروہ کی تدریس کی ضرورت کی تکمیل پر قادر ہے۔امریکی کلاس روم کثیر ثقافتی نقطۂ نظر کی آماجگاہ ہوا کرتا ہے جہاں مختلف تعلیمی اور سماجی و معاشی پس منظر والے طلبہ کسبِ علم کرتے ہیں ۔ یہ تنوع طلبہ کو جذباتی طور پر زیادہ ذہین، صورت حال کے اعتبار سے باخبر اور اختلافات کی صورت میں رواداری سکھاتا ہے۔ مثال کے طور پر کلاس روم میں ہونے والا تبادلۂ خیال صرف خصوصیات کے اعتبار سے ہی بہتر نہیں ہوتا بلکہ سیکھنے والوں کو مختلف نقطۂ نظر سے مسائل کو سمجھنے میں بھی مدد کرتا ہے۔اس طور پر طلبہ مسائل کا ایسا حل تلاش کرتے ہیں جو مختلف سیاق و سباق میں لوگوں کے لیے کار آمد ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا میں ایڈ ووکیٹ آن ریکارڈ دلپریت سنگھ کہتے ہیں ’’ امریکی یونیورسٹیوں ، خاص کر  برکلے لا میں کافی تنوع پایا جاتا ہے۔میری جماعت میں ۱۲۰ طلبہ تھے جن کا تعلق ۴۹ ملکوں سے تھا۔ اس سے مجھے تعلیم ، زندگی اور تعلقات کے حوالے سے عظیم تقابلی نقطۂ نظر سے واقف ہونے کا موقع ملا۔ ‘‘ 

امریکی اعلیٰ تعلیم کے نظام کا دوسرا قابل ذکر پہلو اس میں بہت سارے علمی شعبوں کی موجودگی ہے۔ اس سے طلبہ کو اپنے اعتبار سے سیکھنے کی آزادی ملتی ہے۔ اس سے پہلے کہ طلبہ اختصاص کے لیے مضامین کا انتخاب کریں، ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ انڈر گریجویٹ سطح پر بہت سارے مضامین اور تعلیمی موضوعات تلاش کریں۔ اصل میں قابلِ لحاظ مقدار میں امریکی یونیورسٹیاں انڈر گریجویٹ طلبہ کو ڈگری پروگرام میں مضمون کے تعین کے بغیر داخلے کا موقع دیتی ہیں یعنی طلبہ یہاں مطالعے کے اہم مضامین کا فیصلہ کیے بغیر داخلہ لے سکتے ہیں ۔ بین الاقوای تعلیم کے میدان میں یہ ایک غیر معمولی بات ہے۔ گریجویٹ طلبہ کو اس بات کی آزادی ہوتی ہے کہ وہ اپنے مخصوص تحقیقی میدان میں اپنی دلچسپی کے اعتبار سے کورس کا انتخاب کریں ۔ واشنگٹن ڈی سی میں  بوز اَیلن ہیملٹن میں تکنیکی احتساب کی سربراہ لاونیہ پرکاش کہتی ہیں ’’ میں میری لینڈ کے ایک کمیونٹی کالج (مونٹ گومری کالج )گئی جہاں سے میں یونیورسٹی آف میری لینڈ کے رابرٹ ایچ اسمتھ اسکول آف بزنس منتقل ہوگئی ۔ یہاں میں نے اکاؤنٹنگ اور فائنانس میں ڈبل میجر کیا ۔ یہاں مجھے ساڑھے تین برسوں میں ۱۵۰ کریڈٹ مکمل کرنے کی آزادی ملی جس کے کرنے میں ۵ برس کا عرصہ درکارہوتا ہے۔گریجویشن کرنے کے بعد مجھے ارنسٹ اینڈ ینگ  میں ملازمت مل گئی جس سے میرے کریئر کو وسعت ملی۔امریکہ میں پڑھنے کے تجربے سے میں محظوظ ہوئی کیوں کہ وہاں ابتدائی برسوں میں مجھے اس بات کی آزادی تھی کہ میں صرف ایک مضمون پر توجہ دینے کی بجائے ریاضی سے لے کر سائنس تک ہر مضمون کا مطالعہ کروں۔‘‘ 

امریکہ میں طلبہ کو اس بات کی آزادی ہوتی ہے کہ وہ اپنی پسند سے تعلیمی ادارہ ، کلاس سائز، اساتذہ ، تحقیقی مواقع و سہولیات اور انٹرن شپ اور پڑھائی کے بعد کام کرنے کے متبادل کا انتخاب کریں ۔ یہی نہیں طلبہ اپنی پسند کاشہر اور معاشی خطے کا بھی انتخاب کرسکتے ہیں جہاں وہ رہنا چاہتے ہیں۔امریکہ۔ ہند تعلیمی فاؤنڈیشن کی ممبئی شاخ میںایجوکیشن یو ایس اے کو آرڈی نیٹر منموہن تھورٹ  کہتے ہیں ’’ میں نے اوکلاہوما یونیورسٹی سے میکا نیکل انجینئر نگ میں بیچلر آف سائنس مکمل کیا جس کے تحت ذیلی مضمون کے طور پر سماجیات کی پڑھائی بھی کی۔تمام ممالک میں سے میں نے امریکہ کو اس لیے چنا کیوں کہ میں اس کی ثقافت سے واقف تھا اور میں نے ہمیشہ سے اس ملک اور اس کے اقدار کی ستائش کی ہے۔ اوکلاہوما اسٹیٹ یونیورسٹی میں حاصل کی گئی تعلیم کے حوالے سے میں کہنا چاہوں گا کہ میرا علمی تجربہ کافی عمدہ رہا ۔ خواہ وہ کلاسیز ہوں، طلبہ کی جماعتیں ہوں، کانفرنس یا انٹرن شپ ہو ، میں نے اپنی دلچسپیوں اور صلاحیتوں کے ساتھ ہر جگہ انصاف سے کام لیا۔‘‘   

امریکی کالج احاطے بامقصد فن تعمیر کی تشکیل کے فلسفے پر عمل کرتے ہیں جو گنجائش ، مختلف افراد، وسائل اور طریق عمل کے مسلسل رابطے میں رہ کر سیکھنے کے عمل کو مکمل کرتے ہیں۔ 

امریکی اعلیٰ تعلیم کی مذکورہ اور دیگر بہت ساری خصوصیات ایک مضبوط تعلیمی مثال قائم کرتی ہیں ۔ ان خصوصیات نے ہزاروں گریجویٹس کو بامقصد زندگیاں اور کریئر بنانے کے سلسلے میں بااختیاربنایا ہے۔انہوں نے اپنے طبقات کو طاقت بخشنے ، دور اندیش تنظیموں کے قیام اور دنیا کو درپیش چیلنج سے نمٹنے میں تعاون کیا ہے۔ امریکہ کے بانیان میں سے ایک اور یونیورسٹی آف پین سلوانیا کے بانی بنجامن فرینکلِن نے انقلاب پذیر معیارکی خاطر تعلیم کے حوالے سے غور و فکر کیا اور قوم کی تعمیر کی جانب علم کے عملی اطلاق کے کردار پر زور دیا۔ علم حاصل کرنے کے لیے جہاں تعلیمی نظام اور طلبہ کی حوصلہ افزائی ارتقائی مراحل طے کرتی رہی ہیں وہیں امریکی یونیورسٹی کے سابق طلبہ کی کامیابی کی کہانیاں معیاری تعلیم کی طاقت کی مثال بن کر سامنے آتی رہی ہیں۔ 

 

 بھاونا جَولی نئی دہلی کے امریکہ۔ ہند تعلیمی فاؤنڈیشن میں ایجوکیشن یو ایس اے کی سینئر پروگرام افسر ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط