مرکز
1 2 3

ایچ بی او کے بڑھتے قدم

کس طرح ایک اکیلی کیبل کمپنی نے امریکی ٹیلی ویژن ڈرامے کے ایک زرّیں عہد کا آغاز کردیا؟


نا قدین، ٹیلی ویژن کی حالتِ زار پر اس وقت سے انگشت نمائی کررہے ہیں جب ٹیلی ویژن کی رسائی ان کے دیوان خانوں میں ہوئی تھی۔ سن ۱۹۶۱ میں وفاقی مواصلات کے ایک افسر نے برسرعام نقد و تبصرہ کرتے ہوئے امریکی ٹیلی ویژن کو ’’ایک وسیع ویرانہ‘‘ قرار دیا تھا۔ تیس سالوں بعد، کیبل ٹی وی نیٹ ورکس کی توسیع نے ٹیلی ویژن کو ایک تبدیلی سے روشناس کردیا۔ تاہم راک اسٹار بروس اسپرنگس ٹین نے ایک گانا لکھا تھا جس کے بول تھے ’’۵۷ چینلز (اینڈ نتھنگ آن)۔‘

ماہ و سال تیزی سے گزرتے رہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ۲۰۱۲ آگیا۔ کیبل اور سیٹیلائٹ دونوں طرح کے چینلوں کی تعداد دن دونی رات چوگنی کی رفتار سے بڑھی لیکن شکایتوں کی تعداد میں کمی نہیں آئی۔ تأثر سے خالی بے مغز خبریں، اور تحقیر، تذلیل، اہانت اور بداخلاقی کے محور پر رقص کناں رئیلیٹی شوز پر انگلیاں اٹھائی جاتی رہیں۔ لیکن امریکی ٹیلی ویژن کا یہ پہلو بھی نگاہوں سے اوجھل نہ رہے کہ گذشتہ کئی دہائیوں سے اس نے اپنے کو بہتر بنانے کی کوششیں کی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے قابل صد تحسین فنکاری اور اختراع کے ایسے متعدد پروگرام پیش کئے ہیں جنھیں ناقدین نے سراہا ہے۔ ایک کمپنی جس نے اصل ٹیلی ویژن ڈرامے کی بلندئ معیار قائم کرنے اور برقرار رکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے، اس کا نام ایچ بی او ہے۔

ٹیلی ویژن سے متعلق ایجادات و اختراعات
ایچ بی اویاہوم باکس آفس ،نہ تو کوئی ریڈیائی نشریہ ہے اور نہ ہی یہ کوئی روایتی کیبل چینل ہے۔ امریکہ میں یہ ایک بامعاوضہ ٹی وی سروس ہے جسے ناظرین اپنے بیسک کیبل چینلوں کے علاوہ خریدتے ہیں۔ اگر ناظرین کو ایچ بی او کی پیشکش پسند نہ آئے تو وہ سیکڑوں نہیں تودرجنوں کی تعداد میں موجود کوئی اور کیبل چینل کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایچ بی او کے نزدیک معیاری پیشکش ہی نصب العین ہے۔

گذشتہ ۳۰ سالوں میں، ایچ بی او نے امتیازی ٹیلی ویژن ڈراموں کی ایک کثیر تعداد کو پردۂ سیمیں کی زینت بنانے کی اہلیت کو ثابت کردکھایا ہے۔ یہاں ان میں سے چند کا ذکر ناگزیر ہے: ’’دی سوپر نیوز‘‘ (نیو جرسی میں مافیا جرائم کنبہ)، ’’دی وائر‘‘ (بالٹی مور، میری لینڈ میں پولس اور منشیات کے ٹولے)، ’’سکس فیٹ انڈر‘‘ (لاس اینجلس میں خاندانی مہم جو یا نہ کاروبار)، اور ’’سیکس اینڈ دی سٹی‘‘ (نیویارک میں چار عورتیں شکار کی تاک میں)۔

ایچ بی او نے آج بھی قابل تعریف ٹیلی ویژن ڈراموں کی تیاری اور پیش کش جاری رکھی ہے۔ اس کی موجودہ پیشکشوں میں چند قابل ذکر ہیں: ’’گیم آف تھرونز‘‘ (۱۹۲۰ کی دہائی میں ایٹلانٹک سٹی کے ایک بدعنوان سیاستداں اور جرائم سرغنہ کی داستان)، ’’بورڈ واک ایمپائر‘‘ (کیلی فورنیا میں شاندار سینٹا اینیٹا ریس کورس میں گھوڑ دوڑ اور جوئے کے قصے)، ’’لک ‘‘ اور ’’ٹرو بلڈ‘‘ (لوئزیانا کے دلدلی علاقوں میں بھوتوں، چڑیلوں اور انسانوں کے ذریعہ بقائے باہم کی جدوجہد کی لاتعداد داستانیں)۔

ایچ بی او نے طنز و مزاح کے میدان میں بھی کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں۔ اس کی ’’کرب یور اینتھوزیازم‘‘ نامی سیریز بہت مقبول ہوئی تھی جس میں ایک احمق ٹیلی ویژن قلمکار اور پروڈیوسر لیری ڈیوڈ کی زندگی دکھائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ ’’فلائٹ آف دی کنکورڈس‘‘ بھی مقبول عام ہوئی جس میں نیوزی لینڈ سے لے کر نیویارک سٹی تک دو عجیب و غریب موسیقاروں کی مہم جوئی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس نیٹ ورک نے سماجی مسئلوں کو بھی انتہائی بے باکانہ انداز میں اٹھایا ہے۔ اس ضمن میں، ۲۰۰۸ کے مالی سقوط پر مبنی فلم ’’ٹو بِگ ٹو فیل‘‘ جیسی فلمیں اور نیو اورلینز، لوئزیانا میں تباہی مچا دینے والے طوفان برق و باراں پر مبنی دستاویزی فلم’’وھین لیویزبروک‘‘ بطور تصدیق و شہادت پیش کی جاسکتی ہیں۔

پاکستان میں عورتوں کے چہروں پر تیزاب پھینک کر ان کے چہروں کو مسخ کرنے کی وارداتوں پر مبنی ایچ بی او فلم ’’سیونگ فیس‘‘ کو عالمی قبول عام کے ساتھ بہترین مختصر دستاویزی فلم کے لئے دئے جانے والے اکادمی ایوارڈ ۲۰۱۲ سے بھی نوازا گیا۔ اسی طرح ’’دی بنگالی ڈٹیکٹیو‘‘ راجیش جی اور ان کے نجی جاسوسوں کی داستان ہے جو کولکاتہ میں کئی ہفتوں کی کڑی محنت کے بعد تین مختلف معاملات حل کرتے ہیں۔ سن ۲۰۱۱ میں، ایچ بی او نے ’’تحریر اسکوائر میں مصر کے ادھورے انقلاب کے ۱۸ دن‘‘ نامی دستاویز پیش کرکے عرب بہاریہ کی کتاب میں ایک ڈرامائی باب جوڑ دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حالیہ برسوں میں، ایچ بی او کو ٹیلی ویژن کے اعلیٰ ترین ایوارڈ ایمیز سے متواتر نوازا جاتا رہا۔ دوسرے نیٹ ورکس کے مقابلے میں یہ ایچ بی او کی فوقیت کا مظہر ہے۔ سن ۲۰۱۱ میں، اس نیٹ ورک کو ۱۹ اور گزشتہ سال ۲۵ ایمیز سے نوازا گیا۔ آن لائن ویڈیو صنعت کی ایک اشاعت ویڈیو نیوزسے ایک انٹرویو کے دوران ایچ بی او کے صدر مشترک ایرک کیسلرنے کہا، ’’ہم اصل پروگرامنگ میں پہلے سے کہیں زیادہ سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ ہم یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ایچ بی او، دوسروں سے نہ صرف بہتر اور ممتاز ہے بلکہ یہ خرچ اٹھائے جانے کے قابل بھی ہے۔‘

ایچ بی او کی ترقی
ایچ بی او کو مقبولیت عام اور سرفرازی کے دو اسباب ہیں۔ اولاً یہ کہ اس نے تیزی سے بدلتی ہوئی نشریاتی ٹیکنالوجیوں پر عبور حاصل کیا اوردوئم یہ کہ اس نے تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ایک بامعاوضہ ٹی وی سروس کی حیثیت سے اس کا آغاز پنسلوانیا میں ہوا۔ ابتداء میں اس نے لائیو اسپورٹ اور ہالی ووڈ کی فلموں کی نمائش پر اپنی توجہ مرکوز رکھی۔ چند سالوں کے اندر ہی اندر ایچ بی او ایک ایسے کیبل نیٹ ورک کی حیثیت سے ابھرا جو سیٹیلائٹ کے ذریعے غیر تجارتی فلموں کی نمائش کے لئے معروف ہوچکا تھا۔ اس کا ایک طرۂ امتیاز یہ بھی تھا کہ اس نے ایک ایسی تکنیک ایجاد کی جس کے ذریعے اس کے پروگرام بیک وقت کئی چینلوں سے نشر کئے جاسکتے تھے۔

۲۰۱۰ میں اس نیٹ ورک نے ایچ بی او۔ جی او جاری کیا جس کی رو سے خریداروں کو یہ اجازت دی گئی کہ وہ اس کے تمام پروگراموں کو آئی پیڈوں، اسمارٹ فونوں اور دیگر موبائیل آلوں پر ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔آج امریکہ میں ایچ بی او کے سات چینلز کام کررہے ہیں جس میں ایک بچوں کے لئے مختص ہے اور ایک اسپینی زبان سے متعلق ہے۔ بین الاقوامی طور پر، ایچ بی او کی نشریات سے ۵۰ ملکوں میں کم و بیش ۳۵ ملین افراد مستفید ہوتے ہیں۔

مقابل
ایچ بی او نے جہاں کامیابی کے نئے چراغ روشن کئے ہیں، وہیں اسے نئے کیبل چینلوں اور ویڈیو سروسز کی جانب سے سخت ترین مسابقتوں کا سامنا بھی کرنا پڑرہا ہے۔ دوسری سروسز مقابلہ آرائی کے لئے اصل اور ممتاز ٹیلی ویژن کے اسی فارمولے کو استعمال کررہی ہیں جسے ایچ بی او نے اپنایا تھا۔ خاص طور پر کیبل چینل اے ایم سی نے ’’سوپرانو‘‘ جیسی کامیابی، ۱۹۶۰ کی دہائی میں نیویارک ایڈورٹائزنگ سے متعلق کہانیوں پر مبنی اپنی فلم ’’میڈمین‘‘ سے حاصل کی۔ اسی طرح ایچ بی او کی ’’ٹرو بلڈ‘‘ ویمپائرکے مقابلے میں ’دی واکنگ ڈیڈ‘‘ بناکر اے ایم سی نے خراج تحسین حاصل کیا۔

امریکہ میں ٹیلی ویژن کی تغیر پذیر معیشت اس سے بھی بڑا خطرہ ہے۔ مثال کے طور پر، ویڈیو کے میدان کی عبقری شخصیت نیٹ فلکس اپنے خریداروں کو آن لائن یا بذریعۂ ڈاک ڈی وی ڈی اور فلمیں براہ راست فراہم کرتا ہے اور ایچ بی او کے سبسکرپشن کے مقابلے میں نیٹ فلکس کہیں سستا ہے۔ علاوہ ازیں، جدید ترین آلات کی ایک نئی کھیپ کی مدد سے اب ناظرین فلموں اور اسپورٹ کو براہ راست انٹرنیٹ سے اپنے ٹیلی ویژنوں تک نیٹ فلکس، ہوٗلوٗ پلس، گوگل اور آمیزن کے ذریعے ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔ ویڈیو نیوز پبلشر وِل رچمنڈ کے بقول، ’’ایچ بی او بہت عمدہ و اعلیٰ سہی لیکن ایچ بی او کے زرِ تعاون میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اضافے کا ایک سبب، اسپورٹس پروگرامنگ کی لاگت میں متواتر اضافہ ہے۔ ایچ بی او سمیت تمام کیبل چینلز اس اضافہ کا بوجھ جملہ خریداروں پر ڈال دیتے ہیں خواہ اُن خریداروں کو اسپورٹس سے دلچسپی ہو یا نہ ہو۔

رچمنڈ کہتے ہیں، ’’چونکہ ایچ بی او کے پاس براہ راست خریدار کو منتقل کرنے والا کوئی ماڈل نہیں ہے، اس لئے اسے پوری طرح سے خریداروں سے حاصل شدہ زر تعاون پر ہی منحصر رہنا ہوتا ہے۔ اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ایچ بی او کو اپنے ناظرین کے لئے معیاری پیش کش پر توجہ صرف کرنی پڑتی ہے۔

ایچ بی او کے صدر مشترک کیسلر معیاری پروگرامنگ کی اہمیت سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کے باوجود نیٹ ورک بامعاوضہ ٹی وی اور موقر خدمات مثلاً ایچ بی او’’جی او ‘‘کے تئیں پابند ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’شاندار سلسلے خریداروں پر قابو رکھنے کے لئے غیر معمولی طور پر ضروری ہوتے ہیں۔ ہم سروں کی بھیڑ سے الگ دِکھنے میں پوری طرح یقین رکھتے ہیں۔ انفرادیت ہمارا خاصّہ ہے۔‘‘ کیسلر ایک اہم پہلو کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ’’ ایچ بی او ناظرین، غیر ایچ بی او کنبوں کے مقابلے میں ۱۴ فیصد زیادہ ٹیلی ویژن دیکھتے ہیں۔ ایچ بی او خریدار ٹیلی ویژن سے محبت کرتے ہیں۔ انھیں مشتاقانِ تفریح کہیں تو بے جا نہ ہوگا۔‘

 

 


ہاورڈ سنکوٹا، امریکی وزارت خارجہ سے وابستہ قلمکار اور مدیر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے ضوابط