مرکز

تھیٹر کے ذریعہ مکالمہ کی راہ ہموار کرنا

ونیتا سود بیلانی کی تھیٹر کمپنی اِن اَیکٹ آرٹس، تھیٹر میں جنوب ایشیائی برادری کی نمائندگی کی وسعت پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔

امریکی ریاست کیلی فورنیا کی سلی کَون وَیلی اور ریاست ٹیکساس کی سب سے کثیر آبادی والے شہر ہوسٹن میں بھی واقع  اِن اَیکٹ آرٹس ایک ایسی  بین الاقوامی تھیٹر کمپنی ہے جوتھیٹر کے ذریعہ جنوب ایشیاکی مہجری آبادی کی نمائندگی کرنے اور اسے فروغ دینے کا کام کرتی ہے۔برصغیر ہند میں اس کی جڑیں ہونے کی وجہ سے اِن اَیکٹ ایسی بات چیت کی تحریک دیتی ہے جو عظیم رواداری کی راہ ہموار کرتی ہے۔بین الاقوامی تھیٹر کمپنی اِن اَیکٹ آرٹس کی بانی اور  آرٹسٹک ڈائریکٹر ونیتا سود بیلانی بتاتی ہیں ’’ہماری تھیٹر کمپنی کے سہ جہتی مقاصد ہیں ۔ اس میں ایسی کہانیوںکاکہناشامل ہے جو جنوب ایشیا ئی کہانیوں اور ثقافت کو عالمی پس منظر میں پیش کرسکیں ،ایک ساتھ رہنے اور کام کرنے والے طبقات کے درمیان نسلی بندشوں کو توڑسکیں ،ایسے مواقع پیدا کرسکیں جو تھیٹر میں جنوبی ایشیا ئی برادری کی نمائندگی کو بہتر کرنے میں مدد کرے اور ڈراما نگاری سمیت تھیٹر کے تمام پہلو ؤں میں فطری صلاحیت اور جوہر کو فروغ دے سکے۔‘‘ 

اِن اَیکٹ بنیادی طور پر جنوبی ایشیا کے ان نوجوان اور ابھرتے ہوئے ڈرامہ نگاروں کا انتخاب کرتی ہے جو بقول بیلانی مہاجرین کو ایک آواز فراہم کرتے ہیں۔ ’’ ہم ایسے موضوعات چنتے ہیں جو جنوب ایشیائی برادری کے عالمی معاشرے میں اپنا مقام بنانے سے سروکار رکھتے ہیں۔ان ڈراموں میں جنوب ایشیائی باشندوں خاص کر خواتین کے کردار توانا ہوتے ہیں ۔مثال کے طور پر یہ کینیا میں پیدا ہونے والے ہند نژاد ڈراما نگار شِشِر کروپ ہو سکتے ہیں جن کا ڈراما  مر چنٹ آن وینس اس بات پرشاندار طنز کو پیش کر تا ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے تعلقات کو ہندوستانی مہاجرین کس طرح اپنی امریکی زندگی میں بھی برتتے ہیں۔ اس ڈرامے میں ۱۰ ہندوستانی اور ۲ لاطینی امریکی فنکاروں کے کردار ہیں۔ یا پھر یہ سلی کَون وَیلی میں پیدا ہوئی نوجوان ڈرامہ نگار مادھوری شیکھر کا کردار ہو سکتا ہے جو کئی برس گزارنے کا قصد کرکے انڈیا گئی تھیں۔ ہم نے ان کے دو ڈراموں کو اسٹیج پر پیش کیا۔ ان میں سے ایک ڈرامہ  اے نائس انڈین بوائے ہے جو سلی کَون وَیلی میں ہندوستانی ہونے، ایک ہم جنس پرست ہونے اور ایک سفید فام شخص کے ساتھ محبت کرنے کی مزاحیہ نمائش ہے۔ دوسرا ڈرامہ  کوئین تھا جس میں مرکزی کیلی فورنیا کے ساحل پر واقع شہر سانتا کروزکی یونیورسٹی آف کیلی فورنیا میں ایک خاتون ہندوستانی ریاضی داں اور ایک کوکیشیائی ماہر حیاتیات خاتون کے درمیان تعلقات کو پیش کیا گیا ہے۔ دونوں خواتین اس سائنسی سبب کا پتہ لگاتی ہیں جو شہد کی مکھیوں کی موت کے لیے ذمہ دار ہیں۔ ڈرامے میں تمام جنوب ایشیائی اداکاروں کے کردار بہت اہم ہیں ۔‘‘

اِن اَیکٹ جنوب ایشیائی ناظرین کی دلچسپی کے موضوعات پر بھی کام کرتی ہے۔ لائف ٹائم آسکر انعام یافتہ  جان کلاؤڈ کیریرنے  اے موڈرن ویاس دی ری ٹیلنگ آف دی مہابھارت کے نام سے۹۰منٹ کی ایک کہانی لکھی اور اسے پیش بھی کیا۔ہند کے ڈرامہ نویس فیصل القاضی نے مغل دربار کے ایک خواجہ سرا کی نگاہوں سے دیکھے جانے والی ملکہ نور جہاں کی زندگی پر  نور:اِمپریس آف دی مغل لکھا۔ پہلی بارہاتھ آزمانے والے  بے ایریا کے ڈرامہ نگار سلیل سنگھ اور انوراگ وڈھیرانے دی پارٹنگلکھا جو ان لوگوں کی زندگی کے صحیح واقعات پر مبنی ہے جنہوں نے ۱۹۴۷ ء میں پاک و ہند کو تقسیم کرنے والی لائن کو پار کیا تھا۔بیلانی اس سلسلے میں کہتی ہیں ’’تقسیم ِ ہند کو دیکھنے کا یہ ایک منفرد اور سیاسی نقطۂ نظر تھا۔ اس پروجیکٹ کے لیے جنوبی ایشیا کی پوری برادری ایک ساتھ آگئی۔ اس کے لیے لوگوں نے مالی اعانت کی، کہانیوں کا اشتراک کیا ، مالی اعانت کرنے والوں کی میزبانی کی اور ہمارے تمام شو میں موجود رہے۔‘‘ 

اِن اَیکٹ کو ٹکٹ کی فروخت ، فنون لطیفہ کے لیے ملنے والے عطیے ، انفرادی طور پر ملنے والے عطیے ، کارپوریٹ اسپانسرشپ اور  فائونڈیشن گرانٹسے مالی اعانت حاصل ہوتی ہے۔اس سے ملحق اِن اَیکٹ اکیڈمی نوجوان اداکاروں کے لیے پروگرام سمیت کلاس، ورک شاپ اور موقع پر حاصل ہونے والے تجربے کے ذریعے اداکاری اورتھیٹر میں ڈرامہ نگاری کی مہارت سکھاتی ہے۔ 

بیلانی کہتی ہیں ’’اَیسپائرہمارا شوقیہ  پروڈکشن  ہے جب کہ ہائی برِڈ  ان اداکاروں کے لیے ایک تربیت گاہ ہے جو اپنی ہنر مندی کے بارے میں زیادہ سنجیدہ ہوتے ہیںاور  پرو اداکاروں کو اس مقام تک پہنچاتا ہے جہاں وہ اداکاری میں ایک پیشہ ورانہ کریئر کے لیے بالکل تیار ہوتے ہیں۔اس کے بعد اس میں سے بہت سارے   اِکویٹی ایکٹر (ایکٹرس اِکویٹی ایسو سی ایشن جسے عام طور پر اَیکٹرس اِکویٹی یا اِکویٹی کہا جاتاہے۔ یہ ایک امریکی مزدور یونین ہے جو تھیٹر میں ہونے والی راست اداکاری کی نمائندگی کرتی ہے۔)بن جاتے ہیں اور پھروہ نیو یارک کے لاس اینجلس اور دیگر علاقائی تھیٹر وں کے اہم کرداروں میں شامل ہوجاتے ہیں۔ ‘‘

اِن اَیکٹ نے اب تک رقص کی ۱۴ کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے بہت سارے مقامات ، فنون لطیفہ سے متعلق تنظیموں اور کمیونٹی سینٹروں کے ساتھ بھی شراکت داری کی ہے۔ بیلانی کہتی ہیں ’’اِن اَیکٹ دنیا بھر میں سب سے زیادہ باہمی تعاون کرنے والی جنوب ایشیائی تھیٹر کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ کام میں اشتراک کا کرنا ہماری سرشت میں شامل ہے۔‘‘

بیلانی کی پیدائش کولکاتہ میں ہوئی تھی۔ان کے والد انجینئر اور ماں موسیقار تھیں۔وہ مدر ٹریسا کے ساتھ ان کے خیراتی کاموں میں شرکت کیا کرتی تھیں ۔ اسی زمانے میں انہیں تھیٹر ، بحث و مباحثے ، ریاضی اور علم طبیعیات میں دلچسپی پیدا ہو گئی۔ انہوں نے فرانس میں واقع ایک انٹرنیشنل بزنس اسکول، ایچ ای سی پیرس سے ایم بی اے کی ڈگری لی۔   

بیلانی نے پلانی کے برلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ سائنس سے کمپیوٹر سائنس کی ڈگری حاصل کی۔اس کے بعد انہوں نے سلی کَون وَیلی کی بعض نوخیز کمپنیوں میں ملازمت کرنے کے علاوہ کئی بین الاقوامی تکنیکی کمپنیوں کے ساتھ دنیا بھر میں کام کیا ۔ مگر ایک شاندار کریئر اور تمام لطف اندوز سفر کے باوجود انہیں لگ رہا تھا کہ زندگی میں کہیں کوئی خلا ہے۔ وہ بتاتی ہیں ’’مختلف ملکوں اور برّ اعظموں کے ۲۰ برسوں سے بھی زیادہ دوروں کے بعد کہیں ملازمت کرنے اور ۳بچوںوالے کنبے کی پرورش کا مطلب تھا کہ عمر کی ۳۰ اور ۴۰ کی دہائی میں تھیٹر کے لیے میرے پاس زیادہ وقت نہیں تھا۔‘‘

تبھی ان کی زندگی میں ایک فیصلہ کن لمحہ آیا ۔ ۲۰۱۱ ء میں پیرس میں جب وہ اپنے ایک دوست کے گھر عشائیہ میں شریک تھیں تو ان کی ملاقات فرانس کے افسانوی مصنف اور اداکار  جین کلاؤڈ کیریر  سے ہوئی۔ بیلانی بتاتی ہیں ’’ان سے بات چیت کے دوران میں نے انہیں بتایا کہ میرے بچے اتنی عمر کے ہیں جتنی عمر میری اس وقت تھی جب پیٹر بروک اور کیریر نے پہلے پہل  مہابھارت بنائی تھی۔ یہ پروڈکشن مغربی تھیٹر کے لیے ایک ایسا سنگ میل تھا جس نے ۴ ہزار برس کی ثقافت پر محیط ایک مشرقی کہانی کو سب کے لیے قابل فہم بنا دیا تھا۔ ‘‘

بیلانی نے کیر یر کو مشورہ دیا کہ شاید اب وقت آ چکا ہے کہ مہابھارت کو از سر نو اسٹیج پر پیش کیا جائے۔بیلانی کے مشورے پر کیریر نے مذاق میں کہا ’’اچھا تو پھر تم ہی کوئی تھیٹر کمپنی کیوں شروع نہیں کرتی ، تاکہ ہم مہابھارت کو پھر سے ناظرین کے سامنے پیش کریں۔ ‘‘اور اس کے بعد جیسا کہ لوگ کہتے ہیں کہ جو ہوا وہ تاریخ ہے۔بیلانی نے اپنی ملازمت چھوڑ دی اور وہ امریکہ لوٹ گئیں اور پھر بروک اور کیریر کے ساتھ اِن اَیکٹ قائم کیا ۔ 

مستقبل کی بات کرتے ہوئے بیلانی باخبر کرتی ہیں کہ کیسے ان کا گروپ اب شین سکھرانی کا لکھا ڈرامہ اے ویڈو آف نو امپورٹینس پیش کرنے والا ہے۔ یہ ہندوستانی بیوائوں کی اپنی شرطوںپر زندگی جینے کے حق کے موضوع پر مبنی ہے۔ وہ کہتی ہیں ’’ اس کے بعد دی کیس آف وَینیشنگ فائر فِش  پیش کیا جائے گا جسے میں نے ہی لکھا ہے۔ یہ عائشہ اور فائر فِش پر مبنی ڈرامہ ہے۔اس میں ۱۱ برس کی ہند نژاد برطانوی جاسوس عائشہ کو دکھایا گیا ہے جو دنیا کو ماحولیاتی تباہی سے بچاتی ہے۔ہم لوگ لاس اینجلس میں واقع  نَو رس ڈانس تھیٹرکا  اسنیک اینڈ لَیڈربھی پیش کر رہے ہیں جس میں انڈیا کے قدیم مارشل آرٹ   کلاری پیٹّو کے احیا کو دکھایا گیا ہے۔ 

 

 کینڈس یاکونو جنوبی کیلی فورنیا میں مقیم قلمکار ہیں جو جرائد اور روزناموں کے لیے لکھتی ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط