مرکز

موسیقی سے رشتہ اُستوار کرنا

امریکی وزارتِ خارجہ کی وَن بیٹ پہل کے تحت دنیا بھر سے موسیقار ایک ساتھ جمع ہو کر اپنی خود ساختہ اصلی موسیقی تخلیق دے رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ ایسی حکمت عملی بھی تیار کر رہے ہیں جس سے فنون کی بنیاد پرآپس میں  معاشرتی تعلق قائم کیا جا سکے۔

موسیقی کی زبان ایک آفاقی زبان ہے۔اس کے ثبوت کے لیے دور نہ جائیں بلکہ بین الاقوامی موسیقی تبادلہ پروگرام  وَن بِیٹ کو لیںجس کے تحت۱۷ ملکوں کے ۲۴ بہترین ابھرتے ہوئے موسیقار ایک ساتھ اس موسمِ خزاں میں یکجا ہوئے۔وَن بیٹ کے شرکاء یا فیلوز،  جن کی عمر۱۹ سے۳۵برس کے درمیان تھی، نے امریکہ میں ایک ماہ گزارا ۔ اس دوران ان فنکاروں نے مُشترکہ طور پر اصل موسیقی تحریرکی ، اسے بنایا اور پیش کیا۔ فن کی بنیاد پر معاشرتی رشتہ قائم کرنے کے لیے حکمتِ عملی تیار کرنے کے جذبے سے لبریز ان  فنکاروں نے امریکہ کی مختلف ریا ستوں کا دورہ کیا ۔دَوروں کے دوران ان فنکاروں نے مقامی موسیقاروں کے ساتھ اشتراک کیا ، نوجوانوں کے ورکشاپ کی سربراہی کی اور اپنی موسیقی کے ذریعہ مختلف النوع سامعین کو محظوظ کیا۔اپنے اپنے ملک واپس آکر ان افراد نے اپنے تجربات میں اپنے طبقات کو شریک کرنے کی غرض سے موسیقی کے پروجیکٹ تیار کیے اور وَن بیٹ کی موسیقی پر مبنی معاشرتی کاروباری مہم کے عالمی نیٹ ورک میں شامل ہوگئے۔ 

امریکی وزارتِ خارجہ  کےبیورو آف ایجوکیشنل اینڈ کلچرل افیئرسکے تحت وَن بیٹ گزشتہ۸ برسوں سے نہایت کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔نیویارک کی موسیقی تنظیم بَینگ آن اے کیَن کی  معاشرتی تعلق قائم کرنے والی  شاخ  فاؤنڈ سائونڈ نیشن  وَن بیٹ کو پروڈیوس کرتی ہے۔اس پروگرام سے مستفیض ہونے والے۴۸ ممالک کے تقریباً ۲۰۰ موسیقاروں نے  ایسی راہیں تلاش کی ہیں جن سے موسیقی کا مقامی اور عالمی برادری پر مثبت اثر پڑا ہے۔

بنگالورو سے ۲۰۱۸ ء میں وَن بیٹ کا حصہ بنے آدتیہ الامورو کہتے ہیں ’’ مختلف ثقافتوں  کے نہایت ہونہار موسیقاروں کے ساتھ مشترکہ طور پر مختلف اصناف میں گانے تخلیق  کرنے اور انہیں بازار میں پیش کرنے کا میرا خواب پورا ہوا۔ الامورو نے اس تجربے پر پورا اعتماد کیا اور ریکارڈنگ کے سامان کو جمع کرکے وَن بیٹ فیلوز گروپ کے لیے البم تیار کیا۔اسی طرح اپنے کریئر کے آغاز میں ہِپ ہاپ اور الیکٹرانکا  اصناف میں قسمت آزمانے کے تجربہ سے انہیں ۲ یا ۳ موسیقاروں کے چھوٹے گروپ کے اشتراک کے لیے گانے لکھنے میں آسانی ہوئی۔

نئی دہلی میں مقیم پوِترا چاری(جو کامیاب ہندوستانی کلاسیکی موسیقارہ اور بین اصناف گلوکارہ ہیں )بتاتی ہیں کہ انہیں  موسیقاروں کے ایسے  متنوع  گروپوں کے ساتھ اشتراک کا بہترین تجربہ ہوا جن کی اپنی منفرد موسیقی اور حسّاسیت تھی۔ اپنی ایک موسیقی کی تخلیق میں چاری نے جنوبی ہند کی مخصوص کوناکل اسلوب کی دُھن کا  استعمال کیا ۔ بعد میں مَیں نے امریکہ کے ایک طبلہ نواز اور پیچیدہ رقاص کو دعوت دی تاکہ وہ اپنے منفرد فن کو اس میں ضم کریں۔ یہ تجربہ بہت خوشگوار رہا۔ ہمیں اتنی مسرت ہوئی کہ ہم نے اس کا ویڈیو بھی بنایا جو بہت جلد منظر عام پر آئے گا۔اپنی ۴ فنکاروں پر مشتمل ٹیم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے (جس میں ان کے علاوہ الجزائر کا ایک طبلہ نواز ، مڈاگاسکر کا  مختلف سازوں کو بجانے پر قدرت رکھنے والا ایک شخص اور ہنگری کا بانسری بجانے والا شامل ہیں )چاری مزید کہتی ہیں ’’اشتراک اس طور پر بھی ممکن ہے کہ اس مقام پر پہنچ جائیں اور جادو کو وہیں ہوتا ہوا دیکھیں۔ میری موسیقی اور ان سب کے سنگم سے حیرت انگیز موسیقی کا اختراع ہوا۔ ‘‘

۲۰۱۸ ء میں وَن بیٹ نے اپنے فیلوز کو ایک چیلنج دیا کہ وہ ناسا کے ۱۹۷۷ ء کے سنہری ریکارڈ  دی ٹائم کیپسول آ ف رِدم ، آواز اور نظاروں کو دوبارہ سے تخلیق کریں ۔ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ بنی نوعِ انسان کی سب سے خوبصورت آوازیں ہیں جنہیں خلائی جہاز ووائجر کے ذریعہ خلاء میں بھیجا گیا۔فیلوز کو تین گروپوں میں تقسیم کیا گیااوران کوایسی موسیقی تخلیق کرنے کی ہدایت دی گئی جو کہ ٹائم کیپسول دوم کے ذریعہ اکیسویں صدی کی دنیا کے تقاضوں کے مطابق ہو اور جسے ووائجر مجموعہ کا جواب سمجھا جائے۔ اس مجموعہ میں متنوع اقسام کی قدرتی آوازیں، مختلف ثقافتوں اور ادوار کی موسیقی اور مختلف زبانوں میں ایک دوسرے کے استقبال کے لیے استعمال ہونے الفاظ شامل ہیں۔

  اس چیلنج نے ہر گروپ کی موسیقی کی تخلیق اور انداز پیشکش پر کافی گہرا اثر ڈالا۔اپنے وَن بیٹ گروپ کے کام کے بارے میں تفصیل سے بتاتے ہوئے چاری کہتی ہیں ’’اس  وقت پوری دنیا میں افراتفری کا ماحول ہے۔بہت ہی خطرناک   اورشدید قسم کی انتہا پسندی ہے۔ہم اپنی تھیم کے مطابق سوتے تھے تاکہ پیش کش کے لیے موسیقی تیا ر کرسکیں۔ جہاں نیند میں خلل ڈالنے والی چیزیں اور خواب آور لوریاں دونوں ہی ایک ساتھ موجود ہوتے تھے۔ہم نے پایا کہ موجودہ دور میں  نہ صر ف موسیقی اور آواز بلکہ انسانی جسم کی حرکات و سکنات اور رقص   ہمارے جذبات اور احساسات کی ترسیل میں کافی     معاون و مددگار ثابت ہوئے۔ـ‘‘اپنے سفر کے دوران وَن بیٹ نے مختلف مقامات پر اپنے فن کا مظاہرہ کیا ۔ ان میں آڈیٹوریم، گیلریز، گرجا گھر اور نکڑ  شامل ہیں۔

ان گروپوں کے بہت احتیاط سے تخلیق کردوہ موسیقی کے پر وجیکٹ کو سامعین کی ضروت کے مطابق مسلسل ڈھالا  جاتا رہا اوراس میں ہذف اور اضافہ ہوتا رہا۔  الامورو کے گروپ کے اراکین نے فراموش کردہ طبقات کے نقطہ نظر کو ذہن میں رکھ کر اپنی موسیقی تخلیق کی۔جنوبی کیرو لائنا کے چارلسٹن کے قرب و جوار کے دورے کے بعد (جہاں افریقی ۔ امریکی باشندوں کا بہت سارا کاروبار اب ختم ہو چکا ہے)گروپ نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے سامعین کوریڈکس کنٹیمپروری آرٹ سینٹر میں واقع تین مختلف مقامات کی سیر پر لے جائے گا۔اس دورے میں سامعین نے مشاہدہ کیا کہ پہلے تو اس گروپ نے بڑے اسٹیج پر فن کا مظاہرہ کیا ۔ پھر گروپ کے اراکین دو چھوٹے چھوٹے اسٹیج پر چلے گئے جہاں دو ۔دو اور تین۔تین  فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ ان میں سے ایک گروہ نے الا مورو اور امریکی رَیپر کا مشترکہ طور پر تخلیق کردہ موسیقی ویڈیو پیش کیا ۔ یہ ویڈیو   دو ۳۵سالہ ایسے حجاموں کے انٹرویو پر مبنی تھا جن کی دوکان  اشراف داری کے سبب بند ہوگئی تھی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ وَن بیٹ کی منفرد ثقافتی سفارت کاری الامورو اور چاری کے ملک کے اندر رو بہ عمل لائے جانے والے پروجیکٹ میں منعکس ہوگی۔چاری کی خواہش ہے کہ وہ اپنے فیلوز کے گروپ کی توجہ نیند اور مختلف ثقافتوں میں لوریوں کی روایات ، بیانیہ، تشکیل اور انسان کی نشوونما میں ان کی حیثیت پر مرکوز کریں۔ایک دوسرے پروجیکٹ کے متعلق بتاتے ہوئے چاری کہتی ہیں ’’میں استحقاق کے صوتی نقطہ نظر پر غور کر رہی ہوں ۔ یعنی اسپیکٹرم کے دونوں سروں پر لوگ اس کو کس طرح تصور اور تسلیم کرتے ہیں ۔ گرچہ مجھے ابھی بہت لمبا سفر طے کرنا ہے مگر میں بہت پُر جوش ہوں کہ میں آخر کہاں جا کر رکتی ہوں۔‘‘

الامورو اپنے پہلے ہی سے تسلیم شدہ تمام پروجیکٹ کے لیے موسیقی کو مزید وسعت دیں گی۔ اس پروجیکٹ کے تحت شہر کے نوجوانوں کو موبائل فون پر آسانی سے دستیاب ہونے والے سافٹ ویئر کی مدد سے موسیقی خلق کرنے کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ان کا ارادہ ہے کہ ملک کے شمال مشرقی خطے ، راجستھان  اور کشمیر کے دور دراز علاقوں کا دورہ کرکے ایسی موسیقی تشکیل دی جائے جس میں مقامی افراد کی وراثت کی جھلک نظر آئے۔

ہلیری ہوپیک کیلی فورنیا کے اورِنڈا میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار، ایک اخبار کی سابق ناشر اور نامہ نگار ہیں ۔   

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط