مرکز

گفتگو کی فضا سازگارکرنے والا ایک اَیپ

فلمساز آنندانہ کپورکا انٹرایکٹو موبائل ڈوکومینٹری اَیپ(جسے فل برائٹ۔ نہرو ریسرچ پروجیکٹ کے ایک حصے کے طور پر تیار کیا گیا تھا ) خواتین کے حقوق کے بارے میں بات چیت کا راستہ ہموار کرنے میں معاون ہے۔

فلمسازآنندانہ کپور کے لیے دستاویزی فلم ان کاپسندیدہ میڈیم ہے کیوں کہ فلم سٹ پر ’’کوئی بھی شخص اسٹار نہیں ہوتا ہے۔‘‘  وہ کہتی ہیں ’’ زیادہ تر لوگ عام آدمی میں موجود غیر معمولی صلاحیت سے متاثر ہوتے ہیں۔ظاہری طور پر بے ضرر سی معلوم ہونے والی چیزوں کی بھی کئی پرتیں ہوتی ہیں ۔ اور بظاہر زندگی میں مہمل سی لگنے والی چیزبھی کبھی قہقہہ لگانے پر مجبور کر سکتی ہے جس سے انسان کی نہ صرف اصلاح ہوتی ہے بلکہ اس کے اندر خود اپنی غلطی کو دیکھ سکنے کا مادّہ پیدا ہوتا ہے۔ ‘‘

ان کی اعزاز یافتہ اور ستائش شدہ فلمیں جیسیدی گریٹ انڈین جُگاڑ،بلڈ آن مائی ہینڈس، اور  جاسوسنی-لُک ہو اِز واچِنگ یو متنوع مضامین کی جستجو کرتی ہیں۔اور اب ایک  انٹر اَیکٹو موبائل ڈوکومینٹری اَیپلی کیشن والے اپنے نئے پروجیکٹ کے ساتھ وہ کہانی اور کہانی سنانے والے کے درمیان موجود دیواروں کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کے لیے اس کا مقصد نئی دہلی کی خواتین کو اپنے بیانیہ پر قابو پانے اور اپنی آوازوں کو محفوظ رکھنے کے ساتھ اس چیز کے اشتراک کا موقع دینا بھی ہے کہ وہ یہاں کے غیر محفوظ شہری ماحول میں زندگی کیسے بسرکرتی ہیں۔

سنہ ۲۰۱۲ ء کے نربھیا اجتماعی عصمت دری سانحہ اور اس کے بعد عام شہریوں کی طرف سے ہونے والے مظاہروں سے بہت زیادہ متاثر کپور ایک ایسا میڈیم استعمال کرنا چاہتی تھیں جس کی مدد سے وہ ان خواتین کی کہانیاں ڈھونڈ سکیں جو بہادری سے سامنے آئی تھیں تاکہ اپنے تجربات کا اشتراک کر سکیں ۔ انہوں نے تفاعلی دستاویزی فلم (آئی ۔ڈوک )کے تصور کا استعمال کرتے ہوئے ایک اینڈروائڈ موبائل ایپلی کیشن تیارکیا جسے  کنورسیشن نام دیا گیا تاکہ نئی دہلی میں گھریلو ملازمین اورامورِ خانہ داری انجام دینے والی خواتین کو مل جل کر ویڈیو کہانیاں تیار کرنے کے لائق بنایا جا سکے۔ وہ کہتی ہیں ’’تفاعلی دستاویزی فلمیں ایک الگ طرح کا بصری تجربہ ہیں جہاں ناظرین کی شراکت داری بیانیہ کی روانی کو بدل دیتی ہے۔‘‘

 نیٹ فلکس پر حال میں دکھائے گئے ایک خصوصی شو’بلیک مِرر : بینڈر اسنیچ‘ نے ناظرین سے کردار کی جانب سے فیصلہ کرنے کا مطالبہ کیا ۔ ان کے انتخاب نے بدلے میں بیانیہ کی شکل کو تبدیل کر دیا۔ یہ فلم کے ساتھ صارف کے باہمی رابطے کی ایک مثال ہے۔ کپور کا اَیپ خواتین کو کہانیاں ریکارڈ کرنے میں بھی مدد کرے گا جسے بڑے سامعین کے لیے کسی ویب سائٹ پر محفوظ کیا جائے گا۔اس پروجیکٹ کی خاکہ کشی اور تیاری ان کے فل برائٹ ۔ نہرو ریسرچ پروجیکٹ ۱۸۔۲۰۱۷ کے ایک حصے کے طور پر کی گئی تھی۔ مساچیو سٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی )کے اوپن ڈوکو مینٹری لیب میں ایک سمسٹر بسر کرنا بھی دراصل اسی فیلو شپ کا حصہ تھا۔

کپور نے نئی دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ماس کمیونی کیشن کے کورسیز کی تدریس کی ہے ۔ وہ کہتی ہیں ’’ماہرین تعلیم مجھے مشکل سوالات پوچھنے اور فلسفیانہ شکل دینے کی اجازت دیتے ہیں اور فلم جوابات تلاش کرنے میں میری مدد کرتی ہے۔‘‘

جامعہ کے ماس کمیونی کیشن ریسرچ سینٹر سے پی ایچ ڈی کررہی کپور کہتی ہیں کہ ایم آئی ٹی نے اَیپ ڈیولپر کے ذہن اور بات چیت کی خاکہ گری کرنے کے بارے میں زبردست بصیرت عطا کی ۔ وہ بتاتی ہیں ’’میں نے اپنے ساتھیوں سے بہت کچھ سیکھا۔ ان سب نے جدید نوعیت کا کام کیا اور اس بات کا عملی ثبوت دیا کہ سوالات کو حل کرنے سے ہی فن کی تشکیل ہوتی ہے۔ ‘‘

ایم آئی ٹی میں کپور نے جو وقتگزارا اس سے انہیں اس طور پر بعض بنیادی باتیں سیکھنے کو ملیں جس کا انہوں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ وہ کہتی ہیں ’’ بوسٹن میں ہونے کی وجہ سے مجھے کوڈ فار بوسٹن سے متعارف ہونے میں مدد ملی۔ یہ ایک گروپ ہے جس سے وابستہ رضاکار شہری اور معاشرتی مسائل کے تدارک کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی حل تلاش کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔مجھے کوڈنگ کا کوئی تجربہ نہیں تھا لیکن گروپ کے لوگ اپنے اخلاقی عالمی نقطۂ نظر اور اس پروجیکٹ کی ثقافتی باریکیوں میں دلچسپی کی وجہ سے اس پروجیکٹ میں شامل ہونے کے لیے راضی ہو گئے۔‘‘

کپور نے ۲۵ بنیادی اراکین اور ۱۰۰ سے زائد رضاکاروں کے ساتھ کام کیا جنہوں نے اَیپ تیار کرنے کے مختلف مراحل میں تعاون کیا اور اس کا چھوٹا سا نمونہ تیار کرنے میں مدد کی۔ وہ بتاتی ہیں ’’ انہوں نے مجھے سکھایا کہ ایک فلمساز اور تخلیقی فنکار ہونے کی حیثیت سے میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے کس طرح فائدہ اٹھا سکتی ہوں۔ثقافتی سیاق وسباق میں فرق ایک تخلیقی اور باہمی تعاون کے عمل کا باعث بنا جس کے نتیجے کے طور پر ایک جامع ڈیجیٹل تجربہ ہوا جس سے اس اَیپ کو کم خواندہ اور تکنیکی معلومات رکھنے والی خواتین بھی بات چیت کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔‘‘

وہ بلا جھجھک اس بات کا اعتراف کرتی ہیں کہ شاید فل برائٹ ۔ نہرو فیلو شپ کے بغیر یہ پروجیکٹ اس طر ح سے تیار نہیں ہو پاتا جیسا کہ اب ہے۔ایسے میں جب کہ کپور اپنی پی ایچ ڈی ڈگری کا انتظار کر رہی ہیں ، وہ  کنور سیشن اَیپ کا معیار جانچنے اور اسے پائیدار بنانے کے لیے ٹیکنالوجی شراکت داروں کی تلاش میں ہیں۔لینیَر فلم(ایسی فلم جسے تیار کرکے ٹیپ یا موبائل ڈیوائس کے ذریعہ ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جا سکتا ہے)کے برعکس، اسے پین ڈرائیویا ڈِسک یا تاریک تھیڑوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا ۔ اس میں انٹرنیٹ کی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے ساتھ ساتھ تقسیم کی جدید تکنیک کو وضع کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ کپور کہتی ہیں’’میں چاہتی ہوں کہ خواتین کی کوئی تنظیم اس اَیپ کو لے ، اسے استعمال کرے اور اس کی ضرورت کے اعتبار سے بات چیت کو فروغ دے اور کسی مثبت قدم کے لیے اس کا استعمال کرے۔‘‘

 

پارومیتا پین رینو میں واقع یونیورسٹی آف نیواڈا میں گلوبل میڈیا اسٹڈیز کی معاون پروفیسر ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط