مرکز

روابط کا رقص

فُل برائٹ نہرو ڈاکٹورل ریسرچ فیلو انو گیان ناگ بالی ووڈ اور ہالی ووڈ فلموں میں رقص کے روابط کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔

  ایک جانب جہاں بالی ووڈ فلموں کے رقص امریکی ٹیلی ویژن پر اورسنیما گھروں میں عام ہوگئے ہیں وہیں  ہالی ووڈ میوزیکلس بھی انڈیا میں مقبول ہوتے جار ہے ہیں۔  فُل برائٹ ۔ نہرو ڈاکٹورل ریسرچ فیلو انو گیان ناگ بالی ووڈ فلموں کے ہالی ووڈ میوزیکلس سے روابط کو ہندوستانی فلموں کے رقص کی روایت کے چشمے سے دیکھتے ہیں۔ وہ ۱۹۳۰ کی دہائی کے رقص، رقاص اور رقص کے تخلیق کاروں کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ نیویارک یونیورسٹی کے  ٹِش اسکول آف آرٹس کے  سنیما اسٹڈیز پروگرام میں وہ فُل برائٹ پروجیکٹ کے تحت یہ تحقیق کر رہے ہیں ۔وہ آرٹ کی ہیئت کی جستجو ہالی ووڈ اور بالی ووڈ فلموں کے درمیان ایک ثقافتی اور تخلیقی سنگم کے طور پر کرتے ہیں ۔ ناگ نئی دہلی میں واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ کے انور جمال قدوائی ماس کمیونی کیشن ریسرچ سینٹر میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ پیش ہیں ان سے انٹرویو کے اقتباسات۔

کیا آپ اپنے موجودہ تحقیقی کام کے متعلق کچھ بتائیں گے؟

فی الحال میں ان مختلف النوع طریقوں پر تحقیق میں مصروف ہوں جن سے بالی ووڈ کے گیتوں اور ناچ کا استعمال سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر خود کے اور جنس کے ایک خاص قسم کے اظہار کے لیے کیا جاتا ہے۔ میری توجہ کا مرکز ٹِک ٹاک اَیپ ہے۔ 

نغمہ اور رقص سنیمائی تسلسل میں کیا کردار ادا کرتے ہیں ؟ 

ہندوستانی سنیما میں نغمہ اور رقص کئی کردار ادا کرتے ہیں۔یوں کہیں کہ رقص و سرود ہمارے سنیمائی اظہار کا ایک مخصوص طریقہ ہے۔

گرچہ اکثر اس کا استعمال بیانیہ کو مزید آگے بڑھانے میں محض تمثیلی طور پر ہوتا ہے۔ اور یہ اظہار کی ایسی شکل ہے جو روزمرہ کی عام گفتگو میں ممکن نہیں۔ یہ قابلِ دید ہونے کے ساتھ تفریح اور آرزو کی ایک مؤثر قسم ہے جو حد سے زیادہ متجاوز ہونے کے باوجود انتہائی جذباتی بھی ہے۔

آپ کی رائے میں بالی ووڈ میں رقص کے ارتقا ء میں کون کون سے بڑے سنگ میل ہیں؟ 

صوتی تکنیک کے بعد پھر پلے بیک تکنیک (جو اب بالی ووڈ سنیما کا جزوِ لاینفک بن گئی ہے)کی وجہ سے کیمرہ آسانی کے ساتھ استعمال کیا جانے لگا ۔اداکار بھی کیمرے کے سامنے فطری انداز میں اداکاری کرنے لگے کیوں کہ انہیں اداکاری کے ساتھ اپنی آواز میں گانا نہیں گانا پڑتا۔اگلا سنگ میل  کوریو گرافرکا داخلہ تھا اور آخر کار ٹیکنالوجی میں وسعت کی بدولت اسپیشل افیکٹس ، گرافکس اور بصری اثرات نے تو جیسے نغمہ اور رقص کے فلمائے جانے میں انقلاب انگیز تبدیلی پیدا کردی۔ 

 بالی ووڈ اور ہالی ووڈ فلموں میں رقص میں بعض بڑی مشابہتیں اور امتیازات کیا ہیں؟ 

سب سے بڑا فرق تو یہ ہے کہ ہالی ووڈ میں نغمہ اور رقص محض میوزیکلس والی صنف میں نظر آتا ہے۔ جب کہ انڈیا میں تو یہ سنیمائی اظہار کا اٹوٹ حصہ ہے۔بالی ووڈ میں جتنے بھی فلمی اصناف ہیں تقریباََ ان تمام میں نغمہ اور رقص تسلسل کے ساتھ ہمیشہ موجود رہا ہے۔ دوسرا بڑا فرق  پلے بیک ٹیکنالوجی کا ہے۔ ہماری فلموں میں یہ ہوتا ہے کہ نغمات پہلے ہی ریکارڈ کر لیے جاتے ہیں ۔ فلم بندی کے وقت اداکار صرف نغمے کے بولوں پر ہونٹ ہلاتے ہیں۔یہ چیز ہالی ووڈ میں سخت ممنوع ہے ۔ وہاں اداکار اپنی آواز میں گاتے ہیں۔ 

مشابہت یہ ہے کہ ان دونوں فلم صنعتوں میں رقص کی مختلف قسمیں اور جمالیاتی پہلو، میو زیکلس ، روایات اور اسلوب کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ ان سب کو ملا کر ایک نئی قسم بنائی گئی ہے جسے ہم انڈیا میں بالی ووڈ گانے یا بالی ووڈ رقص کہتے ہیں۔بالی ووڈ رقص نے عالمی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ آج یہ امریکی اور برطانوی  ریئلیٹی شو ز میں ایک تسلیم شدہ صنف ہے۔ اب زیادہ سے زیادہ لوگ اسے سیکھ اور سکھا رہے ہیں۔

وہ کون سی بعض اہم وجوہات ہیں جن کے سبب امریکہ میں بالی ووڈ رقص اور انڈیا میں ہالی ووڈ میوزیکلس مقبول عام ہو رہے ہیں؟

ہالی ووڈ میوزیکلسکی گونج انڈیا میں ان کے نغمہ اور رقص کی دلفریبی کی وجہ سے ہے۔گو کہ انڈیا میں ناظرین اس سے آشنا ہیں ، یہ الگ اس لیے ہے کیوں کہ اسے مختلف انداز میں برتا جاتا ہے۔بالی ووڈ رقص کی عالمی شناخت زبردست ہے۔امریکہ میں جنوبی ایشیائی تارکین وطن نے بالی ووڈ نغمہ اور رقص کے تسلسل کوعوامی مقبولیت عطا کر نے میں ابتدائی کام کیا ۔اب دونوں فلمی صنعتیں اشتراک کر رہی ہیں اور ساتھ میں فلمیں بھی بنا رہی ہیں۔ یہ بالی ووڈ رقص و سرود کے تسلسل کو ملنے والی ایک منفرد پہچان ہے۔ اب امریکی ٹیلی ویژن اور عوامی سطح پر بالی ووڈ رقص کی موجودگی میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے۔اس کی وجہ جہاں جمِ غفیر کا اس کی جانب ملتفط ہونا ہے وہیں اس کا سبب ہالی ووڈ اور امریکی پَوپ کی نامور شخصیات کا ایسے طریقۂ رقص پر پرفارم کرنا بھی ہے۔سوشل میڈیا پر کبھی کبھی بالی ووڈ رقص و سرود کا مذاق اڑانا بھی اس کی مقبولیت میں بہر حال اضافے کا باعث ہے۔ اس سے اس کی رسائی دوسرے ملکوں میں بھی ہو رہی ہے جہاں لوگ ان سے محظوظ ہوتے ہیں۔      

آپ کا فُل برائٹ نہرو ڈاکٹورل ریسرچ  فیلوشپ کاتجربہ کیسا رہااوراس کے اہم نکات کیا ہیں؟

یہ تجربہ علمی اور ثقافتی لحاظ سے نہ صرف تسلی بخش بلکہ تحریک بخش بھی تھا۔ میں خوش نصیب تھا کہ نیو یارک میں تھا۔میرا شہر ، میری میزبان یونیورسٹی اور تحقیق کے دوران میرے نگراں .....تمام نہایت عمدہ تھے۔ میں اس سے بہتر کی امید نہیں کر سکتا تھا۔ اس فیلو شپ کے کلیدی نکات کی بات کی جائے تو سب سے زیادہ فائدہ مجھے نیو یارک شہر کے تجربے سے ہوا۔ یہاں کے کتب خانے، محفوظ شدہ دستاویزات، براڈوے میوزیکلس اور آخر میں نیویارک کی کثیر ثقافتی ، عالمی تہذیب ۔ میں وہاں دوبارہ جانا اور مستقبل میں کوئی پروجیکٹ کرنا پسند کروں گا۔ اتنی اعلیٰ یونیورسٹی اور اعلیٰ شہر میں فل برائٹ فیلوشپ کے ایّام بسر کرنا نہایت ہی ترغیب دینے والا ثابت ہوا۔  

فُل برائٹ ۔ نہرو فیلو شپ کے تجربے نے انڈیا میں آپ کے کام کو کس طرح متاثر کیا؟ 

یہ فیلو شپ مجھے لگاتار دونوں ملکوں کے درمیان تحقیق ، تدریس، تدریسی معاملات ، وظائف وغیرہ کی مشابہتوں اور اختلافات کی یاد دلاتی رہتی ہے۔ فیلو شپ نے خاص طور پر مجھے اپنی تحقیق کو مزید آگے بڑھانے کے مواقع دیے اور امریکہ اوردنیا کے دیگر مقامات سے اساتذہ اور پیشہ ور افراد کے ساتھ اشتراک کی راہ ہموار کی ۔ میں ان اشتراکات کے نتائج کو جلد حقیقت میں بدلتے دیکھنے کا خواہش مند ہوں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط