مرکز

داستان فرشتوں کے شہر کی

نیچرل ہسٹری میوزیم کی بیکمِنگ لاس اینجلس نمائش چکنی مٹی یا کچی اینٹوں اور پتھروں سے بنائی گئی چھوٹی سی بستی کی ترقی کرکے ایک بڑے اور اہم شہر بن جانے کی حکایت ہے۔

کیا  آپ نے کبھی سوچا ہے کہ سٹی آف لا س اینجلس کس طرح تیز رفتار سے ترقی کرتے ہوئے امریکہ کے بڑے شہروں میں سے ایک کے قالب میں ڈھل گیا ہے؟  شہر کے  نیچرل ہسٹری میوزیم(این ایچ ایم) کی مستقل نمائش  بیکمِنگ لاس اینجلس کچی اینٹوں اور پتھروں سے بنی ایک چھوٹی سی بستی کے آج فلمی اور تفریحی صنعت کے پھلتے پھولتے مرکز میں تبدیل ہونے اور عالمی معیارکا ایک ایسا مقام بن جانے کی رزمیہ کہانی بیان کرتی ہے جس سے لطف اندوز ہونے کے لیے پوری دنیا سے لوگ آتے ہیں۔

 ۲۰۱۳ ء میں نیچرل ہسٹری میوزیم جو اب  نیچرل ہسٹری میوزیمس آف لاس اینجلس کاؤنٹی کا ایک حصہ ہے ، نے بیکمنگ لاس اینجلس کے نام سے ۱۴ ہزار مربع فٹ کی ایک وسیع اور اصطفائیت پسند نمائش کا آغاز کیا ۔یہ نمائش ۵ صدیوں پر مشتمل لاس اینجلس کے ارتقا کی کہانی بیان کرتی ہے۔ اس نمائش کی بدولت ۱۳۵ ملین ڈالر کا بحالی کا ایک منصوبہ  این ایچ ایم نیکسٹ شروع ہوا جو این ایچ ایم کی تاریخ میں اہم ترین تبدیلی ثابت ہوا۔اسی کی وجہ سے تقریباََ ایک اعشاریہ ۴ ہیکٹر قدرتی باغات اور نئی مستقل نمائشوں کا اضافہ ہوا اور قدرتی اور مصنوعی چیزوں کو قریب لانے کی کوشش کو اجاگر کرنے کے نئے طریقوں کو وسعت ملی۔  

ایک قلیل مدت تک بند رہنے کے بعد مقامی فنکاروں کی تصویروں اوراین ایچ ایم کے آثارِ قدیمہ اور بشریات کے مجموعے کے نمونوں کے ساتھ اس نمائش کو ۲۰۱۸ ء میں پھر سے شروع کیا گیا۔از سر نو شروع ہونے کی ایک نمایاں بات یہ رہی کہ اس میں جو نئی چیزیں شامل کی گئیں ان میں فرسٹ انجیلینوس (کیلی فورنیا کے آبائی باشندے ) پر ایک توسیعی حصہ بھی شامل ہے۔ تصویروں ، فنون لطیفہ اور کیلی فورنیا کے آبائی اور جدید باشندوں کی کہانیوں پر مبنی یہ نمائش لاس اینجلس کے اس دَور کی تصویر کشی کرتی ہے جو۱۵۴۲ء سے ایک ہزار برس پیشتر کا زمانہ ہے ۔ یہ وہ دَور تھا جب ہسپانوی سیاح  اَیلٹاکیلی فورنیا میں داخل ہوئے اور ان کی ملاقات وہاں کی مقامی آبادی سے ہوئی۔ آپ خواہ لاس اینجلس کے مقامی باشندے ہوں یا پھر یہاں کا دورہ پہلی مرتبہ کر رہے ہوں،اس نمائش میں ایسے بے شمار نمونے اور لازوال کہانیاں موجود ہیں جو دنیا کے بہترین شہروں میں سے ایک یعنی لاس اینجلس کے ناقابل یقین سفر کو بیان کرتی ہیں۔

اس نمائش کو فروغ دینے والی  سارا کراؤفَورڈکہتی ہیں ’’بیکمِنگ لاس اینجلس، لاس اینجلس شہر کی مالامال تاریخ اور باشندوں کے اس متنوع گروہ کے بارے میں بتاتی ہے جنہوں نے اس شہر کو اپنا مسکن بنایا۔۲۰۱۳ ء میں جب اس بے مثال نمائش کا افتتاح ہوا تو یہ شہر کی ایسی واحد مستقل نمائش تھی جو ۵ صدیوں پر مشتمل شہر کی ترقی کی کہانی بیان کرتی تھی۔ اس داستان میں اس کی کچی اینٹوں اور پتھروں سے بنی ایک چھوٹی سی بستی کی تیز رفتاری سے ترقی کرکے ایک بڑے اور اہم شہر میں تبدیلی شامل تھی۔ ہم نے یہاں کی قدرتی اور ثقافتی ترقی کو ایک بیانیہ میں پرونے کا ہدف رکھا تھا تاکہ دنیا کو یہ دکھا سکیں کہ لوگوں کے حرکات و سکنات کس طرح ماحولیات پر اور ماحولیات کے اثرات کس طرح انسانی زندگی پر پڑتے ہیں۔ ‘‘

اس نمائش میں رکھی گئی چیزوں اور یہاں موجود تصویروں میں اس خطے میں اصلاََ وارد ہوئے ۴۴ میکسیکی آبادکاروں کے نام بھی شامل ہیں ۔اس کے علاوہ یہاں ۱۹۱۳ ء میں شروع کی گئی لاس اینجلس نہر سے بھر ی گئی پانی کی پہلی بوتل اور گائے کا ایک بھرا ہوا مجسمہ بھی ہے جو مزاحیہ انداز میں یہ بتاتا ہے کہ کس طرح مویشیوں کے فضلات نے اس علاقے کے مقامی پودوں کو ایک شکل دینے میں مدد کی۔ اس کے اوپر سفید رنگ کی اسٹیل سے تیار شدہ ایک شاندار چھتری ہے جو نمائش کے ۶ مختلف اور اہم حصوں تک سیاحوں کی راہنمائی کرتی ہے۔

 نمائش کی قابل دید جگہوں میں سے ایک  دی ٹاؤن آف آوَر لیڈی ، دی کوئن آف اینجلس  نامی ایک قربان گاہ ہے جو لاس اینجلس کو خراج عقیدت ہے۔ فنکار  روسننا اسپارزا اہرینس اور ان کی بیٹی  اوفیلیا اسپارزانے لاس اینجلس کی متنوع اورمالامال ثقافت کو اجاگر کرنے کے لیے اس کی تعمیر کی تھی۔اس میں وہ اشیا ء شامل ہیں جو ہمسایہ علاقوں کی خوبیاں بیان کرتی ہیں۔اس کے علاوہ اس میں مشہور تاریخی ہستیوں کی تصویریں، لاس اینجلس ریور کو علامتی طور پر دکھانے کے لیے کپڑے کا بُنا ہوا ایک ٹکڑا اور بہت سارے خوبصورت گلدستے شامل ہیں۔

نمائش کا دوسرا نمایاں حصہ تفریح کی دنیا ہالی ووڈ کے آغاز و ارتقاء کا پتہ دیتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے کہ لاس اینجلس ہالی ووڈ کا مترادف ہے۔ بہت ساری تصویروں اور اس میوزیم کی خوبیاں بیان کرنے والی دیگر اشیائ(جیسے چارلی چیپلن کا آدم قد مجسمہ اور والٹ ڈزنی کی اصل اینیمیشن مشین وغیرہ)سیاحو ں کو بتاتی ہیں کہ ہالی ووڈ قائم کرنے والوں نے کمپیوٹر گرافکس کے زمانے سے بہت پہلے کیا کیا کہ سنیما کے جادو سر چڑھ کر بولنے لگا۔

نمائش میں ۱۹۳۰ ء کی دہائی میں لاس اینجلس کے اطراف کے  اِنٹر اَیکٹِو اسکیل ماڈل سمیت اختراعی ملٹی میڈیا تنصیبات بھی شامل ہیں جو سیاحوں کو۱۹ ویں اور ۲۰ ویں صدی میں لے کر جاتی ہیں۔یہاںموجود نگار خانہ(جسے این ایچ ایم کہا جاتا ہے)سیاحوں کو خصوصی آڈیو بوتھ میں اپنی آواز میں لاس اینجلس کی اپنی کہانیوں کا اشتراک کرنے کی دعوت دیتا ہے جہاں وہ اپنے دیگر ساتھی سیاحوں کی آڈیو ریکارڈنگ بھی سن سکتے ہیں۔ 

نمائش سے متعلق معلومات انگریزی اور ہسپانوی زبانوں میں دستیاب ہیں۔ یہاں داخل ہونے کے لیے ۱۲ ڈالر کا ٹکٹ لگتا ہے ۔ میوزیم عوام کے لیے روزانہ صبح ساڑھے ۹ بجے سے شام ۵ بجے تک کھلا رہتا ہے۔

 

جیسون چیانگ لاس اینجلس کے سِلور لیک میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط