مرکز

حیاتیاتی تنوع کی کتاب

آر آئی ایس ڈی کی گریجویٹ مُودیتا پساری کی کتاب بایو ڈایورسٹی تھری سِکسٹی حیاتیاتی تنوع اورشھروں کے پھیلاؤ سے پیدا شدہ چیلنج کی تصویری گائڈ ہے۔ 

۱۸۹۱ ء میں گوہاٹی کی آبادی ۸۳۹۴ تھی۔۲۰۱۱ء +میں یہ تعداد بڑھ کر ۹ لاکھ ۵۷ ہزار ۳۵۲ ہوگئی۔ ۲۰۱۷ ء تک اس میں مزید اضافہ ہوا اور یہ ۲ ملین(۲۰ لاکھ)سے زائد ہوگئی۔ بہت تیزی کے ساتھ شہر کے اس پھیلائو نے اس خطے کے ماحولیاتی نظام پر بہت اثر ڈالاہے۔کچھ لوگ ماحولیاتی تحفظات کا مطالبہ کر رہے ہیں جب کہ بعض دیگر اقتصادی نمو کو ترجیح دینا چاہتے ہیں۔ 

فنکارہ مُودیتا پساری نے اس مسئلے کی طرف ایک منصوبے کے توسط سے توجہ دلائی ہے جس کا عنوان  بایو ڈایورسٹی تھری سِکسٹی ہے۔ یہ گوہاٹی کے شہری ماحول میں پائے جانے والے مقامی جانداروں کی اقسام سے متعلق ایک تصویری گائڈ ہے۔ پساری کے لیے اس کا تیار کرنا مہارام آر آئی ایس ڈی اسٹیم فیلو شپ ملنے کے بعد ممکن ہو سکا۔واضح رہے کہ روڈ آئی لینڈ اسکول آف ڈیزائن (آر آئی ایس ڈی )کے چنندہ طلبہ کو اس وظیفہ کے ذریعہ  اپلائڈ آرٹ اینڈ ڈیزائن  میں انٹرن شپ کے مواقع دیے جاتے ہیں ۔ اس کا مالی بوجھ نیو یارک کی ایک کپڑاکمپنی مہارام اٹھاتی ہے۔ 

پساری کا پس منظر تحقیق میں ان کی دلچسپی سے اچھی طرح مطابقت رکھتا ہے ۔انہوں نے بصری مواصلات میںنمائش اور مکانی یا مقامی ڈیزائن میں مہارت کے ساتھ اپنی انڈر گریجویٹ تعلیم پوری کرنے کے لیے  نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزائن (این آئی ڈی)، احمد آباد میں داخلہ لیا۔اس کے بعد انہوں نے پوسٹ گریجویٹ تعلیم حاصل کرنی شروع کی جس کے دوران انہیں اس سوال کا جواب حاصل کرنے میں مدد ملی کہ ’’کیا میں ، ایک ڈیزائنر ہونے کے ناطے، ایسی تحقیق اور کام کر سکتی ہوں جو ہمارے ارد گرد کے مسائل کی بہتر سمجھ حاصل کرنے میں مدد کرے اور روز مرّہ کی زندگی میں جذب ہو سکے؟ کتابوں کے ذریعہ نہیں بلکہ تجربات سے۔‘‘

پساری کو اس کا جواب آر آئی ایس ڈی میں آرٹ اینڈ ڈیزائن ایجوکیشن  میں ماسٹرس ڈگری کے حوالے سے ملا۔آر آئی ایس ڈی کی تعلیمی تائید،پروگرام کی لچک اور جوکھم لینے کے لیے حوصلہ افزائی نے، جیسا کہ وہ کہتی ہیں، ان کی عملی زندگی کی پسند اور اسٹیم فیلو شپ کی درخواست پر اثر ڈالا ۔

پساری نے اپنے مقالہ کے لیے انسانوں اور خطرے میں پڑے پنگولن کے درمیان تعلق پر اپنی توجہ مرکوز کی۔ اس تحقیق میں ان کو انسانوں ، شہروں کے پھیلائو اور ماحولیات کے درمیان مختلف قسم کے معاملات میں مداخلت میں مدد ملی ۔ 

پساری نے اسے مہارام اسٹیم فیلو شپ کے ذریعہ مزید آگے بڑھانا پسند کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ تجربہ شدید مگر انتہائی اطمینان بخش تھا۔ اوراس نے ان کو اپنے اہداف تک پہنچنے کے لیے مزید عہد بند کیا ۔ 

پساری کا بایو ڈایورسٹی تھری سکسٹی منصوبہ گوہاٹی شہر کے اندر پائے جانے والے جانوروں کے اقسام پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔انہوں نے ایسی بہت سی قسموں کی دستاویز بندی کرکے ایک اکورڈی یَن بُک تیار کی جس کا نام بایو ڈایورسٹی تھری سکسٹی ہے۔ اس میں شہر کے اندر ان قسموں کے ساتھ مقامی اقسام کی بود و باش کو دکھا یا گیا ہے اور ایسی صورتیں دکھا ئی گئی ہیں جن سے انسان شہری ماحولیات کو بقائے باہم کے لیے ایک محفوظ تر مقام بنا سکتا ہے۔اس میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ چاروں طرف گھوم پھر کر شہری حیاتیاتی تنوع کا مشاہدہ کریں ۔ اس کتاب میں ہر قسم کے جاندار اور ان کے ارد گرد کے ماحول سے متعلق تصویریں اور ایک بیانیہ شامل ہے ۔ اسی کے ساتھ ایک چھوٹا سا حیاتیاتی تنوع نقشہ بھی شامل کیا گیا ہے جس میں ان اقسام کے بارے میں مختصر تفصیلات ، ایسے مقامات کا بیان جہاں وہ پائی جا سکتی ہیں اور انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این) کے ذریعہ ان کی موجودہ حیثیت کا اشتراک کیا گیا ہے ۔

پساری کہتی ہیں ’’یہ کتاب کسی بھی اعتبار سے جامع مطالعہ نہیں بلکہ اس تجسس اور فہم کی چنگاری جلانے کا کام ہے کہ انسانوں کی چھوٹی چھوٹی حرکتیں ایسا موافقانہ ماحول بنانے میں سچ مچ مدد کر سکتی ہیں جس میں جانداروں کی چھوٹی اقسام اپنے طور پر پھول پھل سکیں اور ان کے لیے ہمارے ساتھ ہمارے شہروں میں مل کر رہنے کی جگہ پیدا ہو سکے ‘‘۔

پساری نے گوا کی راجدھانی پنجی میں بحری تنوع اور پلاسٹک کوڑے پر مختلف مضامین کے باہمی ربط سے پڑھنے اور سیکھنے کے لیے ایک میلہ کے واسطے ایک تنصیب قائم کی ہے ۔ انہوں نے آر آئی ایس ڈی میں ایک باکس کے اندرمیوزیم کے خیال سے تجربہ کیاجس میں انہوں نے رہنے کی حقیقی جگہوں کو میوزیم میں بدل دینے پر غور کیا ۔

وہ کہتی ہیں ’’میں اپنے کام کو عوام کے لیے ایسے راستے کھولنے کی کوشش سمجھتی ہوں جن پر چل کر وہ ہماری دنیا اور ہمارے ورثے کو نئے تناظرات میں دیکھ سکیں ۔ ہندوستانی تناظر سے ، میں ہمیشہ یہ سوچ کر حیران رہی ہوں کہ اگر میوزیم ان لوگوں تک پہنچیں تو کیا ہوگا ۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ وہ لوگوں کو یہ نہیں کہتیں کہ مسائل کو حل کیسے کیا جائے بلکہ انہیں مسائل کے بارے میں آگاہ کرنا چاہتی ہیں تاکہ لوگ ایک مسئلے کی بہت سی باریکیوں کوپہچان سکیں۔ انہوں نے بتایا ’’مجھے ایسا نہیں لگتا کہ ہمیں لوگوں سے سیدھے سیدھے یہ کہنے کا حق ہے کہ یہ کرنا یا وہ خریدنا بند کر دیں۔ کسی کو مختلف حالتوں میں لازمی طور پر باخبر فیصلہ کرنا چاہئے ۔‘‘

پساری نے حال کی دو دہائیوں کے دوران شمال مشرقی ہند کے ماحولیات کو اپنی آنکھوں سے بدلتے ہوئے دیکھا ہے جیسے کہ سر سبز و شاداب پہاڑوں کی جگہ بڑے بڑے محلات نے لے لی۔ وہ یہ محسوس کرتی ہیں کہ ماحولیات میں توازن بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

پساری اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتی ہیں ’’جیسے جیسے شہری ماحو لیات میں مسلسل توسیع ہو رہی ہے ، ہم لوگ موجودہ قدرتی مسکنوں میں غیر قانونی تجاوزات کر رہے ہیں۔ایک جانب جہاں بڑے جانور محفوظ جنگلات تک محدود کر دیے گئے ہیں ، وہیں چھوٹے جانور انسانی آبادیوں کے درمیان بڑھنے اور پھولنے پھلنے کے راستے تلاش کر نے لگے ہیں۔ ‘‘

  پساری نے بایو ڈایورسٹی تھری سکسٹی پروجیکٹ کو ایک غیر سرکاری تنظیم  ہیلپ ارتھ کے ساتھ مل کر کرنا پسند کیا ۔ انہوں نے بتایا ’’میرے مقامی اتالیق جے آدتیہ پُرکائست کی ڈھیر ساری مدد سے میں شہر میں گھومنے اور ایسے مسائل سے ، جن کو مختصرانسانی مداخلتوںسے حل کیا جا سکتا ہے، دو چار مختلف اقسام کی دستاویز بندی کرنے کی اہل ہو سکی ۔مجھے یہ محسوس ہوا کہ ہم پر لازم ہے کہ ہم مقامی لوگوں کی اپنے ارد گرد کے ماحول اور حیاتیاتی تنوع کی امارت کی تحسین کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کریں ۔ کیوں کہ صرف اس صورت میں کہ ہم ان چیزوں پر فخر کریں تبھی ہم ان چیزوں کا تحفظ کرنے کے لیے کچھ کر سکیں گے۔ ‘‘

 

کینڈس یاکونو جنوبی کیلی فورنیا میں مقیم قلمکار ہیں جو جرائد اور روزناموں کے لئے لکھتی ہیں ۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط