مرکز

تبدیلی کو گرفت میں لینا

ہند۔ امریکی معلّمہ متھانگی سبرامنیم نے حال ہی میں اپنی ایک کتاب کا اجرا کیا ہے ۔ اس کی ترغیب انہیں فل برائٹ ۔نہرو اسکالرشپ کے دوران آنگن باڑی کارکنان کے ساتھ کام کرنے کے دوران ملی۔

متھانگی سبرامنیم ایک انعام یافتہ ہند ۔ امریکی قلمکار اور معلّمہ ہیں۔ سابق استانی ، نیویارک سٹی کاؤنسل کے لیے سینئر پالیسی تجزیہ کار اور سیسیم ورک شاپ میں معاون نائب صدر کے عہدے پر فائز سبرامنیم کو بہت سارے وظائف کے ساتھ فل برائٹ ۔ نہرو اسکالرشپ بھی مل چکی ہے۔ 

فل برائٹ ۔ نہرو اسکالر شپ کے تحت ہی ۱۳۔۲۰۱۲ ء میں انہوں نے انڈیا میں آنگن واڑیوں یا دیہی مراکز برائے نگرانی اطفال کا ان کے معیار کے اعتبار سے نسلی ۔جغرافیائی مطالعہ کیا۔ اس کا اختتام شمولیت پر مبنی فوٹو پروجیکٹ  پکچرنگ چینج پر ہوا۔اسی نے ان کو اپنی کتاب  اے پیپُلس ہسٹری آف ہیوین تصنیف کرنے کی ترغیب دی ۔ پیش ہیں ان سے کیے گئے انٹرویو کے اقتباسات۔ 

 

 آپ کی کتاب اے پیپُلس ہسٹری آف ہیوین حال ہی میں منظر عام پر آئی ہے۔کیا آپ اس کے بارے میں کچھ بتائیں گی؟ 

یہ کہانی ۵ لڑکیوں اور ان کی ماں کی ہے جو بنگالورو کے ہیوین نامی شہری بستی میں رہتی ہیں اور جسے مسمار کیا جانے والا ہے۔ کردار متنوع ہیں جن میں ایسی خواتین ہیں جو من موجی، مخنث، معذور ، مسلم ، عیسائی اور دلت ہیں ۔ یہ کہانی گھر بنانے کی ہے ، اس کے لیے ایسے وقت میں جدو جہد کرنے کی ہے جب کہ ساری دنیا آپ کو یہ باورنے کی کوشش کر رہی ہو کہ آپ کا تعلق کہیں سے بھی نہیںہے۔

کیا آپ کا فُل برائٹ۔نہرو تجربہ کتاب کی روح ہے؟

یہ یقینی طور پر اسی کا حصہ ہے۔ جنوبی ہند میں فل برائٹ اسکالر شپ سے متعلق پروجیکٹ سے ہی اس کی ترغیب ملی۔ جب میں نے آغاز کیا تو میں اس سے بالکل نا بلد تھی، مگر ہاں آنگن واڑیاں ہی کچھ ایسے آزاد مقامات ہیں جہاں خواتین محفوظ طریقے سے یکجا ہو سکتی ہیں۔

یہیں میں نے اچانک خود کو بچیوں اور خواتین سے گھرا ہوا پایا جن کی عمر ۴ برس سے لے کر دہائیوں پر مبنی تھی۔ ان کی متنوع آوازوں نے ناول کے کرداروں کی ترغیب دلائی۔ شمولیت پر مبنی فوٹو گرافی پر و جیکٹ ، جس کی قیادت میں اور بنگالورو میں مقیم فوٹو گرافر گریشما پٹیل کر رہی تھیں، نے مجھے سٹنگ کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ کئی اعتبار سے شہر بذاتِ خود ناول کا ایک کردار ہے۔ 

کیا آپ آنگن واڑیوں میں کام کرنے کے تجربہ کے متعلق تفصیل بتائیں گی؟

اس نے میری زندگی ہی بدل کر رکھ دی۔ میں نے بچپن سے ہی ایسی خواتین کی کہانیاں سنی تھیں جو میرے اس تصور سے مطابقت نہیںرکھتی تھیں جو میرے ذہن میں ان کے بارے میں تھا۔میں نے ان کے بارے میں جو کچھ بھی پڑھا تھا وہ یہ تھا کہ وہ اطاعت گزار ہوتی ہیں یعنی ایسی خواتین جو بنیادی طور پر ہمارے آس پاس نظر نہیں آتیں۔بالفاظ دیگر ان کا وجود نہیں ہوتا۔انڈیا کا سفر کرنا ، وہاں غربت و افلاس میں زندگی بسر کرنے والی خواتین کے ساتھ برسوں بتانا ..... اس سے میرے اندر اس ملک کے بارے میں ایک احساس پیدا ہوا جہاں سے میں آئی تھی۔ اور یہ احساس کوئی تھوپی ہوئی چیز نہیں تھا۔ اس سے میں نے خود کو ان مراعات کے بالمقابل کھڑا کیا جو مجھے حاصل تھیں۔ اس سے ماں ، بہن اور برادری سے متعلق وہ تناظر پروان چڑھا جو کہیں اور نہیں ہو سکتا تھا۔ یہ موقع فراہم کرنے کے لیے فل برائٹ کا شکریہ ادا کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ 

علم بشریات کی تعلیم نے آپ کی تحریروںکو کس طرح متاثر کیا ہے؟

میراخیال ہے کہ ایک تربیت یافتہ ماہر بشریات ہونے کے سبب میں نے دنیا کو مختلف اندازسے دیکھاہے۔میں مسلسل تفصیلات کی تلاش میں رہتی ہوں۔میں جس سے واقف ہوں اسے جداگانہ نظریے سے دیکھنے کی کوشش کر تی ہوں۔اس عمل کو ہم اسٹرینج میکنگ کہتے ہیں۔ میرے خیال میں اس سے میرے اندر گہرائی کے ساتھ تحقیق کرنے کی صلاحیت پیدا ہوئی جس سے میں متنوع کرداروں کو مزید حساسیت اور شدت کے ساتھ لکھنے کے قابل ہوسکی۔ 

امریکہ میں بطور معلّمہ کام کرنے کا تجربہ کیسا رہا؟ 

کالج سے فارغ ہو کر میں نے ۳ برس پڑھایا۔ میں نے سرکاری اسکولوں میں سائنس ٹیچر کے طور پر کام کیا ۔ یقین مانیں ، فل برائٹ فیلو شپ کی طرح ہی یہ بھی زندگی تبدیل کرنے والا تجربہ تھا۔ یہ پہلی بار تھا جب میں مفلوک الحال لوگوں کے درمیان تھی۔اس وقت مجھے احساس ہوا کہ ہر قسم کے ذرائع ابلاغ میں ان کی کتنی غلط تصویر پیش کی گئی تھی۔معروف ذرائع ابلاغ آپ کو یہ باور کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یا تو یہ محض المیہ ہے یا پھر کامیابی کی مثالیں ہیں۔پہلے ریو گرانڈ ویلی  اور پھر نیو یارک سٹی میں طلبہ کے گھر والوں کے بارے میں جاننے سے مجھے ذاتی تعصبات اور مراعات سے رو برو ہونے میں کافی مدد ملی۔ 

مستقبل میں آپ کے کیا منصوبے ہیں؟

میرپاس کچھ پروجیکٹ ہیں ۔ ایک انڈیا میں اور دوسرا امریکہ میں ۔ بس فی الحال تو میں یہی کہنا چاہوں گی۔

یوں مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں جو کچھ بھی لکھتی ہوں اس سے میرے فن میں نکھار آئے گا۔میں نے تصویری کتابیں لکھی ہیں ۔ اور ان کا لکھنا واقعی میں مشکل امر ہے ۔ میں کسی دن منظر نامے یا ڈرامہ بھی لکھنا چاہوں گی۔ 

 

رنجیتا بسواس کولکاتہ میں مقیم ایک صحافی ہیں۔وہ افسانوی ادب کا ترجمہ کرنے کے علاوہ مختصر کہانیاں بھی لکھتی ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط