مرکز

ثقافتی تجارت

فل برائٹ ۔نہرو ماسٹرس فیلو پریا کرشنا مورتی پائیدار ترقی کو فروغ دینے کی خاطرانڈیا میں فنونِ لطیفہ اور تخلیقی فن کاروں کے لائق کاروباری پیشہ وری کے لیے موزوں ماحول بنانے کی غرض سے سرگرمِ عمل ہیں۔

پریا کرشنا مورتی کے پاس صحافت،نشریات، فنون لطیفہ اور معاشرے کے لیے کام کرنے والے اداروں سمیت تخلیقی دنیا کے متنوع شعبوں میں کام کرنے کا ۱۴ برسوں سے بھی زائد کا تجربہ ہے۔ثقافتی شعبے میں کاروباری پیشہ ور کے طور پر وہ اختراع سازی ، پائیداری ، معاشرتی اثرات اور تعلیم میں پیوست فکر و خیال کو فروغ دیتے ہوئے فنونِ لطیفہ اور ثقافت کے لیے اقدار پیدا کرنے کی خاطر پُر عزم ہیں۔ ان کی ان دلچسپیوں کو بوسٹن یونیورسٹی کے آرٹس ایڈمنسٹریشن پروگرام نے فل برائٹ ۔ نہرو ماسٹر فیلو شپ کے زمانے میں مزید سنوارا اور نکھارا۔

پیش ہیں کرشنا مورتی سے فل برائٹ پروگرام اورانڈیا میں ان کے کام کے دوران حاصل ہوئے تجربات کے بارے میں لیے گئے انٹرویو کے اقتباسات۔ 

 

فنونِ لطیفہ کے انتظام و انصرام کے شعبے کے بارے میں ذرا تفصیل سے بتائیں؟ 

فنونِ لطیفہ کی اپنی ایک منفرد حیثیت ہے ۔ اس حیثیت کو دیگر مضامین کی طرح نہ تو ایک شکل دی جاسکتی ہے اور نہ ہی اس کی مقدار کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ ہماری زندگی میں اس کی قدر کا تعین صابن کی کسی ٹکیہ کی طرح یا پھر اوبر سے کیے گئے کسی سفر کی طرح بھی نہیں کیا جا سکتا ۔لہٰذا اس کا انتظام و انصرام بھی مختلف ہوتا ہے۔ یہاں تجارت ، تعلیم ، طبقات سازی اور سماجی اثرات جیسے متنوع شعبوں سے لوگ انتظام ، مالی امداد اور بازار کاری وغیرہ کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے آتے ہیں ۔ اس سے فنونِ لطیفہ ،فنکار ، مربی اور ناظرین کے مابین پُل بنانے میں مدد ملتی ہے۔فنونِ لطیفہ کے لیے آپ اسے ایم بی اے کا نام دے سکتے ہیں ۔فنونِ لطیفہ کا انتظام سنبھالنے کے لیے آپ کو فنکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہاں مگر یہ ضروری ہے کہ آپ اس کے تئیں کافی پُر جوش ہوں۔ 

 

آپ نے مہارت حاصل کرنے کے لیے اسی شعبے کے انتخاب کا فیصلہ کیوں کیا؟

آرٹس منیجر کے طور پر فنونِ لطیفہ اور ثقافت کے ماحول میں دوری کو ایک سیاق و سباق کی شکل دینے اور اسے سمجھنے کی خاطر (جس کا سامنا مجھے انڈیا میں کرنا پڑا)میں نے خود کو مکمل طور پر تیار نہیں پایا۔میری خواہش اسے تعلیمی اداروں کی سختیوں کے اندر بھی تلاش کرنے کی تھی۔ جب میں نے فل برائٹ ۔ نہرو ماسٹرس فیلو شپ کے لیے درخواست دی تھی تو اس وقت میں انڈیا میں فن کاروں کے ساتھ کام کرنے والے ایک معاشرتی ادارے میں خدمات انجام دے رہی تھی۔ میرے بنیادی مقاصد میں سے ایک یہ تھا کہ میں ایسے مناسب طریقے وضع کروں جو فنون ِ لطیفہ اور تخلیقی فنکاروں کے لیے انڈیا میں ایک کاروباری ماحول پیدا کرنے اور اس کی حمایت میں میری مدد کرتے۔ فیلو شپ کے تحت آنے والے کورس ورک میں غیر منافع بخش تنظیموں کے لیے مالی بندو بست کے لیے سرمایہ اکٹھا کرنے کی مہارت حاصل کرنا شامل تھا۔ میں یہاں تحقیق اور تعین قدرسے بھی روشناس ہوئی ۔اس سے مجھے معاشرے اور ثقافت کی کاروباری پیشہ وری والی زبان میں مضبوط نظریاتی بنیاد حاصل کرنے میں مدد ملی۔ 

فی الحال میں شراکت داری ٹیم کے ساتھ ایم آئی ٹی (مساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی) سولومیں سماج پر اثر انداز ہونے والے خیالات کے ہمراہ پوسٹ گریجویٹ سطح کی علمی تربیت حاصل کر رہی ہوں۔ 

 

کن معنوں میں فل برائٹ ۔ نہرو فیلو شپ کو آپ اپنی دلچسپی کی توسیع سمجھتی ہیں؟ 

فل برائٹ برادری کا حصہ بننا میرے لیے انتہائی دلچسپ تجربہ رہا ہے۔ اس کی بدولت میں نے تمام دنیا میں دانشوروں اور طلبہ سے رابطہ کیا اور ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ بوسٹن یونیورسٹی میں مجھے احساس ہوا کہ امریکہ میں فنون ِ لطیفہ کو درپیش چیلنج ظاہری طور پر شاید مختلف ہوں مگر یہ چیلنج ویسے ہی ہیں جن کا سامنا جنوبی ایشیا میں بھی لوگ کرتے ہیں ۔ پوری دنیا میں فنون ِلطیفہ کو آج در پیش اہم ترین چیلنجوں میں سے ایک جدید کاروباری ماڈل او ر ساتھ میں مالی اور انسانی وسائل کی کمی ہے۔ہند اور امریکہ میں ایک اہم ضرورت فنونِ لطیفہ اور ثقافت کے اقدار کی تفہیم اور انہیں واضح کرنے کے نئے طریقوں کی تلاش ہے۔ امریکہ میں جو وقت میں نے گزارا اس نے دنیا بھر کے کئی اہم خیالات اور نظام کی قدر کرنے میں میری کافی مدد کی ۔ شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ ان خیالات اور نظاموں کا وجود انڈیا میں پہلے ہی سے تھا۔ 

بوسٹن میں دوران قیام میں نے شعوری طور پر بین موضوعاتی تجربات سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش کی۔یونیورسٹی کے سمر اکسلریٹر پروگرام میں انٹرن شپ کے دوران میرا تعلق کاروبار کے لیے سازگار ماحول اور تربیت سے متعلق نظام سے رہا جو معاشرتی اور تخلیقی اداروں کی حمایت کے لیے انتہائی ضروری چیز ہے۔ کاروبار اور اختراع پردازی کے مستقبل کے بارے میں دو بارہ غور کرنے کی خاطر تبدیلی کے خواہاں طلبہ کو تحریک دینے کے مقصد سے منعقد کیے جانے والے عالمی چیلنج     ہَلٹ پرائزکے لیے سب سے پہلے کیمپس ایونٹ کی پہل کرنے اور اسے فروغ دینے میں اس نے میری مدد کی۔ پائیداری کے نمونوں میں میری دلچسپی کی وجہ سے میں آخر کار   گرین یور واڈروب  نامی ایک سہ روزہ تقریب کے بارے میں غور کر پائی   اور پھر اسے اپریل ۲۰۱۸ ء میں منعقد ہونے والے سالانہ فیشن ریوو لیوشن کا ایک حصہ بنا پائی۔ میں نے   گلوبل بازارکے رابطہ کار کے طور پر بھی کا م کیا ۔یہ مہاجر طبقات سے تعلق رکھنے والے فنکاروںکی جانب سے بنائے جانے والے سامانوں کی نمائش کا ایک موقع تھا جوگلوبل میوزک فیسٹیول ۲۰۱۸ کا حصہ تھا۔ 

 

اس تجربے کا استعمال آپ انڈیا میں کس طرح کرنا چاہیں گی؟

بوسٹن کے ایّام نے مجھے یہ احساس دلایا ہے کہ پوری دنیا میں تخلیقی اور ثقافتی شعبے ایسی نو وارد معیشت ہیں جن کے اندر موجود امکانات سے خاطر خواہ فائدہ اٹھایا نہیں جا سکا ہے۔ انڈیا تخلیقی صلاحیت کے حامل ثقافتی کاروباری پیشہ وروں کی ایک نئی نسل کی نہ صرف ملازمت کے مواقع کی تلاش میں حمایت کرنے میں ایک قائدانہ کردار ادا کر سکتا ہے بلکہ ایک پائیدار ترقی کو بھی فروغ دے سکتا ہے۔ایم آئی ٹی سولو میں میری رواں تربیت مجھے تبدیلی کی شراکت داری پیدا کرنے کی بنیا د کو دیکھنے کا ناقابل یقین موقع فراہم کرتی ہے۔ میں نے اختراع پردازی کے لیے پُر عزم عالمی معیار کے ایک ادارے کے ساتھ بات چیت اورپائیدار نیٹ ورک کی تشکیل کے لیے اپنے مقصد پر کام شروع بھی کر دیا ہے۔

رنجیتا بسواس کولکاتہ میں مقیم ایک صحافی ہیں۔ وہ افسانوں کا ترجمہ کرنے کے علاوہ مختصر کہانیاں بھی لکھتی ہیں۔


 

تبصرہ کرنے کے ضوابط