مرکز

رقص بطور کریئر

 فُل برائٹ فیلو للتا سندھوری یہ سمجھنے کے لیے کوشاں ہیں کہ کس طرح مختلف ثقافتوں میں رقص کی تربیت کا اثر کُچی پُڈی رقاصاؤں کے جسم اور ان کی زندگی پر پڑتا ہے۔ 

للتا سِندھوری کی رنگ برنگی زندگی کے بیان کے لیے اسے موسیقی سے لبریز اور نہایت پُر لطف قرار دینا سب سے موزوں ہو گا۔ سِندھوری کو فلمیں دیکھتے دیکھتے محض ۳ برس کی چھوٹی سی عمر میں ہی رقص سے محبت ہو گئی تھی۔ اصل میں فنونِ لطیفہ انہیں وراثت میں ملے۔ ان کے والد کارنیٹک موسیقی میں تربیت یافتہ فنکار تھے۔ یہ اور بات ہے کہ بعد میں انہیں موسیقی کو خیر باد کہہ کر ایک بینک میں ملازمت کر لینی پڑی۔ مگر وہ نہیں چاہتے تھے ان کی ہونہار بیٹی کی زندگی میں بھی یہ بات دہرائی جائے۔ لہٰذا سِندھوری نے ۱۱ برس کی عمر کُچی پُڈی رقص سیکھنا شروع کر دیا۔اور آج وہ حیدرآباد یونی ورسٹی کے شعبۂ رقص میں سینئر ریسرچ فیلو ہیں۔وہ بتاتی ہیں ’’ کُچی پُڈی انڈیا کے ۸ کلاسیکی رقص اقسام میں سے ایک ہے۔اس رقص کی پہچان بہترین طور پر عمدگی کے ساتھ قدموں کا استعمال ، جسم کی دلکش حرکات و سکنات ، قدرتی اظہار اور ایک طرح کے ڈرامائیت لیے ہوئے عناصر ہیں۔ ‘‘

رقص کی اس قسم کی تاریخ پر اگر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ ۲۰ ویں صدی کے نصف اوّل تک صرف مردوں کو ہی اس رقص کو کرنے کی اجازت تھی۔مگر پھر ۱۹۴۰ اور ۱۹۵۰ ء کی دہائی میں خواتین بھی اس رقص کو سیکھنے لگیں ۔ اور آج تو اس رقص کے کرنے والوں میں خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے زیادہ ہے۔ 

اسے ان کی فنکارانہ جڑوں کا کمال کہیں یا ان کے مایۂ ناز استاد ویدانتم ستیہ نرسمہا شاستری کی سخت محنت اور مشقت کا ثمرہ کہیں،  سِندھوری نے کم عمری سے ہی رقص میں کمال کا مظاہرہ کرنا شروع کیا ۔ وہ اب بھی اسٹیج پر رقص کرتی ہیں۔انہیں حال ہی میں فل برائٹ۔ نہرو ڈوکٹورل فیلو شپ سے نوازا گیا ہے۔ ان کی دلچسپی کا موضوع یہ ہے کہ کس طرح عصری مغربی رقص کُچی پُڈی کی ترقی اور ترویج میں مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ 

عام ہندوستانی والدین کی طرح ان کے والدین کی بھی خواہش تھی کہ وہ انجینئرنگ یا کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کریں۔ والدین کی خواہش کے احترام میں انہوں نے کمپیوٹر سائنس میں داخلہ لیا اور اپنے بیچ میں ٹا پ کیا۔اپنی تعلیمی صلاحیتوں سے قطع نظر ان کا رقص کے تئیں جنون جاری رہا۔ بعد میں انہوں نے حیدر آباد یونیورسٹی سے پرفارمنگ آرٹس میں ماسٹرس ڈگری حاصل کی جس میں کُچی پُڈی ہی ان کی توجہ کا مرکز تھا۔اس طور پر وہ اپنے بچپن کے شوق کو پیشے میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔  

بعد میں انہوں نے حیدرآباد یونیورسٹی سے پروفیسر ارونا بھکشو کی نگرانی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ پی ایچ ڈی کے چوتھے سال میں ان کا فل برائٹ ۔نہرو ڈوکٹورل ریسرچ فیلو شپ کے لیے انتخاب ہو گیا۔ اس کے تحت وہ اگلے ایک سال کے لیے امریکہ کی معروف کولمبیا یونیورسٹی کے برنارڈ کالج میں وزٹنگ پروفیسر رہیں۔انہوں نے اپنی تحقیق اَیڈجنکٹ پروفیسر اتر آشا کورلاوالا کی نگرانی میں پوری کی۔ ان کے مقالہ کا موضوع ’’ رقص کرتے اجسام : مختلف ثقافتوں میں رقص کی تربیت ‘‘ تھا۔امریکہ میں قدم رکھنے کے ساتھ ہی انہوں نے رقص کے مختلف انداز مثلاََبیلے، جدید ، افریقی رقص اور فلیمینکو میں تجربات کا آغاز کیا۔مغربی اقسام ِ رقص کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے بعد انہوں نے ان مغربی رقصوں میں کارفرما مثبت طریقہ کار اور عوامل کا آپس میں رشتہ قائم کیا ۔ ساتھ ساتھ اس بات پر بھی تحقیق کی کہ کس طرح بعض مغربی عصری تدریسی تکنیک کا اطلاق کُچی پُڈی رقاصوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔یعنی بالفاظ دیگر مختلف ثقافتوں میں تربیت کس طرح ایک رقاص کے جسم پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس سے متعلق جن قابلِ تغیر نکات کا سِندھوری نے مطالعہ کیا ان میں جسم کا لچیلا پن ، پائداری ، طاقت، پھرتی اور تمام جسم کی بیداری شامل ہیں۔ ان کا ماننا ہے ’’ مغربی طریقہ تدریس میں رقاص کی صحت اور اس کی بہبود کی جانب ماضی میں بھی خاصی کوششیں کی گئی ہیں اور اب بھی مسلسل کی جارہی ہیں۔ بیلے میں بایو میکا نکل اور اعضاء کے متعلق جو معلومات فراہم کی جاتی ہیں وہ رقاص کے لیے بہت مددگار ثابت ہوتی ہیں ۔ ان خطوط پر عمل پیرا ہوکر رقاص چوٹوں سے محفوظ رہ سکتا ہے اور اس طور پر ایک بیدار رقاص بن سکتا/سکتی ہے۔‘‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ خواہ رقاص کا تعلق مشرق سے ہو یا مغرب سے ...ان کو مختلف ثقافتوں کی تکنیک کے بارے میں مطالعے سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ ایک ثقافت کی کار آمد تکنیک کو دوسری ثقافت میں آسانی سے پرویا جا سکتا ہے۔ 

اب سوال یہ ہے کہ اس فنکار، کمپیوٹر سائنٹسٹ اور بین ثقافتی رقاصہ کا مستقبل کیا ہے؟وہ اپنا پسندیدہ مشغلہ جاری رکھیں گی یعنی کُچی پُڈی رقص کو شائقین کے لیے پیش کرتی رہیں گی؟سِندھوری کا خواب ہے کہ وہ ڈانس پروڈکشنس کی ہدایت کریں۔ اوربعید از قیاس نہیں کہ آئندہ۱۰ برسوں میں وہ اپنا خودکا ایک ڈانس اسکول ہی کھول لیں جس کے ذریعہ وہ مختلف ثقافتوں میں رقص کی اہمیت اجاگر کرتی رہیں ۔اس بیداری کو پیدا کرنے کا مقصد صرف ایک ہے اور وہ ہے موسیقی اور نقل و حرکت سے لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنانا۔  

 

میگن میک ڈریو کیلی فورنیا کے شہر سانتا کروز میں واقع یونیورسٹی آف کیلی فورنیا اور کیلی فورنیا کے ہی ہارٹ نیل کالج میں عمرانیات کی پروفیسر ہیں۔ وہ کیلی فورنیا کے مونٹیرے علاقے میں رہتی ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط