مرکز

تبادلہ پروگرام کی بدولت سیکھنا

فل برائٹ ۔ نہرو اکیڈمک اینڈ پروفیشنل ایکسیلینس فیلو ڈاکٹر اجے جوشی نے ہندوستانی تھیٹر کی پیچیدگیوں کا اشتراک امریکہ میں طلبہ اور دیگر کمیونٹی اراکین کے ساتھ کیا۔

ڈاکٹر اجے جوشی ایک سادہ فلسفے کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’ میں کبھی کسی موقع کو نا نہیں کہتا۔‘‘ وہ پیشے سے دانتوں کے ڈاکٹر ہیں مگر ان کے پاس تھیٹر مطالعات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی ہے۔ وہ انڈیا میں تھیٹر اور پرفارمنگ آرٹس کی تعلیم دیتے اور تحقیق کرتے ہیں۔ وہ  رَٹگَرس یونیورسٹی میں ۱۹۔۲۰۱۸  تعلیمی سال میں فل برائٹ ۔ نہرو اکیڈمک اینڈ پروفیشنل ایکسیلینس فیلو  رہ چکے ہیں۔رَٹگَرس ریاست نیو جرسی کی اسٹیٹ یونیورسٹی ہے۔ پرنٹ جرنلزم اور مواصلات میں بھی مہارت رکھنے والے جوشی تھیٹر کی تعریف، ورکشاپس، خصوصی کلاسوں اور انتظامیہ میںبھی شامل ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’’ مجھے لکھنے کا بہت شوق تھا۔ دانتوں کے ڈاکٹر کی حیثیت سے دو برس پریکٹس کرنے کے بعد میں نے صحافت اور ماس کمیو نی کیشن میں ماسٹر ڈگری لی کیوں کہ میں ایک مصنف کی حیثیت سے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنا چاہتا تھا۔صبح میں اپنا کلینک چلانے کا مطلب یہ ہے کہ میں شام کے وقت ہی لکھنے پڑھنے کا کام کر سکتا تھا۔ چوں کہ تھیٹر ، موسیقی اور رقص کے زیادہ تر پروگرام شام ہی میں ہوتے ہیں ، اس لیے اس نے اس طرح کے فن پر مؤثر تنقید کرنے میں گہری دلچسپی پیدا کردی۔وہ کہتے ہیں ’’ مجھے تھیٹر کے تمام پہلوؤں سے دلچسپی ہے، لیکن میں ایک مؤثر سا مع بننے کے خیال کو فروغ دینا چاہتا تھا۔

اب سوال یہ ہے کہ نقاد کا کردار کیا ہے اور تھیٹر کے پورے منظر نامے میں وہ کس طرح مؤثر ثابت ہو سکتا ہے؟جوشی کی بات کریں تو ان کے ڈراموں کا مراٹھی سے انگریزی میں ترجمہ عالمی سطح پر پیش کیا گیا ہے۔ وہ پونہ یونیورسٹی میں پوسٹ گریجویٹ جرنلزم کورس کی تدریس بھی کرتے ہیں۔

سنہ ۲۰۱۵ ء میں جس وقت وہ اپنی پہلی کتاب کا مواد اکٹھا کر رہے تھے تو ان کے شریک مصنف نے انہیں فل برائٹ ۔ نہرو اسکالر شپ کے بارے میں بتایا۔ وہ بتاتے ہیں ’’ میں پُر تجسس تو تھا مگر ابتداََ شک و شبہہ کا بھی شکار تھا۔ میں نے مختلف یونیورسٹیوں کو لکھا جن میں کارکردگی والے مطالعاتی کورسز اور محکمے تھے۔ ‘‘

ان کا یہ منصوبہ ذات پات، طبقے اور صنف پر مشتمل ہندوستانی تھیٹر کی پیچیدگیوں کا ایک امتزاج تھا جو انتہائی دلکش تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جلد ہی انہیں یونیورسٹیوں سے دعوت نامے موصول ہونا شروع ہو گئے۔ انہوں نے’ ثقافت ، برادری اور تھیٹر: ہندوستانی تناظر ‘ سے متعلق ایک کورس پڑھانے کے لیے رَٹگَرس یونیورسٹی کو چنا۔ انہوں نے تدریسی فیلوشپ کا انتخاب کیا کیوں کہ وہ وہاں ہندوستانی تھیٹر کی پیچیدگیوں کو طلبہ اوربڑی برادری کے ساتھ شیئر کرنا چاہتے تھے۔وہ یہ بھی سیکھنا اور سمجھنا چاہتے تھے کہ اس طرح کی پیچیدگیوں کو مختلف ثقافتی تناظر میں کیسے حل کیا گیا۔ جوشی کا کہنا ہے کہ چار ماہ کی فیلوشپ حیرت انگیز تھی۔ ان کا کہنا ہے ’’ہندوستانی تھیٹر کے تنوع نے ہند نژادطلبہ کو بھی راغب کیا۔ ‘‘

یونیورسٹی میں جوشی نے مقامی تھیٹر گروپوں سے ملاقات کی جو امریکہ میں مقیم ہندوستانیوں پر مشتمل تھے۔ وہ کہتے ہیں ’’میں نے بعض کو تنقیدی معلومات فراہم کیں اور  رکت پھیرا نامی ایک ڈرامہ( فیڈریکو گارسیا لورکا کا ہسپانوی ڈرامہ بلڈ ویڈنگ) بھی منعقد کیا۔اس کے بعد تو یونیورسٹی کے مختلف محکموں ( تغذیہ اور خوراک سائنس ، عمرانیات ، سماجی کام ، صحافت اور صنفی علوم )نے اشتراک کے لیے ان سے رابطہ کیا۔جوشی بتاتے ہیں ’’ میں ان کے ہمراہ شراکت داری کر رہا ہوں تاکہ ان کے ساتھ اپنے کام کے علاوہ فل برائٹ کے اپنے تجربے کا اشتراک کروں اور ان کے کام کے بارے میں جانوں۔ ‘‘

جوشی نے ہندوستانی تھیٹر کے مخصوص لباس پر لیکچر دیا جہاں طلبہ کو ساڑی پہنا کر دکھایا گیا جسے کئی طرح سے زیب تن کیا جا سکتا ہے۔جوشی ڈرامہ کے تمام پہلوؤں میں طلبہ کو دی جانے والی سخت تربیت سے بے حد متاثر تھے۔ وہ بتاتے ہیں ’’ گریجویشن سے پہلے طلبہ کو سکھایا جاتا تھا کہ کس طرح کم وقت میں آڈیشن دینا ہے یا برے وقت میں رقم کا نظم کرنا ہے ۔طلبہ کو درخواست لکھنا بھی سکھایا گیا ۔‘‘

جوشی کی خواہش تھی کہ انڈیا میں بھی طلبہ کو ایسے ہی تعلیم دی جائے۔وہ اپنا تجربہ بتاتے ہیں ’’ میں نے سیکھا ہے کہ آج طلبہ اتنا زیادہ با خبر ہیں کہ ان کے سیکھنے کے لیے استاد اب واحد ذریعہ نہیں رہ گئے ہیں۔تدریس کے عمل میں میں اپنا کردار ایک سہولت کار کا دیکھتا ہوں اور طلبہ کے ساتھ کھلے عام تبادلہ ٔخیال کی حوصلہ افزائی کرنے کا حمایتی ہوں۔ ‘‘

جوشی باخبر کرتے ہیں کہ انہیں دیگر یونیورسٹیوں کے علاوہ  ایمہرسٹ میں واقع  یونیورسٹی آف مسا چیوسٹس، ڈیلٹا اسٹیٹ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف بفیلو میں بھی گفتگو کرنے کی دعوت دی گئی ۔ جوشی تسلیم کرتے ہیں کہ فل برائٹ فیلوشپ نے انہیں زندگی تبدیل کرنے والے تجربے سے دو چار کیا ۔ وہ ان الفاظ کے ساتھ اپنی بات ختم کرتے ہیں ’’ میں اسفنج کی حیثیت سے گیا اور ہر اس موقع سے فائدہ اٹھایا جو مجھے ملا۔‘‘

فل برائٹ فیلو شپ کے لیے درخواست دینے کے خواہش مند حضرات کے لیے ان کے پاس صرف ایک مشورہ ہے ’’ فوراً درخواست دیں۔‘‘ 

 

پارومیتا پین، رینو میں واقع یونیورسٹی آف نیواڈا میں گلوبل میڈیا اسٹڈیز کی معاون پروفیسر ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط