مرکز
1 2 3

ایک دائمی شاگردہ

فل برائٹ آرٹس فیلوکے طور پر اپنے تجربے کے تعلق سے لکشمی راما سوامی اپنے تجربات کا اشتراک کر رہی ہیں۔وہ بتاتی ہیں کہ اس تجربے نے کس طرح بھرت ناٹیم کی ان کی مشق اور اس فن کے انتظام و انصرام کو متاثر کیا۔

معروف بھرت ناٹیم رقاصہ لکشمی راما سوامی خود کو ایک دائمی شاگردہ قرار دیتی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں ’’ میں کئی اور کام بھی کرنا چاہتی ہوں ۔ میری خواہش ہے کہ میں ایک ماہرِ تعلیم ، فنکارہ، کوریو گرافر ، محقق اور ایک معلّم بھی بنوں ۔ ‘‘

چنئی میں واقع ان کے ادارے سری مدھرالے اکیڈمی فار بھرت ناٹیم نے ۲۰۱۹ء میں سلور جبلی منائی۔ راما سوامی سان فرانسسکو کی گولڈن گیٹ یونیورسٹی میں ۲۰۰۰۔۱۹۹۹ء کے درمیان فل برائٹ آرٹس فیلوتھیں جہاں انہوں نے بھرت ناٹیم میں آرٹس اینڈ کلچر مینجمنٹ پر توجہ دی۔ وہ کہتی ہیں ’’ اس نے مجھے عالمی سطح پر چیزوں کو دیکھنے کا موقع فراہم کیا ۔‘‘

فنون لطیفہ اور ثقافت کے انتظام وانصرام کا یہ شعبہ بھرت ناٹیم جیسے روایتی فن کا مظاہرہ کرنے والوں کو ذرا الجھن پیدا کرنے والا معلوم ہوسکتا ہے۔ راما سوامی کہتی ہیں ’’ جب تک اساتذہ اور طلبہ کے درمیان ایک بے تکلفانہ اور دوستانہ ماحول رہتا ہے تو گھر کا ماحول بھی گویا کلاس روم جیساہوتا ہے اور جب تک استاد فن کے مظاہرے کا موقع فراہم کرتے رہیں تو اس کے انتظام و انصرام کی زیادہ ضرورت نہیں رہتی لیکن جب تدریسی عمل ایک رسمی ماحول میں یا کسی ادارے میں انجام پاتا ہے اور فن کو پیش کرنے کی جگہ ایک مثالی مظاہرے کی جگہ بن جاتی ہے تو انتظام و انصرام کی ضرورت نہ صرف اہم ہو جاتی ہے بلکہ یہ ایک نازک معاملہ بن جاتا ہے۔اور پھر اس کی حیثیت کسی کارپوریٹ ادارے کی ہو جاتی ہے جہاں بات چیت ، انتظامیہ اورخط و کتابت وغیرہ کے بہت سارے حصے ہوتے ہیں ۔ اسی طرح اس شعبے میں بھی تربیتی نظام الاوقات ، کارکردگی ، حساب کتاب ، تقریبات کا اہتمام وغیرہ انتظام و انصرام کے زمرے میں آجاتا ہے۔ ‘‘

فل برائٹ آرٹس فیلوشپکے دوران ہونے والے اپنے تجربات کے بارے میں راما سوامی بتاتی ہیں ’’ میرے لیے ہر چیز نئی تھی۔ ملک نیا تھا۔ یونیورسٹی نئی تھی جو تمل ناڈو کے میرے قصبے ترونیلویلی کے کالج سے بالکل مختلف تھی جہاں سے میں فارغ ہوئی تھی۔یہاں فنونِ لطیفہ سے متعلق ہر تصور میں منطق اور تجزیے کے عناصر کی ضرورت تھی۔ میرے لیے ادارے کے رسمی انتظام و انصرام کو سمجھنا اور واپس اپنے ملک میں ، اپنے گھر پر ایک ایسی جگہ اس کا نفاذ کرنا جہاں یہ سہولتیں نہیں ہیں ، ایک چیلنج تھا۔‘‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ اپنی تنظیم کے لیےخط وکتابت کی غرض سے فہرست تیار کرنے کی ایک معمولی ضرورت سے لے کر رقص کے ایک بڑے جشن کے اہتمام تک مجھے ان تمام طریقوں کا اچھا تجربہ ہوا جن کا استعمال فنون ِ لطیفہ سے متعلق کسی تنظیم کو منظّم بنانے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ ‘‘

راما سوامی بتاتی ہیں کہ جب انہوں نے ماسٹر ڈگری اور پھر پی ایچ ڈی کرنے کا فیصلہ کیا تو اس سے انہیں بڑی مدد ملی۔ گولڈن گیٹ یونیورسٹی کے بہت بڑے سے کتب خانے نے بھی ان کے لیے نئے مصنفین اور کتابوں تک رسائی کا ایک دروازہ کھول دیا ۔ وہ بتاتی ہیں ’’یہاں میں ۱۹۵۰ء کی دہائی میں فنون لطیفہ کے فوائد کے عنوان سے کی گئی تحقیق کے نتائج پر مضامین دیکھ کر حیران رہ گئی۔ ‘‘

اسی دوران انہیں سان فرانسسکو اِتھنِک ڈانس فیسٹیول۲۰۰۰ میں اپنے فن پر مقالہ پیش کرنے کا موقع ملا۔ راما سوامی بتاتی ہیں ’’وہاں مجھے اس شعبے کے بہت سارے ماہرین سے ملاقات کا موقع ملا ۔ نوجوانوں کی خصوصی ضروریات کو فروغ دینے کے لیے فن کا استعمال کرنے والی گلوریا انٹی سے میری ملاقات ہوئی۔میری ملاقات ویلری باد اور مائیکل گیریٹ سے بھی ہوئی جن کے ساتھ میں نے اسٹیج پر کارکردگی اور لائٹنگ کی تکنیک پرایک ناقابل فراموش بات چیت کی۔مجھے اَین اسمتھسے بھی ملنے کا موقع ملا جو اس وقت آرٹس ایڈمنسٹریشن کی چیئر پرسن تھیں۔ میں نے ان میں معلومات اور حسِ مزاح کا امتزاج پایا۔‘‘

یہ پوچھے جانے پر کہ انہوں نے کیسے اپنے فیلو شپ کے تجربے کو اپنے کام کے لیے استعمال کیا تو وہ کہتی ہیں ’’ میں نے امریکہ میں جو کچھ بھی سیکھا اسے انڈیا میں اپنے کام میں استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔وہ بتاتی ہیں ’’میں اب پہلے سے زیادہ نظام سازی پر توجہ دیتی ہوں۔ مثال کے طور پرمیں نے اپنے کام کو دستاویزی شکل دینے اور فائل اور اسکرپٹ پر لیبل لگانے جیسے کام پر توجہ دی ہے۔ میں نے کاغذ ی کارروائی کرنا، سرکاری امداد کے لیے درخواست دینا اور اپنے طلبہ اور محققین کو اب زیادہ واضح طریقے سے پڑھانا سیکھا ہے۔ ‘‘

حالیہ برسوں میں بعض ہندوستانی اداروں میں فنو ن لطیفہ کی تعلیم میں گریجویشن اور ماسٹرس پروگرام کو متعارف کیا گیا ہے۔ لیکن راما سوامی کا خیال ہے ’’ آرٹس مینجمنٹ کو اتنی رفتار نہیں مل پائی ہے جو رفتار بزنس مینجمنٹ کو ملی ہے۔ ‘‘

اس سلسلے میں ایک واقعہ کا اشتراک کرتی ہوئی راما سوامی کہتی ہیں ’’ میں سا ن فرانسسکو بیلیٹ کمپنی کا دورہ اور ڈائرکٹر سے ملاقات کے لیے وقت طے کرنا چاہتی تھی۔میرے لیے یہ خوشگوار حیرت کی بات تھی جب میں نے دیکھا کہ وہ میرا خیر مقدم کرنے کے لیے خود ۶ منزلیں طے کرکے نیچے آئے۔ اورمجھے وہاں کے ہر گوشے یعنی رقص کی جگہوں پر، انتظامیہ کے دفتر، اس کی پرنٹنگ یونٹ،رقص بندی کی جگہ، لوازمات کی الماری اور بہت ساری دیگر جگہوں پر لے کر گئے۔میں بہت حیرت زدہ تھی۔ میں نے ان سے کہا’’یہ بہت اچھی بات ہے کہ آپ کی مدد کے لیے یہاں بہت سارے لوگ ہیں۔میں تو اپنے ملک میں پڑھا نے کے علاوہ ، مشق اور تحقیق کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اور اپنے طلبہ کے پروگرام پیش کرتی ہوں ۔ میں کتابوں سے لے کر پوشاک پر خود ہی خر چ کرتی ہوں۔ حتیٰ کہ اوپر چڑھ کر خود ہی روشنی وغیرہ کا انتظام کرتی ہوں۔‘‘

انہوں نے میری بات سنی اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا’’ تب تو شاید مجھے فل برائٹ فیلو شپ لے کر انڈیا آنا چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ ایک تنہا شخص کیسے اتنی ساری چیزیں کرتا ہے۔ ‘‘

 

رنجیتا بسواس کولکاتہ میں مقیم ایک صحافی ہیں۔ وہ افسانو ی ادب کا ترجمہ کرنے کے علاوہ مختصر کہانیاں بھی لکھتی ہیں ۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط