مرکز

تبدیلی کی داستان

جینا روئیز کی چھوٹی سی فلم’’ سِنگھ‘‘ ایک سکھ  گرِندر سنگھ خالصہ کی کہانی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ خالصہ کی کاوش کے نتیجے میں امریکی حکام کو ایئر پورٹ سلامتی کے نام پر پگڑی اور سر پر پہنے جانے والی دیگر چیزوں کے متعلق اپنے قوانین میں تبدیلی کرنی پڑی۔ 

ایک نہایت تکلیف دہ صورت حال کا تصور کیجئے ۔ آپ اپنے پیارے عزیز سے ممکن ہے آخر ی بار ملنے جار ہے ہوں اور آپ کو اپنے مذہبی عقائد سے سمجھوتہ کرنا پڑے۔’سنگھ‘ زندگی کے ایک حقیقی واقعہ پر مبنی ۱۴ منٹ کی ایک چھوٹی سی فلم ہے۔ 

  جینا روئیز  ،جو ریاست اِنڈیانا سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ اور اداکارہ ہیں ، نے یہ فلم اس وقت بنائی جب وہ نو عمر دوشیزہ تھیں۔ فلم گُرِندر سنگھ خالصہ کی حقیقی کہانی پر مبنی ہے جو امریکی سکھ کاروباری پیشہ ور اور سکھس پی اے سی کے صدر ہیں،جن کی کاوش کی وجہ سے امریکی حکام کو ایئر پورٹ حفاظتی تفتیش میں پگڑی اور سر پر پہنی جانے والی دوسری چیزوں سے متعلق اپنی پالیسی بدلنی پڑی۔

مئی ۲۰۰۷ ء میں خالصہ نے  سیکرا مِنٹو میں اپنی بیمار ماں ، جو زندگی کے آخر ی ایّام بسر کر رہی تھیں، سے ملنے کا ارادہ کیا۔مگر ٹرانسپورٹ حفاظتی انتظامیہ کے اہلکاروں نے نیویارک کے شہر بفیلو میں انہیں طیّارہ میں سوار ہونے سے روک دیا۔ حالاں کہ وہ جانچ کے مرحلے سے گزر چکے تھے اور اس بیچ خطرے کی کوئی گھنٹی بھی نہیں بجی تھی۔مگر پھر بھی مذکورہ اہلکاروں نے ان سے کہا کہ انہیں اپنی پگڑی اتارنی پڑے گی تاکہ ان کی جانچ مزید کی جا سکے۔یہ خالصہ کے لیے بہت مشکل گھڑی تھی ۔ ان کے سامنے متبادل یہ تھا کہ اپنی پگڑی اتار دیں تاکہ اپنی بیمار ماں سے ملنے جا سکیںیا پھر اپنے مذہب کی مقدس ترین روایات میں سے ایک کی توقیر کریں اور ماں سے ملنے سے محروم رہیں۔ اس صورت حال میں بھی انہوں نے پگڑی اتارنے سے منع کر دیا ۔     

بعد میں خالصہ نے اپنی عرضی کے لیے امریکہ بھر سے ہزاروں دستخط جمع کیے اور اپنے اس تلخ تجربے سے امریکی کانگریس کے اراکین کو باخبر کیا جس کی وجہ سے  ٹی ایس اے کی پالیسیوں میں تبدیلی ممکن ہو سکی۔ اس کے بعد خالصہ کو ان کی کاوش کے لیے  روزا پارکس ٹریل بلیزر کے خطاب سے نواز ا گیا۔ 

روئیزکہتی ہیں ’’میں امید کرتی ہو ں کہ اس فلم سے ناظرین کواس بات کا علم ہوگا کہ نسل کی بنیاد پر امتیاز کیا ہوتا ہے، خاص کر سکھ فرقے سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے شخص کے لیے جو پگڑی بھی پہنتا ہے۔ سکھوں کو عام طور پر غلط سمجھا جاتا ہے ۔ اسی وجہ سے ان کو پریشانیوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس حقیقی کہانی سے گُرِندر جیسے افراد کے بارے میں لوگ واقف ہوں گے جن کو اپنی مذہبی شناخت کی وجہ سے نسل پرستی کا شکار ہونا پڑتا ہے۔‘‘

روئیز کو کم عمری ہی میں سنیما کی لت پڑ گئی تھی۔ وہ بتاتی ہیں ’’ جب میں ۹ برس کی تھی تو میں نے  ٹوڈے شو میں  کِڈس رپورٹر مقابلے میں شرکت کی تھی اور ۳۰ ہزار شرکا میں سے چھانٹے گئے ۱۶ سر فہرست لوگوں میں شامل تھی۔ ٹوڈے امریکہ میں صبح کے وقت قومی سطح پر براڈ کاسٹ ہونے والا خبر اور بات چیت والاایک پروگرام ہے۔نیویارک میں سیٹ پر موجود ہونے کے جادو سے متعارف ہونے کے بعد میں نے اداکاری شروع کی۔ جب میں تقریباََ ۱۳ برس کی تھی تب میری دادی نے مجھے ایک کیمرہ تحفے میں دیا ۔ اس سے میں نے خود سے ویڈیو بنانا شروع کیا اور آخر کار فلمسازی کی طرف بھی مائل ہو گئی۔ ‘‘

روئیزجب اشتہارات،میوزک ویڈیو اور فلموں میں یا ان سے متعلق کام کر رہی تھیں تو انہوں نے ۲۰۱۶ ء میں خالصہ کی سکھس میڈیا کمپنی میں کام کرنا شروع کر دیا۔وہ کہتی ہیں ’’ میں نے میڈیا پروڈیوسر کے طور پر کام کیا جس میں ان کے فیس بک صفحہ کے لیے میں ہفتہ واری اپ ڈیٹ کے چھوٹے چھوٹے ویڈیو بنانا،کچھ اشتہارات بھی بنائے ۔ اس کے علاوہ فوٹو کھینچنا اور ان کی ایڈیٹنگ کر نا بھی شامل تھا۔۲۰۱۸ ء کے وسط میں خالصہ نے مجھے اپنی کہانی بتائی جس سے اس فلم کی ترغیب ملی۔ جیسے ہی میں نے کہانی سنی ، میں نے مشورہ دیا کہ کیوں نہ ہم اس پر مبنی ایک فلم بنائیں۔ وہیںسے ہم فلم کی تیاری میں لگ گئے۔ ‘‘

روئیزکی فلم کی عکس بندی اِنڈیانا پولِس بین الاقوامی ہوائی اڈہ پر ہوئی۔یہا ں شوٹنگ کا اپنا تجربہ بتاتے ہوئے وہ کہتی ہیں ’’ وہ نہایت ہی عمدہ میزبان تھے ۔ انہوں نے ہماری ہر قدم پر مدد کی۔ پروڈکشن بہت آسانی سے ہوگیا اور ہم کو کام وقت پر ختم کرنے میں کوئی دقت نہیں آئی۔حالاں کہ میں پوشاک کے شعبے کا شکریہ ادا کرتی ہوں مگر پھر بھی ہوائی اڈہ پر کبھی کبھار کوئی رک کر ہمارے ٹی ایس اے ایجنٹ سے سوال کر لیتا تھا ۔ ہمیں بڑی مشکل سے اسے سمجھا نا پڑتا تھا کہ یہ اداکار ہیں ، ٹی ایس اے ایجنٹ نہیں۔ یہ مزاحیہ صورت حال ہوتی تھی۔‘‘ 

ہوائی اڈہ پر مسافروں کو اگر لگتا کہ خالصہ پریشانی میں ہیں تو انہوں نے ان کی مدد بھی کی۔روئیزبتاتی ہیں ’’فلم بس فیسٹیول سرکٹ میں داخل ہونے ہی والی ہے لیکن جہاں تک ٹریلر کا سوال ہے تو یہ سب کو کافی پسند آرہا ہے۔فلم ایک طاقتور پیغام دیتی ہے ۔ اور لوگ اسے ویسے ہی لے رہے ہیں جیسا کہ ہم نے امید کی تھی۔ 

’ سنگھ‘ کا مختلف فلمی میلوں جیسے جنوب ایشیائی فلم فیسٹیول ،ٹورنٹو اور مونٹانا کے ویلائٹ بین الاقوامی فلمی میلے میں پہلے ہی انتخاب ہو چکا ہے۔ خالصہ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اِنڈیانا ٹاؤن میں پہلے سکھ امید وار کی حیثیت سے کونسل کا انتخاب بھی لڑیں گے۔ 

روئیزاپنی بات ختم کرتے ہوئے کہتی ہیں ’’ جہاں تک مستقبل کے منصوبے کا تعلق ہے تو بتادوں کہ سکھس میڈیا اور میں نے کچھ مزید پروجیکٹ پر کام کرنا شروع کیا ہے ۔ ان میں ایک فیچر فلم بھی ہے۔ آگے اور بھی بہت کچھ مزیدار ہونے والا ہے۔ ’سنگھ‘ تو محض شروعات ہے۔ ‘‘

 

کینڈِس یا کونو جنوبی کیلی فورنیا میں مقیم قلمکار ہیں جو جرائد اور روزناموں کے لیے لکھتی ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط