مرکز

یوگ کے عالمی مقابلہ میں ہند کی نمائندگی

وسط۔مغربی امریکی ریاست نبراسکا کی ایک کمسن لڑکی شروتی کمارنے یوگ اسپورٹس کے ۲۰۱۸میں منعقد ہوئے عالمی مقابلے میں ہند۔امریکی نمائندہ بن کر نام روشن کیا۔ 

ریاست نبراسکا کے شہر اوماہا کے میریَن اسکول کی ایک جونیئر طالبہ شروتی کمار نے یوگ کی دنیا میں اپنا جلوہ بکھیرا ہے۔ وہ ایسی واحد ہند۔ امریکی دوشیزہ ہیں جنہوں نے چین کی راجدھانی بیجنگ میں ۲۰۱۸ ء میں منعقد ہوئے یوگ اسپورٹس کے عالمی مقابلے میں

 ٹیم یوایس اے کی نمائندگی کی۔ جب و ہ نویں کلاس میں تھیں تو انہوں نے موسم گرما میں انڈیا کا سفر کیا اور تمل ناڈو میں واقع  یونیورسل پیس فاؤنڈیشن آف نارتھ امریکہ (یو پی ایف این اے )کے ہیڈ کواٹر سے ۲۰۰ گھنٹے یوگ کی تربیت لے کر سند حاصل کی۔کمار اپنے شہر اوماہا میں کمسن بچیوں اور ۱۹ برس سے کم عمر کی لڑکیوں کو یوگ کا درس دیتی ہیں ۔ انہوں نے  گو یوگی اِنک نام سے ایک غیر منافع بخش تنظیم قائم کی ہے جو زندگی میں مراقبہ اور دھیان کے فوائد کی تبلیغ کرتی ہے۔ پیش ہیں ان سے انٹرویو کے اقتباسات۔ 

کمسنی ہی میں کس چیز نے آپ کو یوگ کی طرف مائل کیا؟ 

میں نے یوگ اس وقت شروع کیا جب میں پہلی جماعت میں تھی۔بچپن میں یوگ میرے لیے بس ایک نصاب بعید سرگرمی کی مانند تھامگر جب میں بڑی ہونے لگی تو مجھے اندازہ ہوا کہ یہ زندگی بسر کرنے کا ایک ہنر بھی ہے۔جب میں ہائی اسکول میں داخل ہوئی تو میں نے دیکھا کہ پورے امریکہ میں میرے دوست تعلیمی اور سماجی دبائو ، اضطراب ،ذہنی تنائواور ہم رتبگان کے دبائو میں مبتلا ہیں۔مراقبہ اور دھیان نے طالب علمی کی زمانے میں میری مدد کی تھی ، اس لیے میں اسے مزید سیکھنا چاہتی تھی تاکہ میں دوسرے طلبہ کو پڑھنے میں مدد کر سکوں اور ان کی زندگی میں بھی اس مشق کی کوشش کر سکوں ۔ جب ٹیچر ٹریننگ کے بعد میں انڈیا سے واپس امریکہ پہنچی تو جہاں جہاں بھی ممکن ہوا میں نے یوگ سکھانا شروع کر دیا ۔ 

مجھے اپنی زندگی میں امن اور چین کا مقام رکھنے کی اہل ہونا پسند ہے ۔ مجھے اپنے جسم کو نئے نئے طریقوں سے پھیلانے کی اہل ہونے کا احساس کر ناپسند ہے کیوں کہ اس سے مجھے جسم و دماغ پر کنڑول پانے میں مدد ملتی ہے۔اس سے مجھے اپنے ساتھ ہونے ، خود میں جھانکنے اور ساتھ ساتھ چست درست رہنے کا بھی موقع ملتا ہے۔  

اسپورٹس یوگ باضابطہ یوگ سے کس قدر الگ ہے؟ 

اسپورٹس کے طور پر یوگ باضابطہ یوگ کی مشق سے بہت الگ ہے کیوں کہ اس میں آپ کو اپنے پٹھے کو ڈھکیلنے اور کھینچنے کی ہر حرکت میں شدت کے ساتھ شریک ہونا پڑتا ہے۔بعض حالتوں میں آپ کو یاد رکھنا پڑتا ہے کہ آپ سانس لیں جب کہ بعض دوسری کیفیات میں آپ سانس نہیں لے سکتے ۔ جب کہ باقاعدہ یوگ بہت آسان ہے، اتنا شدید نہیں۔ اسپورٹس کے طور پر یوگ محض ایک ورزش نہیں بلکہ اس میں طاقت ، لچک اور توازن پر توجہ مرکوز کرنی پڑتی ہے۔ ناظرین اور ججوں کے سامنے یوگ کرنے کا دباؤ تو رہتا ہی ہے ، اس کے علاوہ کچھ تادیبی قواعد اور ضوابط کی بھی پیروی کرنی پڑتی ہے۔ اسپورٹس کی حیثیت سے یوگ میں ہیئتوں کی مختلف دشوار سطحیں شامل ہوتی ہیں اور زیادہ اسکور کرنے کے لیے آپ پر لازم ہوتا ہے کہ آپ بہترین ہیئتوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے اپنی طاقت اور کمزوریوں سے واقف ہوں۔

 ٹیم یو ایس اے کی نمائندگی کرنے والی پہلی ہند۔ امریکی ہونے کے ناطے ۲۰۱۸ کے یوگ اسپورٹس کے عالمی مقابلے میں شرکت کا آپ کا تجربہ کیسا رہا؟ 

میں عالمی مقابلے میں ہند۔امریکی نمائندہ بن کر انتہائی پُر جوش تھی۔ یہ پوری دنیا کے لوگوں کے خلاف مقابلہ کرنے کا میرا بالکل پہلا تجربہ تھا اور مختلف ملکوں کے اتنے سارے لوگوں سے ملاقات صحیح معنوں میں بہت خوش کن تھی۔ امریکہ کی نمائندگی کرنے والی ہندنژادہونے کے ناطے میں وہاں انتہائی خوش تھی ۔  یہ دیکھ کر بھی بڑی خوشی ہوئی کہ پوری دنیا کے لوگ یوگ کی محبت میںکس طرح مبتلا ہیں۔جب تک میں نے اس عالمی مقابلے میں شرکت نہیں کی تھی تب تک مجھے یوگ کی اس عالمی پہنچ کی اہمیت کا احساس نہیں تھا۔ 

مقابلہ کے بعد میں نے ججوں میں سے ایک سے ملاقات کی ، جنہوں نے مجھے بتا یا کہ میں ٹیم یو ایس اے کی نمائندگی کرنے والی پہلی ہند۔ امریکی ہوں۔ مجھے اپنے دونوں ملکوں کی نمائندگی کر کے فخر محسوس ہوا ۔ اس تجربے نے میری شناخت کی صورت گری کی اور میں امریکی اوربھارتی دنیاؤں کے درمیان فرق کو پاٹنے والا پُل بن گئی ۔

بچیوں کو یوگ سکھانا اور اتنی کم عمری میں اس کے لیے ان کے دلوں میں محبت جگانا آپ کو کیسا لگتا ہے؟

چھوٹی بچیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا اہل ہونا ، سچ مچ ایک جادوئی تجربہ ہے کیوں کہ ان بچیوں کا دنیا وی تناظر پوری طرح خالص اور پُر امن ہوتا ہے ۔ حالاں کہ ان کا پُر سکون ہونا اور ہدایات کی پیروی کرنا انہیں زیادہ مشکل لگتا ہے مگر جب وہ مراقبہ کی حالت میں ہوتی ہیں تو انتہائی پر شور بچیوں کا بھی اتنا پر سکون ہونا بہت شاندار لگتا ہے۔ کلاس میں ہم لوگ ، اخلاقی زندگی کے اسباق ، شخصیت کو بہتر بنانے کی بنیادی ہنر مندیوں اور صحت مند طرز حیات کے موضوعات پر بات کرتے ہیں جن سے انہیں وضاحت اور مہربانی کے ساتھ دنیاوی معاملات سے گزرنے میں یقیناََ مدد ملے گی۔ 

کیا آپ ہمیں اپنی غیر منافع بخش تنظیم گو یوگی اِنک کے بارے میں کچھ بتا سکیں گی؟ 

جب مجھے یہ اندازہ ہو گیا کہ دماغی صحت کے شعبہ میں تعلیم کی کمی ہے تو میں نے یہ غیر منافع خیز تنظیم قائم کی۔ ہائی اسکول کے طلبہ کو یہ نہیں پڑھایا جاتا کہ وہ دبائو ، اضطراب اور تنائو سے کیسے نمٹیں ۔اس کے نتیجے میں مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ جب میری زندگی میں ایسے لوگ آئے جو ہم رتبگان کے دبائو اور اضطراب  سے بری طرح متاثر تھے تو میں اپنے آپ کو مزید روک نہیں سکی۔ میرے لیے ضروری تھا کہ کچھ کروں ۔ میں نے ایک پروگرام شروع کیا جس پر اسکولوں ، کارگاہوں اور دیکھ بھال کی سہولیات پر عمل درآمد ہونا تھا ۔ میں نے مراقبہ کی مشق پر سمعی اسباق تخلیق کیے۔ اس میں سانس لینے کی مشق سے لے کر خصوصی ناظرین کے لیے وضع کی گئی کسرت تک شامل تھی ۔ میری غیر منافع خیز تنظیم کا ہدف دن کے آغاز کے وقت گیان دھیان کی عادت ڈالنا ہے جس سے دن بھر زیادہ وضاحت اور پیداواریت آتی ہے ۔ فی الحال ہمارے پاس ہائی اسکول کے طلبہ اور الزائمر کے آخری مرحلو ں میں پہنچے ہوئے مریضوں کے لیے سمعی اسباق اور ایک نصاب ہے۔ اسی طرح انڈیا میں اڈاوام کرنگل (ایک خیراتی تنظیم)کے طلبہ کے لیے تمل میں بصری اسباق بھی ہیں۔ مجھے امید ہے کہ مستقبل میں میں پوری دنیا میں لوگوں کی مدد کے لیے اپنی غیر منافع خیز تنظیم کا استعمال کرسکوں گی ۔

مستقبل کے لیے آپ کے منصوبے کیا ہیں؟ 

اس وقت میں پوری دنیا کے اداروں اور تجارتی اداروں میں گو یوگی اِنک پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ حال ہی میں ہم نے ایک سفیر پروگرام شروع کیا ہے ، جس میں دنیا میں کوئی بھی شخص اپنے اسکول یا کام کی جگہ پر یو گ سکھانے کے لیے گو یوگی ٹیم کا حصہ بن سکتا ہے۔ میں تمام اسکولوں اور کارگاہوں میں دماغی صحت کی تعلیم نافذ کرانے کے لیے سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہوں ۔ میںزندگی کے ہر شعبہ کے لوگوں کے لیے دماغی صحت کے مسائل کا حل فراہم کرنے والی پالیسیاں بنانے کی کوشش کر رہی ہوں اورمیں چاہوں گی کہ ہر طالب علم ، ملازم اور محنت کش کی زندگی میں اس مشق کو شامل کرنے کے لیے پوری دنیا کے اداروں اور تجارتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر سکوں ۔ 

میں مراقبہ کے اب تک منظر عام پر نہیں آئے فوائد کے لیے اعصابی تحقیق میں بھی دلچسپی رکھتی ہوں ۔ مجھے امید ہے کہ خدمت خلق اور قیادت کے ذریعہ میں دنیا پر مثبت اثر ڈال سکوں گی اور زیادہ نئی نسلوں کو اس میں شامل ہونے کی تحریک دے سکوں گی۔

 

نتاشا ملاس نیویارک سٹی میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار ہیں ۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط