مرکز
1 2 3

خدمت ِخلق کی راہ میں بامعنی پیش رفت

ہند نژاد امریکی نوجوان انورودھ گنیشن کی انعام یافتہ ایجاد ویکس ویگن ٹیکہ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے اور نقل و حمل کے دوران اسے مناسب درجہ حرارت پر محفوظ رکھنے کا ایک ماحول دوست نظام ہے جس کے لئے نہ تو برف کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ بجلی کا استعمال کرکے اسے سرد رکھنے کی۔ 

انورودھ گنیشن کی عمر جب چھ ماہ تھی تب اسے پولیو کا ٹیکہ لگوانے کے لئے اس کے دادا اور دادی کو جنوبی ہندوستان کے ایک دور دراز علاقے میں ۱۶ کیلومیٹر کی مسافت طے کرنی پڑی تھی۔ جب وہ لوگ کلینک پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ اس علاقے میں بہت زیادہ گرمی پڑنے کی وجہ سے ٹیکے بے کار ہو چکے ہیں ۔ گنیشن کی خوش نصیبی تھی کہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔لیکن عالمی ادارہ صحت کے مطابق مناسب اور موثر ٹیکہ نہیں ملنے کی وجہ سے ۲۰۱۳ء میں تقریباََ ۱ اعشاریہ پانچ ملین بچوں کی موت واقع ہوگئی۔ بچوں کی جان محفوظ رکھنے کی کوشش کے تحت گنیشن نے صرف ۱۵ برس کی عمر میں ایک ایسی مشین ایجاد کی جس میں اس صورت حال کو واقعی تبدیل کردینے کی صلاحیت ہے۔ 

گنیشن نے اپنی زندگی کا صرف پہلا برس ہندوستان میں گزارا ، بعد ازاں امریکہ کے مشی گن کا رخ کیا۔بقول گنیشن ان کی انجینئرنگ میں دلچسپی اسی وقت پیدا ہو گئی تھی جب انہیں یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ جوتے کا تسمہ کیسے باندھے جاتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ’’ جب میں پانچ برس کا تھاتو ایک بارمیرے والد اور میں گھر کے نزدیک ایک گیس اسٹیشن پر اپنی کار میں ایندھن بھروا رہے تھے ،میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ کیا ہم ایسی گاڑی نہیں تیار کر سکتے جس میں گیس کی ضرورت ہی نہ ہو؟‘‘

تب سے اب تک گنیشن نے بہت سارے سائنسی میلوں میں شرکت کی ہے۔ یہی نہیں جب وہ دوسری جماعت میں تھے تو انہوں نے شمسی توانائی سے چلنے والا ایک پنکھا بھی تیار کیا تھا ۔وہ کہتے ہیں ’’سائنس مجھے خواب دیکھنے ، خیال و تصورمیں منہمک رہنے، دریافت کرنے اور نا معلوم اشیاء سے متعلق سوالات کرنے کی آزادی فراہم کرتا ہے اور یہ تخلیقی آزادی میرے خیال و فکر کو لا محدود بناتی ہے۔‘‘

ترقی پزیر ملکوں میں ٹیکوں کو عام طور سے بڑے اور کثیر آبادی والے شہروں میں اسپتالوں میں ایک جگہ رکھا جاتا ہے۔ وہاں سے ان کو دور دراز علاقوں میں اکثر ۲۵ کیلو میٹر تک پیدل یا سائیکل پر یا پھر جانوروں پر لاد کر لے جایا جاتا ہے۔ٹیکہ پہنچانے کے مقصد سے اختیار کئے گئے ان سفروں کو آخری مرحلہ کا نقل و حمل کہا جاتا ہے۔ موٹر گاڑیوں کے بغیر اتنی دور تک سفر کرنا بڑا دشوار گزار ہوتا ہے ۔ ایسے میں ۲ سے ۸ ڈگری سیلسیس کے درجہ حرارت کے درمیان ٹیکوں کو ان کی منزل تک پہنچانا سب سے مشکل ہوتا ہے۔ٹیکوں کو دور دراز علاقوں میں بھیجنے کے لئے اسپتال کا عملہ ایک کولر کو برف سے بھر دیتا ہے اور اس میں رکھ کر انہیں بھیجا جاتا ہے مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ برف کی وجہ سے ٹیکے جم جاتے ہیں یا برف پگھلنے کے نتیجے میں ان کو ۲ سے ۸ ڈگری درجہ حرارت پر رکھنا ممکن نہیں ہوتا ۔ اس طور پر یہ سفر اور تمام کوشش بے کار جاتی ہے۔ مگر گنیشن کی ایجاد اس اعتبار سے منفرد ہے کہ ویکس ویگن کے لئے نہ تو برف درکار ہوتی ہے اور نہ بجلی۔گنیشن کو اب اس کے لئے پیٹنٹ کا انتظار ہے ۔ گنیشن کی خواہش ہے کہ اس آلہ کو فیکٹری میں تیار کیا جائے۔اس سے نہ صرف معاشرے میں تبدیلی پیدا ہوگی بلکہ اس سے مقامی لوگوں کو روزگار بھی ملے گا۔

ویکس ویگن کی ایجاد کے لئے گنیشن نے بھی وہی کام انجام دیا جو نوجوان لڑکے اور لڑکیاں انجام دیتے ہیں یعنی چیزوں کے توڑ پھوڑ کا ۔وہ بتاتے ہیں ’’میں نے ایک ریفریجریٹر لیا ، اس کے پرزے الگ کئے اور جانا کہ آخر یہ کس طرح کام کرتا ہے۔ پھر میں نے اسے ایسی شکل دینے کی کوشش کی جس میں بجلی اور برف کی ضرورت نہ ہو مگر وہ ٹیکوں کو لے جانے کے دوران مناسب درجہ حرارت فراہم کر سکے۔ ‘‘

ایجاد کا یہ عمل کئی مراحل سے گزرا۔ آٹھ مہینے کی محنت کے بعد گنیشن کویہ احساس ہوا کہ اس مشین کو صرف بجلی سے نہیں بلکہ میکانکی طور پر بھی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ ویکس ویگن کے اوپر ایک ٹریلر منسلک کر دینے سے سائیکل سوارٹیکوں کے بہت زیادہ ٹھنڈہ ہونے یا بہت زیادہ گرم ہونے کے خطرے کے بغیراسے صرف پیڈل مارکر اپنی منزل تک بحفاظت پہنچا سکتے ہیں ۔ 

  ویکس ویگن کی کارکردگی کی آزمائش کے لئے گنیشن نے ٹریڈ مِل پر ۱۲ کیلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اسے چھ گھنٹے تک چلنے دیا۔اس عمل نے ریفریجریٹر کے کام کرنے کے لئے خاطر خواہ توانائی فراہم کردی۔ گنیشن نے پھر اسے تقریباََ پانچ گھنٹے کے لئے بند رکھا تاکہ جب کمپریسر کو بجلی نہیں مل رہی ہو ، اس وقت کے اعداد وشمار کو اکٹھاکیا جا سکے۔ اس عمل سے پتہ چلا کہ آزمائش کے لئے رکھے گئے جعلی ٹیکے تقریباََ چار گھنٹے تک بالکل صحیح درجہ حرارت پر رہے۔ 

اس ایجاد کے لئے گنیشن کو ۲۰۱۵ ء کے گوگل سائنس فیئر میں لیگو ایجوکیشن بلڈر ایوارڈ سے نوازا گیا۔اس کے تحت گنیشن نے لیگو(ایل ای جی او) کے صدر دفتر ڈنمارک کا سفر کیا اور اس کے چیف ایکزیکٹو افسر اور بہت سارے دیگر موجدوں سے ملاقات کی۔گنیشن کو وہاں چھ ماہ تک تربیت دی گئی ۔ اب وہ اس قابل ہو گئے ہیں کہ اپنے آلہ کو بہتر شکل دے سکیں۔ویکس ویگن  کو ابھی تیار کرنے میں ۱۰۰ ڈالر (تقریباََ ۶۸۰۰ روپے)کا خرچ آتا ہے لیکن گنیشن اب اسے مزید سستا اور استعمال کرنے میں مزید آسان بنانے کا عزم رکھتے ہیں ۔ 

سترہ برس کے گنیشن اب وہارٹن اسکول آف دَ یونیورسٹی آف پین سلوانیا میں پڑھائی کے لئے اور معاشرتی امور سے متعلق ایک صنعت ساز بننے کے لئے بالکل تیار ہیں ۔زندگی کے اس حصے میں ان کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ یہ کہ ویکس ویگن  عوام الناس کو دستیاب ہو اور بچوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں ۔ 

 میگَن مَیک ڈریو ہارٹ نیل کالج میں عمرانیات کی پروفیسر ہیں ۔ وہ کیلی فورنیا کے مونٹرے میں مقیم ہیں ۔ 

 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط