مرکز

صحت کی دیکھ ریکھ کے شعبے میں شراکت داری

انڈیا میں امریکی صحت اتاشی ڈاکٹر پریتا راجا رمن صحت سے متعلق اختراعات کے شعبے میں ہند۔ امریکی شراکت داری کے بارے میں بات کرتی ہیں تاکہ آج دنیا بھر کو صحت سے متعلق درپیش بعض بڑے چیلنجوں سے نمٹا جا سکے۔ 

 ہندمیں امریکی صحت اتاشی اور جنوبی ایشیا میں امریکی محکمۂ صحت اور انسانی خدمات (ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسیز)کی علاقائی نمائندہ کے بطور ڈاکٹر پریتا راجا رمن قومی انسٹی ٹیوٹ برائے صحت(نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ)،امراض پر قدغن اور روک تھام کے مراکز (سینٹرس فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن)اور امریکی خوراک اور دوا انتظامیہ(یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈ منسٹریشن)سمیت ملک میں ایچ ایچ ایس کی تمام ایجنسیوں کے درمیان رابطے کا کام انجام دیتی ہیں، سب کی نگرانی کرتی ہیں اور ان تمام کی نمائندگی بھی کرتی ہیں۔

ان کی تربیت سرطان کی ماہر وبائیات اور سالماتی ماہروبائیات کے طور پر ہوئی۔اور انہوں نے اس شعبے میں محقق کے طور پر کئی برسوں تک کام کیا۔ ان کا موجودہ کام بہت ساری چیزوں کا احاطہ کرتا ہے جس میں صحت اور بایو میڈیکل ریسرچ کے شعبے میں امریکہ کے لیے تمام علاقائی ذمہ داریوں کا نبھانا شامل ہے۔صحت سے متعلق پالیسی، غیر متعدی امراض، صحت سلامتی اور تحقیق و اختراع بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ وہ بتاتی ہیں ”اس میں بعض موضوعات کے بارے میں بہت ہی کم معلومات سے لے کر بہت سارے موضوعات کے بارے میں کم از کم کچھ معلومات کی طرف منتقلی کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ انڈیا کے ساتھ ایک ایسے وقت میں جب ترقی کی کافی گنجائش ہے، صحت اور سائنس کے درمیان تعلق قائم کرنے کے لیے کام کرنے کی ایک پُرجوش تبدیلی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ ایک ناقابل یقین مراعات اور ایک موقع بھی ہے۔“

پیش ہیں ڈاکٹر راجا رمن سے انٹرویو کے بعض اقتباسات۔

آپ نے اوریگَون میں واقع ریڈ کالج میں ادب اور تھیٹر میں میجر کرنے کے لیے داخلہ لیاتھا۔ پھر آپ نے یونیورسٹی آف واشنگٹن میں پہلے علم الحیات اور بعد میں ماحولیاتی صحت کی جانب منتقلی کا فیصلہ کیا۔ ایسا کیوں؟

علم الحیات ہمیشہ سے میری دلچسپی کا مضمون رہا ہے۔زندگی اور زندگی کی حمایت کرنے والی چیز یعنی ماحولیات بھی اس میں شامل ہے۔کالج میں داخلہ لینے سے پہلے میں خود کو سخت مضامین جیسے ریاضی، طبیعیات وغیرہ کے قابل نہیں سمجھتی تھی۔اعلیٰ بایو میڈیکل شعبوں کے لیے بھی میرا رویہ یہی تھا۔لیکن کالج کے کچھ فعال پروفیسروں نے میرے اس خیال کو یکسر تبدیل کردیا۔ مجھے علم ہوا کہ درست اتالیق کے ساتھ سائنس نہ صرف آسان ہے بلکہ یہ تفریح کا باعث بھی ہے۔ اس عرفان نے میرے مطالعے اور میری عملی زندگی کو بدل ڈالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ میں  لبرل آرٹس ایجوکیشن کی بھی پرستار ہوں جو اس قسم کی ڈرامائی منتقلی کی اجازت دیتا ہے اور بین مضامینی خیال کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ ادب اور ڈراما میں حاصل اپنی ابتدائی تربیت کو میں اپنے موجودہ کردار میں کافی مددگار پاتی ہوں۔ 

آپ کے خیال میں انڈیا میں فی الحال صحت کے شعبے سے متعلق سب سے بڑی تشویشات کیا  ہیں؟

اس خطے میں بہت سارے ملکوں کی طرح انڈیا کو بھی بیماریوں کے تعلق سے دوہرے بوجھ کا سامنا ہے۔ اس میں متعدی امراض کے علاوہ دل کے امراض، کینسر اور ذہنی صحت کے مسائل وغیرہ بھی شامل ہیں۔

ایچ ایچ ایس کے لیے اس خطے میں عالمی صحت سلامتی کا معاملہ ترجیحی معاملوں میں سے ہے۔یعنی متعدی امراض کی روک تھام، شناخت اور اس سے نمٹنے کا طریقہ کار۔اس کے علاوہ  بایو میڈیکل ریسرچ  اور اختراع، ڈیجیٹل ہیلتھ اور پوری دنیامیں محفوظ، مؤثر، سستی اور زندگی بچانے والی دواؤں تک رسائی کی توسیع کے لیے عملی طریقوں کی پہچان۔ 

وہ کون سے طریقے ہیں جن کے ذریعے امریکی ماہرین خاص طور سے امریکی محکمۂ صحت اور انسانی خدمات کے ماہرین ان چیلنجوں سے نمٹنے میں انڈیا کی مدد کرسکتے ہیں؟ 

ایچ ایچ ایس ایجنسیوں میں کام کرنے والے سائنسداں سمیت امریکی سائنسدانوں اور پالیسی ساز وں میں ہند کے ماہرین سے اشتراک کرنے کی ایک منفرد مہارت ہے۔ اور ہم ان شراکت داریوں سے سیکھ سکتے ہیں۔مالی اعانت، تکنیکی مدد، صلاحیت سازی اور پالیسی مصروفیت کے ذریعہ ہم ہندو امریکہ سمیت پوری دنیا کے دیگر ممالک میں صحت سے متعلق تکلیف دہ مسائل کے مشترکہ حل کی تلاش کے لیے کام کررہے ہیں۔

کیا آپ ہمیں کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے میں مدد کے لیے ہند۔امریکی تعاون کے بارے میں بتائیں گی؟ 

تحقیق و ترقی جیسے ٹیکہ، عالمی طور پر صحت کی حفاظت اورادویات اور آلات سے متعلق ضوابط کو مزید مستحکم کرنے سمیت صحت کے شعبے میں ہمارے تعاون کی طویل تاریخ نے کووِڈ۔۱۹سے جنگ میں مشن انڈیا کو ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔اس سال جنوری سے ہی امریکی سرکاری ایجنسیاں انڈیا میں تجربہ گاہوں کو مضبوطی فراہم کرنے میں مدد کے لیے،اس وبا کی روک تھام کے لیے فعال کردار نبھانے والے صحت کارکنوں کے ساتھ مہارت اور معلومات میں اضافے کی خاطر (جس میں ہوائی اڈے بھی شامل ہیں)،شفاخانوں میں اور طبقات کے درمیان، انفیکشن کو روکنے اور اس پر قابو پانے کے لیے رہنما ہدایات فروغ دینے اور اس کے اشتراک کے لیے اور مختلف شراکت داروں کے ساتھ رِسک کمیونیکیشن کے شعبے میں یہاں کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔ 

کووِڈ۔ ۱۹ کے خلاف جنگ میں تکنیکی اور مالی دونوں ہی قسم کی امداد فراہم کرنے کے لیے ہماری ٹیم ہمیشہ پُرعزم رہتی ہے۔اس کے علاوہ ٹیم نگرانی رکھنے اور رابطے کا پتہ لگانے کے عمل، تجربہ گاہوں کو بہتر بنانے،انفیکشن کی روک تھام اور اس کے سدّباب کے لیے رہنما خطوط بنانے اور تربیت دینے کے لیے بھی ہمیشہ تیارر ہتی ہے۔صحت سے متعلق خطروں کی معلومات یعنی رِ سک کمیونی کیشن اور ہنگامی آپریشن کے لیے اضافی صلاحیت کو فروغ دینے کے لیے بھی ہماری ٹیم پُر عزم ہے۔ اس کے علاوہ ہم لوگ  کینڈیڈیٹ تھیرا پیو ٹِکس (کسی مریض کا علاج اور اس کی دیکھ بھال اس لیے کرنا تاکہ اس کے مرض کا خاتمہ ہوجائے،اس کا درد کم ہوجائے اور اس کی چوٹ ٹھیک ہو جائے)کے فروغ، ٹیکہ اور کووِڈ۔۱۹ پھیلانے والے وائرس کے خلاف ٹیکہ تیار کرنے اور اس وائرس کو روکنے سے متعلق اقدامات کے لیے بھی اشتراک کر رہے ہیں۔ 

صحت سے متعلق اختراعات پر بعض ہند۔امریکی تعاون کی مثالوں کو کیا آپ مشترک کرنا چاہیں گی؟

بایومیڈیکل اختراع صحت کے تعلق سے ہند۔ امریکی تعاون کے متحرک شعبوں میں سے ایک ہے۔مثال کے طور پرامریکہ کے این آئی ایچ اور ہند کے محکمۂ بایو ٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی)کی قیادت والا  انڈو۔یو ایس ویکسین ایکشن پروگرام ایک مثالی دو طرفہ پہل قرار دیا جاتا ہے۔ اس کی کامیابی روٹا وَیک  کو اپنے ملک ہی میں تیار کیے جانے میں جھلکتی ہے۔روٹا وَیک ایک ایسا ٹیکہ ہے جو  روٹا وائرس کے انفیکشن سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ روٹاوائرس بچوں میں ہونے والی دست (اسہال)کی بیماری ہے جو ڈائریا سے متعلق اموات کے تقریباََ ایک تہائی حصے کے لیے ذمہ دار ہے۔اس ٹیکہ کے شروع ہونے سے امید کی جاتی ہے کہ انڈیا میں اور عالمی سطح پر دیگر ممالک میں بھی لاکھوں زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔یہ  وَیکسین ایکشن پروگرام ملیریا، ڈینگو اور ٹی بی جیسی بیماریوں کے ٹیکے کی تحقیق میں مدد کرتا رہا ہے۔

صحت سے متعلق فوری توجہ طلب ایک دوسرا معاملہ  اینٹی مائکرو بیئل ریزسٹینس(اے ایم آر)بھی ہے یعنی جراثیم میں ان دواؤں کے خلاف مزاحمت پیدا کرنے کی صلاحیت کا ہونا جو دوائیاں انہیں مارنے کے لیے بنائی گئی ہیں۔ عالمی سطح پر ایسے انفیکشن کے معاملے بڑھ رہے ہیں جنہوں نے دوا کے خلاف مزاحمت پیدا کر لی ہے۔ ایسے انفیکشن کا علاج زیادہ دشوار گزار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے معاملوں کے مریضوں کو اسپتال میں زیادہ وقت دینا پڑ رہا ہے۔ایسے انفیکشن کے علاج میں انفرادی اور اجتماعی خرچ بہت زیادہ ہوتا ہے اور ان معاملوں میں اکثر موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ ایچ ایچ ایس، سی ڈی ایس، این آئی ایچ، ایف ڈی اے اور یو ایس ایڈ سمیت بہت ساری امریکی ایجنسیاں اس مسئلے کے کئی زاویوں سے نکالے جانے والے حل کے لیے ہند کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔ان میں اسپتالوں میں انفکیشن کو کنڑول کرنے،  اینٹی مائکروبیئل ریزسٹینس انفیکشن کے لیے نگرانی نظام کی تشکیل، اے ایم آر سولیوشن  کے لیے کام کررہے سائنسدانوں اور اختراع سازوں کی مدد اور شدید ضرورت والے نئے  اینٹی مائکروبیئلس کے لیے مالی امداد شامل ہیں۔ 

امریکہ اور انڈیا کے سائنسداں فضائی آلودگی اور اس کے صحت پر ہونے والے اثرات سمیت بصارت، ایچ آئی وی ایڈس، ذیابیطس، دل کے امراض اور ماحولیاتی صحت سے متعلق مشترکہ تحقیق کا عمل بھی انجام دیتے ہیں۔تحقیقی صلاحیت کو مضبوط کرنے کے لیے، این آئی ایچ اور سی ڈی سی سمیت دیگر امریکی ایجنسیاں انڈیا کے سینکڑوں سائنسدانوں کی میزبانی کرتی ہیں اور ہر برس بہت سارے تربیتی ورک شاپ اور تبادلہ پروگرام کا اہتمام کرتی ہیں۔

صحت کی عالمی سفارت کاری کو مضبوط کرنے میں ٹیکنالوجی کیا اہم کردار ادا کر سکتی ہے؟

صحت کی عالمی سفار ت کاری میں ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کرتی ہے جو صحت کے شعبے میں حل طلب چیلنج کے لیے آخر کار مشترکہ حل کی وضاحت اور تلاش پر انحصار کرتی ہے۔انڈیا میں حال ہی میں  آیوشمان بھارت ہیلتھ کیئر پروگرام شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد پورے ملک میں ایک لاکھ ۵۰ ہزار  ہیلتھ اینڈ ویل نیس سینٹر س(ایچ ڈبلیو سی)کے ذریعہ توسیعی ابتدائی دیکھ بھال فراہم کرنا ہے۔اس پروگرام کے ذریعہ بیک وقت ملک کے ۵۰۰ ملین سے زیادہ باشندوں کو صحت بیمہ فراہم کیا جاتا ہے۔امریکہ کی بات کریں تو وہاں حکومت نے صحت کی دیکھ ریکھ کے شعبے میں صحت بیمہ میں اصلاح، دواؤں کی قیمت اور پیسے کی بنیاد پر دیکھ بھال کی نشاندہی اہم ترجیحات کے طور پر کی ہے۔ 

گرچہ ان پروگراموں کو بڑے پیمانے پر مختلف ترتیب کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے تاہم ہم لوگ اپنے شہریوں کو دوا، ٹیکہ، علمِ تشخیص اور اوزار سمیت سستے اور اعلیٰ معیار والے حل فراہم کرنے میں یکساں مقاصد کا اشتراک کرتے ہیں۔ان میں سے زیادہ ترکاتعلق بایو میڈیکل ریسرچ اور اختراع سے ہے۔ 

 کون سی طبی ٹیکنالوجی یا تحقیق کے کس شعبے کا مستقبل آپ کو سب سے زیادہ تابناک نظر آتا ہے؟

  این آئی ایچ کے ڈائرکٹر ڈاکٹرفرانسس ایس کولنس نے حال ہی میں بایو میڈیکل اختراع کے۱۰ برسوں میں خصوصی طور پر۱۰ امید افزامواقع کی شناخت کی ہے۔ان میں  سِنگل سیل انا لیسسشامل ہے جو  آٹو امّیون بیماریوں اور سرطان کے تعلق سے اہم بصیرت فراہم کر سکتا ہے۔اس کے علاوہ ان میں ریجینریٹو میڈیسن،کینسر امّیونو تھیراپی،نئے ٹیکوں کی تیاری، بیماریوں کے علاج کے لیے جین کی درستگی،درست دوائی اور دماغ کی نقشہ کشی شامل ہیں۔

  امریکہ اور ہندکی حکومتوں کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے میں بعض اہم تشویشات کیا ہیں؟

بایو میڈیکل اختراع کے لیے جہاں مواقع بہت زیادہ ہیں وہیں بیک وقت ان اختراعات کی زیادہ سے زیادہ توسیع کویقینی بنانے کے لیے ایک موزوں ماحول تشکیل دینابھی کافی اہمیت کی حامل چیز ہے۔تحقیق کی خاطر خواہ مالی اعانت اور مسلسل مدد کو یقینی بنا کر اسے انجام دیا جاسکتاہے۔اس کے ساتھ ہی بڑے اعداد و شمار اور ڈیجیٹل ہیلتھ کا استعمال(ساتھ میں بنیادی ڈھانچہ اورایسی پالیسیوں پرعمل جو ڈیٹا کے اشتراک میں مدد کرتی ہوں)،مؤثر انضباطی منظوری اور سائنسی اور صحت کے شعبے سے متعلق ہنر مندافرادی قوت کوتیارکرنے میں سرمایہ کاری کویقینی بناکرکیا جا سکتا ہے۔ 

پڑھائی کرنے والے یا صحت اور طبی ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والے ہمارے قارئین کے لیے کیا آپ کوئی پیغام دینا چاہیں گی؟ 

اب جب کہ ہم سائنس اور ٹیکنالوجی میں عالمی بایو میڈیکل اختراع کے ایک نئے دَور میں جیسے جیسے آگے بڑھ رہے ہیں، امریکہ زندگیوں کو بچانے کے ہمارے مشترکہ ایجنڈاکی خاطر معلومات اور وسائل کا انتظام کرنے اور پوری دنیا میں لوگوں کی صحت اور خوشحالی کو وسعت دینے کے لیے پُر عزم ہے۔ ہمیں امید ہے کہ آپ لوگ بھی دریافت کے اس دلچسپ سفر میں ہمارے ساتھ ہوں گے۔   

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط