مرکز
1 2 3

درست کرنا دل کی دھڑکن کا

نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ ڈائریکٹر س کے نئے اختراع کار کے اعزاز سے سرفراز ڈاکٹر وسنت ویدانتم دل کی دھڑکن سے متعلق بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے نئے تجدیدی علاج کی سائنسی بنیاد ڈالنے کا کام کررہے ہیں۔ 

دل کی دھڑکن یعنی دل کے قدرتی پیس میکر کی ناکامی ایک ایسا طبی مسئلہ ہے جس کے علاج میں کوئی تاخیر نہیں کی جاسکتی ۔ اسے کسی موجودہ علاج (تکنیک کے استعمال )کے ذریعہ درست بھی نہیں کیا جا سکتا۔تاہم اس کے علاج سے متعلق ایک امیدافزا طبی تحقیق شروع ہو چکی ہے جو جاری بھی ہے۔ 

سان فرانسسکو میں واقع یونیورسٹی آف کیلیفورنیا (یو سی ایس ایف )میں شعبۂ ادویات کے ایسو سی ایٹ پروفیسر اور ماہرقلب ڈاکٹر وسنت ویدانتم دل کی دھڑکن سے متعلق بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے نئے تجدیدی علاج پر تحقیق کا کام انجام دے رہے ہیں۔نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ ڈائریکٹر س نیو اننوویٹڑ ایوارڈ 2019کے تحت ملنے والے عطیہ سے یو سی ایس ایف میں ڈاکٹر وسنت ویدانتم کی تجربہ گاہ ان بنیادی طریق عمل پر توجہ دے رہی ہے جودل کو اپنی دھڑکن پیدا کرنے اور اسے برقرار رکھنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اور اس طرح ان کی تجربہ گاہ انسان کے دل کے دھڑکنے کے اس لازمی عمل کی تشکیل نو کے لیے سائنسی بنیاد پیدا کررہی ہے۔ 

ایک معالج اور سائنسداں کا کریئر 

ڈاکٹر ویدانتم کی دلچسپی سائنس میں بچپن سے ہی رہی ہے۔ انہوں نے کنیکٹی کٹ میں واقع ییل یونیورسٹی سے طبیعیات میں بیچلر ڈگری اور بایو کیمسٹری میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ پھرانہوں نے ابتدائی طور پر ایک تحقیقی سائنسداں کی حیثیت سے اپنے کریئر کا آغاز کیا۔بعد میں وہ میڈیسین میں انسانی تعامل اوراس بے وسیلگی میں دلچسپی لینے لگے جس کی بدولت معالج پریشانیوں کو دورکرتے ہیں اور آرام پہنچانے کاعمل انجام دیتے ہیں۔ لہٰذا ان دونوں شعبوں میں سے کسی ایک کے انتخاب کی بجائے ڈاکٹر ویدانتم نے معالج اور سائنسداں کے کرئیر کا انتخاب کیا جو انہیں مریضوں کی دیکھ ریکھ کے ساتھ بیماریوں پر توجہ دینے والے طبی محقق کے طور پر خدمت کا موقع دیتا ہے ۔انہیں اپنی عملی زندگی میں اس انتخاب کے لیے نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھس میڈیکل سائنٹسٹ ٹریننگ پروگرام سے مدد ملی ۔اس کے علاوہ انہوں نے مساچیوسٹس میں واقع ہارورڈ یونیورسٹی سے نیورو بایو لوجی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی لی۔

اپنے پورے تحقیقی کریئر کے دوران ڈاکٹر ویدانتم ان طریق عمل سے متاثر رہے ہیں جوجسم کے مختلف خلیوں کو،خاص طورپر دماغ اور دل کے خلیوں کو برقی اشارے پیدا کرنے ، رابطہ قائم کرنے اورانہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔وہ کہتے ہیں ” دل کی دھڑکن کی ہم آہنگی کے ساتھ انسانی قلب نے ایک اعلیٰ قسم کا وائرنگ سسٹم تیار کر لیا ہے جو اس پر قابو رکھتا ہے کہ کس طرح دل میں دھڑکن پیدا ہوتی ہے اور پورے عضو میں پھیل جاتی ہے۔ دل کے قدرتی پیس میکر کی ناکامی قدرتی طور پر ایک برقی مسئلہ ہے جس میں قلب میں دھڑکن پیدا کرنے والا حصہ مناسب وقفے سے دل کے باقی حصوں میں برقی اشارے بھیجنے میں ناکام رہتا ہے اور یوں دل دھڑکنے کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔“

امیریکن کالج آف کارڈیالوجی کے مطابق امریکہ میں دل کی دھڑکن کی سست روی والے مریضوں میں ہر سال تقریباََ 2 لاکھ پیس میکر لگائے جاتے ہیں۔ڈاکٹر ویدانتم بتاتے ہیں کہ پیس میکر اور ڈی فائبریلیٹر آلات کے لیے نئی تکنیک کو فروغ دینے میں نمایاں پیش رفت ہونے کے باوجود دل کی دھڑکن کا پتہ لگانے اور الیکٹروڈ کے ذریعہ اس میں تحرک پیدا کرنے کے لیے ہمیں بیٹری سے چلنے والے ایک برقی آلے کی ضرورت پڑے گی۔

برقی پیس میکر کو جہاں اکثر زندگی بچانے والے علاج کے طور پر دیکھا جاتا ہے مگر اس کے استعمال کی اپنی پیچیدگیاں بھی ہیں۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس کا ہارڈ ویئر مریضوں کے جسم کے اندر زندگی بھر کے لیے باقی رہ جاتا ہے۔ڈاکٹر ویدانتم کہتے ہیں ” مجھ سے مریض اکثر یہ پوچھتے ہیں کہ کیا ایسا کوئی علاج نہیںہے جس کی بدولت دل کا قدرتی پیس میکر کسی مصنوعی آلے کو نصب کیے بغیر کام کرنا شروع کر دے۔ ایسے مریضوں کو بتانا پڑتا ہے کہ بدقسمتی سے ہم لوگ حیاتیاتِ انسانی کو اب تک اتنی اچھی طرح سمجھ نہیں پائے ہیں کہ اس طرح کا کوئی علاج وضع کر سکیں۔“

اس نئی ضرورت سے ترغیب پاکر ڈاکٹر ویدانتم کی نیو اننویٹر ایوارڈ تحقیق نے دل کی سست اور بے ضابطہ دھڑکن اور دل کے دورے کے عارضے میں مبتلا مریضوں کے دل کی دھڑکنوں کو بحال کرنے میں تجدیدی علاج کے استعمال کے حتمی مقصد کے ساتھ زیادہ توجہ دینے والے ایک حیاتیاتی طریقے پر کام کرنے کواپنا ہدف بنا لیا ہے۔

علاج کا ایک نیا طریقہ 

ڈاکٹر ویدانتم بتاتے ہیں کہ دل کی دھڑکن اس وقت سست ہو جاتی ہے جب پیس میکر خلیات نامی دل کے خصوصی پٹھوں کے خلیات (جنھیں پیس میکر سیل کہتے ہیں)جو سینو ایٹریل نوڈ کہے جانے والے پیس میکنگ خطے میں واقع ہوتے ہیں ، دل کے باقی حصوں کو فعال بنانے کے لیے خاطر خواہ برق پیداکرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔وہ کہتے ہیں”ہمیں امید ہے کہ ہم لوگ بیمارسینو ایٹریل نوڈ ٹشوکے عمل کو بحال کرنے کے لیے سالموں کے درمیان تعامل کو تحریک دینے والی حیاتیاتی راہگذرکو پھر سے فعال بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے جو دل کے قدرتی پیس میکر کے جنینی نشو و نما کو قابو میں رکھتی ہے۔اس سے سینو ایٹریل نوڈ کے بیمارخلیوں کی کارکردگی بحال ہو سکے گی اور پیس میکر لگانے کی ضرورت بھی باقی نہیں رہ جائے گی۔“ 

ابھی حال تک پیس میکرخلیات کے جنینی ارتقااوران کی تشکیل کو قابو میں رکھنے والے سالماتی تعامل کے بارے میں بہت زیادہ معلومات نہیں تھیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر دل میں ان خلیوںکی تعداد بہت کم ہوتی ہے یعنی دل کے کروڑوں خلیوں میں سے صرف کچھ ہزار ۔اس کی وجہ سے انہیں تلاش کرنے اور ان کی خصوصیات کو معلوم کرنے میںدشواری ہوتی ہے۔اس طرح اس شعبے میں ان کے سالماتی نظام کے تفصیلی معائنے میں ایک بڑی رکاوٹ پیس میکر خلیوںکو دل کے باقی حصوں کے خلیوں سے الگ کرنے کے طریقوں کو فروغ دینے کی تھی ۔ڈاکٹر ویدانتم کہتے ہیں” آپ مزیدمطالعے کے لیے اگر دل سے سینو ایٹریل نوڈ کو مکمل طور پر نکال بھی دیتے ہیں تو بھی آپ کو پیس میکر خلیوں کا ایک بہت ہی معمولی سا حصہ ہی مل پائے گا جو ایک سے دو فی صد ہوگا۔“

تکنیک کی جدید پیش رفت نے ڈاکٹر ویدانتم کی تجربہ گاہ کو اس دشواری سے نکلنے کی سہولت فراہم کر دی ہے جس سے پیس میکر خلیوں کی شناخت اور اسے الگ کرنے میں آسانیاں ہوئی ہیں۔وہ کہتے ہیں”ہماری تجربہ گاہ نے ماڈل سسٹم کا استعمال کرتے ہوئے ان نئے طریقوں اور آلات کو فروغ دیا ہے جو ہمیں ایسے اشارے اور تعامل سے کے تعلق سے معلومات حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرتے ہیں جو دل کی نشو و نما کے مکمل عمل کے دوران پیس میکر خلیات سے متعلق معلومات، اس کے فروغ اور اس کے عمل کی راہنمائی میں فعال رہتے ہیں۔خاص طورپر ہم ان خلیوں کی ان کے سالماتی نام کے ساتھ نشاندہی کے قابل ہیں جو ہمیں ان کو دیکھنے اور جینیاتی طور پر ان میں تبدیلی کرنے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔“

اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کی تحقیقاتی ٹیم اس بات کی جانچ کے لیے تیار ہے کہ کیا کسی نوجوان شخص کے بیماردل میں پیس میکر خلیوں کے فروغ کے لیے ضروری جین اور مرکبات کی فراہمی ان ارتقائی راہگذر وں کو پھر سے فعال کر سکتی ہے جو جنین میں پیس میکر خلیوں کی تشکیل کرتے ہیں۔ڈاکٹر ویدانتم کہتے ہیں ”نظریاتی طور پر اس سے مصنوعی پیس میکر یا دیگر علاج کی ضرورت کے بغیر ہی مستقل طور پر دل کے دھڑکنے کی صلاحیت کو پھر سے فعال کرنے کی سہولت دستیاب ہو سکتی ہے۔“

 

ہلیری ہوپیک کیلیفورنیا کے اورِنڈا میں مقیم ایک آزاد پیشہ مصنف ،اخبار کی سابق ناشر اور نامہ نگار ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط