مرکز

کووِڈ 19 سے نمٹنے کی صورتیں

فل برائٹ - نہرو فیلو ڈاکٹر آشیش گوئل بتاتے ہیں کہ کووِڈ۔19جیسی وباؤں کے دوران ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر جیسے مخصوص حالات میں مبتلا لوگ کیوں کر زیادہ بڑے خطرات سے دو چار ہوتے ہیں اور خود کو بچانے کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔

کووِڈ۔19ہمارے عہد کے سب سے بڑے عالمی صحت بحرانوں میں سے ایک ہے۔ پوری دنیا کے ممالک اس وائرس کے پھیلاؤپر لگام کسنے کے لیے مریضوں کی جانچ، ان کے علاج، بیماری کے ذرائع کی تفہیم، سفر کو محدود کرنے، شہریوں کو قرنطینہ میں رکھنے اور بڑے اجتماعات کو منسوخ کرنے جیسی کئی طرح کی تدابیر اختیار کر رہے ہیں۔مگر ان سب کے باوجود معاشرے کے بعض طبقات ایسے ہوتے ہیں جن کو اس وبا کی گرفت میں آ جانے کا خدشہ خاص کر زیادہ ہوتا ہے۔ ان میں ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس یا امراض قلب کے مریض شامل ہیں۔  

اس طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ کووِڈ۔19صحت کے شعبے میں کلیدی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔نئی دہلی کے گرو تیغ بہاد ر اسپتال اور یونیورسٹی کالج آف میڈیکل سائنسیز کے  کلینکل ایسو سی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر آشیش گوئل کو وِ ڈ۔19 کے خلاف ملک کی جنگ میں پیش پیش رہنے والے ماہرین میں شامل ہیں۔ڈاکٹر گوئل نے 2017ء میں فل برائٹ۔نہرو فیلو کی حیثیت سے امریکی ریاست میری لینڈ کی جانس ہاپکِنس بلوم برگ اسکول آف پبلک ہیلتھ سے صحت عامہ میں ماسٹر ڈگری لی۔ پیش ہیں ان سے ایک انٹر ویو کے اقتباسات:

 

کیا آپ اپنے تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر کے بارے میں اختصار کے ساتھ کچھ بتا سکتے ہیں؟ 

میں نے2003 ء میں مہاراشٹر کے سیوا گرام میں واقع ملک کے پہلے دیہی میڈیکل کالج سے میڈیسن میں ماسٹرس ڈگری لی۔ اس کے بعد نئی دہلی میں واقع آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیز (ایمس) سے  سینئر ریزیڈینسی پروگرام مکمل کیا۔ پھر 2009ء میں مدرس کی حیثیت سے دہلی یونیورسٹی سے ملحق ادارے یونیورسٹی کالج آف میڈیکل سائنسیزسے وابستہ ہوا۔ اس ادارے کی وابستگی گرو تیغ بہادر اسپتال سے بھی ہے۔اس کے بعد میں نے 2017ء میں فل برائٹ۔ نہرو فیلو شپ پرجونس ہوپکنس بلوم برگ اسکول آف پبلک ہیلتھ سے صحت عامہ میں ماسٹرس ڈگری لی۔گذشتہ برسوں میں میں نے کئی میڈیکل اسکولوں میں کام کیا اور  جیرائٹرک (میڈیکل سائنس کی وہ شاخ جس میں بڑھاپے اور اس سے متعلق بیماریوں پر تو جہ دی جاتی ہے)، ہنگامی حالات میں دی جانے والی ادویات، اخلاقیات، وبائی امراض اور بایو اسٹیٹِسٹِکس (حیاتیات کی وہ شاخ جو اجسام کی بناوٹ کے لحاظ سے اعمال یا وظائف کے تعلقات پر بحث کرے)میں تربیت لی۔ 

 

صحت سے متعلق ایسے کیا مخصوص حالات ہیں جن میں لوگوں کو کووِڈ۔19 کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے؟

ایسا مشاہدے میں آیا ہے کہ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر،امراضِ قلب،سانس لینے میں دشواری کی پرانی شکایت والے مریض اور کینسر اور گردے کی پرانی بیماری میں مبتلا عمر دراز حضرات کووِڈ۔19 کے انفیکشن کا شکار ہونے کے بعد زیادہ بیمار ہو جا سکتے ہیں اور انہیں اسپتال لے جانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ 

 

کن صورتوں میں مذکورہ افراد اس وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں؟  

زیادہ تکنیکی تفصیل میں جائے بغیر میں اختصار کے ساتھ یہ کہوں گا کہ یہ وائرس رینِن اَینجیو ٹینسِن اَیلڈو اسٹیرون سسٹم (آر اے اے ایس)پر اثر انداز ہوتا ہے اور انسانی خلیوں میں داخل ہونے کے لیے  اَینجیو ٹینسِن کنورٹِنگ اِنزائم ریسیپٹرس پر انحصار کرتا ہے۔ خیال رہے کہ آر اے اے ایس جسم کا ایک ہارمون سسٹم ہے جو جسم میں خون کے دباؤ کو برقرار رکھنے کے ساتھ جسم میں رقیق مادّوں کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے لازمی ہے۔ اس کا میکانکی تفصیلی تجزیہ ابھی باقی ہے۔

جہاں تک ہائی بلڈ پریشر مخالف دوا کے استعمال کا تعلق ہے تو اس پر غور و خوض ابھی بھی جاری ہے اور ایسا کوئی ثبوت نہیں جس کی روشنی میں اے سی ای اِنہیبِٹر(ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو دی جانے والی ادویات)کے استعمال کے سلسلے میں راہنمائی ہو سکے۔ 

اس کے علاوہ کووِڈ۔19 کا انفیکشن  گلوکوز میٹابولِزم (انسانی عضو کو معمول کے مطابق کام کرنے کے لیے توانائی کی ضرورت پڑتی ہے۔ کئی خلیات توانائی کے لیے پروٹین کا بھی استعمال کر سکتے ہیں مگرکئی دوسرے اعضاجیسے کہ انسانی دماغ گلوکوز کا بھی استعمال کر سکتا ہے)پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اور ایسے مریض جو پہلے سے ذیابیطس کا شکار ہیں ان کا علاج کرنے میں اس بات کو بہت زیادہ مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ ان کے خون میں چینی کی مقدار حد سے تجاوز نہ کرے۔ 

 

مذکورہ مریض صحت کو درپیش خطرا ت کو کم سے کم کرنے کے لیے کیا احتیاطی تدابیر اختیار کر سکتے ہیں؟ 

ہاتھ دھونے کے علاوہ اچھے اصولِ صحت کے ساتھ جسمانی نہ سہی سماجی فاصلہ قائم کرنا ایسی اہم چیزیں ہیں جن سے کسی فرد کو انفیکشن کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ لوگوں سے ملنے جلنے کے دوران ہر وقت ماسک کا استعمال ایسی چیز ہے جس پر بہت زور دیے جانے کی ضرورت ہے۔ گرچہ ذرائع ابلاغ میں این 95 ماسک کے استعمال پر بہت زور دیا جاتا ہے مگر کسی بھی طرح کے ماسک کا استعمال ماسک کے بالکل استعمال نہ کرنے سے بہتر ہے۔ جہاں تک ممکن ہو گھر میں رہنا، باہر جس قدرہو کم جانا اور اسی وقت جانا جب ضروری ہو.....یہ وہ چیزیں ہیں جن سے اس وبا کو پھیلنے اور صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو منہدم ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔ 

 

بعض رپورٹ میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کی جانب سے  اے سی ای اِنہیبٹر کے استعمال سے کورونا سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، اس میں کتنی صداقت ہے؟ 

اس سلسلے میں کوئی حتمی فیصلہ اب تک نہیں آیا ہے۔خلیہ جاتی سطح پر کووِڈ۔19 کے پَیتھو جنیسِس(کسی مرض کے پروان چڑھنے کا طریقہ)میں اے سی ای ریسیپٹر کے کردار کا مطالعہ تو کیا گیا ہے مگر اس میں دونوں جانب سے دلیلیں سامنے آئی ہیں۔ 

فی الحال اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو  اے آر بی  یا اے سی ای اِنہیبٹرس کا استعمال بند کردینا چاہئے۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان دواؤں کے تحفظاتی پہلو ان کے ممکنہ نقصانات کے خدشات سے زیادہ وزن دار ہیں۔ اصل میں میں خود بھی اولمیسرٹان کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہوں جو کہ خود ایک اے آر بی ہے۔  

 

ہم کس قدر جلد کووِڈ۔19کا علاج تلاش کر سکتے ہیں یا اس کا کوئی ٹیکہ پانے کی امید کر سکتے ہیں؟ 

ٹیکہ کی ایجاد ایک سست رفتار عمل ہے۔اس پر بہت باریکی کے ساتھ منصوبہ بنا کر عمل کیا جا تا ہے۔ ان دنوں کسی ممکنہ ٹیکہ کی ایجاد پر کافی توجہ دی جا رہی ہے۔سوشل میڈیا پر ہر دن نئے ٹیکے کے ایجاد سے متعلق خبریں نظر آتی ہیں۔  

لیکن اس وبا کی موجودہ لہر کا مقابلہ کرنے میں مدد کرنے کے لیے کسی ٹیکہ کی امید غیر عملی ہے۔ کسی ٹیکہ کے عملی طور پر منظر عام پر آنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟ تو اس کے لیے 2009ء میں سامنے آئی ایچ وَن این وَن  وبا کا موازنہ کریں۔ اس وبا کے پھوٹنے کے بعد ٹیکہ کی ایجاد کا عمل فوراََ تیز کر دیا گیا جس کے نتیجے میں معمول کے مطابق چھوٹا سا سہ بنیادی موسمی ٹیکہ کی جگہ ایک طرفہ وبائی ٹیکہ ایجاد ہو گیا۔ 

گرچہ یہ وائرس کی نئی شکل کو نشانہ بنانے کے لیے حکمت عملی میں کی گئی ایک معمولی سی تبدیلی تھی مگر نیا ٹیکہ سامنے آنے اور اس کے استعمال کے لائق ہونے میں 6 ماہ کا وقت لگ گیا۔ 

گذشتہ دہائی میں ٹیکہ کی ایجاد کے لیے جو پیش قدمی ہوئی ہے اس سے قطع نظر، کووِڈ۔19 کا، جو کہ انسانوں میں پھیلنے والا بالکل نیا وائرس ہے، توڑ کرنے کے لیے ایک نئے ٹیکے کے منظر عام پر آنے کی پہلی شرط یہ ہے کہ پہلے اس کا تجربہ جانوروں پر کیا جائے۔ اس کے بعد ہی اسے انسانوں پر تجربے کے لیے دستیاب کروایا جا سکے گا۔ 

 

انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو مستحکم کرنے میں آپ کے خیال میں کون سی چیزیں مدد گار ثابت ہو سکتی ہیں؟ 

حالیہ اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ کورونا وائرس جسم کے مدافعتی نظام کو یقینی بنانے والے خون کے سفید خلیوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے جو مختلف طریقے استعمال کیے جار ہے ہیں ان میں شفا یاب ہوتے ہوئے مریضوں سے لی گئی  اینٹی باڈیز (ضدِ جراثیم)کے ساتھ امیونوموڈیولیٹری تھیراپی(جسم کے مدافعتی نظام سے ملنے والے مدافعتی سگنل کے اعتبارسے کیمیاوی عنصر کا استعمال کرکے مرض کے علاج کا طریقہ)کے علاوہ روایتی  کیمو تھیراپی(سرطان کے علاج کا مستعمل طبی طریقہ) کا کردار زیر مطالعہ ہے۔ 

بعض رپورٹوں میں وٹامن ڈی کے رول پر زور دیا جارہا ہے اور متبادل اور روایتی طریقہ ہائے علاج میں کئی چیزوں کی تجویز رکھی گئی ہے مگر ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے کہ ان میں سے کوئی بھی طریقہئ علاج کا کرونا وائرس کے خلاف انسانی جسم کے رد عمل پر کوئی قطعی اثرپڑے گا۔ کورونا کے انفیکشن کی وجہ سے انسان کی سونگھنے اور ذائقہ کی حس متاثر ہونے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کورونا انفیکشن کے عام معاملوں میں بھی انسانی بھوک کم ہوجاتی ہے اور انسان کی خوراک متاثر ہوتی ہے۔ 

ایسے معاملے میں صرف ایک مشورہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو متوازن اور مقوی غذا کا استعمال کرنا چاہئے، مناسب نیند لینی چاہئے، کشیدگی کو کم کرنے پر توجہ دینی چاہئے، باقاعدگی کے ساتھ کسرت کرنی چاہئے اور معمول کی زندگی گزارنی چاہئے۔انفیکشن سے بچنے کے لیے معاشرتی (بہ معنی جسمانی) فاصلے کا خیال تورکھنا چاہئے مگر ذہنی توازن برقرار رکھنے کے لیے سماجی ربط ضبط اور رفاقت کو بھی برقرار رکھنا چاہئے۔ 

 

کیا آپ ہمیں کووِڈ۔19 کے مزید پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے ہند اور امریکہ کے درمیان ہونے والے تعاون کے بارے میں کچھ بتا سکتے ہیں؟ 

اس سلسلے میں دونوں ملک اعلیٰ د رجے پر تعاون کر رہے ہیں۔ دونوں کے مابین اعلیٰ ترین انتظامی سطحوں پر باہمی اشتراک ہو رہا ہے۔ اور یہ بات خوش آئند ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان مشکل کی اس گھڑی میں بھی گہری دوستی ہے۔ 

 ان دونوں ملکوں یا کسی بھی ملک کے لیے جسمانی تحفظ کے آلات، عملہ جات اور ٹیکنالوجی جیسے کہ ذاتی تحفظاتی آلات، دوائیں،وینٹیلیٹر وغیرہ کی برآمدگی دشوار ہو سکتی ہے کیوں کہ ہر ملک اس وبا کے پیش نظر بر سر پیکار ہے اور صحت کی دیکھ بھال کا نظام خاطر خواہ نہیں ہے۔ 

تاہم میرے خیال میں جو ایک کام ہمیں فوراََ کیا جانا چاہئے وہ یہ ہے کہ حقیقی عداد و شمار کا شفافیت کے ساتھ اشتراک کریں۔ ایسے کئی محققین اور ماہرین ہیں جو کسی ڈاٹا سٹ کی چھان پھٹک کر سکیں اور مختلف صورتوں میں ان کے رنگا رنگ پہلوؤں کا اکتشاف بھی کرسکیں۔

اگر مریضوں کی صحت کے بارے میں کلینکل ڈیٹا بیس(مریضوں سے متعلق ایسے مشاہداتی اعداد وشمار جنہیں بعض مخصوص ضرورتوں کے تحت جمع کیا گیا ہو) اور آبادیاتی تفصیلات کے حقیقی اعداد وشمار موجود ہوں،انٹرنیٹ پر موجود اور ہر جگہ آسانی کے ساتھ دستیاب ہوں اور جسے شریک ممالک نے برقرار رکھا ہو تو ہم اسے اپنے تخلیق کردوہ سب سے زیادہ گراں قدر وسائل سمجھیں گے۔ وبائی امراض کی روک تھام کے علم اور حیاتیاتی شمار یات میں پوری دنیا میں تربیت یافتہ کئی آزاد ماہرین، جو اس وبا کی روک تھام میں براہ راست شریک نہیں، ان اعداد و شمار کا تجزیہ کر کے اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ وبا دوسرے ملکوں میں کیسے پھیل یا سمٹ رہی ہے۔ اس سے اس وبا کی روک تھام میں پیچھے رہ جانے والے ممالک کو رہنمائی ملے گی۔اس کے علاوہ پوری دنیا میں کئی ہزار ذہین لوگوں کے لیے بھی دروازے کھلیں گے۔

یہ صحت کی دیکھ بھال کے ایسے نظاموں کے لیے آسان ہے جہاں برقیاتی طور پر طبی ریکارڈ رکھے جاتے ہیں لیکن میرے جیسے وبا کے کلینکل ماہرین کے لیے یہ سمجھنا دشوار ہوگا کہ مقامی سطح پر کیا ہو رہا ہے، حالاں کہ مجھے اس کی تربیت بھی ملی ہے اور اس کام میں مجھے مہارت بھی ہے۔ اگر اس سمت میں امریکہ کی قیادت میں کوئی بروقت بین الاقوامی تعاون خیز قدم اٹھے تو موجودہ عالمی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے اس سے ضروری تحریک مل سکے گی ۔     

 


References:

Amanat, F. and Krammer, F. (2020). SARS-CoV-2 Vaccines: Status Report. Immunity.
Cheng, H., Wang, Y. and Wang, G. Q. (2020). Organ-protective effect of angiotensin-converting enzyme 2 and its effect on the prognosis of COVID-19. J Med Virol.
Danser, A. H. J., Epstein, M. and Batlle, D. (2020). Renin-Angiotensin System Blockers and the COVID-19 Pandemic: At Present There Is No Evidence to Abandon Renin-Angiotensin System Blockers. Hypertension, Hypertensionaha12015082.
Emami, A., Javanmardi, F., Pirbonyeh, N. and Akbari, A. (2020). Prevalence of Underlying Diseases in Hospitalized Patients with COVID-19: a Systematic Review and Meta-Analysis. Arch Acad Emerg Med, 8, e35.
Jawhara, S. (2020). Could Intravenous Immunoglobulin Collected from Recovered Coronavirus Patients Protect against COVID-19 and Strengthen the Immune System of New Patients? Int J Mol Sci, 21.
Kim, S. W. and Su, K. P. (2020). Using psychoneuroimmunity against COVID-19. Brain Behav Immun.
Lechien, J. R., et al. (2020). Olfactory and gustatory dysfunctions as a clinical presentation of mild-to-moderate forms of the coronavirus disease (COVID-19): a multicenter European study. Eur Arch Otorhinolaryngol.
Liu, Y., et al. (2020). Clinical and biochemical indexes from 2019-nCoV infected patients linked to viral loads and lung injury. Sci China Life Sci, 63, 364-374.
McCartney, D. M. and Byrne, D. G. (2020). Optimisation of Vitamin D Status for Enhanced Immuno-protection Against Covid-19. Ir Med J, 113, 58.
Meng, J., et al. (2020). Renin-angiotensin system inhibitors improve the clinical outcomes of COVID-19 patients with hypertension. Emerg Microbes Infect, 9, 757-760.
Qin, C., et al. (2020). Dysregulation of immune response in patients with COVID-19 in Wuhan, China. Clin Infect Dis.
Russell, B., et al. (2020). Associations between immune-suppressive and stimulating drugs and novel COVID-19-a systematic review of current evidence. Ecancermedicalscience, 14, 1022.
Sparks, M. A., et al. (2020). Sound Science before Quick Judgement Regarding RAS Blockade in COVID-19. Clin J Am Soc Nephrol.
Talreja, H., et al. (2020). A consensus statement on the use of angiotensin receptor blockers and angiotensin converting enzyme inhibitors in relation to COVID-19 (coronavirus disease 2019). N Z Med J, 133, 85-87.
Zhou, F., et al. (2020a). Clinical course and risk factors for mortality of adult inpatients with COVID-19 in Wuhan, China: a retrospective cohort study. Lancet, 395, 1054-1062.
Zhou, Z. G., Yue, D. S., Mu, C. L. and Zhang, L. (2020b). Mask is the possible key for self-isolation in COVID-19 pandemic. J Med Virol.

تبصرہ کرنے کے ضوابط