مرکز

وبا کے دوران تناؤ سے نمٹنا

کووِڈ۔19 جیسے صحت عامہ کے بحران کے دوران بے چینی اور گھبراہٹ سے نمٹنے کے گُر۔

صحت عامہ سے متعلق بحرانی کیفیات انسانوں کو بہت زیادہ اذیت سے دوچار کر سکتی ہیں کیوں کہ اس عالم میں خوف، تشویش اور غیر یقینی صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ کئی لوگوں کے لیے ایسے بحران ان چیزوں کو چھیننے کا باعث بنتے ہیں جو زندگی کو مسرت، معنی اور مقصد عطا کرتے ہیں۔ ایسی صورت حال خاص کر ان لوگوں کے لیے دشوار گزار ہوتی ہے جو بے چینی، ذہنی دباؤ اور دوسری ذہنی بیماریوں سے نبرد آزما ہورہے ہوتے ہیں۔

اسپَین نے نیویدا چندرا سے بات کی اور جاننا چاہا کہ ایسی پریشان کن حالات میں لوگ کس طرح آرام پا سکتے ہیں اور صحت عامہ کے کسی بحران کے دوران کس طرح خود کو یہ احساس دلا سکتے ہیں کہ صورت حال ان کے قابو میں ہے۔ چندرا فل برائٹ ڈوکٹورل اسکالر (18-2017)ہیں جن کے پاس دہلی یونیورسٹی سے نفسیات میں ماسٹر ڈگری بھی ہے۔ سردست چندرا آئی آئی ٹی دہلی میں ریسرچ اسکالر ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ذہنی بیماریوں سے متاثرہ افراد کے لیے معلوماتی اور تجرباتی قسم کے مضامین شائع کرنے والی ویب سائٹ  دی شرنکنگ کاؤچ ڈاٹ کام کی بانی مدیر بھی ہیں۔ پیش ہیں ان سے لیے گئے انٹرویو کے اقتباسات۔

 

صحت عامہ سے متعلق بحرانی کیفیات کس طرح لوگوں کی ذہنی اذیت کا باعث بنتی ہیں؟ 

صحت عامہ کا بحران بڑے پیمانے پر خوف پیدا کر سکتا ہے۔ ڈر کی کیفیات خود بخود سنگین ہو سکتی ہیں۔ انسانوں میں اپنی صحت اور زندگی کے علاوہ اپنے عزیز و اقارب کی صحت کی جانب سے بھی تشویش رہتی ہے۔ایسے میں انسان غیر یقینی کی صورت حال اور زندگی میں پڑنے والے اچانک خلل سے نبرد آزما ہونے کو مجبور ہو جاتا ہے۔ یہ صورت حال ملازمت جانے کی تشویش میں مبتلا ہونے سے مزید خراب ہو تی ہے۔ اور اچانک ایسا لگنے لگتا ہے کہ کوئی بھی چیز انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔  کووِڈ 19کی وبائی صورت حال میں جہاں ہمیں گھروں تک محدود رہنے کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے، مایوسی کا احساس کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے۔گھر میں رہتے ہوئے ہم امید کرتے ہیں کہ ہمیں سکون میسر ہوگا۔ ہمارے پاس مقابلتاً زیادہ وقت ہوگا اور ہم ان کاموں کو انجام دے پائیں گے جو ہم کرنا چاہتے ہیں۔ مگر کیا کیا جائے کہ ایسے میں ان کاموں کی تکمیل کے لیے دل آمادہ نہیں ہوتا۔ گھر میں رہ کر ہم خود کو توانا محسوس کرنے کی بجائے تھکا ہوا پاتے ہیں۔یہ صرف عام لوگوں کا معاملہ نہیں بلکہ وہ لوگ بھی جو مکمل نظام الاوقات کے ساتھ منظم انداز میں کام کرنے کے عادی ہیں، اچانک محسوس کرتے ہیں جیسے کہ ان کے پاس کرنے کو کچھ بھی نہیں ہے۔ 

اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض لوگ خود کو تنہا، بے چین، پریشان، خوفزدہ، نا امید اور الگ تھلگ محسوس کرنے لگتے ہیں۔جب کہ کچھ لوگ خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر بیمار محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ایسے میں ہمیں بھوک اور نیند میں کمی یا زیادتی کا تجربہ ہو سکتا ہے جس سے ہم جسمانی طور پر کمزور اور مایوسی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ ہم جس چیز سے گریز کرنا چاہیں وہی چیز ابھر کر سامنے آ تی ہے۔ مثال کے طور پر ہمیں زندگی کے اپنے مقاصد کے بارے میں سوچنے یا اپنے تعلقات جیسے کہ شادی شدہ زندگی کااز سر نو جائزہ لینے کی نوبت آ سکتی ہے۔ایسے میں گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ اور تعلقات میں بدسلوکی وغیرہ دیکھنے کو ملتی ہے۔اس کے علاوہ پہلے سے ہی مایوسی یا بے چینی جیسی کیفیات جیسے چیلنج کا سامنا کر رہے لوگ صحت عامہ کے کسی بحران کے دوران افسردہ اور بے پروا ہونے کے احساس کے تئیں زیادہ حساس ہو جاتے ہیں۔

 

ایسے اوقات میں لوگ خوف وہراس کے احساس پر کیسے قابو پاسکتے ہیں؟

اس کے لیے جس چیز کا وسیع پیمانے پر اشتراک کیا جاتا ہے ان میں سے بعض مقبول اور مؤثر طریقوں میں صحت مند کھانا، گھر کے اندر ہوں تو بھی ورزش کرنا، مراقبہ یا یوگ کرنا اور احباب اور اپنے کنبے کے رابطے میں رہنا شامل ہیں۔مذکورہ تمام چیزوں پر مشتمل نظام الاوقات ترتیب دینا ایک عمدہ عمل ہے۔ 

میں چاہوں گی کہ تمام لوگ اس بات کو یاد رکھیں کہ ڈر، بے دلی یادوسری کوئی بھی متعلقہ نفسیاتی حالت بالکل معمول کی باتیں ہیں۔یاد رکھیں کہ ان چیزوں کو اہمیت نہیں دینا اور غیر ضروری سمجھنا آپ کی صحت کے لیے نقصاندہ ہے۔آپ کو جب کبھی بھی ان میں سے کسی چیز کا سامنا کرنا پڑے تو اسے تسلیم کرلیں۔ کچھ آسان سی ورزش کی عادت ڈالیں۔ تھوڑی دیر گہری اور پر سکون سانس لیں۔ اگریہ چیز ناکافی محسوس ہو تو خود سے سوال کریں کہ آخر وہ کون سی چیز ہے جو آپ کے اضطراب کی وجہ ہے۔ اگر خوف کی اس کیفیت کو زبان دے سکیں تو آپ اس بارے میں خود سے بات بھی کر سکتے ہیں۔ اگر اس سے بات نہیں بنے تو کسی دوست یا عزیز کو بلا لیں اور ان کی مدد طلب کریں۔ اگر کسی چیز سے صورت حال بہتر نہیں ہوتی تو آپ خودکو کسی ایسے کام میں مصروف کر لیں جو اس وقت اس پریشانی سے دور رکھنے میں آپ کی مدد کرے۔ حالاں کہ میں تو اس بات کی حوصلہ افزائی کروں گی کہ آپ اس صورت حال پر بعد میں غور کریں تاکہ آپ اسے سمجھ سکیں اور ایسی چیزیں بار بار آپ پر غالب نہ آسکیں۔

ایسے میں وقت کیسے گزرتا ہے پتہ نہیں چلتا۔ اس لیے نظام الاوقات کی پابندی سے یہ احساس پروان چڑھتا ہے کہ چیزیں معمول کے مطابق ہیں۔آپ پر گھر والوں کا زبردست دباؤ ہو سکتا ہے کہ آپ اس وقت کا بہتر استعمال کریں۔ اس سے پریشان نہ ہوں۔ یہ غور کریں کہ کسی مخصوص دن میں آپ آسانی کے ساتھ کیا کام کر نے کے قابل ہیں۔ جب آپ گھر سے دفتر کا کام کرنے کو مجبور ہوں تو صرف دفتر کے کام تک محدود نہیں ہوتے۔ اس میں گھر کی صفائی، کھانا پکانا اور دوسری ذمہ داریاں آپ کے ذہن پر سوار رہتی ہیں جن میں وقت بھی صرف ہوتا ہے۔ ان کے ساتھ تال میل بیٹھانا ایک مایوس کن تجربہ بھی ہو سکتا ہے۔ آپ ان کے اثر سے خود کو بچا نہیں سکتے۔

ایسے میں جب آپ گھر پر ہوتے ہیں تو یہ اوقات آپ کو پہلے کی طرح طمانیت نہیں دیتے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنی دیکھ بھال چھوڑ دیں۔ ایسا نہیں ہوگا کہ وبائی مرض کا یہ زمانہ گزر جانے کے بعد آپ کی شخصیت بالکل بدل جائے گی۔اس لیے اپنی ذات سے ایسی امیدیں وابستہ مت کریں۔ کیوں کہ ان غیر حقیقی توقعات کی عدم تکمیل آپ کے لیے نئے سرے سے مایوسی کا سبب بن جا سکتی ہے۔

آپ کو اس پر بھی غور کرناہے کہ اس وقت آپ کے لیے کیا چیز با معنی ہے۔ ان میں نظام الاوقات کی پابندی کے ساتھ ان چیزوں پر بھی توجہ ضروری ہے جو آپ گھر سے کام کرنے کے لیے مجبور کر دیے جانے سے پہلے کر رہے تھے۔ ان سرگرمیوں اور کاموں کا انتخاب کریں جن سے آپ کو اطمینان نصیب ہوتا ہو۔

 

وہ لوگ جنہیں خود کودوسروں سے الگ تھلگ یا قرنطین کرنا ہے، انہیں احساسِ تنہائی سے نمٹنے کے لیے کیا کرنا چاہئے؟

خود کو دوسروں سے الگ تھلگ کر لینا ایک جسمانی عمل ہے اسے جذباتی طور دوسروں سے دوری خیال مت کریں۔ جب ایسا کرنا مجبوری بن جائے تو اپنے پرانے جاننے والوں کے ساتھ آن لائن موجود طبقات سے رابطہ کریں۔ آپ آن لائن گیم بھی کھیل سکتے ہیں۔سب سے اہم چیز یہ ہے کہ اس دور کی مشکلات کے بارے میں بات کریں۔ اس پر بھی گفتگو کریں کہ آپ کس طرح اس صورت حال سے نمٹ رہے ہیں۔

یہاں پچھلے سوال کے جواب میں بیان کیے گئے تمام نسخوں کا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔جب احساسِ تنہائی گراں گزرے تو اس سے نمٹنے کے طریقوں کو ذہن میں تازہ کریں۔ سانس لینے کی ورزش ہو، کسی عزیز دوست سے بات چیت ہو، کسی کا بتایا ہوا کوئی نسخہ ہویا اس کے بارے میں لکھنا ہو یا کسی دوسری سرگرمی میں شمولیت ہو.....اگر ان میں سے کوئی چیز بھی کار گر ثابت نہیں ہوتی اور احساس ِ تنہائی برقرار رہتا ہے تو براہ کرم ذہنی بیماری کا علاج کرنے والے پیشہ ور افراد سے رابطہ کریں۔

 

اضطراب پر قابوپانے کے اقدامات

صحت عامہ کے بحران کے دوران نظام الاوقات اور قابل توقع حالات کا احساس پیدا کرنے کی غرض سے معمولات کی تشکیل لوگوں کو پرسکون رکھنے اور انہیں اس بات کا احساس دلانے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے کہ صورت حال مزید ان کے قابو میں ہے۔ اپنے معمولات میں کن چیزوں کو شامل کریں؟ اس بارے میں یہاں ڈاکٹر کیتھی ہوگن بروئن کے بعض مشوروں کو پیش کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر بروئن جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں کلینیکل پروفیسر اور دی شکاگو اسکول آف پروفیشنل سائیکو لوجی (ڈی سی کیمپس) میں نفسیات کی اَیڈ جَنکٹ پروفیسر ہیں۔

• ورزش:یہ بے چینی میں کمی لاسکتی ہے، آپ کے مزاج کو بہتر کر سکتی ہے۔اس سے نیند بہتر آ سکتی ہے جو بحران کے دوران آپ کے اضطراب میں کمی لاسکتی ہے۔مسائل کے حل کرنے کی آپ کی صلاحیت میں اضافہ کرسکتی ہے اور آپ کی صحت کو بہتر بنا سکتی ہے۔

• سونے کے وقت اور جاگنے کے وقت کا تعین کرنے کو ترجیح دیں۔ اندھیرے کمرے میں سوئیں اور سونے سے آدھے گھنٹے سے لے کر ایک گھنٹہ پہلے تک موبائل یاٹی وی وغیرہ نہ دیکھیں۔دن کے دو بجے کے بعد چائے یا کوفی نہ پئیں۔ اگر شراب پیتے ہیں تو زیادہ نہ پئیں۔

• صحت مند کھاناکھائیں۔

• دھوپ میں وقت گزاریں۔ دماغی صحت پر اس کا مثبت اثر ہوتا ہے۔

• ٹیکسٹ یا ویڈیو کے ذریعہ دوسروں کے ساتھ رابطے میں رہیں۔

• اگر ممکن ہو تو بامعنی اور/یا چیلنج سے پُر کام کریں۔

• دوسروں کی مدد کے لیے کچھ کریں۔ مثال کے طور پر عطیہ دینے کے لیے ماسک تیار

 کریں۔ عمر دراز رشتہ داروں کی خیریت دریافت کریں۔

• کوئی نیا شوق پیدا کریں یا اپنے کسی پرانے شوق کی ترویج پرتوجہ دیں۔

• معتبر اور قابل اعتماد ذرائع سے معقول مقدار میں ہی خبریں دیکھیں۔کیا کیاجائے،اس کے تعلق سے خاطر خواہ معلومات رکھیں لیکن یہ اتنا زیادہ نہ ہو کہ آپ جذباتی طور پر اس سے مغلوب ہو جائیں یا ایسا نہ ہو کہ یہ چیزآپ کو صحت مند سرگرمیوں سے دور کر دے۔

• زمین پر بیٹھیں،مراقبہ کریں۔ غورو فکر کریں۔ مستقبل کے بارے میں بہت زیادہ پریشان ہونے کی جگہ حال میں وقت گزاریں اور اسی کے بارے میں غور و فکر کی مشق کریں۔

--د۔ ک

صحت عامہ کے کسی بحران کے دوران گھر سے دفتر کا کام کرنے سے بعض اوقات گھر اور دفتر کا فرق مٹ جانے سے کشیدگی کے حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس سے نمٹنے کے لیے کیااقدامات کیے جا سکتے ہیں؟

اس سلسلے میں سب سے پہلا اور اہم قدم یہ ہے کہ گھر اور دفتر کے حدود متعین کیے جائیں۔ گھر میں بیٹھ کر دفتر کا کام کرنے سے سرحدیں مٹ جایا کرتی ہیں۔ گھر والوں سے بات کریں اور انہیں بتا دیں آپ کو گھر سے دفتر کا کام کرنے کے لیے علاحدہ وقت درکار ہے اور کس چیز سے آپ اس وقت کا بہترین استعمال کر سکتے ہیں۔اپنے لیے کچھ اصول وضع کرنے کی کوشش کریں جس سے دفتر کا کام کرنے کے اوقات کے دوران کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ اس کے لیے اپنے ایّام کو کچھ حصوں میں تقسیم کرلیں۔ اس کو اپنے کام، کنبہ، خود کے لیے اور گھر کے لیے بانٹ لیں۔ اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک نوع کی بے چینی درکا ر ہے۔اسے نافذ کرنے کے لیے اس معمول سے ہم آہنگی کی کوشش کریں۔ 

آپ کو تن تنہا کام کرنے کے لیے بھی ہم آہنگی کی ضرورت ہوگی۔ہم میں سے بہت سارے لوگ کام پر جانے کے عادی ہیں اوردفتر کو دوستوں سے ملنے یا مل جل کر کام کرنے کی جگہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔آپ کو یہ بھی لگ سکتا ہے کہ گھر سے دفتر کا کام کرنے کی صورت میں آپ کو وقت زیادہ ملتا ہے مگر حقیقت میں ایسا ہوتا نہیں ہے۔ گھر سے کام کرتے ہوئے گھر کے بھی کئی کام (کھانا پکانااور صفائی ستھرائی وغیرہ)کرنے پڑ سکتے ہیں جن میں آپ کی جسمانی اور ذہنی توانائی خاطر خواہ مقدار میں صرف ہو جاتی ہے۔ جب گھر سے دفتر کا کام کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہوں تو ان باتوں کا بھی خیال رکھیں۔

 

 والدین بچوں کی خاطر ایک محفوظ ماحول پیدا کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں جہاں وہ بچوں کو خوفزدہ کیے بغیر حقیقی صورت حال سے آگاہ کر سکیں؟

پہلی بات تو یہ ہے کہ ہر عمرکے بہت سارے بچے ایسے ہوتے ہیں کہ جب ان سے گھر ہی میں رہنے کو کہا جائے تو وہ خوفزدہ نہیں ہوتے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ حیرت میں پڑ جائیں کہ ایسا کیا ہو گیا کہ ان کے معمولات بدل گئے ہیں۔ ان کے دوست کہاں ہیں اور یہ کہ وہ کب اسکول واپس جا سکیں گے۔ ان حالات میں والدین کو خیال رکھنا چاہئے کہ وہ بچوں میں ڈر متعارف نہ کریں اور اپنی پریشانیاں ان میں منتقل نہ کریں۔ 

ایسے بچے جن کو سمجھانے کی ضرورت ہے، ان سے پوچھیں کہ وہ ان حالات کے بارے میں کیا سمجھتے ہیں۔آپ کا جواب ایسا ہونا چاہئے جسے ان کا ذہن سمجھ اور قبول کر سکے۔میرا مشورہ یہ ہے کہ جب بچوں کو صورت حال کی آگاہی دیں تو ان کے سامنے لاک ڈاؤن کی جگہ گھر میں پناہ جیسی اصطلاح کااستعمال کریں۔ 

اگر وہ خوفزدہ نظر آئیں تو انہیں یاد دلائیں کہ وہ آپ پر اعتبار کر سکتے ہیں۔انہیں دنیا میں ان کی حفاظت کے بارے میں آگاہ کریں

اور انہیں اس خوف کے بارے میں کھل کر باتیں کرنے کو کہیں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ اپنے بچے کے خوف کو کم نہ کریں یا پھراسے سرے سے مسترد نہ کریں۔ اور نہ اس بات کا یقین کریں کہ وہ اس سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ان پر اسی طرح اعتبار کریں جس قدر یقین آپ خود پر رکھتے ہیں۔انہیں اپنی موجودگی میں احساسِ تحفظ دے کر ان کے خوف کے سلسلے میں بات کرنے کی دعوت دیں۔

 

پریشانی، افسردگی اور دیگر حالات سے نبرد آزماافراد کے لیے یہ صورت حال خصوصی طور پر پریشان کن ہوتی ہے۔ ایسے افراد کے اہل خانہ اور ان کی دیکھ ریکھ کرنے والے کیسے اس اثر کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں؟

ان حالات میں متاثرہ افراد پر اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔ایسے لوگوں کی دیکھ بھال کرنے والے اور ان کے عزیز ان علامتوں اور اشاروں کو جاننے میں ماہر ہوتے ہیں۔انہیں اس زمانے میں علامات میں شدت آجانے کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہئے۔ماہر نفسیات کے ساتھ مسلسل رابطے میں بھی رہنا چاہئے۔ اس کے علاوہ انہیں یقینی طور پر خود اپنے لیے بھی امدادی وسائل کا متلاشی ہونا چاہئے۔ جب انہیں اپنے پیاروں کی ذہنی بیماری کی دیکھ ریکھ سے وقت مل جائے تو انہیں اپنے لیے بھی وقت نکالنا چاہئے۔

 اگر ممکن ہو تو ذہنی طورپر بیمار شخص سے بات چیت کرکے اور علامات کو دور رکھنے کے لیے اضافی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں ان کی مدد کریں۔یہ اوقات بیمار افراد کے لیے مایوسی اور ناراضگی سے بھرے ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے لیے بھی ہمدردی کے جذبے کا ہونا از حد ضروری ہے۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط