مرکز

صحت کاعصری سفر

فل برائٹ۔ نہرو ماسٹر فیلو ڈاکٹر دیبانشو رائے حکومتِ ہند کی وزارتِ صحت اور خاندانی بہبود کے ای ہیلتھ ڈویژن میں کام کرتے ہیں ۔ یہاں ان کی توجہ عصری دور کے تقاضوں کے اعتبار سے صحت سے متعلق حکمت عملی کی ترجیحات وضع کرنے پر مرکوزہے۔ 

بدلتے وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے دنیا بھر میں حفظانِ صحت کے شعبے میں بھی تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔اسی لیےصحت کی جانچ، علاج، روک تھام اور نگرانی کے لیے جدید ترین آلات تیزی کے ساتھ اپنائے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر انڈیا میں وزارتِ صحت اور خاندانی بہبود نے عوامی حفظانِ صحت کی فراہمی کے نظام کی کارکردگی اور اثر انگیزی کو بہتر بنانے کے لیے اطلاعاتی اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ 

ڈاکٹر دیبانشو رائے وزارت کے ای ۔ہیلتھ ڈویژن میں مشیر کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس عہدے پر وہ یونیورسٹی آف شکاگو انٹرنیشنل اننویشن کورسوشل امپیکٹ فیلو شپ کے حوالے سے سرفراز ہیں۔ ممبئی کے گرانٹ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد ڈاکٹر رائے نے فل برائٹ۔ نہرو ماسٹر فیلو کی حیثیت سے  2015ء میں ہیوسٹن کے یونیورسٹی آف ٹیکساس ہیلتھ سائنس سینٹرسے صحت معا شیات اور پالیسی میں ماسٹر ڈگری لی ۔ پیش ہیں ان سے انٹرویو کے اقتباسات۔ 

کیا آپ ہمیں ای صحت اور حفظان صحت کے شعبے میں ای صحت کی اہمیت کے بارے میں کچھ بتا سکتے ہیں؟

ٹیکنالوجی کی بدولت آج چیزیں تیز رفتار ، زیادہ ذاتی اور سستی ہو گئی ہیں۔ ان کا استعمال پروگرام کے بندوبست سے لے کر خدمات کی فراہمی تک بہت سارے شعبوں میں ہوتا ہے۔ڈیجیٹل صحت ایک وسیع شعبہ ہے جس میںایسی ٹیکنالوجی شامل ہیں جن کی وسعت طبی آلات سے لے کر سٹی اسکَین اور ایم آر آئی اسکَین تک میں استعمال ہونے والی شبیہات کے تجزیہ سے متعلق الگورِدم تک ہے۔ اس میں پیش پیش رہنے والے صحت کارکنان جیسے زچگی میں معاون نرس کی آن لائن خدمات (انمول ۔اے این ایم او ایل)کے ساتھ ساتھ نومولود اور اس کی ماں کی صحت سے باخبر رہنے کے نظام سے متعلق اعداد و شمار اور ایپلی کیشنز شامل ہیں۔ 

میں فی الحال یونیورسٹی آف شکاگو کے بین الاقوامی اننویشن کور پروگرام کے لیے مشاورت کرتا ہوں ۔اس پروگرام کی رو سے حکومتِ ہند کی وزارتِ صحت اور خاندانی فلاح وبہبود کی مدد کی جارہی ہے تاکہ وہ اپنے پاس دستیاب مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ آلات کا استعمال کرکے سہولتوں کو فروغ دے سکے۔

ڈیجیٹل صحت کی ترجیحات کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟

وزارت ِ صحت کی خاندانی بہبودسے متعلق ای۔ہیلتھ ٹیمنے حال ہی میں قومی ڈیجیٹل صحت سے متعلق ایک بلیو پرنٹ جاری کیا ہے۔اگر اسے درست طور پر نافذ کیا جاسکے تو ملک میں صحت سے متعلق خدمات بہم پہنچانے اور اس کے انتظام و انصرام میں انقلاب پیدا ہو جائے۔ مثال کے طور پربینکاری کے شعبے کو ہی دیکھیں۔ایک سادہ سے ہارڈ ویئر کی بدولت معلومات کے تبادلے کے ساتھ کاروباری اور خدمات اس قدر تیز رفتاری کے ساتھ انجام پاتی ہیں جن کا پہلے تصور بھی محال تھا۔اگر یہی چیز صحت کے شعبے میں بھی نافذ ہو جائے تو کیا ہو؟ اس شعبے میں صحت سے متعلق اعداد و شمار فی الوقت منتشر تو ہیں ہی، ان کا استعمال بھی پوری طرح نہیں ہو سکا ہے۔ تاہم ، چوں کہ صحت سے متعلق اعداد و شمار میں حساس نوعیت کے ذاتی اعداد و شمار بھی شامل ہوتے ہیں ، اس لیے ان کی رازداری ،متعلقہ افراد کی رضامندی اور صرف متعلقہ افراد تک ان کی رسائی کے لیے قانونی ڈھانچہ موجود ہونے کی ضرورت ہے۔ مذکورہ بلیو پرنٹ میں اس سے متعلق بہت اہم کام ہوا ہے اور ان تشویشات کا بھی خاطر خواہ خیال رکھا گیا ہے۔ 

صحت عامہ کی دیکھ بھال کو بہتر بنانے کے لیے حکومت ہند ٹیلی میڈیسن کی مدد لے رہی ہے۔ اس سے کس طور پر فائدہ ہوگا؟

ٹیلی میڈیسن ایک بہت وسیع اصطلاح ہے جس میں متعدد چیزیں شامل ہوتی ہیں۔ چیزیں مانگ پر مبنی خدمات سے لے کر ریموٹ سرجریتک ہوسکتی ہیں۔ حالاں کہ صحت کے ماحولیاتی نظام میں اس کا اپنا ایک الگ مقام ہے، لیکن اس کی فراہمی کا تعلق اس کے سیاق و سباق سے ہے اور کسی پروگرام کو تیار کرنے سے قبل معیشتوں کو بھی قیمتوں سے فائدہ کے لحاظ سے ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔

ہیوسٹن کے یونیورسٹی آف ٹیکساس ہیلتھ سائنس سینٹر میںفل برائٹ ۔نہرو فیلو کی حیثیت سے آپ کا تجربہ کیسا رہا؟

یہ مجموعی طور پرایک عمدہ تجربہ تھا۔ مجھے ٹیکساس میڈیکل سینٹر میں کام کرنے کا موقع ملاجودنیا کے سب سے بڑے صحت مراکزمیں سے ایک ہے۔میں بتا نہیں سکتا کہ میں نے خود کو کس قدر خوش قسمت محسوس کیا ۔ میں نے بہت سے دوست بنائے اور مقامی برادری کے ساتھ تفاعل کیا ۔ اس کی وجہ سے مجھے کئی معنوں میں اس طرح سے فائدہ ہواکہ جس کے بارے میں مَیں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔میں نے 2016ء کے سیلاب کے بعد ریاست لوسیانا کے بَیٹن روگ میں امدادی اور راحتی خدمات کی فراہمی کے لیے مقامی چرچ کے ساتھ بھی کام کیا۔

ملک واپس آنے کے بعد اس تجربے نے ای-ہیلتھ اقدامات کی ترقی اور ان کے نفاذ کے بارے میں آپ کی کس طرح مدد کی؟

اعداد و شمار یکجا کرنے اور انہیں چھانٹنے کا کام امریکہ میں نہایت عمدہ طریقے سے کیا جاتا ہے۔ ملک میں موجود ڈیٹا کلچر کی تشکیل کے لیے میں نے امریکہ میں سیکھے گئے اسباق کا سہارا لیا ہے۔ملک میں موجود زیادہ تر اعدادو شمار منظم نہیں ہیں۔ اسی لیے ان کا استعمال نہ تو حکمرانی کے لیے اور نہ تحقیق کے لیے بخوبی کیا جا سکتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ معیارات اور رہنما خطوط کی کمی ہے جس میں حفظان صحت فراہم کرنے والے اعداد وشمار یکجا کرنے اور انہیں مشترک کرنے والے طریقوں اور ضوابط کا استعمال کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان اعداد وشمار کا اشتراک بہت ہی محدود پیمانے پر کیا جاتا ہے ۔

وزارت میں صحت سے متعلق اعداد وشمار کے اشتراک سے متعلق پالیسیاں بنانے کی کوشش کرتے ہوئے میں اب بھی یونیورسٹی آف ٹیکساس کے پروفیسروں کی مدد لیتا ہوں۔ یونیورسٹی میں اعداد وشمار کے اشتراک سے متعلق قاعدے موجود ہیں ۔ ان سے مجھے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ انڈیا کے تناظر میں ان کا استعمال کیسے کیا جا سکتا ہے۔ 

آپ کا مستقبل کا لائحۂ عمل کیا ہے ؟

فی الحال، ہم مریضوں کی رازداری، ان کی سلامتی اور رضامندی کو ذہن میں رکھ کر مناسب پالیسیاں بنانے اور ڈیٹا تکنیک کی تشکیل پر توجہ دے رہے ہیں ۔ملک کی قومی ڈیجیٹل صحت مشن کی ترجیحات کی بنیاد پر ہمیں صحت مند زندگی کے عصری سفر میں ملک کو آگے لے جانے کا اہل ہونا چاہئے۔

رنجیتا بسواس کولکاتہ میں مقیم ایک صحافی ہیں ۔ وہ افسانوی ادب کا ترجمہ کرنے کے علاوہ مختصر کہانیاں بھی لکھتی ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط