مرکز

مرض کی ابتدائی جانچ کا آلہ

ہند۔امریکی ٹیموں کی جانب سے تیارشدہ آئی بریسٹ اکزام ایک ایسا آلہ ہے جوپستان کے سرطان کا وقت سے پہلے پتا لگانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ یہ سستا تو ہے ہی، اس سے مریض کو درد بھی نہیں ہوتا۔

بریسٹ کینسر(پستان کا سرطان)سرطان کی ایسی قسم ہے جوہند میں خواتین میں عام ہے۔عالمی ادارہئ صحت کے مطابق ۲۰۱۸ء میں خواتین میں سامنے آئے سرطان کے نئے معاملوں میں اس کا فی صد ۲۸ہے۔ اس مرض کی وجہ سے اموات کی شرح ملک میں دوسرے بہت سے ملکوں کے مقابلے بہت زیادہ ہے۔ اس کا جزوی سبب اس مرض کے تئیں بیداری اور تعلیم کی کمی ہے۔

اس مرض کے علاج کی راہ میں جو دوسری رکاوٹیں حائل ہیں ان میں اس کے بارے میں بتاتے ہوئے شرمانا، ناخواندگی، مذہبی عقائد اور آمدنی اور صنف سے متعلق عدم مساوات شامل ہیں۔ملک میں بعض خواتین علاج کروانے کا انتظار کرتی ہیں اور بعض تو اس کو یکسر مسترد کر دیتی ہیں۔ حالاں کہ اگر وقت سے پہلے اس کا پتہ چل جائے تو اس سے مرض کی روک تھام میں کافی مدد مل سکتی ہے۔ اس سلسلے میں ہند۔ امریکی ماہرین کی ٹیموں کے ذریعہ تیار کیا گیا آلہ اس صورت حال میں بہتری لانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔یو ای لائف سائنسیز کے بانی اور سی ای او مِہِر شاہ کہتے ہیں ”عالمی سطح پر جہاں سرطان کی یہ قسم خواتین میں پائے جانے والے سرطان کے اقسام میں سب سے عام ہے مگر زیادہ تر معاملوں کی جانچ کافی دیر سے ہونے کی وجہ سے اس بات کی پیش بینی کے امکانات کافی کم ہوجاتے ہیں کہ مرض آئندہ کیا شکل اختیار کرے گا۔“

کمپنی کے دفاتر فلاڈیلفیا، ممبئی، بینگالورو، نئی دہلی اور کوالا لمپور میں ہیں۔ کمپنی اس قسم کے سرطان کا وقت سے پہلے پتہ لگانے کے سلسلے میں اختراعات پر کام کرتی ہے۔ بہت چھوٹے، کسی تار کے بغیر،اورہاتھ میں پکڑ کر استعمال کیے جاسکنے والے آئی بریسٹ اکزام آلہ کی سہولت نے پوری دنیا میں ہزاروں خواتین کو اپنی صحت کے بارے میں اہم معلومات حاصل کرنے میں مدد پہنچائی ہے۔اس کے آسانی سے لانے لے جاسکنے اور آسانی سے دستیاب ہونے کی سہولت کافی اہم ہے کیوں کہ اس سے متاثرہ خواتین میں زندہ رہنے کی شرح کا تعلق خواتین کی جغرافیائی صورت حال سے منسلک ہے کیوں کہ دیہی علاقوں میں خواتین شاید روایتی مَیمو گرام (آلہ کی مدد سے پستان کا ایکسرے جس میں پستان کی جانچ دباکر اور ہموار کرکے کی جاتی ہے)کے لیے شہر تک سفر کرنے کی حالت میں نہیں ہوتی ہیں۔ 

شاہ بتاتے ہیں ”بنیادی تربیت کے ساتھ بیٹری سے چلنے والا یہ وائرلیس آلہ صحت کے شعبے میں کام کرنے والوں کو کسی درد یا تابکاری کے بغیر چند منٹ میں اور  مَیمو گرام ٹسٹ پر ہونے والے خرچ کے مقابلے بہت کم خرچ میں سینے میں موجود گانٹھوں کا پتہ لگانے کے قابل بناتا ہے۔ خواتین کو اس مرض کی فوری تشخیص کی سہولت فراہم کرکے ہم بہت ساری زندگیاں بچانے کی امید کر سکتے ہیں۔بصورت دیگر قابل علاج سرطان سے بھی کئی جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔“

اب تک مریضوں اور صحت کی دیکھ ریکھ کے شعبے کے ماہرین سے ملنے والا رد عمل کافی مثبت رہا ہے۔ کمپنی نے بھی ۷۵۰۰ خواتین کے ساتھ عالمی نوعیت کے متعدد طبی مطالعات منعقد کروائے ہیں۔ شاہ آئی بریسٹ اکزام کو(جو مریض سے متعلق معلومات کو ڈیجیٹل دستاویز کی شکل دے دیتا ہے) ایک ”آرام دہ اورسستا حل قرار دیتے ہیں جس سے لوگ خوفزدہ نہیں ہوتے“کیوں کہ اس کے استعمال سے درد نہیں ہوتا اور یہ تابکاری سے بھی پاک ہوتا ہے۔اس کو بہت ساری خواتین پسند کرتی ہیں کیوں کہ اس کی حیثیت روایتی مَیموگرام کے مقابل ایک متبادل کی ہے۔ 

حیدر آباد میں ۲۰۱۷ ء میں منعقد ہوئے عالمی کاروباری پیشہ ور ی چوٹی کانفرنس(جی ای ایس)میں نیتی آیوگ نے آئی بریسٹ اکزام کا انتخاب وزیر اعظم مودی اور امریکی صدر کی دختر اور مشیر ایوانکا ٹرمپ کے سامنے پیش کرنے کے لیے کیا تھا۔شاہ بتاتے ہیں ”یہ آلہ اجلاس میں خصوصی توجہ کا مرکز رہا۔ اس طور پر یہ ہم تمام لوگوں کے لیے ایک شاندار تجربہ تھا۔“

اس آلہ کو ہند اور امریکہ کی ٹیموں کے اشتراک سے تیار کیا گیا۔ شاہ باخبر کرتے ہیں ”آئی بریسٹ اکزام ایک ہند۔ امریکی اختراع ہے جس کی جڑیں امریکہ میں ہیں اور جسے انڈیا میں فروغ ملا ہے۔ہم نے اسے  پین سلوانیا ڈپارٹمنٹ آف ہیلتھ  کے  کیور ( کامن ویلتھ یونیورسل ریسرچ اِنہینسمینٹ)کے قریب ایک ملین ڈالر عطیہ سے شروع کیا تھا۔ اس کے بعد ہمیں یونیورسٹی سٹی سائنس سینٹر  سے  ڈیجیٹل ہیلتھ ایکسلریٹر کا عطیہ ملا۔ ایک بار جب اس آلہ کا چھوٹا نمونہ تیار ہو گیا تو ہم نے اس تکنیک کو طبی توثیق اور بڑے پیمانے پر تیاری کے لیے ہند کے حوالے کردیا۔“

اس سلسلے میں جو  ٹَیکٹائل سینسر ٹیکنالوجیپیٹنٹ کروائی گئی ہے اس کی ایجاد فلاڈیلفیا کی  ڈریکسیل یونیورسٹی کے ڈاکٹروں نے کی۔شاہ بتاتے ہیں ”یہ صرف ہند۔ امریکی ٹیم اور کثیر شعبہ جاتی شراکت داروں کی وجہ سے ممکن ہو پایا کہ ہم اسے فروغ دے پائے۔“ 

شاہ کے مطابق کئی خواتین (جنہیں اس آلہ کی وجہ سے پتہ چلا کہ انہیں پستان کا سرطان ہے)نے علاج کے بعد کمپنی کی ستائش کے لیے ہم سے رابطہ کیاہے۔شاہ نے بتایا ”وہ ہمارا شکریہ ان کی زندگیوں کو بچانے کے لیے ادا کرنا چاہتے ہیں لیکن اصل میں ہم جلدی جانچ کرانے میں آمادگی اور ہمت کا مظاہرہ کرنے اور فوری طور پر کاروائی کرنے کے لیے ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ بریسٹ کینسر کی فوری تشخیص کی شروعات اس اعتماد سے ہوتی ہے کہ بریسٹ کینسر کوئی موت کی سزا نہیں ہے۔“   

شاہ اور ان کی کمپنی نے مستقبل کے لیے اہم منصوبے بنا رکھے ہیں جس میں ہند میں ۲۰۰ ملین خواتین تک اور عالمی سطح پر ایک بلین خواتین تک پہنچنے کا ہدف شامل ہے۔ شاہ بتاتے ہیں ”ہماری خواہش ہے کہ یہ آلہ ہند میں ملک گیر پیمانے پر خواتین کے لیے زیادہ سے زیادہ دستیاب ہو۔ اس کو ممکن بنانے کے لیے ہم سرکاری اداروں، نجی زمرے کی کمپنیوں کے سماجی سروکار سے متعلق دفاتر، غیر سرکاری تنظیموں اور صحت خدمات فراہم کرنے والے نجی اداروں کے ساتھ تعاون کی امید کرتے ہیں۔ہم نے اب تک ایک ملین سے زیادہ خواتین کا معائنہ کیا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اور زیادہ لوگ، ڈاکٹر اور صحت کی دیکھ بھال سے متعلق پالیسی ساز افراد اس اختراعی آلہ پر توجہ دیں گے اوروقت سے پہلے جانچ کے وعدے کو حقیقی شکل دینے کے لیے اس آلہ کا درست استعمال کریں گے۔“ 

 

کینڈس یاکونو جنوبی کیلیفورنیا میں مقیم قلمکار ہیں جو جرائد اور روزناموں کے لیے لکھتی ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط