مرکز
1 2 3

کارآمد دوست

نیکسَس تربیت یافتہ گیتانجلی بنرجی کی اسٹارٹ اپ کمپنی فیمٹیک فرٹلیٹی دوست ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں خواتین اور جوڑے قوتِ تولید سے متعلق مسائل اور حفاظتی تدابیر کے بارے میں بات  کر سکتے ہیں۔ 

گیتانجلی بنرجی پیشہ کے لحاظ سے  کانٹینٹ منیجر ہیں جب کہ ان کی دلچسپی کا شعبہ معاشرتی کاروباری پیشہ وری ہے۔انہوں نے اپنے جذبے کو اس وقت دریافت کیا جب انہوں نے اپنے اسٹارٹ اپ فیمٹیک فرٹلیٹی دوست کی بنیاد ڈالی ۔ اس کا مقصد ان خواتین کی مدد کرنا ہے جو نقصِ تولید کے مرض میں مبتلا ہیں۔ 

فیمٹیک فرٹلیٹی دوست میں حساب و شمار کے عمل پر مبنی تکنیکی حل  مَیپ  مائی فرٹلیٹی دستیاب ہے۔اس کی مدد سے خواتین اپنی تولیدی صحت کے بارے میں پیش گوئی کر سکتی ہیں، اندازے قائم کرسکتی ہیں اور اس کا انتظام سنبھال سکتی ہیں ۔ایساوہ تولیدی قوت کی نشاندہی والے ٹیسٹ ،نفس پیمائی ٹیسٹ اور دیگر جسمانی اوصاف کے تعین قدر کا تخمینہ کرکے کر سکتی ہیں۔ حساب و شمارکے عمل کے نتائج کی بنیاد پرخواتین کو صلاح کار کی خدمات فراہم کی جاتی ہیں جو انہیں ذاتی مشورے دیتی ہیں کہ کس طرح وہ تولیدی صحت کی دیکھ بھال کریں اور اس میں مزید بہتری لائیں۔ 

بنرجی نے نئی دہلی میں واقع امیریکن سینٹر کے  نیکسَس انکیوبیٹر اسٹارٹ اپ ہَب میں تربیت حاصل کی۔۲۰۱۸ ء میں انہوں نے امریکی وزارتِ خارجہ کے عوامی سفارت کاری کے پروگرام  ٹیک کیمپ ساؤتھ ایشیا  میں بھی شرکت کی۔مؤخر الذکر میں شرکت سے انہیں کئی فائدے ہوئے جس سے انہیں اپنی ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ اس کی بازار کاری میں بھی مدد ملی۔

پیش خدمت ہیں بنرجی سے انٹرویو کے اقتباسات جو ان کی اسٹارٹ اپ کمپنی،نیکسَس انکیوبیٹر اور ٹیک کیمپ کے تجربے کا احاطہ کرتے ہیں۔   

 

آپ کو فرٹلیٹی دوست شروع کرنے کی ترغیب کہاں سے ملی؟ 

میں جب نجی شعبے سے وابستہ تھی ، اس زمانے میں میری قوتِ تولید سے متعلق جانچ بھی چل رہی تھی۔ صحت کے اس سفر کے دوران میں نے معاشرتی سنگ دلی ، ممنوع موضوعات اور نجی زمرے کے سنجیدہ رویے جیسی کئی چیزوں کا مشاہدہ کیا۔فر ٹیلٹی دوست کا خیال اسی زمانے میں پرورش پانے لگا۔ ہندی میں دوست کا مطلب رفیق ہوتا ہے۔ میرا نظریہ یہ ہے کہ میں خواتین کو باخبر کرسکوں کہ وہ تنہا نہیں ہیں ، انہیں اس قابل کر سکوں کہ وہ مجھے اپنا دوست سمجھیں اور ان سب سے زیادہ اہم یہ کہ تولیدیت کو انسدادی زمرے میں شامل کرواسکوں۔

 

انڈیا  میں قوتِ تولید پر مرکوز کئی پروگرام چل رہے ہیں۔ اس بھیڑ بھاڑ والے شعبے میں آپ کے اسٹارٹ اپ کی خصوصیات کیا ہیں؟ 

خواتین اور صحت کے لیے مخصوص اَیپ یا پلیٹ فارمس میں قوتِ تولید اکثر بہت چھوٹا سا عنصر ہوتا ہے۔ قوتِ تولید سے متعلق صلاح کاری، رفیقانہ حمایت ، سوالات کے حل ، تعلیم ، قوتِ تولید سے متعلق فردِ مخصوص پر مبنی پروگرام اور سب سے اہم یہ کہ آن لائن قوتِ تولید کی جانچ سے متعلق آلہ ہمارا تخصص ہے۔ 

مَیپ مائی فرٹلیٹی قوتِ تولید کا تعین کرنے والی ۱۱ قسم کی جانچ،رویوں اور طرز زندگی جیسے تعین قدر کے نتائج کو یکجا کرکے قوتِ تولید سے متعلق صحت کی تشخیص سے متعلق رپورٹ کو متعلقہ خاتون کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ یہ ہمارا مالکانہ حساب و شمار کا عمل ہے۔یہ معلومات اور اس کے ساتھ ہمارامکمل پلیٹ فارم خواتین کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ وہ اپنی تولیدی صحت سے متعلق درست فیصلے کر سکیں۔  

اس پروگرام کی خاصیت یہ ہے کہ اس تک رسائی گھر بیٹھے ممکن ہے۔اس سے ڈاکٹروں کی فیس اور جانچ میں لگنے والے پیسے اور وقت کی بھی بچت ہوتی ہے۔ یہ مریض کو انسدادی مرحلے ہی میں آگاہ کر دیتا ہے جس سے آئی وی ایف ( تجربہ گاہ میں عورت کے بیضہ اور مرد کے نطفہ کی یکجائی کا تجربہ جس کے نتیجے میں حمل قرار پاتا ہے۔بعد میں اسے عورت کی بچہ دانی میں منتقل کر دیا جاتاہے ) کے اخراجات اور اس کی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ 

 

فرٹلیٹی دوست پروگرام کتنا مؤثر ہے؟ 

موجودہ صورت حال یہ ہے کہ معاشرتی ممنوعات اور معلومات کی کمی کی وجہ سے کوئی عورت تولیدی مشورہ لینے میں تاخیر کرتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ معاملہ ایک پیچیدہ بیماری کی شکل اختیار کرلیتا ہے ۔ جب ایسی صورت پیدا ہوتی ہے تو پھر طبی مشاورت کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں رہ جاتا ۔ 

اگر شروعات ہی سے اس کا استعمال جاری رکھا جائے تو آئی وی ایف کے اخراجات اور جذباتی پیچیدگیوں سے بھی فرار ممکن ہے۔ ۷۰ فی صد معاملات میں محض طرزِ حیات میں تبدیلی، ہارمون مینجمینٹ اور تولیدی غذا کے دم پر ہی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔  

 

اب تک آپ کی رسائی کتنے افراد تک ہو سکی ہے؟ 

آن لائن اور روایتی دونوں طریقوں سے ہم نے تقریباََ ۵۰ ہزار خواتین اور جوڑوں تک رسائی پائی ہے۔ ہمارے صارفین کی غالب تعداد بڑے شہروں سے تعلق رکھتی ہے۔ شمالی ہند میں ہمارے صارفین سب سے زیادہ دہلی۔ این سی آر میں ہیں جب کہ جنوبی ہند میں سب سے زیادہ صارفین بنگالورو میں ہیں۔ حال آں کہ غیر میٹرو شہروں میں بھی ہمارے صارفین کی تعداد میں کافی تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔

 

آپ نے نیکسَس انکیوبیٹر کی تربیت اور ٹیک کیمپ ساؤتھ ایشیا ۲۰۱۸ میں شرکت کرکے کیا حاصل کیا؟ 

ٹیک کیمپ ساؤتھ ایشیا سے مجھے یہ فائدہ ہوا کہ مجھے وہاں یہ معلوم ہو اکہ کس طرح ہم ٹیکنالوجی اور شراکت کو آپس میں جوڑ کراپنی نوخیز کمپنی کو ترقی دے سکتے ہیں۔

میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے دو پروجیکٹ گرانٹ ملے۔ ایک تو مجھے اپنی ویب سائٹ بنانے کے لیے اور دوسرا پاکستان کی صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والی دو خواتین کاروباری پیشہ وروں کے ساتھ شراکت داری کے لیے تاکہ میں تولیدی صحت سے متعلق بیداری لانے کے لیے متن تیار کر سکوں ۔ 

نیکسَس نے مجھے بہترین تربیت فراہم کی جس سے ہمارے تجارتی ماڈل کو مزید تقویت ملی۔ بازار کے مختلف حصوں میں گہرائی تک رسائی ، اکائی معیشت کا ادراک اور اسٹارٹ اپ والے ماحول میں متعلقہ افراد سے رابطہ سازی : ان تمام معاملات میں ہمیں نیکسَس سے درست راہنمائی ملی۔ذاتی طور پر اس سے مجھے اپنی نووارد کمپنی کو اس کی اگلی سطح تک لے جانے کا حوصلہ ملا۔

اپنے اشتراکی پروجیکٹ کے تحت ہم نے نئی دہلی کے امیریکن سنیٹر میں تولیدی صحت سے متعلق ایک بیدار ی تقریب منعقد کی۔ اس میں خواتین اور جوڑوں نے شرکت کی۔ تقریب میں دو مباحثے ہوئے جس میں ماہرین نے اپنی آرا سے نوازا۔اوّل مکمل طور پر تولیدی صحت کا انتظام کیسے سنبھالیں اور دوئم ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے کیسے خواتین اپنی صحت کا خیال رکھیں ۔ موسیقی ، فنونِ لطیفہ سے علاج اور مصنوعات کی نمائش کو اس تقریب کا حصہ بنانے سے اس کی رونق میں مزید اضافہ ہوگیا۔یوں تقریب پُر جوش ، دلکش اور تعلیمی بن گئی۔ 

 

رنجیتا بسواس کولکاتہ میں مقیم ایک صحافی ہیں۔ وہ افسانوی ادب کا ترجمہ کرنے کے علاوہ چھوٹی کہانیاں بھی لکھتی ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط