مرکز

ہم وطنوں کا معیار زندگی بہتر بنانا

  یونیورسٹی آف سائو تھ فلوریڈا اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ   راجیو گاندھی یونیورسٹی اور رِواچ کے اشتراک سے دیسی مطالعات کی غرض سے ایک فیلڈ اسٹڈی اسکول ریاست اروناچل پردیش میں کھولے۔ 

اس سادہ سے یقین سے تحریک پاکر کہ علم اس وقت زیادہ کارآمد ہوتا ہے جب اسے دوسروں کے ساتھ بانٹا جائے، ریاست اروناچل پردیش میں عالمی طور پر تبادلے کی غرض سے فیلڈ اسکول برائے قبائلی مطالعات قائم کیا گیاہے۔اس کے قیام کا مقصد ثقافتی وسائلِ علم اور میدانی تحقیقی صلاحیتوں کو آپس میں مربوط کر نا ہے تاکہ یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا اور راجیو گاندھی یونیورسٹی کے طلبہ قبائل کی صحت سے متعلق مطالعات کرسکیں ۔ اسکول کا بنیادی کام اس وقت شروع ہوا جب یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا کے ۱۶ طلبہ کے ایک وفد نے اسکول آف سوشل ورک میں ایسوسی ایٹ پروفیسرس منیشا جوشی اور اِرائیڈا وی کیرین کی قیادت میں پروجیکٹ کے سلسلے میں اروناچل پردیش کا دورہ کیا تاکہ وہاں کے قبائل کی حالتِ صحت کا مطالعہ کیا جائے۔ 

 

صحت سے متعلق عدم مساوات پر توجہ

اس وقت پوری دنیا میں تقریباََ ۳۷۰ ملین قبائل آباد ہیں۔ان میں سے ایک تہائی انڈیا میں پائے جاتے ہیں ۔ انہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور ان کے ساتھ صحت کے سلسلے میں بہت شدید عدم مساوات روا رکھا جاتا ہے۔جوشی کہتی ہیں ’’ان کی صحت اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے یہ بات بہت ضروری ہے کہ ہم علاج و معالجہ اور موجودہ سماجی اور ثقافتی ماحول کو سمجھیں اور پہچانیں ۔‘‘

کیرین اتفاق کرتی ہیں کہ افہام و تفہیم کی بہتری کے لیے اکثر بین موضوعاتی نقطۂ نظر سے کام لیا جاتا ہے۔وہ بتاتی ہیں ’’میرے خاندان کا تعلق پیورٹو ریکو سے ہے اور ہماری ثقافتوں میں کافی مماثلت ہے۔میں نے سوشل ورک میں ماسٹر اور علم بشریات میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ چنانچہ جب میں سماج کے پسماندہ طبقات کا مطالعہ کرتی ہوں تو ان دونوں شعبوں کے اہم نظریات کو یکجا کرکے ان کا مطالعہ کرتی ہوں ۔ ‘‘

امریکہ میں کیرین لیٹینو(شمال امریکہ کا یا شمال امریکی نژاد افراد )پر تحقیق کرتی ہیں ۔ 

طلبہ کی شرکت کی حوصلہ افزائی

پروجیکٹ کا کام ۲۰۱۲ ء میں اس وقت شروع ہو ا جب یونیوسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا کے مختلف شعبہ جات کے اساتذہ پہلی مرتبہ اروناچل پردیش گئے۔جوشی اور کیرین کو محسوس ہوا کہ اس طرح کی فیلڈ ٹرپ سیکھنے کی غرض سے طلبہ کے لیے کافی مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔

ایسے پروگراموں میں طلبہ مختلف ثقافتوں، تنوع اور صحت سے جڑے سماجی معاملات کے بارے میں براہ راست تجربہ حاصل کر سکتے ہیں اور وہ بھی امریکہ سے دور ایک الگ طرح کے ماحول میں۔جوشی اور کیرین نے محنت کرکے اسے اسٹڈی ایبروڈ پروگرام میں تبدیل کروا دیا ۔ ۲۰۱۵ ء میں ایک فیکلٹی ٹریول موبیلٹی گرانٹ کے توسط سے انہیں ارونا چل پردیش جانے کے لیے درکار وسائل مہیا کروا دیے جہاں انہوں نے تحقیقی ادارہ برائے قدیم روایت ، ثقافت اور وراثت (آر آئی ڈبلیو اے ٹی سی ایچ یا رِواچ)کے ساتھ تعاون کیا ۔ 

رِواچ ارونا چل پردیش کے زیریں دِبانگ گھاٹی میں واقع ایک غیر منافع ، غیر سرکاری طبقات پر مبنی تحقیقی تنظیم ہے جس کا مقصد پائیدار طریقے سے نسلی قبائل کو بااختیار بنانا ہے۔۲۰۱۶ ء میں جوشی اور کیرین کو پُر وقار امریکہ۔ ہند ٹوینٹی فرسٹ سینچری نالیج اِنی شی ایٹو ایوارڈ ۲۰۱۹ ۔ ۲۰۱۶ سے نوازا گیا ۔ اس کا مقصد شمال مشرقی ہندوستان میں راجیو گاندھی یونیورسٹی اور رِواچ کے اشتراک سے ایک منفرد قبائل مطالعات فیلڈ اسکول برائے عالمی تبادلہ قائم کرنا ہے۔ ٹوینٹی فرسٹ سینچری نالیج انی شی ایٹو کا مقصد امریکی اور ہندوستانی اعلی ٰ تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون اور اشتراک کو مضبوطی فراہم کرنا ہے۔ 

جوشی کا کہنا ہے ’’ فیلڈ اسکول کی مدد سے یو ایس ایف اور آر جی یو کے طلبہ ہماری تربیت سے استفادہ کرکے علم اور طریقۂ کار کو رِواچ کے اشتراک سے قبائل کو مصروف رکھنے کے لیے بروئے کار لا سکتے ہیں ۔اسکول میں شرکت سے لازمی طور پر طلبہ مقامی لوگوں کی صحت سے متعلق تحقیق کرتے ہیں ۔ پروجیکٹ کے ہر مرحلے میں مقامی لوگوں کو شامل کیا جاتا ہے۔ ‘‘

مثال کے طور پر انجالو مینڈا  کا عورتوں کو بااختیار بنانے والا گروپ اس قسم کے جائزوں کو عملی جامہ پہنچانے میں مصروف ہے۔ گروپ نے سرطان اور اس کے علاج پر کمیونٹی کے رویے سے متعلق وسیع پیمانے پر تجزیاتی جائزے لیے ہیں ۔ کیرین بتاتی ہیں ’’ فی الوقت ہم جسمانی اور ذہنی صحت کے معاملات سے متعلق ان اعداد وشمار کا جائزہ لینے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ ان میں سرطان سے متعلق نتائج بھی شامل ہیں ۔ ‘‘  

سیکھنے کا میدان

اَین لاسٹرا اسکول آف سوشل ورک سے گریجویشن کرنے والی ایک طالبہ ہیں ۔لاسٹرا اس ٹیم کی رکن تھیں جس نے قبائلی فیلڈ اسکول قائم کرنے کے لیے اروناچل پردیش کا دورہ کیا ۔چوں کہ ان کی دلچسپی ہمیشہ سے بھارت کے بارے میں جاننے میں تھی ، لہٰذا یہ تجربہ ان کے لیے نہایت خوش گوار رہا۔لاسٹرا نے وہاں بچوں کے امراض و بیماریوں اور علاج و معالجہ کی فراہمی اور خرچ سے متعلق مطالعہ کیا۔اس دورے نے ثقافتی اقدار کی اہمیت کا علاج و معالجہ کے درمیان گہرے رشتے کو نمایاں کیا۔ لاسٹرا بتاتی ہیں ’’ مثال کے طور پر مجھے اب معلوم ہوا کہ انڈیا کی ثقافت خاندان پر منحصر ثقافت ہے۔ یہاں جڑی بوٹیوں کا علاج میں بہت اہم کردار ہے ۔ لہٰذا یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ ان طبقات کے متعلق پالیسی وضع کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا جائے۔ ‘‘ 

جوشی اور کیرین کو یقین ہے کہ اس قسم کے فیلڈ اسکول کے دور رس نتائج ہوں گے اور امریکہ اور انڈیا میں قبائل کے صحت پر تحقیق کرنے والوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا ۔ اس کے علاوہ وہ ان دنوں یونیورسٹیوں ، رِواچ اور قبائل کے درمیان مضبوط اور پائیدار شراکت کی جانب بھی پیش قدمی کر رہی ہیں ۔ وہ پُر امید ہیں کہ اس قسم کی شراکت کے نتیجے میں اختراعی اور جدید ترین تحقیق ہوگی جس سے آخرکار قبائل کی زندگی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ 

 

پارومیتا پین رینو میں واقع یونیورسٹی آف نیواڈا میں گلوبل میڈیا اسٹڈیز کی معاون پروفیسر ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط