مرکز
1 2 3

صحت کی محفوظ تر دیکھ بھال

نیکسَس انکیوبیٹر میں تربیت یافتہ فَیبیوسِس اننوویشنس نے ایک ایسا جرثومہ مخالف کپڑا تیار کیا ہے جس سے کووِڈ 19 وبائی مرض کا مقابلہ کرنے والے صحت کارکنان کے لیے حفاظتی گاؤن بنائے جا سکتے ہیں۔

عالمی تنظیم صحت کے مطابق کسی بھی مقررہ وقت میں پوری دنیا میں ایک اعشاریہ 4ملین افراد اسپتالوں سے لگنے والے انفیکشن سے متاثر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ہر برس تقریباً  80 ہزار لوگ موت کے منہ میں سما جاتے ہیں۔ نئی دہلی کو مرکز بنا کر سرگرم ایک اسٹارٹ اپ کمپنی فَیبیوسِس اننوویشنس نے ایک ایسا کپڑاتیار کیا ہے جو اس طرح کے انفیکشن کو نمایاں حدتک کم کرتا ہے۔کمپنی کی بانی یتی گپتا کے مطابق یہ کپڑا سستا اور دھلائی کے لائق ہے۔ اس سے ایک یا 2 گھنٹے میں 99فی صد جراثیم مر جاتے ہیں۔ کووِڈ 19 وبائی مرض کے مقابلہ کی غرض سے فَیبیو سِس ایک ایسا جرثومہ مخالف کپڑا بنانے کی تیاری کر رہی ہے جسے ڈاکٹروں اور طبی کارکنوں کے لیے حفاظتی گاؤن اور یونیفارم بنانے میں استعمال کیا جا سکے۔

کمپنی کی تربیت نئی دہلی میں امیریکن سینٹر میں واقع نیکسَس انکیوبیٹر اسٹارٹ اَپ ہب میں ہوئی ہے۔ کمپنی کو آئی آئی ٹی دہلی، حکومت ِ ہند کے محکمہ ٔ سائنس و ٹیکنالوجی اور فروغِ انسانی وسائل کی وزارت سے عطیات اور وظائف کی شکل میں امداد بھی ملی ہے۔ پیش ہیں یتی گپتا سے انٹرویو کے اقتباسات۔

 

کیا آپ ہمیں یہ بتا سکتی ہیں کہ آپ کی کمپنی کس قسم کے مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہے؟

کورونا وائرس کے پھیلنے کی اہم صورتوں میں ایک صورت  کروس کونٹیمنیشن (ایسی صورت جس میں جرثومہ نادانستہ طور پر ایک سطح سے دوسری سطح تک منتقل ہوتا ہے اور جس کا اثر نقصاندہ طور پر سامنے آتا ہے)ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ کورونا وائرس مختلف سطحوں پر مختلف دورانیہ تک سرگرم رہ سکتا ہے۔ یہ دورانیہ چند گھنٹوں سے لے کر کئی دن تک کا بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس سے نجات حاصل کرنے کی مثالی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ زیادہ بڑے علاقوں کی تطہیر کی جائے۔ یہ بات درست ہے کہ عام لوگوں کے ربط میں آنے والی سطحوں کی صفائی اور ان کی طہارت کے لیے بڑی مقدار میں قابلِ تطہیر ادویات کی ضرورت ہوتی ہے۔ موجودہ وبا کی طرح قابلِ تطہیر اشیاء کی قلت کے اس دور میں شاید یہ ویسے بھی کم خرچ والا متبادل نہیں۔ اس کے علاوہ صحت کی دیکھ بھال سے راست طور پر وابستہ افراد کا تحفظ بھی ایک نازک مسئلہ ہے۔ علاوہ ازیں انڈیا جیسے ترقی پذیر ملکوں میں صحت عامہ کی دیکھ بھال کی سرکاری سہولتوں میں ضرورت سے زیادہ بھیڑ بھاڑ ہوتی ہے۔

وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے شائع کردہ قومی مریضاں تحفظاتی نفاذ فریم ورک   (2025-2018)انڈیا کے مطابق کسی بھی مقررہ وقت میں اسپتال میں داخل ہونے والے ہر 100مریضوں میں سے10 کواسپتال میں انفیکشن ہوسکتا ہے۔اس میں سے بیشتر انفیکشن آلودہ سطح کو چھونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔

 صحت کی دیکھ بھال کے مراکز میں بستر کی چادروں،مریضوں،ڈاکٹروں اور دیگر صحت کارکنوں کے یونیفارم کے طور پر استعمال ہونے والے کپڑے انفیکشن کا سبب ہوسکتے ہیں۔ ان کپڑوں کو گرم پانی سے بھی دھونے پر وہ جراثیم نہیں مرتے جو ایسے کپڑوں کی سطح سے چپک جاتے ہیں۔ ان کپڑوں کی دھلائی کا بہترین طریقہ اسٹیم واش ہے مگر یہ کام ذرا مشکل ہے اور اس سے اسپتال چلانے کی لاگت میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔ملک میں دورافتادہ مقامات پر واقع بہت سے اسپتالوں میں ایسے کپڑوں کی صفائی کا مناسب انتظام بھی نہیں ہوتا۔اس سے آلودگی اور اسپتالوں میں لگنے والے انفیکشن میں اضافے کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔اسی لیے ایسے کپڑے کی ضرورت ہے جو از خود پاک ہوجائے، جسے عام دھلائی مشینوں میں دھویا جا سکے اور جس کے رکھ رکھاؤ کے لیے خصوصی حالات کی ضرورت نہ پڑے۔

 

 آپ کی کمپنی نے جو کپڑاتیار کیا ہے اسے جلد بازار میں لایا جائے گا۔ آپ اس کے اور اس کے اطلاقات کے بارے میں کچھ بتا سکتی ہیں؟

ہم کپڑوں میں لگنے والے انفیکشن کی روک تھام کے لیے ایسا کپڑا تیار کر رہے ہیں جو انفیکشن سے پاک ہو۔ یہ کپڑا ایک یا دو گھنٹے میں 99 فی صد جراثیم کو مار دیتا ہے۔ہم نے کپڑا بنانے کی ایک ایسی سستی اور نادر تکنیک وضع کی ہے جو عام سوتی کپڑے کو انفیکشن سے پاک کپڑے میں تبدیل کر دیتی ہے۔ ہم سوتی کپڑوں کے رول خریدتے ہیں اورکچھ مخصوص ردعمل کی صورتوں میں اپنے اختصاصی کیمیاوی مادّے میں ان کو بھگو کر کپڑا صنعت میں عام طور پر دستیاب مشینوں کو استعمال کر کے کپڑے بناتے ہیں۔ ان عوامل سے گزر کر آخر میں جو کپڑا نکلتا ہے اس میں جراثیم مارنے کی فعالیت زیادہ ہوتی ہے۔ اس کپڑے کو کئی بار دھونے سے بھی اس کی اثر انگیزی نہیں جاتی۔اسے سلائی کر کے کئی طرح کی چیزیں جیسے بستر کی چادریں،پردے اور مریضوں، ڈاکٹروں اور نرسوں کے یونیفارم بنائے جا سکتے ہیں۔

 

کیا آپ ہمیں اپنی کمپنی کی جانب سے کی جانے والی کووِڈ 19 روک تھام کی کوششوں کے بارے میں بتا سکتی ہیں؟

ہم لوگوں نے کپڑا بنانے کی تکنیک میں تبدیلی کرکے اسے وائرس مخالف بنانے کی اہلیت حاصل کر لی ہے۔ہماری ٹیم نے اس قسم کے کپڑے کے نمونے تیار کیے ہیں۔ کمپنی حکومت کی جانب سے منظور شدہ تجربہ گاہوں (جیسے پونہ میں واقع  نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ویرولوجی)کے رابطے میں ہے تاکہ کپڑے کی وائرس مخالف صفت کی جانچ کر سکے۔اس کے علاوہ کمپنی  بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈس کے بھی رابطے میں ہے تاکہ ڈاکٹروں، نیز صحت کارکنوں کے لیے حفاظتی گاؤن اور یونیفارم جیسی مصنوعات بنانے کی غرض سے کپڑے کو مزید بہتر بنانے کے لیے اسناد حاصل کر سکے۔

 

 آپ کی کمپنی کو ایسے کسی پروڈکٹ کو بازار میں لانے کا خیال کیسے آیا؟ آپ کا پس منظر کیا ہے؟

میں نے آئی آئی ٹی دہلی سے بی ٹیک کی ڈگری لی ہے۔ گریجویٹ تعلیم کے برسوں کے دوران میں نے صحت کی دیکھ بھال سے متعلق متعدد منصوبوں پر کام کر کے طبی ٹیکنالوجی میں تجربہ حاصل کیا۔ان منصوبوں پر کام کے دوران میں قریب کے سرکاری اسپتال جایا کرتی اور وہاں مریضوں سے بات کرتی۔ایک معروف سرکاری اسپتال کے کئی مریضوں نے مجھے بتایا کہ اسپتال میں داخل ہونے کے بعد وہ پہلے سے زیادہ بیمار ہو گئے۔ میں نے جب اس کی تحقیق شروع کی تو یہ بات واضح ہوئی کہ انڈیا جیسے ترقی پذیر ملکوں میں اسپتال سے لگنے والا انفیکشن ایک حقیقی مسئلہ ہے۔ملک کی گرم اور مرطوب آب و ہوا بھی اس طرح کے جراثیم کی نمو کے لیے موافق ہوتی ہے۔

 

آپ کس طرح اپنے پروڈکٹ کو صارفین تک پہنچائیں گی؟ کیا یہ سستا ہوگا؟

ہماری کمپنی کچا کپڑا بڑی مقدار میں خریدکر اسے اپنے اختصاصی کیمیاوی مادّے اور عوامل کی ہدایت کے ساتھ کپڑا بنانے والی صنعتوں کو بھیج دیتی ہے۔ وہاں کئی طرح کے ضروری مراحل سے گزرنے کے بعد ہم انفیکشن سے پاک کپڑے کو واپس لے لیتے ہیں اور انہیں بستر کی چادروں اور یونیفارم کی صورت میں سلوا لیتے ہیں۔ ہمارا منصوبہ یہ ہے کہ ہم انہیں راست طور پر اسپتالوں کو دستیاب کروا دیں۔ ہماری  پروسسنگ ٹیکنالوجی بہت سستی ہے جو ہمیں اس لائق بناتی ہے کہ ہم برائے نام اضافی خرچ پر عام سوتی کپڑے کو انفیکشن سے پاک پارچہ جات میں تبدیل کر دیں۔

ہم فی الحال دہلی۔این سی آر خطہ اور احمد آباد میں بڑے پیمانے پر کپڑا بنانے کے آزمائشی عمل سے گزر رہے ہیں۔ ہم دہلی کے ایمس کے ساتھ ایک پائلٹ پروجیکٹ پربھی کام کررہے ہیں جس کی رو سے اسپتال میں اس کپڑے کو مریضوں کے لیے چادروں کی صورت میں دستیاب کروایا جائے گا۔ اس کی شروعات اسپتال کے انتہائی نگہداشت والی یونٹ(آئی سی یو) سے ہوگی۔ اس سے ہمارے دعوے کی حقیقت بھی سامنے آئے گی۔ ساتھ ہی ساتھ ان کپڑوں میں اسپتال سے لگنے والے انفیکشن میں کمی کا اندازہ بھی کیا جا سکے گا۔ہم ملک کے بعض بڑے اسپتالوں کے نیٹ ورک کے ساتھ ابتدائی گفت و شنید کر رہے ہیں تاکہ ان کے ساتھ بھی پائلٹ پروجیکٹ شروع کر سکیں اور مزید اشتراک کے امکانات کا جائزہ لے سکیں۔

 

 نتاشا ملاس نیو یارک سٹی میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط