مرکز
1 2 3

طبی ضروریات کی تکمیل

ٹیک کیمپ ساؤتھ ایشیا میں شرکت کر چکی رومیتا گھوش اپنی اسٹارٹ اپ کمپنیوں اَیڈ مائی رَس اور میڈ سمان کے ذریعہ طبی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ہند میں طبی سہولیات کی عدم فراہمی ایک سنگین مسئلہ ہے۔اس کے حل کے لیے رومیتا گھوش نے دو نوخیز کمپنیوں اَیڈ مائی رَس اور میڈ سمان کی بنیاد ڈالی۔اَیڈ مائی رَس ممبئی میں واقع طبی آلات کی بازارکاری کرنے والی کمپنی ہے جس کا مقصد عالمی اختراعات کے تناظر میں ملک میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام کے درمیان موجود خلا کو پاٹنا ہے۔میڈ سامان مصنوعی ذہانت کے ذریعہ صحت سے متعلق خدمات اور دیگر قابل استعمال اشیاء کو بغیر کسی مشکل کے سستی قیمت پر حاصل کرنے میں مدد کرتی ہے۔

پیش ہیں گھوش سے انٹرویو کے اقتباسات جن میں وہ اپنی نووارد کمپنیوں اور ٹیک کیمپ ساؤتھ ایشیاء میں اپنے تجربات سے روشناس کرارہی ہیں۔

 

کیا اَیڈ مائی رَس اور میڈ سمان شروع کرنے کے پورے عمل کے بارے میں کچھ بتائیں گی؟

مجھے معلوم تھا کہ صحت کی دیکھ بھال ایک ایسا شعبہ ہے جس میںنہ صرف یہ کہ میرے پاس خاص قابلیت ہے بلکہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم بھی ہے جہاں میں کافی مؤثر ثابت ہو سکتی ہوں۔ اس لیے میں نے اپنا کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ میں عالمی اختراعات والی جدید ٹیکنالوجی کو ملک میں متعارف کر سکوں۔ شروع میں تو میں اکیلی تھی اور مجھے اکاؤنٹنٹ ، مذاکرات کار، آپریشنس ہیڈ اور سی ای او وغیرہ کی خدمات تن تنہا انجام دینی پڑتی تھیں۔۹ برس کی سخت محنت کے بعد اَیڈ مائی رَس اب ایک معروف نام بننے میں کامیاب ہوئی ہے۔کمپنی کی پہچان اب ملک کی ان چند مخصوص کمپنیوں میں ہوتی ہے جو طبی آلات درآمد کرنے میں مہارت رکھتی ہیں۔کمپنی کا اپنا مخصوص مصنوعات کے رجسٹریشن کا شعبہ ہے جو اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ درآمد کی گئیں مصنوعات طبی آلات سے متعلق ضوابط پر کھری اترتی ہیں۔

اس کے بعد میں نے میڈ سامان کی بنیاد ڈالی۔اس کا مقصد دیہی اور نیم شہری علاقوں میں جسمانی ، معاشی اور مالیاتی طور پر قائم شدہ صحت سے متعلق تفریق کو کم کرنا ہے۔ کمپنی کا ہدف ملک کے دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں میں طبی آلات کی فراہمی اور ان کا استعمال کرنے والوں تک اس کی سستی قیمت پر دستیابی ہے۔

 

ملک کے طبی دیکھ بھال کے نظام کی بہتری کے لیے اَیڈ مائی رَس عالمی ترقیات سے کس طرح خود کو منسلک کرتی ہے؟

کمپنی ہمیشہ سے اس بات کی خواہاں رہی ہے کہ ملک میں دنیا بھر کی بہترین اختراعی تکنیک متعارف کی جا سکے اور ان کی مقامی لوگوں تک رسائی کو ممکن بنایا جا سکے۔مثال کے طور پر ہم نے ایک ایسا اختراعی اسپَنج متعارف کیا ہے جو محض ۱۰ ملی لیٹر پانی میں آپ کے سارے بدن کو صاف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی ان لوگوں کو خاص طور پر ضرورت ہوتی ہے جو چلنے پھرنے سے معذور ہوں اور ان مقا مات پر جہاں پانی کی قلت ہو۔

طبی آلات کی فراہمی کے مرکزی دھارے میں ہم نے تائیوان کی کم قیمت والی کولا جین میٹرکسمتعارف کی؛امریکہ سے آپریشن کے بعد صدمے کی کیفیت سے باہر آنے کے لیے ہیمو اسٹیٹ، تلف ہو جانے والی ناک کی ڈریسنگاور زخم کی نگہداشت کے لیے این ڈبلیو پی ٹی ؛جرمنی سے سستا اورآسانی سے دستیاب ہونے والا اسپتالوں کے لیے لازمی جراثیم کش نظام ،مائیکرو اِنکیپسولیٹیڈ نیوٹرینٹس ، ڈیٹوکس اور پرو بائیوٹِک رینج فرانس سے،چاندی والی کھرونچ مخالف پٹیاں کناڈا سے،تقویمی ضروریات کے لیے دو انفرا ریڈ پَیچاور بخار کے لیے طفل دوست جیل پَیچس۔اور مذکورہ قسم کی کافی مصنوعات کی فراہمی کا منصوبہ زیر غور ہے۔

 

کیاآپ میڈ سامان میں استعمال ہونے والی مصنوعی ذہانت کے متعلق کچھ بتائیں گی؟

مصنوعی ذہانت کی بدولت دنیا کی بہت ساری صنعتوں میں ایسی تبدیلیاں آرہی ہیں جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ پہلے جس کا م کا کرنا کافی مشکل سمجھا جا تا تھا ، اسے اب مصنوعی ذہانت کے ماڈلس کی مدد سے منٹوں میں انجام دیا جا سکتا ہے۔ فی الحال مصنوعی ذہانت کے نمونوں کو ہم اپنے یہاں ہی تیار کر رہے ہیں جس سے کمپنی کے تجارتی عمل کی کارکردگی اور تاثیر میں اضافہ ہوگا۔

 

ٹیک کیمپ ساؤتھ ایشیا ء میں شرکت کا آپ کا تجربہ کیسا رہا؟

ٹیک کیمپ ساؤتھ ایشیا ء کا تجربہ نہایت منفرد تھا۔اس میں پاک و ہند سے خواتین کاروباری پیشہ ور یکجا ہوئی تھیں۔ اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ ترغیب اور امید کی کوئی سرحد اور کوئی جغرافیہ نہیں ہوتا۔

ہر اجلاس انہماک سے پُر تھا۔چوں کہ ساتھ ساتھ کئی اجلاس ہو رہے تھے اس لیے مجھے یہ دشواری رہی کہ کس کا انتخاب کروں کیوں کہ ہر کلاس کی اپنی اہمیت اور افادیت تھی۔ نصاب بھی دیگر ورک شاپ کے مقابلے قدرے مختلف تھا۔ اس سے ہم ایک دوسرے کے ساتھ گہرا ذاتی تعلق بھی قائم کر سکے۔ اجلاس سے یہ بات سامنے آئی کہ ہمارے زیادہ تر مسائل اور دشواریاں یکساں تھیں ۔ اسی لیے کچھ بہتر کرنے کی ہماری تحریکات بھی ایک جیسی تھیں۔

میں نے بازارکاری کی حکمت عملی ،گوگل انیلیٹِکس ،ڈیزائن تھنکِنگ ، بات کرسکنے والے روبوٹ کی بنیادی چیزیں اور ویڈیو بنانے میں تربیت حاصل کی اور پھر ان صلاحیتوں کا استعمال کیا۔مجھے ملک کی بعض سرکردہ شخصیات اور دیگر خواتین کاروباری پیشہ وروں سے ملاقات کا موقع ملا ۔

مجھے فخر ہے کہ ٹیک کیمپ کی جانب سے مجھے بہت پیچیدہ مگر پُر اثر منصوبے پر کام کرنے اوردہلی اور اس کے اطراف میں ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے طبی سہولیات دستیاب کروانے کے لیے عطیہ ملا۔ اس پروجیکٹ پر کام کرتے ہوئے میں نے اپنی محدودیت کا دائرہ وسیع کیا اور کم مواقع میں زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ میں ضرورت مند افراد اور خاندانوں تک پہنچی اور ان کو سمجھایا کہ بنیادی طبی مصنوعات کے حصول کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کیسے کریں۔مریضوں کی راہنمائی کی کہ مناسب طریقے کا استعمال کرکے درست علاج کیسے کروائیں۔ میں نے خواتین کو ان کی تولیدی صحت درست رکھنے کی تربیت بھی دی۔ اس بیچ میں ایک ایسا پلیٹ فارم بھی تیار کر رہی تھی جو طبی آلات بھی فراہم کرے گا تاکہ مریض اسے آسانی کے ساتھ حاصل کر سکیں۔ میں نے متعلقہ سرکاری دفاتر میں افسران سے ملاقات کی اور ان سے درخواست کی کہ وہ صحت سے متعلق اپنے پروگرام میں ہمیں بھی شامل کریں۔

 

آپ کے موجودہ پروجیکٹس کون کون سے ہیں اور آپ کے مستقبل کے کیا منصوبے ہیں؟

فی الحال ہم مشین لرننگ اور ڈیپ لرننگ کے اصولوں پر مبنی اپنے نمونے خود ہی تیار کر رہے ہیںتاکہ ڈاکٹر مریضوں کا علاج بہتر طریقہ پر کر سکیں۔ہم مریضوں کی بھی مدد کررہے ہیںتاکہ وہ طبی مصنوعات کی آن لائن خریداری کرتے وقت بہترانتخاب کرسکیں۔مستقبل میں ہم مصنوعی ذہانت کا استعمال کرکے صحت دیکھ بھال کے شعبے میں انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں جس سے مختلف مراحل جیسے بیماری کی تشخیص، طبی آلات اور ادویہ کا استعمال اور اس کے بعد کے مراحل ایک چھت کے نیچے ہی دستیاب ہو سکیں ۔ اس سے حقیقی وقت میں مریضوں کی بہتر طریقے پر نگرانی اور ان کی تشخیص ہو سکے گی ۔ اور اس سے موجودہ ڈاکٹر۔ مریض تناسب کو بھی سنبھالنے میں بھی آسانی ہوگی۔

 

ٹریور لارینس جوکِمس نیویارک یونیورسٹی میں تحریر ، ادب اور معاصر ثقافت کی تدریس کر تے ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط