مرکز

چست درست حل

واشنگٹن یونی ورسٹی میںتعلیم حاصل کر رہی ہند کی پی ایچ ڈی طالبہ راج لکشمی نند کمار ایسے موبائل اَیپس تیار کر رہی ہیں جن سے صحت کے لیے خطرناک اور مہلک مسائل کی آسانی کے ساتھ تشخیص کی جا سکتی ہے۔

سائنس فِکشن ٹی وی اور فلم سیریز  اسٹار ٹریک میں ہاتھ میں پکڑے جا سکنے والے آلہ ٹرائی کارڈر کا ایساطبی متبادل استعمال کیا جاتا ہے جس کو صرف مریض کی سمت رکھنے سے ہی سیکنڈوں میں مکمل تشخیص ہو جاتی ۔اب پی ایچ ڈی کرنے والی انڈیا کی ایک طالبہ ایسی تکنیک ایجاد کر رہی ہیں جو یکساں طور پر حیران کُن ہے۔ 

راج لکشمی نند کمار سیئٹل میں واقع واشنگٹن یونیورسٹی کے  پال جی اَیلن اسکول آف کمپیوٹر سائنس اینڈ انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کی طالبہ ہیں ۔ ان کی تحقیق کی تما م تر توجہ اس امر پر مرکوز ہے کہ صحت پر نگرانی رکھنے والے ایسے موبائل اَیپس تیار کیے جائیں جنہیں آسانی کے ساتھ اسمارٹ فونس پر استعمال کیا جا سکے۔ 

ہر اَیپ کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ اسمارٹ فون کے اسپیکرس اور مائکرو فونس کو ایک طرح کے سونار آلہ میں تبدیل کر دیتا ہے جو انسانی جسم کی مختلف حرکات و سکنات مثلاََ سانس لینا اور ہاتھ کی حرکت کا بالکل اسی طرح پتہ لگا لیتا ہے جس طرح چمگادڑ اندھیرے میں کا م کرتاہے۔ اصل میں چمگادڑ جو آواز نکالتا ہے وہ قرب و جوار میں موجود رکاوٹوں اور کیڑے مکوڑوں سے ٹکرا کر واپس آ جاتی ہے ۔ اسی بنیاد پر چمگادڑ اپنا راستہ تبدیل کرتا ہے۔ 

نند کمار کا پہلا پراجکٹ تھا نیند میں سانس رک جانے کے مسئلہ کے حل کے لیے تکنیک تیار کرنا ۔ اس مرض کے شکار مریض کی رات کو سوتے میں بار بار سانس رُکنے کے سبب آنکھ کھُلتی رہتی ہے۔اس تکنیک کو کیلی فورنیا کی تکنیکی کمپنی  ریس میڈ نے لائسنس دیا ہے۔کمپنی اینڈروائڈ اور آئی فون پر  سلیپ اسکور نامی اس اَیپ کو مفت مہیا کروا رہی ہے۔ اس اَیپ کی مدد سے لوگ اپنی نیند کے معیار کی نگرانی بخوبی کر سکتے ہیں ۔۲۰۱۸ ء میں اس کے متعارف ہونے کے بعد سے اب تک اسے ہزاروں بار ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے۔

اس اَیپ کے کام کرنے کا اصول یہ ہے کہ یہ فون کے اسپیکر سے نہیں سنے جا سکنے والے صوتی سگنل کی ترسیل کو بھی یقینی بناتا ہے۔

اَیپ سگنل کے انسانی جسم سے ٹکرا کر واپس آنے کا حساب رکھتا ہے۔ الگورِدم اور سگنل پراسیسنگ تکنیک کے ذریعہ ان انعکاسات کو سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ دراصل ایک منتشر کرنے والی تکنیک ہے۔ یہ کم قیمت میں اور بغیر انسانی جسم میں کسی چیز کے داخل کیے ہوئے نیند میں سانس کے رُک جانے کا پتہ لگاتی ہے۔ ہاں یہ بات درست ہے کہ یہ اس روایتی تکنیک کے برخلاف ہے جس میں مریض کو رات کلینک میں گزارنی پڑتی ہے جہاں اس کے سارے جسم پر تار لگے ہوتے ہیں جو ایک مانیٹر سے جڑے ہوتے ہیں ۔ ایسا کرکے نیند میں سانس رُک جانے کا پتہ لگایا جاتا ہے۔ 

نندکمار نے جب پانچ برس قبل اپنی تحقیق کا آغاز کیا تو وہ انجام سے بالکل بے خبر تھیں ۔ وہ کہتی ہیں ’’ہم اسمارٹ فونس کے اسپیکرس اور مائیکرو فونس پر کام کر رہے تھے تو ہم نے دیکھا کہ یہ سانس کو پہنچان سکتا ہے۔ تو پھر انہوں نے میڈیکل اسکول کے ڈاکٹروں کے ساتھ مل کر یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا اس طرح کے عملی اَیپس تیار کیے جا سکتے ہیں جن کا استعمال صحت کے میدان میں ممکن ہو۔ 

ستمبر ۲۰۱۸ ء میں مارکونی سوسائٹی نے نند کمار کو عام طور پر دستیاب اسمارٹ فون کی مدد سے زندگی کو خطرے سے دو چار کرنے والے صحت کے مسائل کی تشخیص میں ان کی کار کردگی کی بدولت انہیں  پال بارن ینگ اسکالر ایوارڈ سے نوازا۔ اس اعزاز کا مقصد ان ممتاز نوجوان سائنسدانوں اور انجینئر وں کا اعتراف کرنا ہے جنہوں نے نمایاں صلاحیت اور قابلیت کا مظاہرہ کیا ہے۔

اَیلن اسکول میں ایسو سی ایٹ پروفیسر اور نند کمار کے مشیر ڈاکٹر شیام گولا کوٹا نے مارکونی سوسائٹی کو دیے گئے اپنے بیان میں کہا 

’’ راج لکشمی کو ایسے مسائل کا انتخاب کرنے کی عادت ہے جن کا معا شرے پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔حیرت انگیز طور پرانہوں نے ایسی تکنیک تیار کی ہے جو ہمیں سائنس فِکشن کی طرح معلوم ہوتی ہے۔ مگر حقیقی دنیا میں اسے سیکڑوں ہزاروں افراد نے اپنا یا ہے۔ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ ایک گریجویٹ طالب علم کو محض ایک اَیپ کی بدولت اس قدر مقبولیت حاصل ہو۔ اورنند کمار کے معاملے میں ایسا بار بار ہوا ہے۔‘‘

نند کمار نے ایسی تکنیک بھی تیار کی ہے جس کے ذریعہ افیون یا کوکین کے زیادہ استعمال کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ فی الحال اس کی جانچ کناڈا کی سرحد پر واقع  سیف انجیکشن فیسیلیٹی میں چل رہی ہے۔اس میں نہایت خفیف صوتی سگنل کا استعمال کم سانس اور کم حرکتِ قلب کی پہچان کے لیے ہوتا ہے۔ اس میں یہ سہولت ہے کہ اگر کسی انسان کی جان کو خطرہ لاحق ہے تو اس کے لیے ہنگامی خدمات طلب کی جاسکتی ہیں۔ ایسی سستی اور آسان تکنیک جو افیون اور کو کین کی زیادہ مقدار کا پتہ لگانا یقینی بنا سکے ، امریکہ کے لیے کافی سودمند ہے کیوں کہ ان منشیات کے سبب وہاں ہر روز ۱۱۵ اموات ہو تی ہیں ۔

نند کمار آج کل اپنی ایک اور ٹیکنالوجی کے نمونہ کی جانچ میں مصروف ہیں جس کے ذریعہ سے ہوا میں محض انگلیاں گھمانے سے یا ڈیسک ٹاپ کی پشت پر انگلیاں پھیرنے سے موبائل فون کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایک ایسی تکنیک کی بھی جانچ کی جس کے ذریعہ فاصلے سے دیوار کی دوسری جانب انسانی موجودگی کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔اس تکنیک میں موسیقی میں چھپے صوتی سگنلوں کو اسپیکر پر چلایا جاتا ہے۔ اس طرح کی ٹیکنالوجی کااستعمال گھروں کے حفاظتی نظام کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے۔مگر اس سے نند کمار کا مقصد لوگوں کو روز مرہ کے الیکٹرانک آلات کے غلط استعمال بالخصوص جاسوسی کے خطرات سے آگاہ کرنا ہے۔ 

نند کمار ریاست تمل ناڈو کے شہر مدو رئی میں پیدا ہوئیں اور وہیں ان کی پرورش بھی ہوئی۔ گُنڈی کے انجینئر نگ کالج سے انہوں نے کمپیوٹر سائنس اور انجینئرنگ میں بی ٹیک کی ڈگری لی۔ اس کے بعد انہوں نے مائیکرو سافٹ ریسرچ انڈیا میں دو برس تک کام کیا ۔ پھر ۲۰۱۳ ء میں واشنگٹن یونیورسٹی میں گریجویٹ کورس میں داخلہ لیا۔ وہ کہتی ہیں کہ اُن کے کام کا مشکل ترین مرحلہ ا ن کے اَیپس کی 

فیلڈ ٹیسٹنگ ہے ۔ نند کمار بتاتی ہیں کہ استعمال کے لائق ہونے کے لیے عام طور پر ٹیکنالوجی کے تین سے چار مختلف ماڈل بنانے پڑتے ہیں ۔

اسٹار ٹریک کی افسانوی اسٹار شپ  یو ایس ایس انٹرپرائز ایسی تصوراتی اِسٹار شِپ ہے جو لوگوں کو شعاع کی طرح ادھر سے ادھر اور جہاز میں واپس لے جا سکتی ہے، تو کیا نند کمار ایسا سمجھتی ہیں کہ وہ ایسی کوئی تکنیک تیار کر پائیں گی؟ نند کمار کا جواب تھا ’’ ابھی نہیں ‘‘۔ 

مگر پھر وہ ہنس کر کہتی ہیں ’’ مگر بہت جلد ۔‘‘

برٹن بولاگ واشنگٹن ڈی سی میں مقیم آزاد پیشہ قلمکار ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط