مرکز

پُرشکوہ تعمیرات

لاگ ہاؤس سے لے کر تمثالی عمارتوں تک پورے امریکہ میں جرمنی کے فنِ تعمیر سے تحریک پائی ہوئی  تعمیرات دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔

صدر ابراہم لنکن  کے لاگ کیبن  اور ٹکساس کی ہِل کاؤنٹی میں جرمنی کے دیہی علاقوں کی تعمیرات سے متاثر عمارتوں سے لے کر امریکی شہروں کی آسمان چھوتی عمارتوں اور مشہور پلوں تکاِروِن رِچمَین کو امریکہ میں جرمنی کے فن ِ تعمیر کے طرز والی عمارتوں کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔امریکی فنونِ لطیفہ اور فنِ تعمیر کے ماہررِچمَین نے اپنی کتاب  جرمن آرکی ٹیکچر اِن امیریکہ : فوک ہاؤس ، یورہاؤس، باؤ ہاؤس اینڈ مور میں امریکی طرز کی عمارتوں میں جرمن تارکین وطن کے اثرات کی جستجو کی ہے۔ وہ  مِڈل ٹاؤن کے ہَیرس برگ  میں پین سلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی میں امریکی مطالعہ جات ، تاریخ اور ہیومینیٹیز کے  پروفیسر امیریٹس ہیں۔

 امریکہ میں جرمنی سے مہاجرت ۱۶ ویں صدی عیسوی میں شروع ہوئی۔ اس صدی کی دوسری دہائی میں جرمن مہاجر ڈچ نیو اَیمسٹرڈم  (اس کا نام ۱۶۶۴ء میں نیو یارک رکھا گیا)میں بسنے لگے۔ جرمن عوام کی مہاجرت کے بعد جرمن لیو تھیرنس اور دیگر چرچ کے افراد اور دوسرے طبقات یورپ کی مذہبی جنگوں سے راہِ فرار اختیار کرتے ہوئے ۱۶۸۳ ء سے ۱۷۹۰ ء کے درمیان پین سلوانیا میں بود و باش اختیار کرنے کے لئے آگئے۔۱۸۴۸ ء میں نقل مکانی کرنے والوں کی بڑی تعداد، جن میں زیادہ تر جرمن اقتصادی پناہ گزیں اور عیسائی اور یہودی دانشوران اور پیشہ ور افراد تھے ،نے امریکہ کو اپنا مسکن بنا لیا۔اور آخر میں ۱۹۳۰ ء کی دہائی میں نازی حکومت کے عروج کے باعث بہت سے جرمن فنکار ، فنِ تعمیر کے ماہرین اور انجینئروں نے بھی امریکہ کا رخ کیا۔   

جرمن ورثہ

یہی وجہ ہے کہ پورے امریکہ میں جرمن ورثہ کی بہت سی نشانیاں موجود ہیں ۔ان میں ریاست  نیو ہیمپ شائر کے شہر برلن اور ہَینوور  اور نیویارک میں ہڈسن دریا سے منسلک رائن بیک اور رائن کِلِف سے لے کر  اَینہیوسَر بُچ ، پَیبسٹ، شِلِز جیسی محلوں کی طرح نظر آنے والی بھٹیاں بھی شامل ہیں۔ رِچمَین کہتے ہیں ’’عام فن تعمیر کی روایتوں سے لے کر ترقی پسند عمارتوںتک کے فن تعمیر پر جرمنی کے معماروں کے اثر ات کے کئی پہلو ہیں اور امریکہ کی کئی غیر معمولی عمارتوں کے ڈیزائن جرمن فن تعمیر کے ماہرین نے تیار کئے ہیں۔‘‘

مثال کے طور پر ۱۸۸۳ء  کا انجینئرنگ کا کا رِ نمایاں  دی بروکلِن برج جو بروکلِن کو مَین ہٹن جزیرے سے ملاتا ہے، اس کا ڈیزائن جرمنی میں پیدا ہوئے امریکی سول انجینئر جان اگستس روئبلنگ نے تیار کیا تھا جسے ان کے بیٹے جارج واشنگٹن روئبلنگ نے مکمل کیا۔اسی طرح واشنگٹن، ڈی سی میں لائبریری آف کانگریس کیدی تھامس جیفرسن بلڈنگ کو جان ایل اسمتھ میئر اور جرمن امریکی معمار پال جے پیلز نے ڈیزائن کیا تھا۔

فن ِتعمیر کے شعبے میں جدیدیت

۱۹۳۰ ء کی دہائی میں معروف معمار والٹر گروپی یَس نے جرمنی کے مشہور آرٹ اسکول اسٹاٹلیچیز باؤہاؤس کے ڈائرکٹر کے طور پر اپنی ملازمت چھوڑی اور امریکہ میں جدیدیت کو متعارف کرنے کا باعث بنے۔۱۹۳۸ ء سے ۱۹۵۲ ء کے دوران ہارورڈ یونیورسٹی کے فن تعمیر کے شعبے کے چیئرمین رہتے ہوئے   گروپی یَس نے مساچیوسٹس کے لنکن میں واقع اپنا گھرماڈرن ہاؤس ، باؤہاؤس طرزمیں ڈیزائن کیاجس میں عصری ایجاد گلاس بلاک سمیت کارخانوں کے ساز و سامان کا استعمال کیا گیا جو نئے فن ِ تعمیر کا ترجمان بنا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ گھر بعد میں ایک قومی تاریخی امتیازی نشان میں تبدیل کر دیا گیا جو اب ایک غیر سرکاری تنظیم دی ہِسٹورِک نیو انگلینڈکی ملکیت ہے ۔ 

 گروپی یَس کا نام اکثر امریکی  ہارورڈ گریجویٹ اسکول آف ڈیزائن کی ساکھ کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے جو امریکی جدید فن تعمیر کا گہوارہ ہے۔ ہارورڈ میگزین میں شائع ایک مضمون کے مطابق ’’ہارورڈ میں ان کے دَور کو فرانسیسی  بیرو آرٹس کے طریقہ سے فن تعمیر کی تعلیم دینے کا اختتام تسلیم کیا جاتا ہے۔گروپی یَس  کافلسفہ جرمن باؤہاؤس میں ان کی قیادت سے بھی آگے بڑھ گیا جس میں صنعتی ساز و سامان اور ٹیکنالوجی ، فعالیت ، مختلف کاروباروں کے درمیان تعاون اور سابقہ تاریخی نمونوں کے مکمل پرہیز پر زور دیا جاتا تھا۔‘‘

جدید طرز تعمیر کے ایک اور معمار جرمن نژاد امریکی  لُڈ وِگ مائیز وان ڈیر رو تھے جو   باؤہاؤس کے آخر ی ڈائرکٹر تھے۔۱۹۳۸ء سے ۱۹۵۳ ء تک دی ایلی نوائے انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں فنِ تعمیر کے شعبے کے سربراہ رہتے ہوئے انہوں نے معماروں کی ایک نسل کی تربیت کی۔ ان کے تمثالی کارناموں میں  سی گرام بلڈنگ بھی شامل ہے جسے انہوں نے امریکی ماہرِ تعمیر فِلِپ جانسن کے ساتھ مل کر ڈیزائن کیا تھا۔ اس کی تحریک انہیں شکاگو کے قریب واقعفارنس ورتھ ہاؤس سے ملی جسیلُڈ وِگ مائیز وان ڈیر رو نے ڈیزائن کیا تھا۔

  روایتی فن تعمیر

جرمن روایتی فن تعمیر کی مثالیں نہ صرف ابتدائی تارکین وطن کی منزل نیو یارک اور اس کے قریب واقع ریاستوں کے قدرتی مناظرمیں بلکہ امریکہ کی ریاست کینٹکی  میں واقع ۱۶ ویں صدر ابراہم لنکن کے ایک کمرے والے لاگ کیبن  اور مِڈ ویسٹ(امریکہ کے شمال وسطی علاقے میں واقع ریاستوں کو مِڈ ویسٹرن یا مِڈ ویسٹ کہتے ہیں)کے فارم اور چرچوں میں بھی نظر آتی ہیں۔اینٹ یا کنکر پتھر والے ایسے گھر (جن کا نصف حصہ لکڑی پر مشتمل ہوتا ہے)جن پر موسم کے

 سرد گرم سے بچنے کے لئے پلاسٹر چڑھائے جاتے ہیں، وہ جرمن باشندوں کے بسنے والے ابتدائی علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ پین سلوانیا،کو عام طور پر  لاگ ہومس کے امریکی تصور کی جائے پیدائش خیال کیا جاتا ہے۔رِچمَین کہتے ہیں ’’جرمن لاگ ٹیکنالوجی کے استعمال سے بنے گھروں میں ان کی تین خواب گاہوں کے منصوبے میں ایک باورچی خانہ، دیوان خانہ جو باورچی خانے کی چمنی کے پیچھے کی گرمی سے گرم ہوتا ہے، ایک گرم نہ ہونے والی خوابگاہ اور پہلی منزل پر بغیر مرکزی ہال والی تین خوابگاہیں ہوتی ہیں۔ لاگ پر اکثر مسالے کا غلاف ہوتا ہے اور یہ باہر سے معیاری انگریزی فن ِ تعمیر سے متاثرہ عمارت نظر آتی ہے۔‘‘

پین سلوانیا میں بنائے جانے والے خاص قسم کے مکان (جنہیں بینک بارن کہا جاتا ہے)کی کھوج اورریاست  نارتھ کیرولینا میں گریٹ ویلی آف ورجینیا جرمن نقل مکانی کے راستے کا عکاس ہے۔ دو سطح والے  بینک بارن   نہ صرف پہاڑ کے کنارے بنائے جاتے ہیں بلکہ وہ نظر بھی پہاڑی جیسے ہی آتے ہیں ۔ ان میں مکان کا نچلا حصہ کسانوں اور ان کے مویشیوں کے لئے ہوتا ہے جب کہ اناج اور سوکھی گھاس کے لئے بالائی حصے کو مختص کیا جاتا ہے۔ 

اثرات ایک ساحل سے دوسرے ساحل تک شمال وسطی علاقے میں واقع ریاستوں کے شہر جرمنی کے فن تعمیر سے تحریک پاکر بنائی گئی عمارتوں سے بھرے پڑے ہیں۔ ان میں شکاگو آڈیٹوریم ، سینٹ لوئی یونین اسٹیشن ،مِلواؤ کی سٹی ہال، ریاست مشی گن کی سب سے کثیر آبادی والے شہر ڈیٹرائٹ کے گلاسوں کی دیوار والی آٹو موبائل فیکٹریاں وغیرہ۔ رِچمَین بتاتے ہیں ’’یہاں جرمن اثر اتنا وسیع تھا کہ ۱۸۴۳ ء میں ریپبلک آف ٹکساس  نے یہ حکم جاری کر دیا تھا کہ تمام قوانین انگریزی زبان کے ساتھ جرمن زبان میں بھی شائع کئے جائیں۔‘‘

۱۸۵۵ ء تک نیویارک شہر صرف برلن اور ویانا کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ جرمن زبان بولنے والے افراد کا شہر بن چکا تھا۔بہت سے جرمن نژاد افراد مَین ہٹن کے لوور ایسٹ سائڈ پرواقع کلینڈیوچ لینڈ (جسے چھوٹا جرمنی بھی کہا جاتا ہے)میں بھی رہتے ہیں۔ اس کا سہرا ان جرمن تارکین وطن کو جانا چاہئے جو ملک بھر کے شہروں میں ۲۰ ویں صدی کی جدید اور مابعد جدید سنگ میل عمارتوں کے معمار اور سر پرست بن گئے۔ نیو یارک سٹی کے دی والڈورف اسٹوریہ ہوٹل ،  ویرازانو-نیروز برج اور نیویارک سٹی کے گگن ہیم میوزیم کی تعمیر یا ان کی شروعات جرمن نژاد افراد نے ہی کی تھی۔اسی طرح ٹکساس کا  نیمین -مارکَس ڈیپارٹمینٹ اسٹور اور ریاست اوہائیو میں رائن ندی سے متصل علاقے میں واقع  سنسناٹی میوزک ہال  بھی جرمن نژاد افراد کی ہی دَین ہے۔ ۱۹ ویں صدی کے وسط میں یہ علاقہ جرمن تارکینِ وطن کی ثقافت کا ایک اہم مرکز بن چکا تھا۔اس طور پر امریکہ میں ان اور بہت سی دیگر تاریخی عمارتوں نے امریکی فن تعمیر پر جرمن اثرات کو برقرار رکھا ہے۔ 

ہلیری ہو پیک کیلی فورنیا کے اورِنڈا میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار ، ایک اخبار کی سابق ناشر اور نامہ نگار ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط