مرکز
1 2 3

چمن کے بقا کی سرگرمی

پروفیسراختر الواسع ہندوستان کی لسانی اقلیتوں کے آئینی حقوق کے تحفظ پر کمربستہ ہیں ۔ 


 

اقلیتوں کی شہری آزادیوں کا تحفظ ایک انتھک لڑائی ہے جس کے لئے اگلی صفوں میں بے باک حامیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

پروفیسر اختر الواسع بھی ایسے ہی ایک حامی ہیں جو ہندوستان میں لسانی اقلیتوں کی آواز کی حفاظت کے لئے برسرِ پیکار ہیں ۔ہندوستان کے صدرِ جمہوریہ پرنب مکھرجی نے انھیں مارچ ۲۰۱۴ میں ہندوستان میں لسانی اقلیتوں کا کمشنر مقرر کیا۔ان کا کام ہر ریاست میں غیر اکثریتی طبقات کو دستیاب آئینی تحفظ کی نگرانی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ فرضِ منصبی ہندوستان میں ’’ لسانی تنوع اور اس سے وابستہ حساسیت کے مد نظر‘‘ چیلینج سے  بھرا ہے ۔ 

 اپنی بات جاری رکھتے ہوئے وہ اس کی وضاحت کرتے ہیں ’’ کسی خاص ریاست میں اکثریتی طبقہ کے ذریعہ بولی جانے والی زبان جغرافیائی محل و قوع کی تبدیلی کے ساتھ اقلیتی طبقہ کی زبان بن جاتی ہے ۔ ‘‘

اکثریتی طبقہ کے مفادات کے ساتھ مختلف اقلیتوں کے حقوق میں توازن قائم کرنے کے لئے تنازعات کو حل کر سکنے والی اعلیٰ سطحی مہارت درکار ہوتی ہے ۔پروفیسر اخترالواسع اس کے ماہر ہیں جس کا ثبوت ان کے ذریعہ حاصل کئے گئے امتیازات اوراعزازات ہیں۔

تعلیم کے شعبہ میں اپنے دانشورانہ امتیاز کی بدولت ۲۰۱۳ میں انھیں پدم شری ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 

پروفیسراخترالواسع کا تعلیمی کام اسلامیات پر مرکوز ہے۔انھوں نے   بین عقائد مکالمے کی اہمیت اور ہندوستان میں مسلم معاشرے میں موجود فطری تکثیریت کے بارے میں لکھا بھی ہے اور خطابت بھی کی ہے ۔نومبر ۲۰۱۴ میں امریکی سفارت خانہ کی اردو ویب سائٹ کے افتتاح اور اردو اسپَین کی جدید ویب سائٹ کی نمائش کے موقع پر انھوں نے ان الفاظ میں اپنے احساسات حاضرین کے روبرو رکھے’’امریکی سفارت خانہ کے ذریعہ اردو ویب سائٹ شروع کرنے سے غلط فہمیاں دور ہوں گی۔انٹرنیٹ کی ایجاد نے دنیا کے تمام علوم کو آنکھوں کی دوپتلیوں کی طرح قریب کر دیا ہے ۔ اردو کے توسط سے ہم پوری دنیا میں محبت کے پیغام کو عام کر سکتے ہیں ۔ اس ویب سائٹ کے ذریعہ اب اردو طبقہ کے ساتھ امریکہ کا مکالمہ قائم ہو سکے گا۔‘‘

امن اور ہندوستانی مسلمانوں کے تحفظ اور فروغ پر توجہ کی ہی وجہ کر انھیں کئی بار امریکہ جانے کا موقع ملا۔وہ بتاتے ہیں کہ انھیں ۲۰۰۸ میںفُل برائٹ فیلو شپ بھی دی گئی جو ہندوستانی اسلامی مطالعات میںاس طرح کا پہلا معاملہ ہے ۔ انھیں اپنے پروجیکٹ کی بدولت فلاڈالفیا کی ٹیمپل یونیورسٹی ، سنسناٹی کی ژیویئر یونیورسٹی ، ڈینور یونیورسٹی اور واشنگٹن ڈی سی کی کیتھولک یونیورسٹی جیسے متعدد امریکی تعلیمی اداروں کے ساتھ شراکت کے مواقع بھی میسر آئے۔ 

فُل برائٹ فیلو شپ کے بعد سنہ ۲۰۰۰ میں انھیں امریکی محکمہ ٔ خارجہ کے انٹرنیشنل وزیٹر لیڈرشپ پروگرام میں شرکت کا موقع ملا۔ 

 اس کے ذریعہ انھوں نے پریوینشن ڈپلومیسی(دو پارٹیوں کے درمیان تنازعات کو پھیلنے سے روکنے،موجود تنازعات کے خاتمے،تنازعات کو تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنے اور تصادم کی صورت میں انھیں محدود کرنے ) اور تنازعات کے حل کا جائزہ لیا۔ اس سفر میں انھوں نے واشنگٹن ڈی سی میں سرکاری اداروں کے ساتھ امریکہ میں مختلف یونیورسٹیوں کا بھی دورہ کیا۔ 

وہ بتاتے ہیں کہ مذکورہ تبادلہ پروگرام کے دوران انھوں نے اپنے ہم رتبہ افراد کے ساتھ مل کر ’’مقامی اور عالمی سطح پر امن کو درپیش خطرات اور تنازعات کے حل کے ذریعے امن کو یقینی بنانے کے ممکنہ طریقوں پر غورو خوض اور بحث و مباحثہ کیا۔ ‘‘

انھوں نے مباحثوں کو کار آمد پایا اور محسوس کیا کہ ان میں شریک افراد نے کھلے طور پر اپنی رائے کا اظہار کرنے کے ساتھ مخالف نظریہ رکھنے والوں کی تجاویز پر بھی غور کرنے میں آمادگی کا مظاہرہ کیا۔مختلف نقطہ نظر کے احترام کے اس عمل کو انھوںنے اپنے ملک ہندوستان میںتنازعات کے حل کے لئے استعمال کیا اوراسے کئی سطحوں پر مفید اور مناسب پایا۔وہ کہتے ہیں ’’ ضروری نہیں کہ تنازعات ہمیشہ علاقائی یا بین الاقوامی سطح پر ہی ہوں ، وہ آپ کے گھر اور کام کی جگہوں پر بھی ہو سکتے ہیں ۔ ‘‘

 اس بات سے قطع نظر کے تنازعات کہاں ہیں ، پروفیسر اختر الواسع ان کے حل کے بارے میں اپنی سمجھ کو آئی وی ایل پی کے تجربے سے منسوب کرتے ہیں جس کی بدولت انھیں مسائل کی تفہیم کا نیا طریقہ معلوم ہوا۔اس سلسلے میں وہ کہتے ہیں ’’ انسان کو صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے مگر ساتھ ہی ساتھ اسے فیصلہ کن بھی ہونا چاہئے اور دوسرے کے لئے بڑی حد تک معروضی طرزِ فکر اختیار کرنے کے ساتھ ان کے لئے ہمدردانہ رویہ بھی رکھنا چاہئے۔ ‘‘ 

 

کیری لووینتھل میسی نیویارک سٹی میں مقیم آزاد پیشہ قلم کار ہیں ۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط