مرکز
1 2 3

شجر حیات

وندنا گوپی کمار ہندوستان میں ان لوگوں کی مدد کرتی ہیں جو بے سرو سامانی کی زندگی گزار رہے ہیں ، ذہنی طور پر معذور ہیں اور غربت کے شکار ہیں ۔ اس کام میں ان کی تنظیم ’ دی بنیان‘ بھی پیش پیش ہے۔

وہ خواہ سان فرانسسکو کی گلیوں میں رہتے ہوں ،دہلی میں مقیم ہوں یا دنیا میں کہیں اور گزر بسر کرتے ہوں؛ ذہنی طور پر معذور افراد کا تعلق سماج کے سب سے کمزور طبقے سے بھی ہو سکتا ہے ۔ یہی وہ مسئلہ ہے جس کو حل کرنے کے لئے وندنا گوپی کمار ہمہ تن مصروف ہیں ۔ 

وندنا چنئی میں واقع تنظیم ’دی بنیان‘ کی بانی اور روحِ رواں ہیں ۔ یہ تنظیم ذہنی طور پر معذور ،غریب اور بے گھر افراد کوجامع امداد فراہم کرتی ہے۔ ۱۹۹۳ میں قائم کی گئی اس تنظیم نے دماغی طور پر بیمار ہزاروں بے گھر خواتین کی زندگیوں کو بہتر بنایا ہے۔ تنظیم کے نوجوان رخی پروگراموں نے سینکڑوں بچوں کی بھی مدد کی ہے۔ 
وندنا کا انتخاب دو دہائی قبل امریکی وزارتِ خارجہ کی جانب سے چلائے جانے والے انٹر نیشنل ویزیٹر لیڈر شپ پروگرام (آئی وی ایل پی )کے تحت امریکہ کے دورے کے لئے ہوا تھا۔ پروگرام کے توسط سے وندنا کی جیسی تنظیموں پر توجہ مبذول کی گئی تھی۔ پیش ہیںوندنا سے لئے گئے انٹرویو کے اقتباسات:
 
’بنیان‘  کو شروع کرنے کی تحریک آپ کو کہاں سے ملی ؟
کالج کے دنوں میں میرے دوست ، جو بعد میں ’بنیان‘ کے قیام میں میرے حصہ دار بھی بنے، کواور مجھے ایک بے گھر اور پریشان حال عورت سے ملنے کا اتفاق ہوا ۔خاتون ہماری ہم عمر رہی ہوگی۔ مگر اس یکسانیت کے باوجود ہماری زندگی کے حالات کسی قدر مختلف تھے۔اسی چیز نے توجہ دلائی۔ ایک جانب ہمیں بڑے خواب دیکھنے کا عیش میسر تھا اور کچھ بھی کرنے کے اختیارات حاصل تھے وہیں دوسر ی جانب وہ عورت پریشانیوں، مشکلات اور درد و غم میں جکڑی ہوئی معلوم ہوتی تھی ۔اس کے علاوہ میں نے محسوس کیا کہ مجھے کاروباری منتظم بننا چاہئے اور کچھ نیا کر نا چاہئے۔ اپنے دوست کے ساتھ کچھ نیا کرنے کا یہ جذبہ جوش سے بھر دینے والا تھا۔  
 
آپ نے اپنی تنظیم کے لئے ’بنیان‘ نام کا ہی انتخاب کیوں کیا؟ 
بنیان یعنی برگدکے پیڑ کی نوعیت ہندوستان کے لئے مقامی ہے ۔ عرصہ ٔ دراز سے اس کی حیثیت محفوظ مقام، پناہ گاہ اور ایسی کھلی جگہ کی ہے جہاں تک سب کی رسائی ہو۔ سب کی دست رس میں رہنے ، سب کو اپنانے اورتمام لوگوں تک اپنی خدمات پہنچانے کے فلسفے میں یقین رکھنے کی وجہ سے ہی اس نام کا انتخاب کیا گیا۔ 
 
اپنے دَوروں میں آپ نے جس سب سے قیمتی چیز کا مشاہدہ کیا وہ کیا ہے؟ 
میں نے پایا کہ مصیبت ، نقصان اور احیائے نو وغیرہ عالمی کیفیات ہیں ۔ بس اس کی وسعت تبدیل ہوتی رہتی ہے۔میں نے دیکھا کہ  بے گھر ہونا جتنا امریکہ میں خراب ہے اتنا ہی ہندوستان میں بھی برا ہے۔ ذہنی صحت کے معاملات بھی یکساں ہی ہیں ۔ جو چیز مختلف نظر آئی وہ مسائل کے تئیں رد عمل کی نوعیت اور ایسی صورت حال میں معاشرتی شمولیت کا رویہ تھا۔  
 ہاں یہ ضرور ہے کہ ساختیاتی دشواریاں جس قدر ہندوستان میں نمایاں ہیں ویسی امریکہ میں نہیں ہیں ۔ امریکہ میں توازن اور مساوات کا احساس زیادہ دیکھنے کو ملا ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ انسانی زندگی وہاں زیادہ قدر و قیمت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے ۔ ہندوستان میں بہت ساری  غیر مساوی چیزوں کو کسی حد تک تسلیم کر لیا جاتا ہے جو مراعات یافتہ طبقہ اور ان لوگوں کے درمیان کی کھائی میں مزید اضافہ کرتی ہیں جن کواسباب کی قلت درپیش ہے۔ دوسری جانب اگر خاص طور پر ہندوستان کے دیہی علاقوں میں خاندانی ڈھانچے کی بات کریں تو یہ امریکہ کی بہ نسبت زیادہ مضبوط معلوم پڑتا ہے ۔ نتیجے کے طور پر یہ غالب رجحان مختلف صلاحیتوں کے حامل افراد، یا معمر افراد کی ان کے گھر میں ہی یا کسی دیگر غیر منظم ماحول میںمدد کرتا ہے ۔ 
 
 آئی وی ایل پی سے آپ کی بنیان کو حاصل قیادت پر کوئی اہم اثر مرتب ہوا؟ 
پروگرام کے دوران مجھے احساس ہوا کہ ہمیں کام کے دوران شعبوں سے ماورا ہوکر نظریے کو اپنانے کی ضرورت ہے ۔ ذہنی صحت ، صحت ہی سے متعلق معاملہ نہیں ہے ۔ بلکہ یہ ایک محرومی ، عدم مساوات ، تفریق اور ساختیاتی تشدد کا معاملہ بھی ہے ۔ اس طور پر اس کے تئیں ردعمل کو، خاص طور سے ہندوستان جیسے ملک میں ،یکساں طور پر مضبوط ہونا پڑے گا۔
 
مگر ایسا کیوں ؟ 
مجھے لگتا ہے کہ ہندوستان میں جہاں تک زبان ، ثقافت اور شناخت متنوع ہے ، ہم لوگ کافی مشکل حالات میں کام کرتے ہیں ۔ جب کہ امریکہ میں بعض معاملات میں یکسانیت کا مطلب یہ ہے کہ وہاں عظیم تر مساوات اور یگانگت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں مسائل پیچیدہ ہونے کے باوجود زیادہ مستقل معلوم نہیں پڑتے ۔ میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ معاشرتی اختراعات کو امریکہ میں زیادہ اہمیت دی جاتی ہے ۔ مگرہندوستان میں اس وقت سے اب تک چیزیں تبدیل ہو گئی ہیں ۔ حکومت اور کارپوریٹ سیکٹر اب ان سماجی تنظیموں کا خیر مقدم کر رہے ہیں جو ترقیاتی کاموں میں مصروف ہیں ۔ 
 
مائیکل گیلنٹ، گیلنٹ میوزک کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں ۔ وہ نیو یارک سٹی میں رہتے ہیں ۔   
 

تبصرہ کرنے کے ضوابط