مرکز
1 2 3

تپِ دِق سے پاک ہندوستان کا تصوّر

۷مارچ کو منائے جانے والے تَپِ دِق کے عالمی دن کی مناسبت سے ۷ مارچ کومنعقد ایک استقبالیہ پروگرام میں ایمبسڈر رچرڈ آر ورما کے ساتھ کال ٹو ایکشن فار اے ٹی بی فری انڈیا مہم کے سفیر امیتابھ بچن ، سول سوسائٹی کے ارکان ، شعبہ صحت کے کارکنان، مریضوں کو خدمات فراہم کرنے افراد اور تجارتی برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔ 

ایمبسڈر رچرڈ ورما کی رہائش گاہ روزویلٹ ہاؤس میں منعقد اس تقریب کا مقصدتَپِ دِق کے خاتمے کی مشترکہ کوششوں کی رفتار کو برقرار رکھنا تھا۔ پروگرام میں امیتابھ بچن سمیت    تَپِ دِق میں مبتلا رہ چکے دیگر افراد کے حالات پیش کئے گئے تاکہ ہندوستان میں اس بیماری کے خاتمے کی جنگ کی ضرورت کو نمایاں کیا جاسکے۔

اس موقع پر ایمبسڈر ورما نے کہا ’’حکومتِ ہند اور دیگر ہندوستانی شراکت داروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے امریکی حکومت نے ہندوستان میں تَپِ دِق کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کے لئے تقریباََ ۱۰۰ ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور گزشتہ ۱۸ برسوں میں ۱۵ ملین سے بھی زیادہ لوگوں کے علاج میں مدد کی ہے۔ تَپِ دِق کے خاتمے کی جنگ میں حکومتِ ہند کی قیادت میں ہم تمام لوگوں کا ایک اہم کردار ہے ۔ ایک ساتھ کام کرکے اور اپنی مشترکہ صلاحیتوں کوبروئے کار لاکر ہم اس جنگ میں کامیاب ہو سکتے ہیں ۔‘‘ 

حاضرین سے امیتابھ بچن کا تعارف کراتے ہوئے ایمبسڈر ورما نے عظیم اداکار سے اپنے تعلقات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا’’جب ہم نے اپنی برادری سے ہجرت کرنے والے پہلے ہندوستانی خاندانوں میں سے ایک خاندان کے طور پر پین سلوانیا ہجرت کی توپردے پر بچن صاحب کی فلمیں ہی ہوا کرتی تھیں جو ہمارے مقامی کمیونٹی سینٹر میں کچھ ہندوستانی کنبوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کا کام کرتی تھیں۔وہاں ان کنبوں کی اپنی پرانی جگہ کی ناقابل فراموش یادیں اور تعلقات ہوتے تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ کی فلموں نے ہماری کمیونٹی کو ایک ساتھ ملا کر رکھا ،اس سے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ۔اور اب امریکی سفیر کی حیثیت سے یہاں آپ کے ساتھ ہونا میرے لئے واقعی فخر کی بات ہے۔‘‘

اس دلچسپ واقعے سے حاضرین کو باخبر کرنے پر ایمبسڈر ورما کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امیتابھ بچن نے تَپِ دِق میں مبتلا بہت سارے مریضوں کو درپیش دشواریوں پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا ۔

  انہوں نے کہا’’ تَپِ دِق کے مریضوں کے خلاف  امتیازی سلوک کام کرنے کی جگہوں پر، اسپتالوں میں، معاشرے میں اور حتیٰ کہ ان کے اپنے گھروں میں ، کہیں بھی پیش آسکتا ہے ۔ امتیازی سلوک کا ڈر ہی لوگوں کو بروقت مددکی طلب سے روکتا ہے جس سے اس بیماری کے علاج میں مزید دشواریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ تَپِ دِق کا خود ایک مریض رہ چکنے کے ناطے اس مہم سے میرا گہرا اور براہ راست تعلق ہے اور مجھے امید ہے کہ میں بیداری پھیلانے اور تَپِ دِق سے منسلک داغ میں کمی لانے میں مدد کر پاؤں گا۔‘‘

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط