مرکز
1 2 3

صحت کا بیمہ

طبّی اخراجات کی زیادتی کے مد نظر بین الاقوامی طلبہ کے لئے صحت کا بیمہ کروانا ناگزیر امر ہے۔ 

یہ چیزاسی قدر اہم ہے جتنا کہ کسی یونیورسٹی اور مطالعہ کے لئے کسی شعبے کا انتخاب کرنا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ طلبہ خال خال ہی اس پر توجہ دیتے ہیں۔صحت کا بیمہ جو عام طور پر کسی طالب علم کی ترجیحات میں سب سے آخر میں آتا ہے ، امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کے اہم ترین پہلوؤں میں سے ایک ہے۔ 

جنوب مشرقی مشی گن کے شہر اَین آربر میں واقع مشی گن یونیورسٹی کے اسکول آف انفارمیشن میں پی ایچ ڈی کی سالِ اوّل کی طالبہ میگھنا مراٹھے کہتی ہیں ’’ میں نے امریکہ میں طبّی اخراجات سے متعلق خوفناک کہانیاں سنی تھیں ۔ اس لئے میں نے اس امر کو یقینی بنایا کہ میرے پاس بھی کسی قسم کا صحت بیمہ ضرور ہو۔‘‘

سیئٹل میں واقع واشنگٹن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے والے آدتیہ وششٹھ کہتے ہیں ’’لیکن میں نے بیمہ سے متعلق مخصوص شرائط کی جانچ نہیں کی ۔‘‘  اس کی وجہ وہ یوں بتاتی ہیںــ ’’ ایک ریسرچ اسسٹنٹ کے طور پر مجھے معلوم تھا کہ اس میں کس قسم کا کوریج ملتا ہے، اس لئے میں نے جانچ پڑتال نہیں کی۔‘‘ 

 

اہم نکات 

دَایسٹرن مشی گن یونیورسٹی(بین الاقوامی طلبہ کے لئے صحت بیمہ گائڈ)کے مطابق  چوں کہ F-1  زمرے کے بین الاقوامی طلبہ اور ان کے تابع افراد وفاقی امداد کے اہل نہیں ہیں ، اس لئے انہیں تاکید کی جاتی ہے کہ وہ صحت سے متعلق بیمہ ضرور کرائیں۔

امریکہ کے اسکولوں میں یہ لازمیت ہے کہ جب بین الاقوامی طلبہ وہاں اپنا اندراج کرائیں تو ان کے پاس صحت بیمہ ہونا چاہئے۔عام طور پراسکولوں کے پاس اس سلسلے میں لازمی منصوبے ہوتے ہیں جن میں نئے طلبہ کی شمولیت لازمی ہوتی ہے۔بعض اسکولوں کے پاس اختیاری منصوبے ہوتے ہیں جس کے لئے یا تو طلبہ اندراج کر سکتے ہیں یا وہ اپنا صحت بیمہ خرید بھی سکتے ہیں ۔ کچھ اسکول ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے پاس اپنا کوئی منصوبہ نہیں ہوتا ، اس لئے وہاں طلبہ کو خود سے صحت بیمہ خریدنا لازمی ہوتا ہے۔  

بیمہ سے متعلق معاملے مبہم ہوسکتے ہیں۔ لیکن فلوریڈا میں انٹرنیشنل اسٹوڈینٹ انشورینس کے نائب صدررَوس میسن کہتے ہیں ’’ذہن میں کچھ نکات رکھنے سے یہ عمل آسان ہو سکتا ہے ۔ اہم ترین چیز جسے طلبہ کو اپنے ذہن میں رکھنا چاہئے وہ یہ ہے کہ انہیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ وہ صحت بیمہ کے تحت جو پلان خریدیں وہ ان کے کام کا ہونا چاہئے۔‘‘  وہ کہتے ہیں کہ اس کام کے لئے وہ طلبہ کو مشورہ دیتے ہیں کہ طلبہ مندرجہ ذیل نکات پر احتیاط سے نظر رکھیں:

لاگت:کیا یہ آپ کے بجٹ میں آتا ہے ؟ کیا آپ اسے ماہانہ قسطوں میں ادا کرنا چاہتے ہیں ؟

اضافی اخراجات:اس میں تخفیف کی جانے والی رقم کتنی ہے اور کوانشورینس(ایک قسم کا بیمہ جس میں بیمہ کروانے والاپریم یَم کا اپنا شیئر ادا کرتا ہے)کی رقم کتنی ہے اگر بالفرض آپ کو طبّی نگہداشت کی ضرورت پیش آگئی؟

اس کے ساتھ ہی یہ دیکھیں کہ اس میں پوشیدہ فوائد کی کیا حد بندی کی گئی ہے کیوں کہ بعض منصوبوں میں داخلی منصوبے کے فوائد کی حد بندی ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے آپ کو زیادہ پیسے ادا کرنے پڑ سکتے ہیں۔

فوائد اوراستثنا : آپ کو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ منصوبے میں کیا چیزیں شامل ہیں اور کیا نہیں۔ 

اسکول کے بیمہ منصوبے

اسکول کے صحت سے متعلق منصوبے یقینی طور پر طلبہ کے لئے ایک اچھا متبادل ہیں، لیکن یہاں کچھ تشویشات بھی ہیں۔رَوسکہتے ہیںـ’’زیادہ تر اسکولوں کے صحت سے متعلق بیمہ منصوبوں کے ساتھ پریشانی یہ ہے کہ بعض اوقات یہ کافی مہنگے ہو سکتے ہیں اور اکثر یہ بین الاقوامی طلبہ کے لئے مناسب نہیں ہوتے ہیں لیکن یہ پورے اسکول اور داخلی طلبہ کے لئے واقعی بہت اچھے ہوتے ہیں۔ 

 طلبہ سے متعلق زیادہ تر منصوبے انسدادی دیکھ بھال کا احاطہ یا فلاح و بہبود کے متبادل کی پیش کش نہیں کرتے ۔ یہ دیکھنا بھی کافی اہمیت کا حامل ہے کہ منصوبے میںباقاعدگی کے ساتھ چیک اپ کی گنجائش رکھی گئی ہے یا نہیں۔ اس سلسلے میں آپ کو اس شعبے کے ماہرین سے مشورہ لینے سے مدد مل سکتی ہے ۔

 اس کے علاوہ اسکول کی جسامت اور اس کی درجہ بندی پر بھی بہت ساری چیزیں منحصر کرتی ہیں ۔ مثال کے طور پرآسٹِن میں واقع ٹکساس یونیورسٹی (جو ریاست ٹکساس کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہے)میں ان طلبہ کے لئے بیمہ کے بہت اچھے متبادل ہیں جنہیں یا تواسکالر شپ ملتی ہو یا وہ کسی قسم کی ملازمت کر رہے ہوں ۔ یہاں کے طلبہ کے صحت سے متعلق بیمہ منصوبوں میں باقاعدگی سے چیک اپ اور فلاح و بہبود کے پروگرام شامل ہیں۔

 

کیمپس میں صحت کی دیکھ بھال

 بعض اسکول اپنے کیمپس میں طلبہ کے لئے طبّی خدمات کے مرکز میں ہی صحت سے متعلق خدمات فراہم کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر لاس اینجلس میں یونیورسٹی آف سدرن کیلی فورنیا میں ان تمام طلبہ کو طبّی خدمات فراہم کی جاتی ہیں جنہوں نے یونیورسٹی طلبہ سے متعلق صحت کی دیکھ بھال کے منصوبے کے لئے اندراج کرایا ہوا ہو۔ رَوس بتاتے ہیں      ’’ یہاں فراہم کی جانے والی طبّی خدمات اکثر مفت ہوتی ہیں یا بہت ہی رعایتی شرح پر فراہم کی جاتی ہیں۔اگر آپ کے پاس صحت بیمہ ہو تو زیادہ تر منصوبوں میں اس کا التزام ہوتا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو کیمپس کے باہر سے بھی طبّی خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔تاہم آپ کو بیمہ فراہم کرنے والی کمپنی کے نیٹ ورک کے مطابق ہی خدمات فراہم کی جائیں گی۔ ‘‘

آسٹِن میں ٹکساس یونیورسٹی میں اگر آپ کا نام اسکول کے صحت سے متعلق منصوبے میں درج ہے تو آپ کو ڈاکٹر کو دکھانے میں ۵ ڈالر (تقریباََ ۳۳۰ روپے) لگیں گے ۔ لیکن اگر آپ کیمپس کے باہر کسی ڈاکٹر کو دکھانے جا رہے ہیں جو بیمہ فراہم کرنے والے کے نیٹ ورک میں آتا ہو تو اس  کے لئے آپ کو ۳۰ ڈالر(تقریباََ ۲۰۰۰ روپے )خرچ کرنے پڑ سکتے ہیں۔ 

طبّی خدمات کے ان مراکز پر تمام طرح کی بیماریوں کا علاج نہیں ہوتا ۔ دیپا پھڑ نیس یونیورسٹی آف ویسٹ ورجینیا میں اس وقت گریجویٹ کی طالبہ تھیں جب انہیں ملیریا کی وجہ سے ہنگامی دیکھ ریکھ کی ضرورت ہوئی ۔وہ بتاتی ہیں ’’جب میں نے ہندوستان چھوڑا تھا تب میرے پاس اسٹو ڈینٹ ٹریول انشورینس تھا اور مجھے معلوم تھا کہ یہ میرے علاج کے کچھ حصے کا احاطہ کرے گا لیکن مجھے یہ علم نہیں تھا کہ اس منصوبے کے تحت صحیح معنوں میں کتنا خرچ برداشت کیا جائے گا۔ دیپا کی اسکالر شپ کے تحت ان کا مکمل علاج ہوا ، انہیں کچھ اد ا نہیں کرنا پڑا۔ اس لئے وہ طلبہ کو مشورہ دیتی ہیں کہ وہ اس امر پر توجہ دیں کہ یونیورسٹی اور اسکالر شپ کے پیکج میں کیا چیزیں شامل ہوتی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں ’’ آپ بین الاقوامی دفتر سے بات کریں اور اس سے متعلق سوالات پوچھیں۔‘‘

 دوسرا پہلو جسے ذہن میں رکھا جانا چاہئے وہ یہ ہے کہ جہاںطلبہ کے لئے زیادہ تر منصوبوں کی تجدید چار برسوں تک کے لئے کی جاسکتی ہے وہیں بعض منصوبوں میں تجدید کے عمل کے لئے زیادہ وقت ملتا ہے ۔ 

صحت سے متعلق کسی بیمہ کے بغیر امریکہ میں تعلیم حاصل کرنا کافی مہنگا ہو سکتا ہے ۔ میگھنا بتاتی ہیں ’’میں نے کچھ خطرناک کہانیاں سنی ہیں جیسے کسی ایمرجنسی روم میں کسی معمولی سی پریشانی کے لئے کسی کو ۱۲۰۰ ڈالر (تقریباََ اسّی ہزار روپے)اور روٹ کنال ٹریٹمنٹ کے لئے کسی کو ۲۰۰۰ ڈالر (تقریباََ ایک لاکھ چونتیس ہزار روپے)ادا کرنے پڑے۔ اس طرح کی کہانیاں اور بھی ہیں ۔‘‘

وہ مشورہ دیتی ہیں کہ طلبہ امریکہ جانے سے ایک مہینہ پہلے اپنی صحت اور دانتوں کا مکمل چیک اپ کروا لیں ۔ جب کہ دیپا کہتی ہیں کہ طلبہ کے لئے یونیورسٹی کی پیشکش کیا ہے ، اس کی جانچ ویسی ہی اہم ہے جیسی کہ سفر کے بیمہ کی جانچ۔ 

 

پارومیتا پین ، ٹکساس کے آسٹِن میں مقیم ایک صحافی ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط