مرکز
1 2 3

اسٹارٹ اپ کمپنیوں کے لئےسوشل میڈیا وسائل

آن لائن وسائل کااستعمال کرکے کاروباری پیشہ ور مطلوبہ طبقے تک اپنی بات پہنچا کر کامیابی کے امکانات کو بہتر بناسکتے ہیں۔ 

گزشتہ کچھ برسوں میں عالمی تجارتی طبقات میں بڑی تبدیلی کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن آلات نے تاجر برادری کے لئے تجارت کے بے مثال مواقع پیدا کئے ہیں ۔ ایسا پوری دنیا میں پھیلے ہوئے کروڑوں صارفین سے براہ راست رابطے کے نتیجے میں ممکن ہو سکا ہے۔ اطلاع پہنچانے اور صارفین کو ترغیب دینے کی خاطر بہتر حکمت عملی وضع کرنے کے لئے یہ نئے پلیٹ فارم اب صنعت سازوں اور اسٹارٹ اپس کے لئے لازمی بن گئے ہیں۔بَرینڈنگ(مسلسل تشہیر کے ذریعہ صارفین کے ذہن میں مصنوعات کے تعلق سے مخصوص شبیہ اور تاثر کا پیدا کرنا )،مواد کی تقسیم ، تشہیر اور گاہکوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے بارے میں روایتی رویے میںاب اس ڈیجیٹل دور میں تبدیلی آگئی ہے ۔ اب اسٹارٹ اپ کمپنیاں اپنے حساب سے بازارکاری کے لئے بہتر رسائی والے سوشل میڈیا وسائل کا استعمال کر سکتی ہیں ۔ یہاں بعض آن لائن وسائل کا ذکرکیا جارہا ہے جو بتاتے ہیں کہ صنعت ساز سوشل میڈیا کی طاقت کاکس طرح  بہتر طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ 

 ہندوستان کے لئےدستیاب وسائل 

سُپرنا مکھرجی

پرتیک ڈھولکیا ڈیجیٹل مارکٹنگ میں مکمل خدمات فراہم کرنے والی ایجنسی ای ٹو ایم اور موبائل ایپ کو ڈیزائن کرنے والی اور اسے فروغ دینے والی کمپنی موویو ایپس کے شریک بانی ہیں۔ گجرات کے احمد آباد اور کیلی فورنیا کے سین ڈیاگو میں دفاتر ہونے کی وجہ سے ان دونوں کمپنیوں کے گاہکوں کی فہرست میں بین الاقوامی برَینڈس، خالص کاروباری کمپنیاں اور ابھرتے ہوئے اسٹارٹ اپس شامل ہیں۔ پیش ہیں پرتیک ڈھولکیا سے انٹرویو کے کچھ اقتباسات۔

صنعت ساز وں اور اسٹارٹ اپس کی مہمات میں مدد کرنے میں سوشل میڈیا کیا کردار ادا کرتا ہے؟

سوشل میڈیا چھوٹے کاروباروں اور اسٹارٹ اپس کو موثراور کم خرچ میں لوگوں تک پہنچنے کے مواقع فراہم کرکے کامیابی میںاس کی راہیں ہموار کرنے میںمدد کرتا ہے ۔ تشہیری اختراعیت،مخصوص اسلوب کی ثقافت اور بہتر طرز زندگی کے فوائد بتانے والی مہم کی سرگرمی کا امتزاج چھوٹے اور متوسط درجے کے کاروباروں کے لئے نمایاں فائدے کا باعث بنتا ہے۔

جن تک بات پہنچانی ہو ، ان صارفین کے ساتھ بات چیت میں اضافے اور تعلقات قائم کرنے اور اسے برقرار رکھنے میں سوشل میڈیا کس طر ح مدد کر سکتا ہے؟

ترغیب پانے والے صارفین کی جماعت کے قیام کے لئے رد عمل کافی اہم ہے ۔سوشل میڈیاکے قیام کے بعد اب یہ مواد کے اشتراک تک ہی محدود نہیں ہے کیونکہ صارفین کو تعلقات کی توقع ہوتی ہے ۔ رد عمل کا اظہار کرنے والے بنیں یا اپنے گاہکوں سے بات کریں جب بھی وہ آپ کے پوسٹ کا جواب دیں، ری ٹوئیٹ کریں یااس کا اشتراک کریں۔اپنے تبصروں میں آپ ان کے رد عمل کی ستائش کریں۔جو گاہک آپ کا خیال رکھتے ہیں وہ تبصرے کرتے ہیں اور جوکمپنیاں رد عمل کا اظہار کرتی ہیں وہ گاہکوں کی تعداد میں اضافہ کرتی ہیں۔

اپنے آن لائن اطلاعات کو صارفین تک پہنچانے کے لئے وہ کون سے بعض جدید ترین اختراعی وسائل ہیں جن کا استعمال صنعت ساز کر سکتے ہیں۔ ؟

متعدد قسم کے دیگر وسائل ہیں جو رد عمل کے اطلاع کے ساتھ مکمل فائدہ اٹھانے میں بروئے کار لائے جا سکتے ہیں۔ گوگل الرٹس، سوشل مینشن، ٹاک واکر ، اسپراؤٹ سوشل ، فَولوور وَونک، بز سومو ، کمیون ڈاٹ اِٹ اور سوشل پائلٹ ایسے ہی کچھ وسائل ہیں۔انہیں یہاں کسی مخصوص ترتیب میں پیش نہیں کیا گیا ہے ۔

وہ کون سے مقبول ترین سوشل میڈیا وسائل ہیں جن کا استعمال ہندوستان کے صنعت ساز کرتے ہیں؟

بفر، ہوٹ سوٹ، سوشل اومف اور برَینڈ واچسوشل میڈیا کے کچھ ایسے وسائل ہیں جن کا ہندوستان میں بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے ۔ وہاٹس ایپ پر بھی نظر رکھیں جو اب محض پیغام رسانی سے سماجی رابطے کی خدمت مہیا کرنے والے کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔

نو جوان صنعت سازوں اوراسٹارٹ اپس کو آپ کیا مشورے دینا چاہیں گے ؟

آپ حوصلہ نہ ہاریں۔مجھے یقین ہے کہ صنعت سازی کا جذبہ ایک جینیاتی شے ہے جو آپ کے کاروباروں کو فروغ دیتا ہے اور آپ کو ایک اطمینان بخش پیشہ فراہم کرتا ہے ۔ اپنی صنعت سے ہی اپنے مشیروں کا انتخاب کریں اور ان سے مشورے کریں۔ عاجزی و انکساری سے پیش آئیں اوراپنے گاہکوں کو برقرار رکھنے کے لئے ، حوالے کے لئے او ر کاروبار کی ترقی کے لئے ان کے ساتھ نتیجہ اور خدمت پر مبنی رشتے کو برقرار رکھیں۔

 ویڈیواشتراک کا اصل آن لائن فورم

 ویڈیو موادآج پہلے سے کہیں زیادہ مقبول ہے۔ امریکہ کی بات کریں تو وہاں بالغ افراد روزانہ ایک گھنٹہ ۳۹ منٹ وقت ڈیجیٹل آلات پر ویڈیو دیکھتے ہوئے صر ف کرتے ہیں ۔ ہندوستان میں ۲۰۱۴ ء کے ایسو چَیم  اور ڈیلوائٹ کے ایک مشترکہ مطالعہ کے مطابق ۲۰۱۷ ء میں ملک کے ڈیٹا ٹریفک میں ویڈیو کے استعمال میں ۶۴ فی صد اضافے کا امکان ہے۔

۲۰۰۵ء میں اپنے قیام کے بعد سے ہی گوگل کا یو ٹیوب ،مشترک آن لائن ویڈیو کا ایک رہنما فورم رہا ہے اور یہ کسی بھی صنعت ساز کے لئے انٹرنیٹ کے ذریعہ لوگوں سے رابطے کا ایک اہم وسیلہ ہے ۔یو ٹیوب کا استعمال کرکے کوئی بھی اسٹارٹ اپ یا صنعت سازویڈیو مشترک کرنے کے اس سب سے بڑے پلیٹ فارم پر اپنا شناختی صفحہ قائم کرسکتا ہے جس کے ایک بلین سے بھی زیادہ صارفین ہیں اورجو روزانہ لاکھوں گھنٹے کا مواد دیکھتے ہیں۔مجموعی طور پر دوسرے مقبول ترین سرچ انجن اور تیسرے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے ویب پیج کی حیثیت سے یو ٹیوب اتنا بڑا پلیٹ فارم ہے جسے کوئی بھی  اسٹارٹ اپ نظر انداز نہیں کرسکتاہے۔  

 

لائیو ویڈیو اسٹریمنگ

 سِسکو کے مطابق اگر ۲۰۱۵ء کی بات کی جائے تو اس وقت تک پوری دنیا میں ۷ اعشاریہ ۹ بلین سے زیادہ موبائل آلات اورموبائل نمبر استعمال میں تھے۔اورجنوری ۲۰۱۶ ء تک ہندوستان نے موبائل فون استعمال کرنے والوں کی ایک بلین تعداد کے سنگ میل کو عبور کر لیا تھا۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ لوگ کہیں بھی اور کسی بھی وقت ذرائع ابلاغ کے مواد کا استعمال کر سکتے ہیں ۔

فیس بک لائیواور ٹوئیٹرکے  پیری اسکوپ جیسے نئے وسائل کا استعمال کرنے والوں کو اپنے مواد کی بلا تاخیرتشکیل اور اشتراک کی سہولت حاصل ہے۔ناظرین اپنے موبائل یا ویب کیمرہ سے ویڈیو کو  براہ راست نشر کرسکنے کے علاوہ دیکھنے والوں کو اس پر تبصرہ اور رد عمل کی دعوت بھی دے سکتے ہیں ۔ 

براہ راست نشر کئے جا سکنے والے ویڈیو کو بہت زیادہ مقبولیت اس وجہ سے ملی ہے کہ وہ صداقت پر مبنی ایسا مواد ہوتا ہے جس کی کوئی اسکرپٹ نہیں لکھی جاتی ، جو راست ہوتا ہے اور اس میں تفاعلی عنصر بھی شامل ہوتا ہے۔اسٹارٹ اپ اور صنعت سازی میں شامل افراد کے لئے براہ راست نشریہ کمپنی کے اعلانات، تقاریب، لوگوں کے سوالات کے جواب، دوروں کی معلومات وغیرہ نشر کرنے کا ایک مفت وسیلہ ہے ۔

 

ویڈیو اقتباسات

فیس بک لائیواور پیری اسکوپ لمبے براہ راست نشریے کا اشتراک کرنے کے مقبول پلیٹ فارم ہیں وہیں انسٹا گرام اور اسنَیپ چَیٹ اسٹوریز کمپنیوں کے لئے فوری متاثر کرنے والے ویڈیوز کے اشتراک کا تخلیقی طریقہ فراہم کرتے ہیں۔یہ ویڈیو صرف ۱۰ سیکنڈ کے ہوتے ہیں اوریہ صرف ۲۴ گھنٹے والے ونڈو پردیکھے جانے والے ہوتے ہیں ۔ اس طور پر یہ ویڈیو بے ساختہ اور تفریحی انداز میں بہتر طریقے سے ترغیب دینے کا باعث بنتے ہیں۔ نوجوان طبقے کو متاثر کرنے کے لئے یہ دونوں ہی پلیٹ فارم بہت اہم ہیں۔  اسنَیپ چَیٹ کو استعمال کرنے والا سب سے بڑاطبقہ  ۱۸ سے ۲۴  برس کی عمر کا ہے۔اور انسٹا گرام کا استعمال کرنے والوں کی ۹۰ فی صد تعداد ۳۵  برس سے کم عمر والے افراد کی ہے۔  ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا ایجنسی  واٹ کنسلٹکے بانی اور سی ای او راجیو ڈِینگرا کے مطابق ہندوستان میں  اسنَیپ چَیٹ ۱۵ سے ۲۵ برس کی عمر کے افراد میں مقبول ہے ۔ 

اسٹارٹ اپ کمپنیوں اور صنعت سازوں کے لئے انسٹا گرام اوراسنَیپ چَیٹ اسٹوریز ، اسٹارٹ اپ  کی منفرد شناخت میں گہری سمجھ کے بہتر مواقع فراہم کرتے ہیں۔ اپنی روزانہ کی کہانی میں ۱۰ سیکنڈ کے ویڈیو سیریز کا اشتراک کر کے نئی کمپنیاں اپنے صارفین کو یہ بتا سکتی ہیں کہ ان کے یہاں کس طرح کام ہوتا ہے ۔ وہ صارفین کو اپنی تنظیمی ثقافت کی ایک منفرد جھلک بھی دکھا سکتی ہیں۔ 

 

 بَرینڈیڈ لوکیشن ٹَیگ

گزشتہ ایک برس کی مدت میں اسنَیپ چَیٹ صارفین کی تعداد ۱۰۰ ملین سے تجاوز کر گئی ہے جو روزانہ ۱۰ بلین سے زیادہ اسنَیپس دیکھتے ہیں۔ اس تیز رفتار مقبولیت کے باوجود یہ پلیٹ فارم صرف بڑے بجٹ والے مشتہرین کے لئے ہی نہیں ہے۔ اس کے جدیدآلہ ،جیو فلٹرس کی بدولت چھوٹے کاروباروالے اور دیگر افراد تصاویر کو ڈیزائن کر سکتے ہیں یاایسے ویڈیوکو علاحدہ کر سکتے ہیں جو ان کے اپنے پروگرام اور کاروبار کو نمایاں طور پر فروغ دے سکتے ہیں۔

 جیوفلٹرس کی وجہ سے صارفین کسی  برَینڈیڈ اوور لے کے لئے اپنے ڈیزائن ڈالتے ہیں۔ یہ تب ظاہر ہوتا ہے جب کو ئی اسنَیپ چَیٹ کا استعمال کرنے والا اپنی تقریب یا کاروبار کے گلوبل پوزیشننگ سسٹم لوکیشن کے نزدیک ہو تا ہے ۔ اس کے بعد اپنے نیٹ ورک میں اشتراک کرنے سے پہلے اس کے استعمال کنندگان اپنی تصویر اور ویڈیو کو کمپنی کے  جیوفلٹرسے سجا سکتے ہیں۔ صرف ۵ ڈالر میں صنعت سازوں اور اسٹارٹ اپس کے لئے یہ اپنے کاروبار کو فروغ دینے کا ایک پُر مزاح اورسستا طریقہ ہے۔

 

 ای کامرس کا عام استعمال

اب آخری مگر اہم بات۔ اور وہ ہے پِنٹریسٹ  کا جدید ترین ای کامرس وسیلہ یعنی  بائی ایبل پِنس۔ پِنٹریسٹنے خود اس کی وضاحت خیالات کی دنیا بھر کی تفصیلی فہرست کے طور پر کی ہے۔ جہاں اس کے۱۱۰ ملین سے بھی زیادہ فعال صارفین (جس میں ۷۱ فی صد خواتین شامل ہیں) قابلِ تلاش تصاویر کے مجموعے میں تعاون کرتے ہیں۔ تحقیق سے علم ہوا ہے کہ پِنٹریسٹ کے۹۳ فی صد صارفین نے اس سائٹ کا استعمال منصوبہ بند خریداری کی تحقیق کے لئے کیا ہے جو اسے ایک ایسا قابلِ قدر مرکز بناتا ہے جہاں خیالات اور خریداری سے متعلق تحریک ملتی ہے۔ 

 بائی ایبل پِنسکی بدولت پِنٹریسٹ کو اب یہ صلاحیت حاصل ہو گئی ہے کہ وہ براہ راست سوشل نیٹ ورکس کو ای کامرس کے کاروباریوں سے منسلک کرسکے۔صارفین کو مادّی اشیا ء کی پیش کش کرنے والے صنعت سازوں اور اسٹارٹ اپس کے لئے آن لائن تحریک، سوشل میڈیا اور فروخت کرنے کے راست مقام کو حتمی طور پر ملانے میںیہ وسیلہ یکسر طور پر تبدیلی لانے والا ہے۔

 

جیسون چیانگ لاس اینجلس کے سِلور لیک میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط