مرکز
1 2 3

خواتین پر تشدد کے خلاف کمربستگی

بیل بجاؤمہم لڑکوں اور مردوں سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ گھریلو تشدد کے خلاف موقف اختیار کریں۔ 

کئی غیر معمولی خیالات کی طرح  بیل بجاؤ مہم مرودوں سے کہتی ہے کہ وہ خواتین کے خلاف روا رکھے جانے والے گھریلو تشدد کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ اس مہم کی شروعات ناکام پرانے طریقوں سے پیدا ہوئی مایوسی کے سبب ہوئی۔

ہندوستان میں فورڈ فاؤنڈیشن میں انسانی حقوق اورسماجی انصاف کے پروگرام افسر کے طور پرملّیکا دت نے خواتین کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک کا مقابلہ کرنے کے لئے بڑی تعداد میں کانفرنس کا انعقاد کرنے میں مدد کی مگر انہیں احساس ہوا کہ ان کی کاوش خاطر خواہ نتائج برآمد کرنے سے قاصر رہی ہے۔ وہ بتاتی ہیں ’’ میں میٹنگ میں جایا کرتی لیکن ان میں بار بار وہی لوگ شامل رہتے تو مجھے خیال آیا کہ یہ ایک ہی جماعت کو تبلیغ کرنے جیسا عمل تھا ۔اس چیز نے مجھے اس بارے میں سوچنے کی ترغیب دی کہ کس طر ح لوگوں کے بڑے گروپ کو اس جانب متوجہ کیا جائے ، اور وہ بھی پالیسی کی سطح کے مقابلے ذاتی سطح پر۔ میں نے جان لیا کہ قانونی بیان بازی اور خواتین کی زندگی کی اصل حقیقتوں کے درمیان بہت بڑی خلیج تھی۔ اس لئے میں نے یہ دریافت کرنا شروع کیا کہ کس طرح ہم اس خلیج کوپاٹ سکتے ہیںاور ایسے حالات پیدا کر سکتے ہیں جہاںخواتین کے لئے بے تعصبانہ سلوک برتے جانے کی ثقافت پیدا ہو جائے۔‘‘

دت کی دریافت آخرکار موسیقی کے ایک البم اور ویڈیو  من کے منجیرے : خواتین کے خوابوں کا البم  کے طور پر سامنے آئی جس نے ہندوستان میں بہترین موسیقی کے لئے ۲۰۰۱ ء کا نیشنل اسکرین ایوارڈ حاصل کیا اور جس کی وجہ سے   بریک تھرو  نامی انسانی حقوق کی ایک تنظیم کا قیام عمل میں آیا۔ 

۲۰۰۸ ء میں بریک تھرو نے  بیل بجاؤنام سے جدید ثقافتی اور میڈیا مہم کا ہندوستان میں آغاز کیا۔عوامی خدمات کے اعلانات سے متعلق انعام حاصل کرنے والی اس سیریز کو، جس میں مرد اور لڑکے خواتین کے خلاف گھریلو تشدد کی جانکاری ملنے پر مداخلت کرتے ہیں، ۱۳۰ ملین سے زائد لوگوں نے دیکھا ہے۔ 

 بریک تھرو نے ہندوستانی شہروں اور دیہاتوں میں اس سیریز کو دکھانے کے لئے  ویڈیو وین  روانہ کیں جن کے ذریعہ عوامی خدمات سے متعلق ان اعلانات کی نمائش کا نظم کیا گیا۔ اس سے متعلق پیغام کو پھیلانے کی غرض سے کھیلوں ، نکڑ ناٹکوں اور دیگر ثقافتی وسائل کا بھی سہارا لیا گیا ۔ دت نشاندہی کرتی ہیں کہ بیل بجاؤ مہم کی حکمت عملی اور پیغامات ،جو ۲۰۱۳ ء میںعالمی طور پر رِنگ دَ بیل کے نام سے معروف ہوئے، کو کناڈا، چین، پاکستان اور ویتنام سمیت کئی دوسرے ممالک میںاس کا استعمال کیا گیا۔  

بریک تھروجس کے دفاتر نئی دہلی اور نیو یارک میں بھی ہیں، کی بانی ، صدر اور   چیف ایکزیکٹو افسر  دت کہتی ہیں  ’’ بیل بجاؤ مہمنے خواتین کے خلاف تشدد کے معاملے کو عوام کی نظروں میں اور عوامی مکالمے کا حصہ بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ‘‘ 

دت اس مہم سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہتی ہیں ’’ بیل بجاؤ مہم  ہرشخص کو مسائل کے حل کا حصہ بننے کی دعوت دیتا ہے۔ مردوں کو بھی نہ صرف اس کا حصہ بننا چاہئے بلکہ اس میں شرکت بھی کرنی چاہئے۔ماضی کے خواتین سے متعلق زیادہ تر پروگراموں کی کی توجہ زیادتی کا شکار خواتین کو قانونی چارہ جوئی فراہم کرنے پر تھی۔یہ اجزا ء اہم ہیں مگر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہم اسی وقت اپنے ثقافتی اقدار کو تبدیل کر سکتے ہیں جب ہم مردوں کے ساتھ مل کر اس خیال کو چیلینج کریں کہ مرد ہونے کا حقیقی مطلب کیا ہوتا ہے ۔ اور اس مہم میں مردووں کو مسئلہ کے حل کا حصہ بننے کے لئے شامل کریں ۔‘‘

بریک تھرو کی ایک اور مہم Askingforit#  ہے جو تماشائی بنے رہنے والے لوگوں کے کردار پر اپنی توجہ مرکوز کرتی ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو عام طور پر جنسی ہراسانی کے واقعات کو نظر انداز کرتے ہیں اور اس کا شکار بننے والی عورتوں کو ہی اکثر ذمہ دار ٹھہراتے ہیں ۔ 

بریک تھرو اس بات پر زور دیتا ہے کہ جنسی ہراسانی کا مشاہدہ کرنے والے مظلوم کی مدد کریں ، ہراساں کرنے والے شخص کا سامنا کریں ، مظلوم سے اس کی توجہ ہٹائیں ، پولس بلائیں ، ہراسانی کا شکار ہوئی خاتون کی شکایت لکھوانے میں مدد کریں اور اجتماعی طور پر مداخلت کرنے کے لئے دوسروں کی بھی مدد لیں ۔ مہم اس بات کی امید کرتی ہے کہ کاش خواتین کو اس کی ضرورت پڑے ہی نہیں۔ 

دت باخبر کرتی ہیں ’’بریک تھروخواتین اور لڑکیوں کے خلاف برتے جانے والے امتیاز اور تشدد کو ہر جگہ ناقابلِ قبول بنا دینا چاہتی ہے خواہ وہ کسی شکل میں ہو۔ اس میں گھریلو تشدد ، جنسی طور پر ہراساں کرنا ، ان کو کم عمری کی شادی کے لئے مجبور کرنا اور ان کے لئے جانبدار جنسی انتخاب کرنا سمیت تمام چیزیں شامل ہیں۔ ‘‘

دت اپنی بات جاری رکھتی ہیں ’’ان تبدیلیوں کے لئے مردوں اور خواتین کے درمیان طاقت کے تعلقات کو چیلنج کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد حادثاتی طور پر ہو جاتے ہیں بلکہ اس کی بنیادی وجوہات ہیں اور اس سے کچھ لوگوں کو فائدہ بھی ہوتا ہے۔اگر صورت حال یہ ہو کہ جہاں آپ لوگوں کے ایک گروپ کو نیچے رکھتے ہیں اور دوسرے کو بااختیار بناتے ہیں تو گویا آپ کسی مخصوص طبقے کے لئے فائدے پیدا کرتے ہیں۔ مردوں کو بہتر تنخواہ ملتی ہے، زیادہ تر وسائل اور اثاثوں کے وہ مالک ہوتے ہیں اور کارپوریٹ دنیامیںزیادہ طاقت بھی رکھتے ہیں۔ ہمیں ا سے تبدیل کرنے سے پہلے اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا۔‘‘

کبھی کبھار ناکامیوں کا سامنا کرنے کے باوجود دت کو امید ہے کہ تبدیلی آئے گی۔ وہ کہتی ہیں ’’اس شعبہ میں ۳۰ برس کام کرنے کے بعد میں جانتی ہوں کہ اب ایسی بہت سی خواتین ہیں جو تشدد کے خلاف جدوجہد کر رہی ہیں اور اس بات کو تسلیم کرتی ہیں کہ اب بہت ہو چکا۔اس کے لئے ہمیں مردوں سے ایماندارانہ طور پر بات چیت کر کے یہ ظاہر کرنے کی ضرورت ہے کہ عورتوں کے خلاف تشدد نہ صرف خواتین بلکہ مردوں اور پورے سماج کے لئے بھی نقصاندہ ہے۔یہ بہتر ہے کہ ہم اسے اس طرح پیش کریں : آپ کس قسم کی دنیا میں رہنا چاہتے ہیں ؟ یہ سوال کرکے ہی ہم مردوں کے نقصاندہ رویوں اور طرز عمل کو تبدیل کر پائیں گے تاکہ ہم سبھی کا حقیقی وجود بہتر ہو سکے۔ ‘‘

اسٹیو فاکس کیلی فورنیا کے ونچورا میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار ، ایک اخبار کے سابق ناشر اور نامہ نگار ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط