مرکز
1 2 3

خلوت کدوں میں صحت پر توجہ

امریکہ میں یوگ کے لئے دستیاب ان خوبصورت صحت گاہوں  میں قیام کرکے قدرت کی آغوش میں پناہ لیں اور اپنی صحت کو بہتر بنائیں۔

ایک دَور تھا جب کام سے آرام کا مطلب ہوتا منصوبہ بند ی کے ساتھ چھٹی پر جانا۔مگرآج لوگ معمول کی زندگی سے کچھ دنوں کے لئے لا تعلق ہونے کے علاوہ کچھ اوربھی چاہتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ لوگوں کے درمیان یوگ سے متعلق صحت گاہوں کے متبادل مقبول پسند کا درجہ اختیار کرتے جارہے ہیں ۔  

یہاں ہم اپنے قارئین کے لئے امریکہ کے چار مقبول یوگ پناہ گاہوں سے متعلق معلوما ت پیش کر رہے ہیں۔ 

 

رَولِنگ میڈوز ریٹریٹ 

امریکہ کے انتہائی شمال مشرقی خطے میں واقع ریاست مین کے ساحلی علاقے میں واقع رَولنِگ میڈوز ۴۰  ہیکٹر رقبے میں پھیلی یوگ اور مراقبہ سے متعلق ایک پناہ گاہ ہے۔موجودہ مقام پر واقع اس مرکز کا آغاز ۲۰۰۱ ء میں ہوا تھا۔ مرکز کے شریک بانی اوریہاں رہ کر بطور ٹیچر کا م کرنے والوں میں سے ایک سوریہ چندر داس کہتے ہیں ’’ہم دنیا بھر میں مختلف مقامات پر موجود صحت گاہوں میں پڑھاتے رہے ہیں ۔ ہمارے تصرف میں یوگ سے متعلق ایک اسٹوڈیو بھی ہے۔ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم بنیادی طور پر ایسی جگہ کام کرنے کے خواہش مند تھے جو پرسکون دیہی علاقے کے ساتھ قدرتی ماحول میں بھی واقع ہو۔‘‘

یہاں یوگ کے جسمانی آسنوں کے ساتھ  پَرانا یام  اور مراقبہ کا بھی اشتراک کیا جاتا ہے۔ مرکز میں آنے والے اپنی آمد کے بعد آنے والی شام کو عشائیہ کے بعد خاموشی اختیار کر لیتے ہیں ۔ داس اس کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں ’’اسے ہم معاشرتی سکوت کہتے ہیں جو یہاں قیام کی آخر ی صبح تک جاری رہتا ہے ۔ خاموشی ان صحت گاہوں کا ایک لازمی پہلو ہے۔ ‘‘

پناہ گاہ کی تلاش ایک ذاتی اور انفرادی پسند ہے مگر زیادہ تر لوگوں کے لئے یہ ان کی مصروف زندگی میں آرام حاصل کرنے کا ایک موقع ہے۔ داس کہتے ہیں ’’بیشتر انسان اپنے روزانہ کے معمولات سے پریشان ہوتے ہیں اور صحت گاہوں میں دستیاب جسمانی ، جذباتی اور روحانی تازگی کا تجربہ کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں ۔‘‘

صحت گاہوں کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ وہ قدرتی دنیا میں مکمل طور پر خود کو جذب کرلینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ داس بتاتے ہیں ’’یہاں بیک وقت زیادہ سے زیادہ ۱۱ لوگ شرکت کر سکتے ہیں ۔ اس سے بقدر ضرورت انفرادی توجہ کا موقع فراہم ہوتا ہے۔ ‘‘ 

 رَولنِگ میڈوز دنیا بھر کے مختلف پس منظر والے لوگوں کو خدمات فراہم کرتا ہے جس میں طلبہ، پیشہ ورافراد اورملازمت سے سبکدوش ہو چکے لوگ شامل ہوتے ہیں ۔داس بتاتے ہیں ’’یہاں آنے والے ہر شخص کی توقعات الگ ہوتی ہیں اور ان کے تجربات بھی جداگانہ ہوتے ہیں۔ان میں زیادہ تر ذہنی سکون اور دانشمندی کے متلاشی ہوتے ہیں جو اکثر مصروف اور تیز رفتار زندگی میں کھو سی جاتی ہے۔اسامیوں کے شہادت ناموں سے یہ چیز عیاں ہوتی ہے کہ یہ صحت گاہیں اکثرایماندارانہ طور پر خود احتسابی کے لئے خاص مقام مہیا کرانے کے ساتھ سادگی کے ساتھ رہنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہیں ۔جب کہ بعض دوسرے لوگوں کے لئے صحت گاہوں میں آمد تھوڑی رکاوٹوں کے ساتھ یوگ کرنے کا موقع ہوتا ہے۔  

چار سال پہلے رَولنِگ میڈوز نے ریاست تمل ناڈو کے میتری ویدک ویلیج میں ایک صحت گاہ کی شروعات کی تھی۔ داس اس کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں ’’وید کی روایت میں ڈھلا یہ ایک خاص سہولت مہیا کرانے والا خلوت کدہ ہے۔ یہ بہت ہی خوبصورت اور پُر سکون مقام پر واقع ہے ۔ یہاں آیوروید کا مستند علاج بھی ہوتا ہے۔ ‘‘

 

اومیگا انسٹی ٹیوٹ

سنہ ۱۹۷۷ ء میںایک طبیب اسٹیفین ریچ شیفین اور معلّم الیزابیتھ لیسرنے مشرقی مراقبہ کے استاد پیر ولایت عنایت خاں سے تحریک پاکر اومیگا انسٹی ٹیوٹ قائم کیا ۔اپنے پہلے سال میں اومیگانے چند سو افراد کو اپنی خدمات پیش کیں۔۱۹۸۱ ء میں یہ انسٹی ٹیوٹ نیویارک اورریاست ورمونٹ  میں کرایہ کی اپنی جگہوں سے موجودہ مرکز نیویارک کے شہررائن بیک  میں منتقل ہو گیا جو ۱۰۰ سے زیادہ ہیکٹر میں پھیلا ہوا ہے۔ آج یہاں ۵۰۰ سے زیادہ اساتذہ ہیں ۔ یہ ہر برس ۲۳ ہزار افراد کو اپنی خدمات پیش کر رہا ہے ۔اور اپنی ویب سائٹ کے توسط سے تو اس کی رسائی ۲۰ لاکھ سے زیادہ افراد تک ہے۔اومیگا میں بیرونی ترسیل کے منیجر کریسا سَینٹورو کا کہنا ہے ’’یہ امریکہ کا سب سے لمبے عرصے سے چلنے والا خلوت کدہ ہے۔ ‘‘

اومیگا انسٹی ٹیوٹ ہر برس ورکشاپ کے علاوہ پناہ گاہیں ، اساتذہ کی تربیت کے مواقع کے ساتھ یوگ روایت پر مبنی درجنوں پروگرام پیش کرتا ہے۔ اس میں بامشقت پروگرام کے ساتھ انسانی صحت کو بحال کرنے سے متعلق پروگرام بھی شامل ہیں ۔ اومیگا کے پروگرام عام طور پر ہفتے کے اخیر میں یا پیر سے جمعہ تک ہوتے ہیں، حالاں کہ یوگ ٹیچر کی تربیت طویل عرصے والی ہوتی ہے۔ 

اومیگا ابتدائی سے لے کراعلیٰ تمام سطحوں کے لئے یوگ پروگرام پیش کرتا ہے۔سَینٹورروبتاتے ہیں ’’ ہمارے پروگرام میں شامل ہونے والوں کی اکثریت کیمپس میں رہتی ہے ۔ اگرچہ زیادہ تر پروگراموں کے لئے یہاں روز آنا جانا ممکن ہے۔کچھ لوگ پہلی بار محفوظ اور قابل اعتماد ماحول میں یوگ کا تجربہ کرنا چاہتے ہیں یا اپنے معمول پر واپس آجاتے ہیں جب کہ دوسرے اپنے موجودہ طرز عمل میں اور گہرائی حاصل کرنے یا سکھانے کے لئے سند حاصل کرنے کے لئے یہاں آتے ہیں ۔‘‘

یہاں کام کرنے والے اساتذہ حقیقی معنوں میں یوگی ہیں جنہیں خلوت کدوں کی قیادت کا تجربہ اور اپنی روایات کا گہرا علم بھی ہوتا ہے۔ سَینٹورروبتاتے ہیں ’’ ہم عام طور پر شاگردوں کی بجائے کسی شعبے کے اصل بانی کو (اگر وہ باحیات ہوں )تلاش کرتے ہیں۔ ہم اپنے شرکاء کی رائے پر موجودہ اساتذہ کی تشخیص کے لئے اور نئے موضوعات اور اساتذہ میں دلچسپی کے لئے احتیاط کے ساتھ غور کرتے ہیں۔‘‘ورکشاپ کے اوقات کے درمیان ہمارے مہمان یوگ، تائی چی ، مراقبہ اور حرکت پر مبنی روزانہ ہونے والی کلاس کا تجربہ کر سکتے ہیںاورجون سے اگست تک لانگ پَونڈ لیک میں بوٹ اور تیراکی کر سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ باسکیٹ بال اور ٹینس ، وسیع قدرتی نظارے کی سیراور شام کے اوقات میں کنسرٹ، فلموں اور نمونہ ورکشاپ میں بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

اومیگا سینٹڑ فار سسٹینیبل لیونگ اس انسٹی ٹیوٹ کا ایک منفرد پہلو ہے۔ یہ امریکہ کی پہلی ایسی عمارت ہے جسے ایل ای ای ڈی پلیٹینم اور لیونگ بلڈنگ چیلنج  دونوں ہی اسناد مل چکی ہیں ۔ یہ ماحولیاتی تعلیمی مرکز اور قدرتی پانی کو دوبارہ حاصل کرنے کی سہولیات والی عمارت کے طور پر کام کرتی ہے جوبغیر کیمیائی اور صفر توانائی کے استعمال کے انسٹی ٹیوٹ کے صد فی صد فاضل پانی کو صاف کرتی ہے۔ 

اومیگا انسٹی ٹیوٹ ایک نئی ویب سائٹ شروع کرنے کی تیاری کررہا ہے جو انتہائی تفاعلی ہوگی ۔ اس ویب سائٹ سے زیادہ سے زیادہ آن لائن تدریس کو فروغ دیا جائے گا۔ دنیا بھر سے لوگ eOmega.orgپر لاگ اِن کر کے مضامین اور ویڈیو دیکھ سکیں گے اور انسٹی ٹیوٹ کی لائیو اسٹیرمنگ کے علاوہ آن لائن پروگراموں سے بھی فیض اٹھا سکیں گے۔ 

 

ایسیلین  انسٹی ٹیوٹ

کیلی فورنیا کے مرکزی ساحل پر  کارمیل  اور سَین سائمون کے بیچ واقعبِگ سُور  ایک سنگلاخ حصہ ہے جو اس قدرتی حسن کی شہادت پیش کرتا ہے جس   کے لئے امریکہ مشہور و معروف ہے۔مقامی لوگ اسے جزیرہ کہتے ہیں ۔ ایسیلین  ۴۸ ہیکٹر سے بھی زیادہ رقبے والا ایسا پہاڑی خطہ ہے جو سمندر میں در انداز ایک نوکیلے خطے کی مانند نظر آتا ہے۔ اس کی زمین زرخیز ہے جہاں معدنیات سے پُر گرم جھرنے پائے جاتے ہیں ۔یہ فطری طور پر سطح سمندر سے ایک بلند مقام پر واقع ہے۔یہاں واقع معدنیات کے یہ گرم جھرنے اس سال فروری میں اس وقت سے بند ہیں جب بِگ سُور میں مٹی کے تودے کھسکنے کا پہلا واقعہ پیش آیا۔ایسیلین  تجربے ، تعلیم اور تحقیق کے ذریعہ انسانی صلاحیت کی تلاش اور اس کی شناخت کا ایک غیر منافع بخش مرکز ہے۔ یہاں شخصی تبدیلی ، رابطہ و ترسیل ،ذوجین کے مابین مشاورت اور صلاحیت سازی کے موضوعات پر متعدد ورکشاپ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ 

ایسیلین کے شریک بانی مائیکل مرفی کا انڈیا سے گہرا تعلق رہا ہے۔ اسٹین فورڈ یونیورسٹی میں گریجویشن کے دَور کے اپنے ساتھی رچرڈ پرائس کے ساتھ ۱۹۶۲ء میں ایسیلین کے قیام سے پہلے وہ پُڈو چیری میں واقع شری اوربندو آشرم میں ڈیڑھ برس تک قیام کر چکے ہیں۔ تعلیمی ، طبّی اور معاشرتی شعبوں میں اختراعی عمل کی حوصلہ افزائی اور خیال و فکر کی آزادی کو فروغ دینے کی اشد ضرورت اس تحریک کا ابتدائی عامل رہی ہے۔ اس کے پس پردہ مقصد ایک ایسی فضا کی تشکیل تھا جہاں نظریات اور افکار کو بغیر کسی بندش کے فروغ دیا جا سکے۔اس طرح  ایسیلین  اہم اقدامات کو فروغ دیتا ہے اور ہر سال ۶۰۰ ورکشاپ اور صحت گاہوں پر مرکوز پروگرام کے ذریعہ مقامی باشندوں ، تربیت حاصل کرنے والوں اور ورکشاپ میں شرکت کرنے والوں کو ذاتی، روحانی اور معاشرتی تبدیلی کے مشق کے پروگرام کا اہتمام کرتا ہے ۔ 

ایسیلین نے آج سے ۵۰ برس پہلے ذاتی اور معاشرتی تبدیلی کے لئے ایک مرکز کے طور پر اپنے دروازے کھولے۔۱۹۶۲ ء میں اس کے قیام سے اب تک   ۷ لاکھ ۵۰ ہزار سے زیادہ سیّاح یہاں کا دورہ کر چکے ہیں ۔یہاں کی فیس ایک رکاوٹ ہو سکتی ہے ، لہٰذا یہ مرکز عام طلبہ کی مدد کے لئے وظیفہ فراہم کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ بعض مخصوص طلبہ کی امداد ورکشاپ ٹیوشن  اور رہائش کی فراہمی کے طور پر بھی کرتا ہے۔ 

ایسیلین سینٹر فار تھیوری اینڈ ریسرچ ان مثبت معاشرتی تبدیلیوں اور نئے عالمی نظریات کو فروغ دینے کے لئے تحقیق ، اصول اور عمل کی پیشکش کرتا ہے جو تبدیلی کی مشق ہوتی ہیں اور جنہیں عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے کیوں کہ اس کی

 ویب سائٹ کے مطابق عمل کے بغیر تصور ناقص اور تصور کے بغیر عمل نابینا ہے۔ جیسٹالٹ تھیراپی کے بانی فرٹز پرلس، معروف انگریز ماہر عمرانیات گری گوری بیٹ سَن، چیکو سلاواکیا کے ماہر نفسیات اسٹَینِسلیو گَروف اور بہت سے دیگر دانشوروں ، معالج اور محققین نے ایسیلین میں کئی برس گزارے ہیں ۔ 

 

بِگ اسکائی یوگ ریٹریٹس 

بِگ اسکائی یوگ ریٹریٹس خواتین کے لئے یوگ ، پیدل چلنے، فوٹو گرافی کرنے، کھانا پکانے اور شراب چکھنے جیسی سرگرمیوں کا امتزاج پیش کرتا ہے۔ یہاں اشٹانگ، بحالیٔ صحت پر مرکوز یوگ اور ونیاس فلو یوگ   کروائے جاتے ہیں ۔ 

بِگ اسکائی مونٹانا کے خوبصورت پہاڑوں پر اور اٹلی اور کوسٹاریکا جیسے ملکوں میں موسمِ گرما اورموسمِ سرما کے پروگراموں کا اہتمام کرتا ہے۔ اس کا خصوصی پروگرام کاؤگرل یوگ  خواتین کے لئے گھوڑے کی پشت پر سواری کرنے کا موقع دینے والا نیز بہت ساری سرگرمیوں کا ایک مجموعہ ہے ، یہی وجہ ہے کہ کافی مقبول بھی ہے۔ مثال کے طور پر تخلیق ، تجدید اور گھوڑوں کی خوبصورتی پر مرکوز خواتین کے لئے چار دن اور تین راتوں پر مشتمل ایک پروگرام کلائیڈ پارک میں منعقد ہوتا ہے۔کاؤ گرل یوگیٹو گرافی ، شوقین فوٹو گرافروں اور جوگنوں کے لئے گھوڑے اور انسان کے جادوئی تعلق کی تلاش اور ان کے تخلیقی خواص سے مستفید ہونے کے لئے یوگ اور گھوڑے کی یکجائی کا عمل انجام دیتا ہے۔شرکا ء کے شہادت نامے اس بات کا ثبوت ہیں کہ شرکاء خود کو تازہ دم محسوس کرتے ہیں اور فوٹو گرافی کے شعبے میں پُر اعتماد ہوجاتے ہیں ۔ کلائیڈ پارک میں واقع  لیوکس کاؤ گرل یوگ ریٹریٹمیں گھڑ سواری اور یوگ پر توجہ دی جاتی ہے۔     بِگ اسکائی کی ویب سائٹ کے مطابق ان سرگرمیوں کے تحت ان لوگوں کا احاطہ کیا جا تا ہے جو غور و فکر کے لئے ذہنی آزادی ، آنے جانے کے لئے ظاہری جگہ اور قدرت کے ساتھ از سر نو مربوط ہونے کے لئے روحانی آزادی کے متلاشی ہوتے ہیں ۔ اس سے یوگ کی مشقوں میں شدت آتی ہے اور ۶۰۰  ہیکٹر پر مشتمل ڈبل ٹی ریور رَینچ  پر واقع بحال شدہ بے آرائش اسٹوڈیو میں جسم کو ایک توانا شکل دی جاتی ہے۔لیکن  بِگ اسکائیکا موقف اس سلسلے میں یہ ہے کہ اس کا تعلق گھوڑوں کی پشت پر مختلف طریقے سے بیٹھنے سے نہیں بلکہ پُرسکون ماحول میں گھوڑوں سے دوستانہ مراسم اُستوار کرنے سے ہے۔ 

بِگ اسکائی کا ایڈوانس ہائیکنگ اینڈ یوگ ریٹریٹ یوگ کو چٹائی تک ہی محدود نہیں رکھتا بلکہ اسے دور پہاڑوں تک لے جاتا ہے۔یہاں یوگ اور چہل قدمی سے آغاز ہوتا ہے مگر تکمیل  ریچرڈ لوفکی کتاب دی نیچر پرنسپل:ری کنیکٹنگ وِتھ لائف ان اے ورچُو وَل ایج سے لئے گئے موضوعات پر مشتمل تبادلۂ خیال ، تاثرات ، ارادے اور استغراق کے عمل کے ساتھ ہوتی ہے۔ اس میں شہد کی مکھیوں کے مستقر تک کا پیدل سفر شامل ہے ۔ یہ مقام تین جانب سے۱۰ ہزار فٹ کی ہسپانوی چوٹیوں سے گھرا ہے۔اس میں بھالوؤں کے مسکن تک زیادہ دشوار گزار پیدل سیر بھی شامل ہے جو ۱۹ کیلو میٹر طویل سفر ہے جس میں مخصوص قسم کے بارہ سنگے، چرند و پرند اور کالا بھالو جیسے جنگلی جانور دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہاں پشت ، کولہوں اور دل و جگر پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے جب کہ اس کے بعد یوگ اور پھر سیر کے بعد قوت بخش یوگ پر توجہ دی جاتی ہے۔ 

یوگ اینڈ یلو اسٹون پروگرام کو قدرتی نظارے اور سواسَن کے چوراہے کے طور پر بیان کیا جاتاہے۔ اس کا اہتمام  بِگ اسکائیکے ذاتی ۳۶۰۰  ہیکٹر مویشی باڑے میں کیا جاتا ہے جو یلو اسٹون نیشنل پارک ایکو سسٹم کا توسیعی حصہ بھی ہے۔ اس میں یلو اسٹون نیشنل پارککے زبردست گرم پانی کے چشمے اور قریب میں ہی واقع بوائلنگ ریور اور  گلاٹین پیٹریفائڈ فاریسٹ تک کے دورے شامل ہیں جہاں ۵۵ ملین برس قبل قدیم آتش فشانی کے نتیجے میں جنگل زمیں دوز ہوکر محفوظ ہوگیا تھا۔ 

بِگ اسکائی  پستان کے کینسر کو مات دینے والوں یا اس وقت اس سے جنگ کرنے والوں کے لئے خلوت نشیں ہونے کا بہترین اہتمام بھی کرتا ہے۔ کاؤ گرلس ورسز کینسر ایک منفرد قسم کی صحت گاہ ہے جسے پستان کے کینسر سے نبرد آزما خواتین کا حوصلہ بڑھانے اور ان کے زخموں کوبھرنے کی غرض سے تیار کیا گیا ہے۔اس سال  کاؤ گرلس ورسز کینسراور دیگر ۹۹ خدمت گاروں، محققوں، انسان دوستوں، وکیلوں اور رضاکاروں کوکینسر سے جنگ کرنے کے نظریے کو تبدیل کرنے کے لئے مسا چیو سٹس جنرل ہاسپٹل کینسر سینٹر نے اعزاز سے نوازا ۔

صحت گاہوں کے متعدد دیگر متبادل بھی موجود ہیں جن کا انتخاب اپنی پسند سے کیا جا سکتا ہے ۔ یہ صحت گاہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ جوگنیاں اپنی صحت کو بہتر بنانے کے علاوہ اپنے روز مرہ کے معمولات سے ہٹ کر یہاں ایک پُر لطف اور یادگار وقت گزاریں۔

 

پارومیتا پین ٹکساس کے آسٹِن میں مقیم ایک صحافی ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط