مرکز
1 2 3

امریکی رکابی تک مقبول ہندوستانی کھانوں کی رسائی

انیتا جَے سنگھانی اور اجنا جَے کی ماں ۔بیٹی کی جوڑی اپنے  پونڈی چیری ریستورانوں کے ذریعہ ہندوستانی ذائقوں کو امریکی شائقین تک پہنچا رہی ہے ۔

ا مریکی عوام انڈیا کے کھانوں سے نا واقف نہیں ہیں ۔ لیکن انیتا جے سنگھانی اور ان کی بیٹی اجنا جے روایتی کھانوں میں تبدیلی لاکر تمام انڈیا میں مقبول سر راہ دستیاب کھانوں کی مختلف قسموں کو فراہم کرکے امریکیوں میں کھانوں کے شوق کو مہمیز کر رہی ہیں ۔ اور یہ ترکیب اپنا رنگ بھی دکھا رہی ہے۔عجب نہیں کہ ان کے پونڈی چیری ریستوران (سب سے پہلے یہ ٹکساس کے ہیوسٹن میںشروع  ہوا جس میں حالیہ اضافہ نیو یارک سٹی میں کیاگیا)کو ستائش ملنے کے ساتھ ساتھ پُر جوش گاہک بھی مل رہے ہیں ۔ 

اور اس کی روح رواں گجرات کی باشندہ جے سنگھانی ہیں جنہوں نے اپنے والدین کے کہنے پر مائکرو بایو لوجی میں ڈگری تو حاصل کر لی مگر انہیں شروع ہی سے معلوم تھا کہ ان کی دلچسپی تو بنیادی طور پر کھانوں میں ہی ہے۔ وہ بتاتی ہیں’’کھانوں کا شعبہ یقینی طور پر وہ شعبہ تھا جس سے میں وابستہ ہونا چاہتی تھی لیکن میرے والدین کی نظروں میں عملی زندگی کے انتخاب کے لئے یہ کوئی میدان نہیں تھا۔ میں طبّاخی سے متعلق کالج جانے کی خواہش مند تھی لیکن میرے والدین نے کہا کھانا کیسے پکایا جائے صرف یہ سیکھنے کے لئے ہم تمہیں دوسرے شہر نہیں بھیج سکتے۔ یہ کام تم یہیں گھر میں رہ کر سیکھ سکتی ہو۔ ‘‘ 

یونیورسٹی کی تعلیم کے بعد جے سنگھانی کی شادی ہوگئی ۔ جب ان کی بیٹی اور بیٹا کچھ بڑے ہو گئے تو جے سنگھانی کو ہیوسٹن کے بہترین ریستورانوں میں سے ایک، کیفے اینی ، میں پیسٹری کچن  میں ملازمت مل گئی۔طبّاخی سے متعلق اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے بعد ۲۰۰۱ء میں انہوں نے اس وقت کے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر انڈیکا  کے نام سے ایک اعلیٰ قسم کا ریستوران شروع کیا جس نے ٹکساس میں ان کی شناخت قائم کر دی۔انڈیکا  کو گرچہ بہت کامیابی ملی لیکن جے سنگھانی تب تک کسی مختلف چیز کا خیال پالنے لگی تھیں اور وہ چیز تھی .......سر راہ دستیاب کھانے ۔ 

وہ بتاتی ہیں ’’میرے خیال میں سر راہ ملنے والے کھانے انڈیا کے ذائقوں کا سب سے بہترین حصہ ہیں ۔ میں اسے بے حد پسند کرتی ہوں ۔ میں تو سر راہ دستیاب کھانے کا مزہ لینے کے لئے اپنے والدسے آدھی رات میں بھی راستے میں رکنے کی گزارش کیا کرتی تھی ۔ اس میں وہ تمام ذائقے موجود ہیں جس کی مجھے تلاش ہوتی ہے ۔اس میں جس طرح  میٹھے،مسالے دار اور نمکین اجزا ایک ساتھ ملادئے جاتے ہیں وہ کافی اطمینان بخش اورلاجواب ہوتا ہے ۔ یہی وہ چیز تھی جو مہنگے علاقے میں موجودانڈیا کے بہت سارے ریستورانوں سے ندارد تھی۔ 

ہیوسٹن کرونیکل نے ۲۰۱۱ء میں جے سنگھانی کے ذریعہ شروع کئے گئے پہلے پونڈی چیری ریستوران کو ’’حالات میں یکسر تبدیلی لانے والا اور سر راہ دستیاب انڈیا کے کھانوں سے متاثر ریستوران قرار دیا جس نے کھانا تیار کرنے کی ان کی شہرت کو بازار کے زیادہ مہنگے حصے میں واقع  انڈیکاسے باہر دنیا کے سامنے پیش کیا ۔‘‘

ان کی جبلّت نے انہیں تحریک دی اور جے سنگھانی نے ایک دوسرے مقام کے بارے میں غور و فکر کرنا شروع کیا اور اپنی بیٹی جے کو نیویارک سٹی کا مشورہ دیا۔یہ وہ جگہ تھی جہاں جے کی عملی زندگی اسٹیج اور اسکرین کی اداکارہ کے طور پر کامیابی کی راہ پر گامزن تھی۔فن ِ تعمیر میں ڈگری حاصل کرنے والی جے پونڈی چیری ریستوران کا انتظام و انصرام سنبھالتی ہیں ۔پونڈی چیری ریستوران ،  مین ہٹن میں جدید روش والے  فلیٹیرن ڈسٹرکٹ  علاقے میں دن بھر کھانا فراہم کرنے والا ایک ریستوران ہے جس کے کھانوں کی ستائش ویلیج وائس  اخبار نے ان الفاظ میں کی ’’یہاں وہ کھانا ملتا ہے جس کا ذائقہ الگ قسم کا ہوتا ہے۔یہاں کھانے تازہ اور عمدہ اجزا سے تیار کئے جاتے ہیں جو صحت کے لئے اچھے ہوتے ہیں ۔یہاں ذائقہ مبالغہ آرائی پر اور ہنسی خوشی اور زندگی کے مختلف رنگ ،کھانے کو جلد ختم کرنے اور الگ تھلگ رہنے کی روش پر غالب آتے ہیں ۔‘‘

پونڈی چیری کے دونوں ریستوران دال والی پوری، مسالا چاول پَین کیک، مصری چنا کے آٹے سے تیار ناریل اور مرچ بھرے رول،نان لفاف، پراٹھے، بھروا ڈوسہ اور کباب لفاف جیسے انڈیا کے بہترین کھانوں کے بارے میں جے سنگھانی کے طریقۂ کار کو پیش کرتے ہیں ۔ سر راہ دستیاب انڈیا کے کھانوں سے متاثر سموسے ، کڑھی ، سلاد اور اسنَیکس  (ہلکی پھلکی غذا جسے عموماََ کھانے کے درمیان کھایا جاتا ہے)بھی کافی مقبول ہیں۔ 

جے سنگھانی بتاتی ہیں ’’ میں انڈیا کے کھانے کو روشن خیال امریکی شائقین تک لے گئی ۔ ہم نے اسے صرف کڑھی کے پیالوں تک ہی محدود نہیں رکھا جسے مختلف پلیٹوں میں تقسیم کیا جائے بلکہ اگرکسی نے گلابی گوشت والی دریائی مچھلی سَیلمَون  کی فرمائش کی تو ہم نے اس بات کو یقینی بنایا کہ جس نے فرمائش کی اس کی رکابی میں مچھلی کا ایک اچھا سا ٹکڑا فراہم کردیں ۔ انڈیا کا کھانا تو پہلے سے ہی بہت اچھا تھا ،ہم نے اس میں ذرا سی تبدیلی کرکے اسے امریکیوں کے لئے زیادہ قابل قبول بنا دیا۔‘‘

دوسری تبدیلی گاہکوں کے مشاہدے کی تھی۔جے کہتی ہیں ’’انڈیا کے کھانوں کو منزل مقصود کا کھانا قرار دیا جاتا ہے۔ اسے کھانا گویا ایک تقریب میں شرکت کرنے جیسا ہے ۔مثال کے طور پر کوئی یہ نہ کہے کہ چلو باہر چلتے ہیں اور دوپہر کا کھانا کھاتے ہیں بلکہ یہ کہے کہ چلو باہر چلتے ہیں اور انڈیا کے کھانوں کا مزہ لیتے ہیں ۔امریکیوں کے ذہن میں یہ بات کبھی نہیں رہی کہ وہ سارا دن اور ہردن یہ کھانا کھا سکتے ہیں۔ ہم لوگ جزوی طور پر ناشتہ ، ظہرانہ اور عشائیہ فراہم کرکے اور جزوی طور پر ہی باقی چیزیں فراہم کرکے اس خیال کو تبدیل کر رہے ہیں ۔‘‘

نیو یارک سٹی میں۱۳۵ نشستوں والی ۵۰۰۰ مربع فٹ میں پھیلی جگہ میں ۲۰۱۶ ء میں شروع  کئے جانے والے پونڈی چیری ریستوران شروع کرنے کی خاطر ایک پرانی عمار ت کی تجدید کاری کے لئے، مختلف اجازت ناموں اور لائسنسوں کو حاصل کرنے کے لئے ،باورچی اور دیگر کام کرنے والوں کی تقرری کے لئے ، ایک نیا مینو تیار کرنے کے لئے اوردوسرے مختلف کاموں کے لئے کئی ٹھیکے داروں سے بات کر نی پڑی اور ان سے کام لینا پڑا ۔

جے کہتی ہیں ’’میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میں کیا کر رہی ہوں۔ میں نے اپنی امی کے ساتھ دیگر ریستوران بھی کھولے تھے لیکن میں اس وقت کافی چھوٹی تھی ۔میں اپنے حصے کا معمولی کام ہی کرتی تھی لیکن مجھے محسوس ہو تا تھا کہ میں بہت کچھ کر رہی ہوں۔ میں نے تمام چیزیں امی ہی سے سیکھی ہیں ۔ وہ بہت سارے کام انجام دیتی ہیں۔کھانوں کے تئیں ہمیشہ سے ہی ان کا ایک جنون رہا ہے ۔ ہم لوگ جب بھی کھانے کے لئے باہر جایا کرتے تھے تو میری امی اپنے متعلق بات کرنے کی جگہ کھانے کے بارے میں ہی بات کیا کرتی تھیں۔ ‘‘

کئی مقامات میں پونڈی چیری ریستوران کا انتظام و انصرام دیکھنے کے لئے آمد و رفت کرنے والی جے سنگھانی تسلیم کرتی ہیں کہ دو مختلف شہروں میں اعلیٰ قسم کے ریستوران کا اہتمام واقعی دشوار گزار کام ہے۔وہ کہتی ہیں ’’مجھے کافی منظم رہنا پڑتا ہے۔ ہر ایک چیز کا خیال رکھنا پڑتا ہے اور ساتھ میں تخلیقی دشواریوں پر بھی توجہ دینی پڑتی ہے۔ مجھے ہر اس چیز کو اپنی زندگی سے نکال دینا پڑا ہے جس کی مجھے ضرورت نہیں۔میں اب ایک تنگ راستے پر چل کر اپنی زندگی گزار رہی ہوں۔‘‘

پونڈی چیری کے ریستورانوں میں کھانے تو لذیذ ہوتے ہی ہیں مگر یہاں کے مینو میں ایک دوسری چیز بھی کافی اہمیت کی حامل ہے جس کے بارے میں جے سنگھانی بتاتی ہیں ’’مجھے انڈیا کے کھانوں پر ناز ہے ۔یہ کھانا پکانے کا وہ طریقہ ہے جو سینکڑوں برس میں یہاں تک پہنچا ہے۔میرے خیال میں ہمیں اپنے ورثے پر جس قدر فخر کرنا چاہئے ،ہم نہیں کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس ایک حیرت انگیز ورثہ اور علم ہے جس پر ہمیں ناز ہونا چاہئے۔‘‘

اسٹیو فاکس کیلی فورنیا کے وِنچورا میں مقیم آزاد پیشہ قلمکار ، ایک اخبار کے سابق ناشر اور نامہ نگار ہیں۔  

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط