مرکز
1 2 3

امریکی مزاج کے مطابق ہندوستانی ذائقوں کا امتزاج

کیلی فورنیا میں فوڈ  ٹرک ، ریستوران ، میخانے اور کھانے کا کاروبار کرنے والی کمپنی کری اپ ناؤ مقبول امریکی کھانوں کے ساتھ ہندوستانی ذائقوں کا امتزاج کرکے کھانے کے شوقینوں کو ایک نئے تجربے سے روشناس کراتی ہے۔

کبھی  کبھی دو بڑی چیزوں کے آپس میں ملنے سے ایک نئی شاندار چیز معرضِ وجود میں آ جاتی ہے۔ سان فرانسسکو بے ایریا کی کمپنی کری اپ ناؤ کے معاملے میں چکن ٹِکّا مسالا اور بریٹو(میکسیکو کا معروف کھانا)کی آمیزش نے بھی یہی کام کیا۔ یعنی دو مختلف ثقافتوں کی نمائندگی کرنے والی اشیائے خوردنی کی یکجائی ایک نئی قابلقدر چیز کی شکل میں متعارف ہوئی۔ 

کری اپ ناؤکے بانیوں آکاش کپور ، ان کی اہلیہ رَ عنا کپور اور امیر حسینی کے لئے چکن ٹِکّا مسالا  بریٹونے انتہائی کامیاب کاروبار کا موقع فراہم کیا ۔ حسینی بتاتے ہیں ’’دن کا کھانا کھاتے ہوئے بات بات میں کری اپ ناؤبنانے کا خیال ذہن میں آگیا۔‘‘ چکن ٹِکّا مسالا  بریٹوجیسا تجربہ پہلے نہیں کیا گیا تھا مگر اس کا خیال نہ صرف للچا دینے والا بلکہ دست رس میں بھی تھا ۔ جب فیصلہ ہو گیا تو ان لوگوں نے مکان سازی کی صنعت کی اپنی ملازمتوں کو خیر باد کہا اور اپنا پہلا فوڈ ٹرک خریدا۔یوں ۲۰۰۹ ء میں   کری اپ ناؤ  شروع کیا گیا تو گویا اس نے گرما گرم نفیس قسم کے کھانوں والے ایسے ٹرک کو  سان فرانسسکو بے ایریا   میں متعارف کیا جو ایسے کھانوں کے زمرے میں آتے ہیں جن سے لوگ واقف تو ہوتے ہی ہیں ،اس سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔کری اپ ناؤ نے یہ اس علاقے میں کیا جہاں دو پہر کے کھانے کے لئے بریٹو اکثریت کی پہلی پسند تھا۔ 

حسینی بتاتے ہیں ’’اس علاقے میں ہم شاید سب سے پہلے ایسے لوگ تھے جو نفیس قسم کے کھانے ٹرک سے بہم پہنچا رہے تھے۔ہم نے صحیح وقت پر فوڈ ٹرک بزنس شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ اور یہ وقت ایسا تھا جب یہاں لوگ کچھ نیا کھانے کے خواہش مند تھے۔ہم مناسب قیمت میں اعلیٰ درجے کی چیز ڈھیر سارے پیار کے ساتھ پیش کر پا رہے تھے۔ جو چیز ہمارے حق میں گئی و ہ یہ تھی کہ ہمارے علاوہ کوئی ایسا فوڈ ٹرک بزنس علاقے میں نہیں تھا جہاں انڈیا کے سڑک پر ملنے والے کھانے دستیاب تھے۔ ‘‘

اسی کا نتیجہ تھا کہ کری اپ ناؤ  راتوں رات مقبولیت کی انتہا کو پہنچ گیا۔اس کی کامیابی نے اس کی بنیاد رکھنے والوں کو بھی حیران کر دیا جنہیں اس غیر معمولی کامیابی سے پہلے ریستوران کے کام کاج کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ کامیابی ملی تو کاروبار بھی پھیلنے لگا ۔ اور ۸ برسوں میں کمپنی نے چار فوڈ ٹرک، ۵ ریستوران ، مورٹار اینڈ پیسٹل کے نام سے دو میخانے کھولنے کے علاوہ کھانا مہیا کرنے کی تجارت بھی شروع کردی۔ 

یہاں مینو بڑی ہوشیاری سے تیار کیا جاتا ہے۔ یعنی انڈیا کے تازہ ترین ذائقوں کے ساتھ امریکی شہریوں میں جانی پہچانی چیزیں یعنی سینڈ وچ، ٹاکو(میکسیکو کا مقبول کھانا)اور  روی اولی کی آمیزش کی جاتی ہے تاکہ امریکیوں کو ان کے شناسا کھانوں کے درمیان انڈیا کا ذائقہ بھی دستیاب کروایا جاسکے۔حسینی کہتے ہیں ’’ہماری سب سے مقبول چیز ہمیشہ سیچکن ٹِکّا مسالا  بریٹو رہی ہے۔چاٹ مسالوں وغیرہ کے ساتھ سموسے پیش کرنا، اس کے بعد لوگوں کی سب سے زیادہ پسندیدہ چیز ہے جس کی بھی لوگ بہت تعریف کرتے ہیں ۔‘‘

کری اپ ناؤ نے اپنے آغاز ہی سے تکنیک کو اپنے نظام کا ایک اہم حصہ بنایا تھاجس کی مدد سے کھانے کے شوقین اپنے فون یا کمپیوٹر کے ذریعہ یہ جان سکتے ہیں کہ ان کے کھانے کے ٹرک کسی مخصوص دن دوپہر کے وقت کہاں پر ہوں گے۔ سوشل میڈیا پر مضبوط موجودگی سے  کری اپ ناؤ  کو مقامی شائقین کو اپنے ساتھ جوڑنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

جس طرح  بے ایریا تکنیکی کامیابی کا استعارہ بنا، اسی طرح  کری اپ ناؤبھی جلد ،آرام دہ اور پرسکون ریستوران کی کامیابی کا استعارہ بن کر ابھرا۔حسینی نے فوربس کی ۲۰۱۷ ء  فوڈ اینڈ ڈرنکس کٹیگری کے ۳۰ برس سے کم عمر والے لوگوں کی فہرست میں اپنا مقام بنایا ۔ اس کے علاوہ ان کی ٹیم نے بھی بے شمار دیگر اعزازات حاصل کئے۔ 

حسینی کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں جو کچھ ہوا ہے اسے دیکھ کر وہ اب بھی حیران ہیں ’’مجھے کبھی یقین نہیں ہوتا کہ اتنی کم مدت میں ہم نے اتنا کچھ حاصل کر لیا ۔ اپنے برینڈ  کو اس طرح ترقی کرتے ہوئے دیکھنا واقعی تعجب خیز ہے۔ہم آج بھی اسی جذبے کے ساتھ کام کرتے ہیں جس جذبے کے ساتھ ہم نے شروعات کی تھی۔ ‘‘

ریستوران رنگارنگ فن پاروں اور کمیونٹی ٹیبل کے ساتھ اتنے ہی عمدہ ہیں جیسے خوش ذائقہ کھانے پیش کرتے ہیں۔ حسینی بتاتے ہیں ’’ہم، ہم پیشہ ریستورانوں سے مختلف ہیں۔ ہم کھانوں کا جتنا خیال رکھتے ہیں ویسے ہی ماحول اور کھانے کے تجربے کا بھی رکھتے ہیں۔ ہماری کھانے کی جگہیں رنگا رنگ اور شاندار ہیں اور ہمارے کھانے ذائقہ دار ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی دست رس میں بھی ہیں۔ ‘‘

ریستوران کی توسیع  کر ی اپ ناؤ نے بے ایریا  ہی میں موجود حریف  توا   کو خرید کر کی ۔ مگر کھانے کے ٹرک ہمیشہ سے کمپنی کی ریڑھ کی ہڈی رہے ہیں۔ حسینی اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں ’’اصل خیال صرف اس کو قائم کرنا اور اس کے ارد گرد گھومنا نہیں بلکہ آگے بڑھنے کا تھا۔جب ہم نے پہلا غیر منقولہ ریستوران قائم کیا تو اس سے ہمیں بنیادی ڈھانچہ بنانے کا موقع تو ملا ہی ، ہمارے مہمانوں کو بھی یہ سہولت حاصل ہوئی کہ وہ جب چاہیں وہاں آئیں جائیں۔یقینی طور پر کام کاج کا یہ بہت ہی مختلف تجربہ تھا۔ مگر ہم نے بہت جلد سیکھ لیا کہ کسی ریستوران کا کھولنا کسی  فوڈ ٹرکچلانے سے کس طرح مختلف تھا۔‘‘ 

سوال یہ ہے کہ اب اس غیر متوقع کامیابی کے ملنے کے بعد آگے کیا کرنا ہے۔ مقامی طور پر مستحکم کاروبار قائم کرنے کے بعد کر ی اپ ناؤ کے بانیوں نے اپنی نظریں  بے ایریا   سے باہر اس کی توسیع پر مرکوز کی ہیں۔حسینی اپنے ارادے کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’اب جب کہ ہم نے  توا کو حاصل کر لیا تو ہماری توجہ اپنے کاروبار کو بڑھانے اور اسے قومی سطح پر وسعت دینے پر مرکوز ہے۔ ‘‘

مگر حسینی کمپنی کی بنیاد کو بھی ذہن میں رکھتے ہیں اور اس قسم کا کاروبار کرنے کے خواہش مند افراد کو یہی مشورہ دیتے ہیں ۔’’ درست ٹیم کے ساتھ اپنی کوشش کی شروعات کریں ۔ہمیشہ انکساری قائم رکھیں اور کبھی بھی لاپروائی نہ برتیں۔ اس چیز کو نظر انداز نہ کریں جس کی وجہ سے آپ کامیاب ہوئے ہیں ۔‘‘

کینڈس یاکونو جنوبی کیلی فورنیا میں رہتی ہیں اور جرائد اور روزناموں کے لئے لکھتی ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط