مرکز
1 2 3

ملبوسات زندگی کے

جان روبشا امریکہ میں مشہوراپنے مخصوص کپڑوں کے لئے انڈیا کی بلاک پرنٹنگ اور کپڑا بنانے کی تکنیک کا استعمال کرتے ہیں۔ 

امریکی پوشاک ڈیزائنر جان روبشا کی پوری زندگی فن پاروں اور مختلف ثقافتوں کا تجربہ کرنے کے شوق سے عبارت رہی ہے۔دنیا بھر میں اپنے سفر کے ذریعہ انہوں نے بہت سے نمونے اور پوشاکیں دریافت کیں جنہوں نے دور حاضر کے ملبوسات کی نمونہ سازی میں ایشیائی اور قبائلی جمالیات کے امریکی ثقافتی رجحان کو جنم دیا ہے۔ روبشا برَینڈ کے کپڑے اور گھریلو استعمال کی دیگر اشیاء ووگ اور ایل ڈیکور  جیسے مقبول رسالوں میں بھی جگہ پاچکی ہیں۔بستر کے لئے ان کے خاص ڈیزائن وہائٹ ہاؤس میں سابق امریکی صدر بارک اوباما کی خواب گاہ کو سجانے میں استعمال کئے جا چکے ہیں۔انڈیا کے منفرد بلاک پرنٹس اور ماہرانہ طور پر ان رنگوں کے مرکب نے انڈیا کے روایتی ڈیزائن کو امریکی صارفین کے لئے بہت سے نئے اور دلچسپ انداز میں پیش کئے جانے کی راہ ہموار کی ہے۔ یوں ایک طرح سے انہوں نے ثقافتوں اور نمونہ سازی کے نقطہ نظر سے دونوں ملکوں کو اتحاد کے دھاگے میں پرو دیا ہے۔ 

 سفر

 نیویارک کے بروکلن میں واقع پراٹ انسٹی ٹیوٹ سے فائن آرٹس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعدروبشانے چین میں روایتی بلاک پرنٹنگ کی تعلیم حاصل کی اور پھر ۹۰ کی دہائی میں اپنی مصوّری کے لئے قدرتی نیلے رنگ کی تلاش میں انڈیا کا سفر کیا ۔مگر یہاں آ کر انہیں انڈیا کے مقامی دستکاروں کی روایتی کپڑا سازی کے فن سے لگاؤ پیدا ہو گیا ۔ وہ اپنی ویب سائٹ پر لکھتے ہیں ’’فوری طور پر تیار شدہ اور کپڑوں میں روح پھونکنے والے فن کو پوری زندگی کے لئے دلفریبی پیدا کرنے والا بننا تھا۔ ‘‘

انڈیا کے اپنے پہلے سفر کے بعد سے ہی  روبشا نے ملبوسات کے اپنے کاروبار کو بڑے پیمانے پر پھیلایا ۔اس طور پر بستر، تکیہ، کپڑے اور گھر کی سجاوٹ کے لوازمات کا ایک بہت وسیع ذخیرہ تیارہوا جسے وہ اپنی ویب سائٹ جان روبشا ڈاٹ کوم کے  علاوہ بلو مِنگ ڈیلس اور  سَیکس ففتھ ایونیو نامی خوردہ فروشوں کے ذریعہ فروخت کرتے ہیں ۔

روبشانے انڈیا میں کپڑوں کے کئی کارخانوں کی مدد سے اپنا کام جاری رکھا ہے ۔ اس لئے وہ ہر سال نیویارک سے کپڑوں کی ایجاد ، ان کو رنگنے اور پرنٹنگ تکنیک کے نئے تجربات کی نگرانی اور اپنے کلیکشن کے لئے استعمال کئے جانے والے کپڑوں کو تیار کرنے والے دستکاروں کے ساتھ کام کرنے کے لئے انڈیا کا دورہ کرتے ہیں ۔  

بلاک پرنٹنگ

روایتی بلاک پرنٹنگ نقاشی دار لکڑی کے بلاک کے ذریعہ کپڑوں کی چھپائی کا عمل ہے۔ یہ کپڑوں پر چھپائی کے سب سے قدیم ، آسان اور سب سے سست رو طریقوں میں سے ایک ہے۔ انڈیا میں ماہر کاریگر لکڑی کے بلاک پر ہاتھوںسے روایتی ڈیزائن کے نقش ابھارتے ہیں اور پھر ان کا استعمال کپڑوں پر دباؤ ڈال کر چھپائی کے لئے کیا جاتا ہے۔ یہ من و عن اور باریک بیں دستکاری کہلاتی ہے۔ 

حالاں کہ  روبشا  نے انڈیا میں پایا کہ وہ نمونوں کو آپس میں ملا کر اور ایک دوسرے کے اوپر چڑھا کر ایک پینٹر کے جمالیات کا استعمال روایتی بلاک پرنٹنگ میں کر سکتے ہیں۔ اس طرح مخصوص انداز کا کپڑا تیار کیا جا سکتا ہے جو مثالی طور پر انڈیا اور ایشیائی بلاک کا جدید مرکب ہوتا ہے۔ خوبصورتی اور صداقت کو پہچاننے والی نظر کے سبب  روبشا نے اپنے خیالات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بلاک بنانے والے بہترین کاریگروں، ڈائی تیار کرنے والے ماہرین، رضائی بنانے والے، بنکر اور سلائی کرنے والوں کی تلاش کی تاکہ یہ تمام لوگ ان کے خوابوں کو تعبیردے سکیں۔ 

کَرم

روبشا انڈیا کی روایتی تکنیک کو فروغ دینے اور ان کے تحفظ کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ وہ مقامی دست کاروں کی مدد بھی کرتے ہیں جو ان کے فن میں ان کی راہنمائی کرتے ہیں ۔ کَرم (ہندو دھرم اور بُدھ مت کے مطابق پچھلے اور موجودہ جنم میں کیا گیا عمل اگلے جنم پر اثرا نداز ہوتا ہے اور اس کی سمت و رفتار کا تعین کرتا ہے) کے تصور میں یقین رکھنے والے روبشا نے ۲۰۰۱ ء میں واشنگٹن ڈی سی کی ایک غیر سرکاری تنظیم ایڈ ٹو آرٹیسنس کے مشیر کے طور پر خدمات انجام دیں جو دستکاروں اور ترقی یافتہ ملک کے نوجوانوں کے لئے اقتصادی مواقع پیدا کرنے کا کام کر رہی ہے۔ یہ تنظیم انڈیا سمیت پوری دنیا میں دستکاروں کی مدد کرتی ہے اور ان کی دستکاری کو بچانے کے لئے کام کرتی ہے۔ 

روبشاکی ویب سائٹ پر یہ بات اس طور پر درج ہے ’’ کام کی ہی وجہ سے میں ان دستکاروں کی زندگیوں میں معمولی کردار بن گیا ہوں، جن کے ساتھ میں کام کرتا ہوں۔ میں جو کچھ وہاں دیکھتا اور کرتا ہوں ، اس میںیہ لوگ میری حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جب آپ میرے کپڑوں کو دیکھتے ہیں تو آپ کو ایسا لگتا ہے کہ جیسے آپ میرے ساتھ دنیا کی سیر پر نکلے ہوں ۔‘‘

جیسون چیانگ لاس اینجلس کے سلور لیک میں مقیم آزاد پیشہ قلمکار ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط