مرکز
1 2 3

امریکی فیشن پر مہجری اثرات

امریکی فیشن صنعت کی شکل سازی میں مہاجرین کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔ 

سنہ  ۲۰۱۴ء میں نیو یارک کے فیشن انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجیمیں ایک طالبہ نٹالیہ کووال  (جس کی پیدائش یوکرین میں ہوئی تھی)نے ایک مقابلے میں حصہ لیا اور کسی نامعلوم مگر مشہور و معروف ہستی کے لئے ایک لباس ڈیزائن کیا۔اس نے دستیاب معلومات کے ساتھ نیلے رنگ کے شانوں سے لٹکتے ہوئے بند جامے کو سہارا دینے اور شانوں اور کمر کو کھلا رکھنے والے گھونگھرودار لباس کوتیار کیا اور پھر نتیجے کا انتظار کرنے لگی۔ 

اسے جلد ہی جذباتی ہیجان سے دو چار ہونا پڑاکیوں کہ اس نے نہ صرف یہ مقابلہ جیت لیا بلکہ اسے غیر متوقع مربی کے طور پر کسی اور کا نہیں بلکہ میشل اوباما (جو اس وقت خاتونِ اوّل تھیں)کا ساتھ ملا ۔

کووال امریکہ میں کامیابی حاصل کرنے والے بہت سارے تارکینِ وطن میں سے ایک ہے۔ نیویارک یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ٹوئی لِن ٹو  تارکینِ وطن کو امریکہ کی فیشن صنعت کی ریڑھ کی ہڈی سے تعبیر کرتی ہیں۔ 

ایسے ہی ایک ڈیزائنر نعیم خان ہیں ۔ممبئی میں پیدا ہوئے نعیم نے امریکی ڈیزائنر ہیلسٹن سے تربیت حاصل کرنے کے لئے ۱۹۷۸ ء میں امریکہ کا رخ کیا اور پھر ۲۰۰۳ ء میں شخصیت سے منسوب اپنا معروف لیبل شروع کیا۔ خوبصورتی سے تیار کئے ہوئے ان کے زنانہ ملبوسات کو ماڈل  کینڈل جینر سے لے کر اداکارہ  جینیفر لارینس تک سب نے زیب تن کیا ہے۔

عالمی جڑیں 

 ٹو کہتی ہیں ’’دوسری نسل سے تعلق رکھنے والے نسلی ڈیزائنر کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو ملا ۔ اور میرے خیال سے یہ کافی اہم ہے۔‘‘

اپنے بیان کی حمایت میں وہ کیوبا کے تارکِ وطن کے بیٹے نارسیسو روڈریگز اور ڈیریک لیم ، پیٹر سوم ، پربل گورونگ اور ویرا وانگ جیسے ایشیائی امریکی ڈیزائنرس کی ایک بڑی تعداد کی مثال دیتی ہیں۔

 یہ معاملہ نئی وضع کے لباس کی تراش خراش تک محدود نہیں ہے۔ نمونہ سازی کی برادری میں اوپر سے لے کر نیچے تک موجود ڈیزائنرس میں تارکینِ وطن کی خصوصیات کا امتیاز پایا جاتا ہے۔  ٹو باخبر کرتی ہیں ’’لاس اینجلس جیسی جگہوں میں جینس کے ہر ڈیزائنر کا تعلق دوسری نسل سے ہے۔‘‘

تارکینِ وطن اور ان کے بچے رفتہ رفتہ پیٹرن تیار کرنے والوں سے ترقی کرکے مشہور و معروف ڈیزائنر بننے تک کی راہ طے کرتے ہیں۔  ٹو  اس موقع پر کوریائی کپڑوں کوتیار کرنے والوں اور اس کو در آمد کرنے والوں جیسے جیمس جینس کے  سی اُن لِم اور ہڈسن جینس کے پیٹر لِم کی مثال دیتی ہیں جو اپنی انفرادی حیثیت میں خود ڈیزائنر بن چکے ہیں۔

 سوئی دھاگے سے ٹانکنے والوں سے لے کر ڈیزائنر تک سارے کام تارکین وطن انجام دیتے ہیں ۔ ٹو سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہتی ہیں ’’فیشن کی مکمل صنعت تارکینِ وطن کے محنت کشوں پر قائم ہے۔اس صنعت کی تاریخ اصل میں تارکینِ وطن کی تاریخ ہے۔ اس صنعت کی پہلی کھیپ یہودیوں اور آئر لینڈ کے لوگوں کی تھی پھر چین اور لاطینی امریکہ کے باشندے یہاں آئے۔ لہٰذا سلائی کڑھائی کے بہت سے کام ہونے لگے اور تمام کام تارکین ِ وطن ہی انجام دیا کرتے تھے۔ ‘‘

اپنی کتاب  دی بیو ٹیفل جنریشن : ایشین امیریکنس اینڈ دی کلچرل اکونومی آف فیشن میں   ٹو  بتاتی ہیں کہ کس طرح ایشیانژاد امریکی ڈیزائنرس نے خصوصی طور پر امریکی فیشن کی موجودہ صنعت میں کامیابی حاصل کی ہے۔وہ کہتی ہیں ’’بہت سارے معاملوں میں تو میں تصور بھی نہیں کرسکتی کہ ہجرت کے عمل اور تارکین ِ وطن کے بغیر ہم لوگ فیشن کی صنعت قائم کر پاتے۔‘‘

 ترغیب کے متنوع ذرائع 

فیشن کے رحجانات ہمیشہ یوں ہی شکل اختیار نہیں کرتے بلکہ ڈیزائنرس اکثر ان طرزوں سے ترغیب پاتے ہیں جنہیں وہ روزمرّہ کی زندگی میں پوری دنیا میں دیکھتے ہیں۔

ٹو اس بارے میں یوں اظہارخیال کرتی ہیں ’’ میرے حساب سے ایک چیز جس کے بارے میں ڈیزائنرس ہمیشہ باتیں کرتے ہیں ، یہ وہ طریقے ہیں جن سے وہ لاس اینجلس اور نیو یارک ، پیرس اور ٹوکیو کی عام زندگی سے پُر جوش طریقے سے متاثر ہوتے ہیں ۔ ڈیزائنراکثر بتاتے ہیں کہ میں نے ایشیا کا سفر کیا ، میں نے افریقہ کا دورہ کیا اور میں وہاں کی ان اشیاء سے متاثر ہوا۔ یہ کوئی معمولی نسلی پوشاک بھی ہو سکتی ہے جسے کسی سڑک پر دیکھا گیا ہو۔‘‘

نقطہ ٔ آغاز 

اسی کے ساتھ یہ بات بھی قابلِ لحاظ ہے کہ امریکہ تمام دنیا کے فیشن رجحانات کا نقطہ آغاز ہے اور ڈیزائنرس کو پیش قدمی کے مواقع مہیا کرانے والی سرزمین بھی ہے۔ سنہ ۲۰۱۵ ء میں گلوکارہ ریحانہ نے امریکہ کی بہت اہم سالانہ فیشن تقریبات میں سے ایک میں چینی ڈیزائنرگو پیکا بنایا ہوا ایک بے حجاب لباس زیب تن کیا تھا جس کی وجہ سے ذرائع ابلاغ میں پیدا ہوئے شور کی وجہ سے گو پیکی شہرت بین الاقوامی سطح پر ہوگئی تھی۔

 ٹوکے مطابق  ’’ایک چیز جو نیویارک اور لاس اینجلس جیسی جگہوں میں فیشن کی صنعت میں تاریخی اعتبار سے اچھی ہوسکتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کی رسائی میں رکاوٹ نسبتاََ کافی کم ہے۔ ۱۹۹۰ ء کی دہائی میں جب میں تحقیق کر رہی تھی تو اس وقت ڈیزائنر کہا کرتے تھے کہ ہمارے پاس چار نمونے ہیں اورہم ان کے ساتھ گھومتے ہیں اور نیویارک جیسی جگہوں کے کپڑے کی صنعت سے یہ تعلقات ہی ہیں جن کی وجہ سے یہ ممکن ہو سکا ہے۔ یہاں وہ ڈیزائنرس ہیں جن کے پاس یہ تخلیقی خیالا ت ہیں اور ان کی رسائی کپڑے سینے والوں اور پیٹرن تیار کرنے والوں تک ہے جو اسے ان کے لئے ممکن بناتے ہیں۔ملبوسات کا بازار یہاں ہونے سے ایک اچھی چیز یہ ہو گئی ہے کہ آپ مصنوعات تیار کرتے ہیں اور معلوم کر سکتے ہیں کہ کیا یہ فروخت ہو پارہے ہیں۔اگر وہ فروخت ہورہے ہیں تو آپ اور زیادہ سے زیادہ ان کپڑوں کو تیار کر سکتے ہیں ۔‘‘

تارکین ِ وطن نے ہی ملبوسات کے اس بازار کو نمایاں طور پر ایک نئی شناخت فراہم کی ہے۔  جیسے جیسے ان شہروں کے سماجی ماحول میں بہتری آتی گئی کم کرائے کی فیکٹریوں اور گوداموں کو مہنگے کمروں اور دفتر کی عمارتوں میں تبدیل کرنے کے مطالبے میں اضافہ ہوتا گیا ۔ ٹو  بتاتی ہیں ’’۱۰ برس پہلے نیویارک میں علاقوں کی پھر سے حد بندی کی بحث چھڑی ہوئی تھی کیوں کہ اس منصوبے سے ملبوسات کا بازار یقینی طور پر تباہ ہو جاتا ۔ بہت سارے ڈیزائنرس ملبوسات کے بازار کی حمایت میں سامنے آئے ۔ ان میں سے بہت سارے لوگوں نے کہا کہ وہ اپنے کام کو یہاں موجودبنیادی ڈھانچے کے بغیر انجام نہیں دے سکتے جو انہیں نیو یارک سٹی میں دستیاب ہے۔ ‘‘

یہ بات قابل ذکر ہے کہFWD.usاور کونسل آف فیشن ڈیزائنرس آف امیریکہ نے ۲۰۱۷ ء میں ایک رپورٹ شائع کی جس میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ صنعت نیویارک سٹی میں ۱ لاکھ ۸۰ ہزار افراد کو ملازمت فراہم کرتی ہے اور ہر برس ۱۱ بلین ڈالر (تقریباََ ۷۱ ہزار ۵۰۰ کروڑ روپے)مزدوری کی شکل میں مہیا کرتی ہے۔ 

یہ بحث اب بھی جاری ہے اور سٹی پلاننگ  کا نیو یارک سٹی ڈیپارٹمنٹ حدبندی کے منصوبے کا پھر سے جائزہ لینے والا ہے ۔ فیشن کی صنعت کے نمائندوں اور پالیسی سازوں نے ایک ایسے قانون کو وضع کرنے کے لئے ہاتھ ملایا ہے جس سے تارکینِ وطن اس صنعت میں اپنا کام جاری رکھ سکیں۔

 ٹو کہتی ہیں ’’ایک چیز جس کے بارے میںفیشن صنعت میں بات کی جاتی ہے ، یہ وہ طریقے ہیں جن میں نئی وضع اور آسائش کے کپڑے تیار کرنے والی اس صنعت کار خ ایشیا اور مشرق ِوسطیٰ کی جانب ہو چکاہے ۔‘‘

لہٰذا اس قسم کے صارفین کے لئے بہت ساری قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں ۔ مثال کے طور پر یہ کہ انہیں کیا چاہئے؟ کیا انہیں ایشیائی وضع قطع کا پیرہن چاہئے؟ غالباََ نہیں۔ میرے خیال میں اس صنعت کے رو برو فی الحال یہ بعض اہم سوالات ہیں لیکن سوال یہ بھی ہے کہ یہاں بنیادی ڈھانچے کو کیسے قائم رکھا جائے تاکہ اس سے نئے لوگ وابستہ ہوتے رہیں اور یہ صنعت نئے بازاروں تک رسائی حاصل کرتی رہے۔ 

کینڈس یاکونو جنوبی کیلی فورنیا میں مقیم قلمکار ہیں جو جرائد اور روزناموں کے لئے لکھتی ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط