مرکز
1 2 3

وسیع ہوتا دائرہ

ساکر کو امریکہ میں کافی مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔ اس کی وجہ وہاں بین الاقوامی ٹورنامینٹ کا جابجا انعقاد اور کھلاڑیوں کی آمد ہے۔ 

یہ  سوال بار بار پوچھا جاتا رہا ہے کہ کیا ساکر حتمی طور پر اب امریکہ میں ایک مقبول کھیل کا درجہ حاصل کر چکا ہے؟ امریکہ نے ۱۹۹۴ ء میں جب سے فیفا عالمی کپ کی میزبانی کی ، اسی وقت سے ساکر کی مقبولیت میں بتدریج اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ عوامی دلچسپی کے مد نظر ۱۹۹۶ ء میں ایک بڑے پیشہ ور امریکی فٹ بال لیگ کے طور پر میجر لیگ ساکر (ایم ایل ایس ) کا انعقاد کیا گیا جس میں اب پورے ملک سے ۲۲ پیشہ ور ٹیمیں حصہ لیتی ہیں ۔ دریں اثنا امریکہ کی قومی خواتین ٹیم نے تین بار عالمی کپ جیتنے میں کامیابی حاصل کی جس میں حال میں سنہ ۲۰۱۵ ء میں جاپان کے خلاف ورلڈ کپ فائنل کی فتح بھی شامل ہے جس کا ۲۵ اعشاریہ ۴ ملین ناظرین نے فوکس ٹیلی ویژن پر لطف اٹھایا ۔ شائقین کی اسی دلچسپی کی وجہ سے یہ میچ امریکہ کی ٹیلی ویژن کی تاریخ کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا ساکر میچ بن گیا۔ 

امریکہ میں ساکر(فٹ بال کی طرز کا ایک کھیل جس میں بعض یکسانیت کے باوجود کئی ایسی چیزیں بھی ہیں جو ان دونوں کھیلوں کو جداگانہ حیثیت عطا کرتی ہیں ۔ انگلینڈ کے برخلاف جہاں فٹ بال اور ساکر میں کوئی فرق نہیں، امریکہ میں ساکر اور فٹ بال دو الگ کھیل ہیں)کی مقبولیت میں اضافہ اور مستقبل میں اس کے امکانات پر  میجر لیگ ساکرکی ڈیجیٹل مواد فراہم کرنے والی ویب سائٹ ،ایم ایل ایس ساکر ڈاٹ کام کے سینئر ایڈیٹر ایرئیل کیسٹیلو  کا اسپَین نے انٹرویو لیا۔ پیش ہیں بات چیت کے اہم اقتباسات۔  

۱۹۹۴ میں فیفا ورلڈ کپ اور میجر لیگ ساکرکے شروع ہونے کے بعدساکر کوامریکہ میں کس طرح فروغ ملا ہے؟

اس سلسلے میں بیک وقت کئی طرح کے کام چل رہے ہیں ۔پہلا تویہ ہے کہ عالمی سطح پر ہونے والے زیادہ ترکھیلوں کواب پہلے سے کہیں زیادہ دیکھے جانے کاموقع ملتا ہے ۔ ہم یہاں امریکہ میں اب نیٹ ورک اور کیبل ٹی وی پر پریمیر لیگ، لالیگا، بندیس لیگا اورتمام طرح کے دیگر بین الاقوامی ٹورنامینٹ دیکھ سکتے ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ امریکہ کی مردوں کی ٹیم پہلے کے مقابلے کافی مضبوط ہوئی ہے اور اب یہ سخت چیلینج دینے والی ٹیم بن چکی ہے۔ اسی کے ساتھ ہی دیگر کم درجے والی پیشہ ور لیگ کے ساتھ  ایم ایل ایس بھی عروج پر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اب پہلے سے کہیں زیادہ لوگ اپنے شہر کی ٹیم سے وابستگی اختیار کرسکتے ہیں اور حقیقت میں اس کھیل سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں ۔ جہاں تک بچوں کی بات ہے ان میں ساکر پہلے کے مقابلے کہیں زیادہ مقبول ہے ۔ خصوصی طور پر خواتین اب اسے پہلے سے کہیں زیادہ کھیل رہی ہیں۔ اوراب تو وہ عالمی کپ جیتنے والی امریکی خواتین ٹیم کی کارکردگی پر کھرا اترنے کی کوشش بھی کر سکتی ہیں۔ 

آپ کے خیال سے وہ کون سے اچھے لمحے تھے یا وہ افراد تھے جو امریکہ میں ساکر کی مقبولیت میں اہم ثابت ہوئے؟

آپ نے بہت اچھا سوال کیا۔ میرے خیال سے ۱۹۹۴ ء کا عالمی کپ بہت سارے لوگوں کے لئے ایک اہم لمحہ تھا۔الیکسی لالاس، ٹونی میولا،کوبی جونس، برائن میک برائڈ اور ٹیب رَیموس جیسے قومی ٹیم کے عظیم کھلاڑی امریکہ میں اس کھیل کے ابتدائی ہیرو تھے۔ اور یہ حقیقت کہ مذکورہ افراد اب بھی کھیل کود کے امور میں دلچسپی رکھتے ہیں ، کھیل کے جذبے کو تقویت بخشتا ہے۔  

ڈیوڈ بیکہم کی ایل اے گلیکسی (ساکر فرینچائزی )میں شمولیت امریکہ میں گھریلو لیگ میں بین الاقوامی سطح پر سب کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں ظاہری طور پر ایک اہم لمحہ ثابت ہوئی ۔ 

میجر لیگ ساکر کے کم عمر شائقین کے بارے میں ہمیں کچھ بتائیں۔

اس کا ایک پُر جوش پہلو ہمارے سب سے نوجوان شائقین ہیں ،یعنی و ہ شائقین جو ۲۱ برس سے کم عمرکے ہیںاور جو بس اسی دنیا سے واقف ہیں جس میں ایم ایل ایس  کا وجود ہے ۔اب توبچوں میں ساکر کی دیوانگی کا یہ عالم ہے کہ وہ بعض ٹیموں کے تا عمر مداح بن جانا چاہتے ہیں ۔ دوسری خوبصورت چیز یہ ہے کہ نئے تارکین وطن کی برادریوں اور مختلف شہروں میں آنے والے لوگوں کے لئے مقامی ٹیمیں انہیںایک دوسرے سے وابستہ کرنے کے لئے کس طرح ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں۔

ساکر کے وہ کون سے بہترین امریکی کھلاڑی ہیں جن کے بارے میں آپ کا خیال ہے کہ وہ امریکہ میں اسے مزید بہتر بنا سکتے ہیں ؟ 

قومی ٹیم میں آج کے بہترین کھلاڑیوں کی بات کی جائے تو سب کی توجہ ۱۹برس کے امریکی کھلاڑی  کرسٹین پولیسک  پر ہے جو فی الحال جرمنی میں بورشیا ڈورٹمنڈ کے لئے کھیلتے ہیں۔ یہ وہ نوجوان کھلاڑی ہے جو چمپئنس لیگ (یونین آف یوروپین فٹ بال ایسو سی ایشنس)مقابلوں میں کھیلنا شروع کر رہا ہے۔یقینی طور پر وہ لَینڈن ڈونووان کی طرح ایک مقبول کھلاڑی بننے کی راہ پر گامزن ہے جن کا چرچا گھر گھر ہوتا ہے۔سیئٹل ساؤنڈرس ایف سی کی جانب سے کھیلنے والے جورڈن مورِس بھی ایک ہنر مند کھلاڑی ہیں جو فارورڈ پوزیشن پر کھیلتے ہیں ۔ 

جیسون چیانگ لاس اینجلس کے سِلور لیک میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار ہیں ۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط