مرکز

جدید تکنیک سے لیس پوشاک

اب تکنیک نے یہ ممکن بنا دیا ہے کہ چیزیں جسامت میں چھوٹی ہوں، چاق و چوبند ہوں اور آپس میں مربوط بھی  ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ تکنیک سے متصف ملبوسات کا استعمال شوقینوں کی پسند اور عصری رجحان بن گیا ہے۔

ایک ایسا گاؤن جو دیکھنے والوں کے مزاج کے مطابق رنگ بدلتا ہواورایک ایسا سینسر لگا ہوا ڈائپر جو والدین کو بتادے کہ کب اسے تبدیل کرنا ہے.....کبھی یہ چیزیں سائنس فکشن کا حصہ ہوا کرتی تھیں مگر اب یہ حقیقت بن چکی ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کی بڑھتی مانگ نے فیشن کی صنعت کو تکنیکی آلات کا سب سے اہم مرکز بنا دیا ہے۔ فوربس میگزین کے مطابق ۲۰۱۶ ء تک ڈیجیٹل طور پر مربوط ملبوسات ، لوازمات اور جوتوں سمیت ۱۰ بلین فیشن اشیاء استعمال میں تھیں۔ 

مثال کے طور پر لیوی کے کمیوٹر ٹرکر جیکٹ  کو ہی لیں ۔ اس کی آستین گوگل کی جیکوارڈ ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔اس جیکٹ سے جڑے ہوئے اسمارٹ فون میں بج رہے گانے کو روکنے یا کسی فون کال کا جواب دینے کے لیے اس میں استعمال کیے گئے کپڑے کے ریشے سے ہدایت پہنچتی ہے جس کے لیے کلائی پر دو بار ہلکی سی تھپکی دینی پڑتی ہے۔ اس جیکٹ کو ۱۰ بار تک دھویا جا سکتا ہے اور اس کی قیمت ۳۵۰ ڈالر (تقریباََ۲۳۰۰۰ روپے)ہے۔ 

 دنیا کے سب سے بڑے تکنیکی تجارتی شو  کنزیومر الیکٹرانکس شو (سی ای ایس )میں اسپورٹس اینڈ فِٹنس ٹیک سمِٹ  اور فیشن ویئر شو کی پروڈیوسر جولی سِلویسٹر  کہتی ہیں ’’ جیکوارڈ جیکٹ کے بارے میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ لیوی اور گوگل اس لباس کو تیار کرنے میں پوری طرح کامیاب ہو گئے ہیں تاکہ یہ وسیع پیمانے پر دستیاب ہو۔اس کے علاوہویئریبُل ایکس نام کی ایک کمپنی نے نیوی گیٹ  نامی ایک جیکٹ تیارکی ہے جوجی پی ایس سے لیس ہے اور جیکوارڈ جیکٹ  کی طرح ہی کام کرتا ہے۔ یہ آپ کے فون میں موجود ایپ سے سینسر کے ذریعہ جڑ جاتا ہے اور ہَیپٹِک سگنل کے ذریعہ آپ کو راستہ بتاتا ہے۔ 

بوسٹن کی ایک نوخیز کمپنی ریسٹ ڈیوائیسیز  بچوں کے لیے اسمارٹ کپڑے تیار کرتی ہے۔اس کے میمو بے بی سلیپ ٹریکر وَن سی میں ایسا سینسر لگا ہے جو بچے کی سانس ، بلڈ پریشر ، نمی اور درجہ ٔ حرارت کی پیمائش کرسکتا ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ آیا بچہ سو رہا ہے اور اس کے سونے کی پوزیشن کیا ہے۔ اس سے جڑے اعداد وشمار آخر کار کلاؤڈ  میں منتقل ہوجاتے ہیں جہاں والدین یا بچے کی دیکھ بھال کرنے والے اپنے موبائل فون کی مدد سے انہیں دیکھ سکتے ہیں ۔ 

تکنیکی اعتبار سے مربوط فیشن اب تو ڈیزائنر ملبوسات کے اعلیٰ مقام تک پہنچ سکتا ہے۔ سِلویسٹراس سلسلے میں بتاتی ہیں ’’ اِنٹیل نے کیوٹ سرکٹ سے لے کرانوک وِپریشٹ کے روبوٹِک ڈریس تک کئی ڈیزائنروں کو تکنیکی مدد مہیا کرائی ہے۔ ایک طرف جہاں  کیوٹ سرکٹ فیشن کے مطابق پہننے لائق تکنیک کا ذخیرہ تیار کرتا ہے وہیں ڈیزائنر اور نئی ایجاد والی کمپنی  وِپریشٹ خاص طور سے فیشن تکنیک کے شعبے میں فیشن ، تکنیک اور باہمی ربط رکھنے والے ڈیزائن کو یکجا کرنے کے میدا ن میں کام کرتی ہے۔آئی بی ایم واٹسن (جو مصنوعی ذہانت والا ایک پلیٹ فارم ہے)کو ۲۰۱۶ ء  میٹ گالا (نیویارک سٹی میں واقع میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹس کوسٹیوم انسٹی ٹیوٹ کی سالانہ سرمایہ یکجا کرنے کی تقریب۔اسے میٹ بال کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) میں ایک لباس کے ساتھ شامل کیا گیا تھا جس نے پوری رات تقریب کے بارے میں آن لائن مدّاحوں سے ایسے میں بات چیت کی جب دوسری جانب تقریب اپنے شباب پر تھی۔ اس لباس کے لیے ٹوئیٹر کا استعمال کیا گیا اور اس نے پانچ مزاجی کیفیت کے اعتبار سے اپنا رنگ تبدیل کیا۔ 

اس سلسلے میں امریکہ کی سالانہ منعقد ہونے والی اہم تقریبات میں سے ایک کے انعقاد سے صرف ۵ ہفتے پہلے آئی بی ایم  نے کپڑا ڈیزائن کرنے والے مشہور ادارے  مارچیسا کے ساتھ مل کرکام کرنا شروع کیا ۔  آئی بی ایم نے آن لائن ردّعمل کے مد نظر واٹسن ٹون انالائزرکے ذریعہ لباس کے بارے میں ٹوئیٹس، پوسٹ کئے، اور اس کے بعد کمپیوٹر کی مدد سے لباس کے کمر کا سائز اور لباس کے رنگ کوایل ای ڈی کی مدد سے تبدیل کیا۔ 

کیلی فورنیا کی پیکیجنگ  کا سامان بنانے والی سب سے بڑی کمپنی  اویری  ڈینیسَن نے انٹرنیٹ پر اسمارٹ پروڈکٹس بیچنے کے پلیٹ فارم ایوری تھنگ کے ساتھ مل کر نائیکے  جیسے شراکت داروں کے لیے ڈیجیٹلی کنیکٹیڈ پروڈکٹس  تیار کئے ہیں ۔

 صارفین ان مصنوعات کے ساتھ اپنے اسمارٹ فون سے بے مثال طریقے سے رابط رکھنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔مثال کے طور پر، صارفین اپنے فون کی مدد سے لاپتہ جراب کا پتہ لگا لیں گے ۔ وہ اپنے ریشمی بلاؤز سے پوچھ سکیں گے کہ اسے کس طرح دھونا ہے یا پا جامے کی جوڑ ی کو دوبارہ خرید پائیں گے۔

قیمتی دستی بیگ کی ڈیزائنر ریبیکا مِنکاف نے بہت پہلے ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔ نیویارک شہر میں موجود ان کا خاص اسٹور اپنی مربوط دیواروں اور تفاعلی آئینوں کے لیے مشہور ہے ۔ وہ اسمارٹ فون چارجر والے دستی بیگ فروخت کرتی ہیں ۔ مِنکافنے  اویری  ڈینیسَن اور  ایوری تھنگ کے ساتھ شراکت داری کرکے ایسا اسمارٹ بیگ پیش کیا ہے جو صارفین کو مخصوص طرز ادا ، طور طریقوں سے متعلق نجی طور پر مکالمے کا موقع دیتا ہے اور آن لائن خریداری سے متعلق بتاتا ہے ۔ 

پہنی جا سکنے والی چیزوں ،جنہیں تکنیکی طور پر بہتر بنایا گیا ہو، کو اب شاید ہی نیا تصور کہا جا ئے گا۔۱۷ ویں صدی میں چینی اباکس نے لوگوں کو ریاضی کے سوالات اپنی انگلیوں پر آسانی کے ساتھ حل کرنے کے قابل بنا دیا تھا ۔سِلویسٹر کا کہنا ہے ’’ اس کی اچھی بات یہ تھی کہ اس میں  بیٹری لائف کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ ‘‘

اسی زمانے میں یورپ میں لوگوں نے ابتدائی گھڑیا ں پہننی شروع کردی تھیں ۔ یہ جلد ہی ایک کارآمد چیز اور اپنی عیش و عشرت والی طرز زندگی کی عکاسی کرنے والی ایک چیز بن گئی تھی بالکل ویسے ہی جیسے آج کی ایپل واچ ۔ 

سِلویسٹرکا کہنا ہے ’’ پچھلے ۱۰ برسوں میں کمپیوٹر چِپس کے چھوٹے ہونے کے ساتھ پہنی جا سکنے والی نئی اشیا ء کی تعداد میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ مناسب آلات ایسے ہیں جو تکنیک کی طرح نظر آتے ہیں لیکن یہ آپ کے عام لباس یا دیگر پہننے والی اشیاء کے ہی جیسے ہوتے ہیں، لیکن ان میں ٹیکنالوجی بھی شامل ہوتی ہے۔‘‘

سِلویسٹراپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتی ہیں ’’اب ایسے آلات درکار ہیں جو پُر کشش ہوں ، لمبی  بیٹری لائف  والے ہوں ، جنہیں کہیں بھی لے جانا آسان ہو اور جو پہننے میں بہت بڑے یا بھاری نہ ہوں۔آج دھوئے جا سکنے والے اور لمبی  بیٹری لائف رکھنے والے آلات صارفین کو متوجہ کرتے ہیں ۔ایسے لباس کی دھلائی مشکل اور پیچیدہ ہوتی ہے جن میں الیکٹرانک آلات لگے ہوئے ہوں مگر میرا خیال ہے کہ اس مسئلے کے حل پر کام کرنے والی چند کمپنیاں موجود ہیں ۔ ‘‘

سِلویسٹراپنی بات ختم کرتے ہوئے کہتی ہیں ’’ ہمارے پہنے جا سکنے والے آلات اور ملبوسات نفیس ہوتے ہیں مگر بیٹری لائف کے معاملے میں ان میں سے اکثر کو اب بھی کسی نہ کسی قسم کی بیٹری کی ضرورت ہوتی ہے۔ گرچہ  بیٹری ٹیکنالوجی میں

 پیش رفت سست رہی ہے مگر آلات کو کام کے لائق بنائے رکھنے کے لیے قابلِ تجدید اور متحرک توانائی کے ساتھ ساتھ بیٹریوں کے لئے مختلف ساز و سامان بھی درکار ہوتے ہیں جن سے انہیں کم وزنی اور زیادہ مستحکم بنا یا جاسکے۔ اس سمت میں نئے طریقوں کو اپنانے اور ساز و سامان کی تلاش پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ‘‘

کینڈس یاکونو جنوبی کیلی فورنیا میں رہتی ہیں اور جرائد اور روزناموں کے لئے لکھتی ہیں ۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط