مرکز
1 2 3

ذیابیطس سے درستی کے ساتھ نمٹنا

آئینہ ڈیوائس  کا مقصد موبائل ٹیکنالوجی، تشخیصی اور رویے میں تبدیلی سے متعلق سائنس کوآپس میں مربوط کرکے ذیا بیطس کے خلاف جنگ میں مدد پہنچانا ہے۔

ذیابیطس ایسی سنگین بیماری ہے جس سے دنیا بھر میں ۴۰۰ ملین سے زیادہ لوگ متاثر ہیں۔ عالمی صحت تنظیم کی ایک رپورٹ کے مطابق بالغ افراد میں ذیابیطس کی عالمی شرح ۱۹۸۰ ء کے مقابلے دو گنی ہو گئی ہے ۔ ۱۹۸۰ ء میں یہ شرح جہاں ۴ اعشاریہ ۷ فی صد تھی ، وہیں ۲۰۱۴ ء میں یہ بڑھ کر ۸ اعشاریہ ۵ فی صد ہو گئی۔اور اس کی زد میں زیادہ تر وسطی اور کم آمدنی والے ملک ہیں۔دنیا میں ذیابیطس کی راجدھانی کے طور پر شمار ہونے والے ملک انڈیا میں تقریباََ ۷ملین افراد اس بیماری کا شکار ہیں۔   

اس خوفناک منظر نامے میں امید کی ایک کرن ذیابیطس کے خلاف لڑائی میں موبائل ٹیکنالوجی کا استعمال ہے۔ ابتدائی مرحلے ہی میں اس کی تشخیص ، دواؤں کا استعمال اور طرز زندگی میں تبدیلی کا اس بیماری پر قابو پانے میں کلیدی کردار ہے۔حال تک خاص طور پر دور دراز علاقوں میں خون کی جانچ کی مناسب قیمت میں سہولت کا فقدان بیماری کے خاتمے میںرکاوٹ بنا ہوا تھا۔ مگر صحت کے شعبے میں موجودہ پیش رفت کے نتیجے میں مریض  موبائل گلوکوز مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعہ اپنے خون میں گلوکوز کی مقدار کو اپنے اسمارٹ فون کے ذریعہ جان سکتا ہے۔ جَن کیئر اِنک  کا تیار کردہ آئینہ بلڈ مانیٹرنگ سسٹم دنیا میں پرانی بیماریوں کی جانچ کے سب سے بڑے پروگراموں میں سے ایک بن کر ابھرا ہے۔ 

جَن کیئر اِنک کے شریک بانی اور سی ای او سدھانت جینا کہتے ہیں ’’حالات کی خرابی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ترقی پذیر ملکوں میں ذیابیطس  ۵۰ فی صد مریضوں کے مرض کی تشخیص بھی نہیں ہو پاتی ہے۔ ‘‘ خیال رہے کہ جَن کیئر اِنک  کاصدر دفتر امریکی ریاست مساچیوسٹس کی راجدھانی بوسٹن میں واقع ہے ۔ حالاں کہ اس کی ایک آفس بنگالورو میں بھی ہے۔ جینا نے ترقی پذیر ملکوں میں ذیابیطس کی تشخیص اور اس کے علاج کے لیے کم لاگت اور سفری نظام کی سخت ضرورت کو محسوس کیا ۔ یہی ضرورت ہارورڈ یونیورسٹی میں ان کے ایم بی اے کے ہم جماعت اسٹیفین چین نے بھی محسوس کی۔ انہوں نے ذیابیطس کی جانچ اور دیکھ بھال کرنے اور ایک پلیٹ فارم تیار کرنے کے لیے  یو ایس ۔انڈیا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اِنڈاؤمینٹ فنڈ (یو ایس آئی ایس ٹی ای ایف )سے مالی مدد حاصل کرنے کے لیے درخواست دی جوقبول کر لی گئی۔ 

امریکی محکمہ ٔ خارجہ اور انڈیا کے محکمۂ سائنس اور ٹیکنالوجی نے یو ایس۔انڈیا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اِنڈاؤمینٹ فنڈ کو ۲۰۰۹ء میں قائم کیا جس کا مقصد ایسی مشترکہ سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے جو سائنس اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعہ جدت اور کاروباری رحجان پیدا کریں۔ اس فنڈ کا مقصد مشترکہ طور پر تحقیق اور ترقی کو فروغ دینا ہے اور عوام کی بہتری کے لیے امریکی اور ہندوستانی محققین اور کاروباریوں کے درمیان شراکت داری کے ذریعہ تیار کردہ ٹیکنالوجی کاتجارتی استعمال کرنا ہے۔اس فنڈ کے تحت ہونے والی سرگرمیوں کو  اِنڈو۔یو ایس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فورم کے ذریعہ منظّم کیا جاتا ہے۔ 

جَن کیئر اِنک بوسٹن کے اپنے صدر دفتر میں تحقیق اور ترقی پر کام کرتا ہے اور بنگالورو میں آئینہ ڈیوائس تیار کرتا ہے۔کمپنی بڑے عام اور نجی صحت کے اداروں اور ہندوستان میںطبی مراکز کے ساتھ ساتھ امریکہ میں  ماس جنرل کے ساتھ کے شراکت کر رہی ہے۔

جینا بتاتے ہیں ’’عوامی صحت کے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے موجودہ تشخیصی نظام مہنگا اور ناکافی تھا۔فرض کرلیں کہ آپ لاکھوں کی آبادی کو خدمات بہم پہنچانا چاہتے ہیں تو انتظام اور انصرام کے اعتبار سے یہ ممکن نہیں تھاکہ ان میں سے سب کو ایک ساتھ بھوکا رکھا جائے، گلوکوز ٹیسٹ کے لیے صبح کلینک بلایا جائے، کچھ کھانے کو دیا جائے اور دوسرے ٹیسٹ سے پہلے دو گھنٹے انتظار کروایا جائے۔ روایتی طریقے میں گلوکوز کی اوسط سطح جاننے کے لیے ۶ سے ۸ ہفتوں کے دوران ٹیسٹ کیے جاتے تھے جب کہ اس کے مقابلے موبائل ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک بار ٹیسٹ کیے جاتے ہیں اور صرف ۳ منٹ میں مریضوں کو یہ بتا دیا جاتا ہے کہ آیا انہیں ذیابیطس ہے، وہ خطرے کی دہلیز پر ہیں یا بیماری کے خطرے سے پوری طرح آزاد ہیں۔‘‘

بہت کم قیمت پر اور ایسے علاقوں میں جہاں اس کی واقعی ضرورت ہے ، ٹیکنالوجی پر مبنی تشخیص دنیا بھر میں ذیابیطس کی جانچ کے کام کو رفتار دینے میں بہت کارگر ہے۔

جَن کیئر اِنککا  آئینہ ڈیوائس  ذیابیطس کے لیے لاگت کے اعتبار سے مؤثر،آسانی سے استعمال کر تشخیص اور نگرانی کا نظام اصل میں        یوایس ۔انڈیا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اِنڈاؤمینٹ فنڈکی دین ہے۔ اس آلے کو دواخانوں اور اسپتالوں میں رکھا جا سکتا ہے یا گھر گھر جاکر صحت کی جانچ کرنے والے کارکن بھی اسے اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔  

خون میں بایو مارکر ہوتے ہیں جو کسی بیماری کے بڑھنے کا اشارہ دیتے ہیں۔ جَن کیئر اِنکان بایو مارکر کے لیے کاغذ پر مبنی ٹیسٹ اسٹرپ تیار کرتا ہے۔اس کے بعد ان کو اسمارٹ فون کی مدد سے پڑھا جاتا ہے کیوں کہ فون  آئینہ ڈیوائس آپٹیکل ریڈر  کا استعمال کر تشخیصی پلیٹ فارم میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔اس آلے کی ایک اور خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کا سافٹ ویئر ، فیلڈ میں کام کررہے تشخیص کاروں کو کسی بھی جگہ سے ضروری معلومات کو نسخہ تجویز کرنے کی غرض سے ماہرین تک پہنچانے کی سہولت بھی دیتا ہے۔ 

یہ بات درست ہے کہ مریض کے مرض کی کیفیت کا پتہ لگانا اس کی مدد کرنے کی سمت میں صرف پہلا قدم ہے۔ کمپنی نے تشخیص کے بعد دیکھ بھال کے لیے جو پروگرام بنایا ہے اس کا نام درست طور پر  ہَیبِٹس  رکھا ہے جو مریض کے اسمارٹ فون کے ذریعہ اسمارٹ الگورِدم   کا استعمال کرکے غذا اور جسمانی سرگرمیوں کے طفیل جسم میں گلوکوز کی گھٹتی بڑھتی مقدار کی معلومات فوراََ مریض کو فراہم کرتا ہے۔ 

یہ آلہ ذیابیطس کے لیے ایک طرح کے مجازی اتالیق کا کام بھی کرتا ہے جس سے مریضوں کو روزانہ چیک لسٹ اور ان کی نگہداشت کی منصوبہ بندی کے ذریعہ اپنی غذا کی مطلوبہ سطح تک پہنچنے میں مدد بھی ملتی ہے جس میں تجاویز ، ذمہ داری، سبق اور سوالات شامل ہوتے ہیں۔ 

کمپنی نے دنیا کے سب سے اہم طبی تحقیقاتی مراکز میں سے ایک میری لینڈ میں واقع  نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سے ذیابیطس کی روک تھام کے پروگرام کا نصاب لیا ہے اور اسے انڈیا میں تعلیمی اور طبّی مراکز کے ساتھ تعاون کے ذریعہ اپنایا ہے۔جینا بتاتے ہیں ’’یہ دراصل طرزِ زندگی میں مداخلت کا ایک پروگرام ہے جس کا زور مرض کے ابتدائی مرحلے ہی میں مداخلت پر ہے۔ ذیابیطس کی دہلیز پر پہنچنے یا اس کی تشخیص ہونے پر مریض کو ایس ایم ایس ملتا ہے جس میں طرزِ زندگی میں تبدیلی سے متعلق مشورے دیے جاتے ہیں ، جیسے کہ بہتر کھانا ، زیادہ ورزش کرنا وغیرہ۔ علاج کا پہلا قدم ہمیشہ رویوں میں تبدیلی ہوتی ہے اور اس کا مقصد مریض کو خود اپنی دیکھ بھال اور اپنے علاج کی ذمہ داری کا احساس دلانا ہے۔ ‘‘

۲۰۱۶ ء میں انڈیا میں ۲ لاکھ ۵۰ ہزار مریضوں کے علاج ،تشخیص کے لیے ۲۵۰ سے زائد دواخانوں اور ۱۵۰۰ تشخیص کاروں نے اس آلے کا استعمال کیا ۔ کمپنی کا اندازہ ہے کہ ۲۰۱۸ ء تک یہ تعداد دو گنی ہو جائے گی۔ 

روایتی ذیابیطس کی جانچ کی لاگت ۲۰۱۱ ء میں فی ٹیسٹ ۱۵ ڈالر تھی ۔ جینا بتاتے ہیں ’’ اب ایک فرد کی جانچ محض ایک ڈالر میں ہو جاتی ہے ۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دواخانے میں آئینہ ڈیوائس ،  اینڈرائڈ فون سے جڑا ہوا ہے یا کسی دور دراز علاقے میں صحت کا کوئی تشخیص کار آئینہ موبائل ڈیوائس  استعمال کر رہا ہے۔بہت کم قیمت پر اور ایسے علاقوں میں جہاں اس کی واقعی ضرورت ہے ، ٹیکنالوجی پر مبنی تشخیص دنیا بھر میں ذیابیطس کی جانچ کے کام کو رفتار دینے میں بہت کارگر ہے۔ ‘‘

انڈیا  آئینہ ڈیوائسکے لئے اہم بازار کی حیثیت رکھتا ہے۔سنگاپور میں اسے متعارف کروایا جا چکا ہے اور ۲۰۱۸ ء میں کینیا میں اس کے لیے پائلٹ پروگرام شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔جَن کیئر اِنک کے شریک بانی اور

چیف ٹیکنیکل آفیسر مائیکل ڈیپاکو امیدہے کہ۲۰۱۸ ء کے وسط تک امریکہ کا فیڈرل ڈرگ ایڈمنسٹریشن  اس کی توثیق کر دے گا۔امریکہ میں  آئینہ ڈیوائس کا تجارتی طور پر استعمال کمپنی کو اس قابل بنا دے گا کہ وہ صحت کی دیکھ بھال کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں اور عوامی صحت کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی موجودہ درخواستوں پر عمل آوری کرے۔ 

ہلیری ہوپیک کیلی فورنیا کے اورِنڈا میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار ، ایک اخبار کی سابق ناشر اور نامہ نگار ہیں۔ 

 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط