مرکز

صحافت کا پیشہ اور صنفی توازن

صحافت کے شعبے نے بنتِ حوّا کو بھی کام کے مواقع فراہم کرنے کے لیے گرچہ اپنا دامن پھیلایا ہے مگر اس کے باوجود یہاں عورتوں کی نمائندگی اب بھی کم ہی ہے ۔ ان کو یہاں بھی صنف کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 

بیرون ملک کی طرح انڈیا میں بھی خواتین صحافیوں نے اُن دنوں کے مقابلے اب کافی ترقی کر لی ہے جب انہیں معمول کے اعتبار سے پھول پتی اور فیشن شو کی خبرنگاری کی ذمہ داری سونپی جاتی تھی۔گرچہ آدھی آبادی کی نمائندگی اب جنگ، خانہ جنگی ، سیاست ، مالی امور ، کھیل کود ، سائنس اور کئی دیگر موضوعات کی خبرنگاری میں بھی ہونے لگی ہے تاہم خاتون صحافیوں کو عام طور پر اجرت کم دی جاتی ہے۔یہی نہیں، انہیں اس بات کا فیصلہ کرنے کا موقع بھی شاذ و نادر ہی ملتا ہے کہ کس قسم کی خبرنگاری پر کون مامور ہو۔ خواتین کو اب بھی بعض ایسے چیلینج  کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن سے ان کے مرد ساتھی دو چار نہیں ہوتے۔ 

یہ مشاہدہ صحافت کے پیشے سے وابستہ انوبھا بھونسلے کا ہے۔ ان کی پیشہ ورانہ زندگی میں سی این این ۔ آئی بی این میں حالات ِ حاضرہ اور صنفی مسائل پر دس سالہ رپورٹنگ بھی شامل ہے جہاں انہوں نے پانچ برس تک سٹیزن جرنلسٹ  نامی پروگرام پیش کیا ۔ اس کے علاوہ انہوں نے این ڈی ٹی وی  میں بھی ۵ برس تک اپنی خدمات پیش کیں ۔بھونسلے منی پور میں لمبے عرصے تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کی تفصیلا ت فراہم کرنے والی سنہ ۲۰۱۶ ء میں منظر عام پر آئی کتاب  مدر، وہیر از مائی کنٹری؟ لوکِنگ فار لائٹ اِن دی ڈارکنیس آف منی پور کی مصنفہ ہیں۔اس کے علاوہ بھونسلے امریکہ کی  جارج ٹاؤن انسٹی ٹیوٹ فار ویمین، پیس اینڈ سیکوریٹی کی وظیفہ یافتہ ہیں۔بھونسلے۱۶۔ ۱۵ ۲۰ء میں امریکہ کی یونیورسٹی آف میری لینڈ میں ہوبرٹ ہمفری فیلو بھی رہ چکی ہیں۔ 

بھونسلے بتاتی ہیں ’’مجھ سے پہلے کام کرنے والی خاتون صحافیوں نے اپنی شناخت قائم کرنے اور جنسی تفریق سے نمٹنے کے لیے کافی جد و جہد کی۔ اب تو خیر بہت ساری خواتین رپورٹنگ کا کام کررہی ہیں مگر جب بات اعلیٰ انتظامیہ کی آتی ہے تو یہاں خواتین کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔علاقائی ذرائع ابلاغ کے لیے تویہ بات خصوصیت کے ساتھ درست ہے۔ہمیں اس خیال کے خلاف بھی خاصی محاذ آرائی کرنی پڑی کہ خاتون صحافیوں کو صرف خواتین کے مسائل کی رپورٹنگ کرنی چاہئے کیوں کہ یہی خواتین کا کام ہے ۔مگر میں کہوں گی کہ یہ عورتوں ہی کا کام نہیں بلکہ یہی تو صحافت ہے۔ ‘‘

بھونسلے کے خیالات کی تائید بہت سارے مطالعہ جات سے ہوتی ہے۔انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (ایشیا ۔پَیسیفِک)کی جانب سے سنہ ۲۰۱۵ ء میں  میڈیا اینڈ جینڈر اِن دی ایشیا۔ پَیسیفِک ریجن نامی ایک رپورٹ کے مطابق ’’فیصلہ سازی سے متعلق عہدے بہت ساری خواتین کی دسترس سے باہر ہیں ۔ اگر بعض خواتین سر فہرست پہنچ بھی جاتی ہیں تو وہاں مردوں کے مقابلے ان کی تنخواہ میں فرق ہوتا ہے۔ اور حقیقی طور پرنظر آنے والی تبدیلی کے لیے یہاں بدلاؤ کی رفتار کافی سست ہے۔‘‘  اقوام متحدہ کی تعلیمی ، سائنسی اور ثقافتی تنظیم یونیسکو کی اُسی برس جاری رپورٹ انسائڈ دی نیوز: چیلینجیز اینڈ اسپیریشنس آف وومین جرنلسٹس ان ایشیا اینڈ دی پَیسیفِک میں بھی اس بات کا ذکر ہے کہ مجموعی طور پر ذرائع ابلاغ کے پیشے میں حالیہ برسوں میں عورتوں کی تعداد بڑھی ہے مگر ذرائع ابلاغ کی تنظیموں کی اعلیٰ انتظامیہ میں صنفی عدم توازن ہنوز وسیع طور پر پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ  وومینس میڈیا سینٹر کی رپورٹ  دی اسٹیٹس آف وومین ان دی یو ایس میڈیا ۲۰۱۷  کے مطابق امریکہ کی خبروں سے متعلق ۲۰ اعلیٰ تنظیموں میں جائزے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ مردوں نے ۶۲ اعشاریہ ۳ فی صد خبرنگاری کی جب کہ عورتوں نے صرف  ۳۷  اعشاریہ ۷ فی صد رپورٹنگ کی۔ 

بھونسلے کہتی ہیں ’’جنسی تعصب کے علاوہ، جنسی ہراسانی بھی انڈیا میں خاتون صحافیوں کے لیے ایک حقیقت ہے جس کا انہیں نیوز روم کے ساتھ رپورٹنگ کے دوران بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایسی چیز ہے جس سے انہیں نبرد آزما ہونا پڑتا ہے اور وہ اس سے نمٹتی بھی ہیں۔اگر آپ کو کہیں رپورٹنگ کے لیے بھیجا گیا ہے تو وہاں سے واپس آکر آپ یہ نہیں کہنا چاہتیں کہ آپ سے یہ کام نہیں ہو پایا۔ آپ کو اس معاملے میں حقیقت پسندانہ طرز عمل اختیار کرنا پڑتا ہے ۔ آپ صحافی کی ذمہ داریاں نہیں نبھا سکتیں اگر آپ ہر وقت اپنی حفاظت کے بارے میں سوچتی رہیں۔ اور رپورٹنگ کے لیے جاتے وقت بھی آپ یقینی طور پر ڈری سہمی نہیں رہنا چاہیں گی۔‘‘

صنفی مسائل حالیہ برسوں میں امریکہ سمیت مختلف ممالک میں سامنے آئے ہیں ۔ امریکہ میں تو بہت سارے مرد صحافیوں کو اپنی خواتین رفیق کاروں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی پاداش میں ملازمت سے برخاست بھی کیا گیاہے ۔ بھونسلے کو یقین ہے کہ برخاست کیے جانے کے ایسے معاملات(جو اخبارات میں پہلے صفحے پر شہ سرخیوں کی شکل میں سامنے آئے)کام کی جگہوں کے لیے حتمی طور پر سخت معیارات طے کرنے کی راہ ہموار کرسکتے ہیں ۔ 

بھونسلے تبصرہ کرتی ہیں ’’ ان انکشافات سے محسوس ہوتا ہے کہ اب امریکہ میں کوئی محفوظ نہیں ہے۔ انڈیا کی بات کروں تو کہہ سکتی ہوں کہ دہلی میں ۲۰۱۲ء کے اجتماعی عصمت دری کے معاملے نے حالات کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے جہاں برسر اقتدار افراد میں مردوں اور جنسی ہراسانیوں کے تئیں ایک بالکل نیا رویہ پایا جاتا ہے ۔ اس طرح یہاں بھی کوئی محفوظ نہیں ہے۔‘‘

بھونسلے دی انڈین ایکسپریس کے #GenderAnd   پروجیکٹ کی قیادت کرنے والے اپنے موجودہ عہدے میں صنفی مسائل پر توجہ دینے کا ارادہ رکھتی ہیں ۔ اس پروگرام کے بارے میں  انڈین ایکسپریس کا کہنا ہے ’’ رپور تاژ ، تبصرہ ، ملٹی میڈیا رپورٹ ، ڈیٹا ، پروجیکٹ ، تاریخی واقعات کی عکاسی اور آج کی خواتین کی زندگی اور صنفی اقلیت پر رپورٹنگ کے ذریعہ یہ مہم صنفی مسائل کو قومی دھارے میں لائے گی۔‘‘

جب کہ بھونسلے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتی ہیں ’’خواتین سے متعلق پالیسی اور منصوبہ بندی کے بارے میں بتایا جانا چاہئے۔ یہ حقیقت میں ہمارے دَور کی ایک تشویش ہے جس کا تدارک واضح طور پر ہونا چاہئے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس موضوع پر مکمل توجہ دی جائے گی۔یعنی موسمیاتی تبدیلی، عدل و انصاف اور پنا ہ گزیں والی صورتحال یعنی وہ تمام سطحیں جس پر صنفیں تقسیم ہوتی ہیں، کے حساب سے کام کی جگہ پراورنجی کمپنیوں کے بورڈ روموں سمیت ہر متعلق جگہ پر اس کا اطلاق ہوگا۔‘‘ 

ذرائع ابلاغ کی پہلی صف میں ہونے کی وجہ سے کیا بھونسلے اس صنعت میں پائے جانے والے صنفی عدم مساوات کے معاملے پر پیش رفت کی امید کرتی ہیں ؟ 

اس سوال کے جواب میں بھونسلے کا کہنا ہے ’’ یہاں بہت سارے بتوں کا ٹوٹنا دیکھ کر،یہاں موجود مواقع کا مشاہدہ کرکے اور ذرائع ابلاغ کی تنظیموں میں صنفی معاملات کو اہمیت حاصل ہوتے دیکھ کر میں پُر امید ہوں۔ ‘‘

اسٹیو فاکس کیلی فورنیا کے وِنچورا میں مقیم آزاد پیشہ قلمکار، ایک اخبار کے سابق ناشر اور نامہ نگار ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط