مرکز
1 2 3

وائلن نواز بہنیں

فل برائٹ وظیفہ یافتہ للیتا مُتھو سوامی اسٹیج پر وائلن نوازی اور اپنے تحقیقی کاموں کے ذریعے ہندوستانی موسیقی کو پوری دنیا تک پہنچا رہی ہیں۔ 

وائلن نواز بہنوں للیتا اور نندنی مُتھو سوامی کی جوڑی  ایشیا کی واحد نسوانی جوڑی خیال کی جاتی ہے جو عالمی موسیقی ، جنوب ہند کی کلاسیکی موسیقی ، فیوژن اور مغربی کلاسیکی موسیقی سے متعلق اپنی صلاحیت کا عوامی طور پر مظاہرہ کرتی ہے۔ گرچہ دونوں بہنوں کو فنکارانہ مظاہروں پر عبور حاصل ہے مگر کسی بھی پروگرام سے پہلے یہ خوب مشق کرنے پر یقین رکھتی ہیں ۔ ایم للیتا ہنستے ہوئے کہتی ہیں ’’یہ چیز بالکل امتحان کی طرح ہوتی ہے۔ ہمیں ہمیشہ اپنے ناظرین کے سامنے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔‘‘ 

ایم للیتا ایک عمدہ وائلن نواز ہونے کے ساتھ اپنے فن کی محقق بھی ہیںجنہیں ۲۰۱۴-۲۰۱۳ء میں فل برائٹ اسکالر شپ ملی ۔ وظیفہ یافتگی کے ایّام انہوں نے یونیورسٹی آف آئیووا میں گزارے جہاں انہوں نے جنوب ہندکی موسیقی کے پہلوؤں پر توجہ دی ۔ یہاں ان کا زور نغمگی ،سُر، تال اور موسیقی کی دیگر خصوصیات پر رہا۔ وہ چنئی میں واقع ایم ایس اکیڈمی آف گلوبل میوزک کی ڈائریکٹر بھی ہیں۔ 

خاندانی وراثت 

دونوں بہنیں ۳۰ برسوں سے قومی اور عالمی سطح پر وائلن بجاتی آرہی ہیں۔دونوں نے بچپن میں اس وقت سے خود کو وائلن کے لیے وقف کر دیا ہے جب پہلی بار اس آلے کو انہوں نے اپنے ہاتھوں میں لیا تھا۔ان کا تعلق موسیقاروں کے اس کنبے کی چوتھی نسل سے ہے جس میں عالمی شہرت یافتہ وائلن نواز ایل ویدیاناتھن، ایل سبرامنیم اور ایل شنکر پیدا ہوئے۔ ان بہنوں کے دادا وی لکشمی نارائن ایّر ہی ان کے پہلے استاد تھے۔  

ایم للیتا کہتی ہیں ’’ہم اس طور پر بڑے ہوئے کہ ہم نے اپنی امی سُبّو لکشمی مُتھو سوامی اور اپنے چچاؤں کو دادا جان کی نگرانی میں سیکھتے اور مشق کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘

دونوں بہنوں کے لیے ان کے دادا بہت شفیق تو تھے مگر نہایت سخت استاد بھی تھے۔انہوں نے ان دونوں میں نظم و ضبط کا ایک ایسا احساس بھر دیا جس پر یہ دونوں آج بھی عمل پیرا ہیں ۔ 

ان کے والد مُتھو سوامی گرچہ موسیقی میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے مگر وہ کبھی اپنی بیٹیوں کے شوق کی راہ میں نہیں آئے۔انہوں نے فرانسیسی اور جرمن زبان سمیت مختلف زبانوں کو سیکھنے میں ان دونوں کی حوصلہ افزائی کی۔ایم للیتا نے اپنا پہلا پروگرام چنئی کے الائنس فرنکیز آف مدراس میں پیش کیا تھا۔ ان کی چھوٹی بہن نندنی طویل عرصے سے ان کے ساتھ پروگرام کرنے والی اور ان کی شراکت دار رہی ہیں۔ایم للیتا بتاتی ہیں ’’ ہم نے اتنے عرصے سے ایک ساتھ پروگرام کیے ہیں کہ آج اسٹیج پر ہم غیر شعوری طور پر ایک دوسرے کے ذہن کو پڑھ سکتے ہیں ۔ ‘‘  

دونوں بہنیں عالمی موسیقی اور فیوژن موسیقی کی دلدادہ ہیں ۔ 

موسیقی کا امتزاج 

دونوں بہنوں کو چین، افریقہ اور مشرق وسطیٰ کی موسیقی کی مختلف روایات میں مہارت حاصل ہے ۔ ایم للیتا کہتی ہیں ’’ فیوژن کرناٹک موسیقی کو دنیا کے سامنے پیش کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔‘‘

ان کے فیوژن کنسرٹ میں عام طور پر ان کی اپنی موسیقی ہوتی ہے۔انہوں نے فلم ، تھیٹر اور رقص جیسی چیزوں کے ساتھ تجربات کیے ہیں ۔ ان کے شراکت داروں میں فن لینڈ کا بینڈ  پیر پاؤ اور شاہد پرویز خان ،   پال پی باڈی اور مائک البرٹ  وغیرہ شامل ہیں ۔ 

مظاہروں سے پرے 

ایم للیتا کی توجہ صرف کارکردگی تک ہی محدود نہیں ہے۔ڈاکٹر کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے انہوں نے جو مقالہ تحریر کیا وہ اب مغربی اور جنوب ہندکی کلاسیکی موسیقی میں وائلن تکنیک : ایک تقابلی مطالعہ نامی ایک کتاب کی شکل میں ۲۰۰۵ ء منظر عام پر آیا۔ دونوں بہنوں کو لندن کے ٹرینیٹی کالج سے مغربی وائلن کے نظریات اور مشق دونوں میں اعلیٰ ترین گریڈ ملے۔ ۲۰۱۲ ء میں ایم للیتا کو حکومت ِہند کی وزارتِ ثقافت کی جانب سے الوہیت میں موسیقی کے نایاب آلات پر تحقیق اور سلسلے وار پروگراموں کو تیار کرنے کے لیے امداد ملی۔ اس تحقیق میں مندروں میں استعمال کیے جانے والے تقریباََ ۲۵۰ آلات شامل کیے گئے جو اب متروک ہوتے جارہے ہیں اور بعض کا تو صرف ایک ہی فنکار باقی رہ گیا ہے۔دونوں بہنیں معزز اخبار دی ہندو کے لیے موسیقی کے ان آلات اور ان سے متعلق رسوم پر مضمون بھی لکھتی ہیں۔

ایم للیتا چنئی میں دی میوزک اکیڈمی کے ڈیپارٹمنٹ آف وائلن  کی صدر بھی ہیں۔ 

مختلف اقسام کے آلات اور طرز کی تحقیق ، اس کی تاریخ اور ارتقا کی تفہیم ان کے موسیقی کے کارناموں کا لازمی حصہ ہیں ۔ وہ کہتی ہیں ’’ مجھے تحقیق سے بہت محبت ہے ۔ اس سے میرے فن کو وسیع معنی فراہم ہوتا ہے۔‘‘

فل برائٹ وظیفے

پرفارمنگ آرٹس میں ۲۰۰۵ ء میں ملی فُل برائٹ فیلو شپ کا استعمال ایم للیتا نے کمپوزیشن رائٹنگ ان فیوژن میوزک پر تحقیق کرنے میں کیا ۔ ۱۴-۲۰۱۳ ء میں یونیورسٹی آف آئیووا میں جب انہیں دوسرا وظیفہ ملا تو انہوں نے مختلف شعبوں میں ہندوستانی موسیقی پڑھانے کا نصاب تیار کیا اور کرناٹک موسیقی پر خطبات دیے۔ 

ایم للیتااس سلسلے میں بتاتی ہیں ’’ یونیورسٹی آف آئیووا میںاِیتھنو میوزیکالوجی  کا ایک حیرت انگیز شعبہ ہے۔ طلبہ نے ہندوستانی موسیقی کے ارتقا ء اور کرناٹک موسیقی کی مختلف خصوصیات پر متعدد سوال کیے۔ ‘‘

وہ مزید بتاتی ہیں ’’مغربی کلاسیکی موسیقی کی معلومات نے ہندوستانی موسیقی کی باریکیوں کو طلبہ کو اس طرح وضاحت کرنے میں مدد کی کہ وہ اسے آسانی کے ساتھ سمجھ سکیں۔ ‘‘ 

انہوں نے اپنے طرزاور ہندوستانی راگ کا استعمال کرتے ہوئے نغمہ سازی کے لیے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی۔ وہ بتاتی ہیں ’’ یہ  ایک چیلنج تھا ۔ مگر طلبہ نے بعض حیرت انگیز کام کیے۔ یہاں طلبہ کو سوال کرنا سکھایا جاتا ہے اور یہ عمل کلاس کو زیادہ موثر بنا دیتا ہے۔ ‘‘

پارومیتا پین ٹیکساس کے آسٹِن میں مقیم ایک صحافی ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط