مرکز
1 2 3

بہتر مستقبل کی خاکہ کشی

گیتا مہتا سماج اور ماحول موافق عمارتوں اور شہری علاقوں کی تعمیر میں ہاتھ بنٹاتی ہیں۔ 

گیتا  مہتا کے نزدیک فنِ تعمیر اور شہری نقشہ سازی کے شعبہ جات کی حیثیت عمارتوں ، پارکوں اور گلیوں کی تعمیر سے کہیں زیادہ ہے۔ بلکہ ان کے خیال میں ان شعبوں میں موجود صلاحیت کو بروئے کار لاکر ہم اپنا طرز رہائش یکسر تبدیل کر سکتے ہیں ۔ 

مہتا نیویارک سٹی میں واقع کولمبیا یونیورسٹی کے گریجویٹ اسکول آف آرکیٹیکچر پلاننگ اینڈ پریزرویشن  میں اَیڈجنکٹ پروفیسر ہیں۔  وہ انٹیریئر ڈیزائن فرم، براڈین اینڈ مہتا میں پارٹنر ہیں اور انہوں نے غیر منافعتی تنظیمیو آر بی زیڈ اور  ایشیا اِنی شی ایٹِو کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے ذریعہ وہ اپنی نقشہ سازی کی مہارت کو استعمال کرکے ان لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہیں جو ان کے ذریعہ بنائی گئی عمارتوں اور شہری علاقوں میں رہتے ہیں ۔ اور یہ عمل شروع سے آخر تک جاری رہتا ہے۔

اپنے پیشے سے متعلق مہتا کا بیان ہے ’’شہروں کی نقشہ سازی کرنے والے کسی شہر کے مخصوص حصوں یا ان سے متعلق منصوبوں کا نقشہ بنانے میں عوام کے مفاد کی نمائندگی کرتے ہیں۔ فنِ تعمیر کا ماہر کسی مخصوص گاہک کے لیے کسی عمارت کی خاکہ گری کر سکتا ہے ۔ مگر شہروں کی نقشہ سازی کرنے والے اس بات پر بھی غور کرتے ہیں کہ کوئی مخصوص عمارت کسی شہر پر کس طرح اثر انداز ہوگی۔ ‘‘

شہری نقشہ ساز کے بطور مہتا کے نقطہ نظر سے ایک اچھی عمارت وہ ہوتی ہے جسے اگر دوسری عمارتوں کے ساتھ ہم آہنگ کرکے دیکھا جائے تو وہ ایک شاندار شہر بنانے میں مددگار ہوگی۔وہ کہتی ہیں ’’کوئی شہری نقشہ ساز اپنے نقشے میں مادّی اور سماجی بنیادی ڈھانچے بشمول عوامی مقامات ، پیدل چلنے والوں اور سائیکل سواروں کے لیے راستے ، نقل و حمل کے لیے سڑکیں ، عوامی سہولیات اور خدمات کو ذہن میں رکھتا ہے۔ کسی اچھے شہر کے ڈیزائن میں یہ سب کچھ شامل ہوگا ۔ اس میں بہت خاص اور یادگار مقامات بھی شامل ہوں گے جو لوگوں کو پسند آئیں اور جہاں لوگ رہنا پسند کریں۔ ‘‘

جب ان خاص اور یادگار جگہوں کو بنانے کی بات آتی ہے تو مہتاکی نظر ہمیشہ ماحولیات پر رہتی ہے۔ وہ کہتی ہیں ’’شہروں میں صحت کو نقصان پہنچانے والی گیس بڑی مقدار میں پیدا ہوتی ہے، لہٰذاماحولیاتی پہلو پر خاص توجہ دینا فنِ تعمیر کے ماہرین اور شہری نقشہ سازوں کے کام میں نمایاں چیز ہوتی ہے۔ مگر صرف کاربن کا کم اخراج کرنے والی عمارتیں ہی کافی نہیں ہیں ۔‘‘ 

وہ بتاتی ہیں کہ ماحولیات کی درستی کے لیے بے ضرر عمارتوں کا قیام عقلمندی کے ساتھ کرنے کی ضرورت ہے ۔ہر روز طویل فاصلہ طے کرنے کی لوگوں کی ضرورت کو کم کرنے کے لیے سفر کو پوری طرح آسان اور زیادہ پائیدار بنانے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے ـ’’میں گھنے بسے شہروں کو پسند کرتی ہوں ۔ شہری علاقوں کا بے روک ٹوک پھیلاؤ ماحولیاتی نقطہ نظر سے بھی برا ہے کیوں کہ اس سے لوگ الگ تھلگ پڑ جاتے ہیں اور ان کے سماجی تانے بانے ٹوٹ جاتے ہیں ۔ ‘‘

مہتا کا خیال ہے کہ کسی علاقے کے باشندوں کے روز مرہ کے تجربات فنِ تعمیر ، منصوبہ بندی، شہری ترقی اور پالیسی سازی کے لیے لازمی معلومات فراہم کرنے والی چیزیں ہوتی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں ’’میں نے یو آر بی زیڈ: صارفین کے لیے بنائے گئے شہر کو  میٹیاس ایکا نو ؤ اور راہل سریواستو کے ساتھ مل کر قائم کیا تھا تاکہ ہم محروم طبقات کے ساتھ کام کرسکیں کیوں کہ وہ اپنے اطراف کو اپنی استطاعت کے مطابق تبدیل کرتے ہیں ۔‘‘ 

ایسی جگہوں پر فنِ تعمیر کے ماہرین ، شہری نقشہ سازوں ، ماہرینِ بشریات ، ماہرینِ معاشیات کے علاوہ پالیسی سازوں کی متنوع ٹیم مختلف نقطہ نظر سے منصوبوں کی تعمیر میں مدد کرتی ہے۔

مہتا خود کو خوش قسمت سمجھتی ہیں کہ انہیں اپنی پوری پیشہ ورانہ زندگی میں کبھی بھی صنف پر مبنی تعصب کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔ انہیں عورتوں کے تئیں مخصوص رویے کا شکار بھی نہیں بننا پڑا۔ مگر وہ کہتی ہیں ’’اپنی عملی زندگی میں اپنا راستہ میں نے خود اختیار کیا کیوں کہ میں ایک عورت ہوں ۔‘‘

مہتا نے کئی سالوں تک اپنے چھوٹے بچوںکی دیکھ بھال کے لئے کام نہیں کیا۔ ہاں کبھی کبھی جز وقتی کام ضرور کیا۔ جب بچے تھوڑے بڑے ہوگئے تو انہوں نےپی ایچ ڈی کی پڑھائی مکمل کی۔ وہ بتاتی ہیں ’’ لہٰذا میری پیشہ ورانہ زندگی اپنے خاندان کی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے آگے بڑھی ۔ اور میں نے خوشی خوشی اسے قبول کیا ۔ آج جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو مجھے بہت خوشی ہوتی ہے کہ میں نے ان چیزوں کا انتخاب کیا۔ ‘‘

عام طور پر مہتا خواتین کے لیے کام کی جگہ کے ماحول اور مواقع میں بہتری پاتی ہیں بشمول ایسی خواتین کے جو اپنی خاندانی ذمہ داریوں کو بھی اپنے کام کے ساتھ نبھانا چاہتی ہیں۔وہ بتاتی ہیں ’’ اب بہت کام کیا جاسکتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خواتین کو کُل وقتی ملازمت کرنے کی سہولت حاصل ہورہی ہے۔ اس کے علاوہ اب اپنا کام شروع کرنے اور بڑی فرموں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے امکانات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ‘‘

ایسے نوجوانوں کو جو ان کے نقش قدم پر چلنا چاہتے ہیں مہتا زیادہ سے زیادہ سفر کرنے کا مشورہ دیتی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں ’’ گرچہ زیادہ تر معلومات آج انٹر نیٹ پر دستیاب ہیں ، ایسے میں نوجوان کالج صرف حقائق جاننے کے لیے نہیں جاتے ہیں بلکہ وہاں انہیں غور و فکر کا مختلف طریقہ سیکھنا چاہئے تاکہ وہ اپنی زندگی کے بارے میں بہتر فیصلہ کرسکیں ۔ کتابیں پڑھنا اور خوب سفر کرنا کسی کو بھی نئے خیالات سے روبرو کرا سکتا ہے جس کی مدد سے وہ مستقبل روشن کر سکتا ہے۔‘‘

آج کی دنیا نئی کوشش کرنے والے بہادر اور تخلیقی نوجوانوں کو بہت بہتر مواقع فراہم کرتی ہے۔ اسی لیے مہتا کہتی ہیں ’’میں نوجوانوں کو جرات مندی کا مشورہ دوں گی ۔انہیں ناکامیوں سے گھبرانا نہیں چاہئے ۔ بلکہ انہیں چاہئے کہ وہ ہر ناکامی کو کسی بڑے مقصد کے حصول کے لیے سیکھنے کا موقع سمجھیں اور اسے اسی طور پر استعمال کریں۔ ‘‘

مائیکل گیلنٹ ، گیلنٹ میوزک کے بانی اور سی ای او ہیں ۔ وہ نیویارک سٹی میں رہتے ہیں ۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط